skip to Main Content
انیس احمدخلیل:ورلڈ فرسٹ ایڈڈے14 ستمبر 2019ء

فرسٹ ایڈ کا مطلب

فرسٹ ایڈ کامطلب ہے ابتدائی طبی امدادیعنی متاثرہ شخص کو موقع پرہی فوری طبی امدادکی فراہمی  جوڈاکٹرکے پاس لے جانے سے پہلے متاثرہ شخص کوفراہم کی جاتی ہے۔

فرسٹ ایڈ کے مقاصد

ابتدائی طبی امداد (First Aid)کےحسب ذیل مقاصد ہو سکتے ہیں :

بہتے خون کو روکنا

زخم کو گہرا نہ ہونے دینا

زخمی کی جان بچانا

اعضا کا تحفظ

آگے کے علاج و معالجہ میں مدد

یہ دن  کب منایا جاتا ہے

دنیا بھر میں ہر سال ورلڈ فرسٹ ایڈ ڈے ستمبر کے دوسرے ہفتے میں منایا جاتا ہے-

اس دن کی ابتداء

پہلی باریہ دن 2000ء میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس، ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے منایا اور آج تک ہر سال پوری دنیا میں باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔دنیا بھر میں 100 کے قریب ریڈ کراس‘ ریڈ کریسنٹ سوسائیٹیز طبی امداد کا عالمی دن مناتی ہیں۔

اس دن کا موضوع

پیچھلے سال اس دن کو  ’’First aid & road safety ‘‘ کےموضوع پر منایا گیا تھا۔اور امسال اس دن کو First aid & excluded people کے موضوع پر منایاجائے گا یعنی وہ لوگ جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنا ملک چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں مہاجرین اور پناہ گزین ہونے کی صورت میں رہ رہے ہیں انکی ہر طرح سے مدد کی جائے۔

یہ دن منانے کا مقصد

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کسی بھی جان لیوا حادثے کی صورت میں زیادہ تر لوگ زخموں کی تاب نہ لا کرزندگی کی بازی ہار جاتے ہیں یا ابتدائی طبی امداد نہ ملنے سے- ابتدائی طبی امداد حادثات و سانحات میں جائے حادثہ پر زخمی یا بیمارکو ملنے والی مدد کو کہتے ہیں جو کسی بھی پیشہ ورانہ طبی امداد کی فراہمی سے قبل دی جاتی ہے۔ حادثے کیلئے وقت مقرر نہیں ہو تا ہے بلکہ یہ روز مّرہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔جب کبھی اچانک کسی حادثے کی وجہ سے ہم زخمی یا بیمار ہو جائیں تو شدت سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہمارے اردگرد موجود افراد میں سے کوئی ایک توایسا ہو جو فوری ہماری مدد کر سکے ،اس تکلیف کو کم کر سکے اورمزید نقصان پہنچنے سے بچا سکے ۔ابتدائی طبی امداد یا فرسٹ ایڈ ایسی ہی صورتحال میں پیشہ ورانہ طبی امداد میسر آنے یاہسپتال پہنچنے سے قبل زخمی یا بیمار افراد کو مہیا کی جانے والی بروقت اور فوری مدد کا نام ہے ۔بوقت حادثہ یا بیماری میں ابتدائی طبی امداد دینا تاکہ بیماری یا زخم مزید خراب نہ ہو ۔ یہ کام صرف ایک تربیت یافتہ آدمی ہی بخوبی کر سکتا ہے۔ مصنوعی طریقہ سے سانس بحال کر نا ، کسی زخمی کے خون کو روکنا ، زخموں کی دیکھ بھال اور جراثیم سے بچانا، صدمہ کی حالت میں نفسیاتی امداد دینا،خوف کو دورکرنا، حوصلہ دینا، اگر مریض کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو تو اسے سہارا دینا ، ایسا بندوبست کرنا کہ مریض کو کم سے کم حرکت ہو، تمام کام نرم ہاتھوں سے سر انجام دینا اور اسکو آرام دہ حالت میں قریبی ہسپتال تک پہنچانا ابتدائی طبی امداد کا ہی نام ہے۔ ایک فرسٹ ایڈر کے لئے ضروری ہے کہ وہ انسانی جسم میں بنیادی نظام کا تھوڑا بہت علم رکھتا ہو۔ ہر روز ملکی اخبارات ایسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں جن کے آخر میں لکھا ہوتا ہے کہ ٹریفک حادثے کے بعد فلاں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی جان اس لیے بھی نہیں بچائی جا پاتی کہ ان کے آس پاس موجود کسی بھی فرد کو ابتدائی یا فوری طبی امداد دینا نہیں آتی۔اگر کھانا کھاتے ہوئے کسی کے حلق میں کوئی چیز پھنس جائے، کسی کی کوئی اہم رگ کٹ جائے یا کوئی غلطی سے کوئی زہریلی چیز پی لے تو بہت آسانی سے اس کی جان بچائی جا سکتی ہے بشرطیکہ متاثرہ شخص کے آس پاس کوئی’’ فرسٹ ایڈ‘‘ جانتا ہو۔

