skip to Main Content
انیس  احمد خلیل: عالمی یوم ڈاک۔world Post Day

ہر سال 9۔ اکتوبر کو دنیا بھر میں ڈاک کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں ڈاک کے نظام اور اس کی خدمات کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرتاہے۔ اس عالمی دن کے موقع پر تمام ممالک ڈاک ٹکٹ کا اجرا کرتے ہیں۔
ا س دن مختلف تقاریب اور سیمینارز کا انعقاد کر کے اس دن کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتاہے۔
ڈاک کا مطلب
ڈاک کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا نظام جس کے ذریعے خطوط ،دستاویزات ،دیگر ایسی اشیاءجو لفافے میں بند ہوں ،ایک جگہ سے دوسری جگہ ،دنیا بھر میں بھیجی جاتیں ہیں۔ اسے ڈاک کہتے ہیں۔
اس دن کا آغاز
ادارہ یونیورسل پوسٹل یونین (یو پی یو) کا قیام 9 اکتوبر 1847ءکو عمل میں آیا۔اِس دن سوئٹزر لینڈ کے شہر ‘‘برن’’کے مقام پر عالمی ڈاک سے متعلق کانفرنس ہوئی۔ جس میں ‘‘جنرل پوسٹل یونین’’نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی۔ اِس معاہدے کو 22ملکوں نے منظور کیا اور یہ یکم جولائی1875ءسے نافذالعمل ہوا۔ یونین یکم جولائی1948ءکو اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسی بنی۔ اِس کا مقصد تمام ممالک میں ڈاک کی ترسیل کی ترقی اور ڈاک کے نظام کی بہتری ہے۔
پہلے تو یہ صرف خط پارسل وصول کرنے اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کی ایک رسید تھی۔ مگر 1969ءمیں ٹوکیو کانگریس نے یہ طے کیا کہ ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک سے جس قدر مقدار میں ڈاک وصول ہو گی، اس اضافی وزن کا معاوضہ انہیں 0.50 گولڈ فرانک فی کلوگرام کے حساب سے ادا کیا جائے۔ اس لین دین کے حسابات کو ادارہ یونیورسل پوسٹل یونین UPU دیکھ رہا ہے ۔ڈاک کا نظام دنیا بھر کی معاشی ترقی و اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے اور عوام کو خطوط کے ذریعے آپس میں ملانے کے حوالہ سے موثر کردار ادا کر تا رہا ہے، جس کی افادیت کو برقرار رکھنے کے لئے دنیا میں پہلا ڈاک کا عالمی دن 9 اکتو بر 1980ءکو منایا گیا۔
ڈاک کی تاریخ ،ضرورت و اہمیت
یوں تو پیغام رسانی اور ڈاک کا تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان، دنیا میں سلسلہ رسل و رسائل زمانہ قدیم سے ہی چل رہاہے سینکڑوں سال قبل مسیح کے دور میں بھی اس کے آثار ملتے ہیں۔ آج سے سات ہزارسال پہلے فرعون مصر میں ڈاک کا حوالہ ملتا ہے۔ بابلی دور میں تازہ دم اونٹوں اور گھوڑوں کے ذریعے سرکاری اور نجی ڈاک کا نظام قائم ہو۔چین کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے پیغام رسانی کے لیے ڈاک کے طریقے کو باقائدہ اپنایا۔ بلا شبہ ڈاک کے نظام کے فروغ میں مسلمانوں کا کردار بہت اہم ہے، حضورﷺ ہی کے زمانے سے مسلمان مختلف فوجی مہمات کے دوران بر وقت پیغام رسانی کی ضرورت و اہمیت سے آگاہ تھے، اس کے علاوہ حضورﷺ کے اہم مراسلے جو اس وقت آس پاس کے غیر مسلم حکمرانوں کو بھیجے گئے تھے، بھی نظام ڈاک کا ابتدائی نقشہ پیش کرتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق نے نظام ڈاک کو سائنسی خطوط پر منظم کیا۔ اسی طرح اموی خلفاء اور عباسی خلفاء نے بھی اپنے اپنے ادوار میں نظام ڈاک پر خصوصی توجہ دی۔ برصغیر پاک و ہند کی بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ علاؤالدین خلجی اور شیر شاہ سوری نے ڈاک کی بہتری کے لئے کئی دوررس اصلاحات و اقدامات کئے، مغل بادشاہ بھی ڈاک کی اہمیت سے بے خبر نہ تھے لیکن1857کی جنگ آزادی کے بعد جب انگریزوں نے برصغیر میں اپنا تسلط قائم کیا تو نظام ڈاک کو برطانوی نظام کے مطابق جدید اور سا ئنسی خطوط پر استوار کیا گیا۔
ایک وقت تھا ڈاک، ڈاکیا کو ہمارے معاشرے میں محبت کا پیغامبر،قاصد سمجھا جاتا تھا، ڈاکیے کے کردار پر کہانیاں لکھی جاتی تھیں، شاعری کی جاتی تھی ،ڈاکیا خوشی و غم کی علامت تھا، ڈاکیا اور ڈاک بچھڑوں کو ملانے، اس کی خیر خبر پہنچانے کا ذریعے تھا۔ لیکن اب دور بدل گیا ہے خط جسے آدھی ملاقات کہا جاتا ہے کسی دور میں پیغام رسانی کا اہم ترین ذریعہ تھا، لیکن دنیا جیسے جیسے ترقی کے زینے طے کرتی گئی فاصلے سمٹتے چلے گئے۔ خط کی جگہ پہلے تار نے لی پھر ٹیلی گرام اور فیکس کا دور آیا، لیکن موبائل فون کی آمد کے بعد ڈاک کا نظام بھی اپنی افادیت کھوبیٹھا اور رہی سہی کسر انٹرنیٹ نے پوری کردی جو کہ کم خرچ بھی ہے اور فوری بھی۔ اب وہ انتظار کی لذت وبے چینی ختم ہو چکی ہے، جو پہلے ڈاک کے انتظار میں اٹھانی پڑتی تھی۔ تاہم تعلیمی ودفتری دستاویزات ہوں یا کچھ اور معاملات ڈاک کی اہمیت آج بھی دنیا بھر میں مسلمہ ہے۔
ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا مشغلہ
دنیا کے مشہور مشغلوں میں سے ایک مشغلہ ڈاک ٹکٹ جمع کرنا ہے۔ یہ ایک مہنگا شوق بھی ہے یہ پہلے نواب و بادشاہوں کا شوق تھا، اب تو آسانیاں ہیں، اب یہ عوامی شوق ہو گیا ہے اور کروڑوں لوگوں نے اس کو کاروبار کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
وہ ٹکٹ ایک نئی دنیا کی سیر کراتے تھے ۔ چلی، آسٹریا، چیکوسلواکیہ، رومانیہ، یوگنڈا، زمبابوے اور کئی ایسی جگہوں سے پہلا پہلا تعارف انہی ٹکٹس کے ذریعے ہوتا تھا۔ پھر ہر ملک ٹکٹ پر اپنے کسی مشہور آدمی، مقام یا واقعے کی تصویر دیتا تھا، اس کے متعلق جاننے کے لئے خواہ مہ خواہ بچہ کئی کتابیں چھاننے پر مجبور ہو جاتا اور یوں ٹکٹوں کا ذخیرہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ معلومات اور مطالعے کا دائرہ بھی پھیلتا چلا جاتا۔
اس شوق کی نزاکتیں بھی اپنی تھیں۔ ٹکٹ کے چاروں طرف جو کنگریاں سی بنی ہوتی ہیں اگر ان میں سے ایک بھی پھٹی ہوتی تو ٹکٹ ڈیمج سمجھا جاتا۔ پھر اگر لفافے سے اتارتے ہوئے پھٹ گیا تو جانئے بالکل ردی ہو گیا۔ اسے لفافے سے اتارنے کے لئے کسی بڑے سے برتن میں پانی بھر کر پورا لفافہ ڈبو دیتے تھے اور تین چار گھنٹے بعد جب اٹھاتے تو گیلا ہونے اور گوند پانی میں حل ہونے کی وجہ سے نیا نکور ٹکٹ ہاتھ میں آ جاتا۔ اب مرضی ہوتی کہ اس کے اوپر کاغذ یا کپڑا رکھ کر استری کریں اور سکھا لیں یا ویسے ہی کسی کتاب میں دبا کر سکھا لیا جائے۔
برطانیہ اپنے ٹکٹوں پر کبھی نام نہیں لکھتا تھا، صرف کونے میں ملکہ کی ایک شبیہ سی بنی ہوتی اور وہی شبیہ اس بات کی پہچان ہوتی کہ یہ برطانیہ کا ٹکٹ ہے۔ ایران اور سعودیہ کے ٹکٹوں پر اکثر ان کے قومی نشان ضرور بنے ہوتے تھے۔
یادگار ڈاک ٹکٹ
ایسے ہی کچھ ٹکٹ غیر معمولی سائز کے ہوتےتھے وہ عموماً یادگاری ٹکٹ ہوتے تھے۔یادگار ڈاک ٹکٹ وہ ڈاک ٹکٹ ہیں جو کسی واقعے یا کسی موضوع یا شخص کی یاد میں جاری ہوں۔ ایسے ڈاک ٹکٹوں کی شکل و صورت اس موقع کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ ڈاک ٹکٹ کسی بھی ملک کے محکمہ ڈاک کی جانب سے جاری ہوتے ہیں۔ کئی موضوعاتی ڈاک ٹکٹ بھی جاری ہوتے ہیں جیسے کہ قدیم عمارات یا مقامات، تاریخی شخصیات، زیرخطرہ انواع، وغیرہ۔

image_printپرنٹ کریں