اس دن کےمنانے کا مقصدکس بھی ناگہانی صورتحال اور حادثات کی شکل  میں ابتدائی طبی امداد کے ذریعے انسانی زندگی بچانے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور فرسٹ ایڈ کے متعلق عوامی شعور بیدار کرناہے۔اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں محکمہ صحت اور شعبہ طب سے وابستہ اداروں،ریسکیو اداروں اورتنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز اور تقاریب کا اہتمام کیا جاتاہےجس میں حادثات کی صورت میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنےکی تربیت کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت پربھی تفصیل سےروشنی ڈالیں گے۔

اِس دن کے منانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ابتدائی طبی امداد کی تربیت حاصل کی جائے اور دوسروں کو اسکی تربیت کی طرف راغب کیا جائے۔ یہ وہ بنیادی مرحلہ ہے جو کسی حادثے یا سانحے میں زندگیاں بچانے کیلئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے

فرسٹ ایڈ کٹ

خدانخواستہ ہنگامی صورت حال میں آپ یا آپ کے گھر میں سے کسی کو یا پھردفتراور اسکول میں کسی کو حادثے کے باعث زخم لگ سکتا ہے، جسم کا کوئی حصہ جل سکتا ہے یا دوسری چوٹیں لگ سکتی ہیں۔ ایسے میں اگر آپ کے پاس بنیادی سامان ہو تواپنے عزیزوں کو چوٹ لگنے کی صورت میں آپ ان کی مدد کرنے کے لئے بہتر طور پر تیار ہوتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ زیادہ تر چوٹوں کی وجہ سے جان کو خطرہ نہیں ہوتا اور فوری طبی امداد سے متاثرہ افراد کو آرام مل جاتا ہے۔ معمولی زخموں کے علاج کی معلومات سے ہنگامی صورت حال میں بہت فرق پڑسکتا ہے۔ ابتدائی طبی امداد کی کلاس لینے کے متعلق سوچیں، اس کے علاوہ مندرجہ ذیل طریقوں سے بھی خون کے بہنے اور جراثیم زدگی کے پھیلنے کی روک تھام اور آلودگی سے پاک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

آپکی فرسٹ ایڈ کٹ میں کون کونسی چیزیں ہونی چاہئیں

آپ کی فرسٹ ایڈ کٹ میں درج ذیل بنیادی چیزیں ہونی چاہئیں۔

مختلف شکلوں میں جراثیم سے آزاد چِپکنے والی پٹیاں

مختلف شکلوں کی سوکھنے والی جعلی یا سوکھنے والے پیڈس کے چھوٹے رول

چِپکنے والی ٹیپ

مثلث اَور رولر پٹیاں

کپاس (1 رول)

بینڈ ایڈس (پلاسٹرس)

قینچی

پین ٹارچ

لیٹیکس دستانے (2 جوڑی)

چمٹی

سوئی

وائپس اَور صاف سُوکھے کپڑے کے ٹکڑے

اینٹی سیپٹیک (سیولان یا ڈیٹال)

تھرمامیٹر

پیٹرولئم جیلی یا دیگر لُبرِکینٹ کا ٹیوب

الگ الگ شکل کی حفاظتی پِنس

کچھ اہم دوائیں (ڈاکٹرکے مشورہ کے بغیر)

ایسپرن یا مشورہ پیراسیٹامول پینکلرس

دست کے لئے دوا

شہد کی مکھی کے کاٹنے پر لگائی جانے والی اینٹی ہسٹامان کریم

اینٹاسڈ (پیٹ کی گڑبڑ کے لئے)

لیگذیٹو (پیٹ صاف کرنے کی دوائی)

نسخے کی ادویات جو آپ روزانہ لیتے ہیں، جیسے کہ انسولین، دل کے امراض کی دوا اور دمہ کا انہیلر

نسخے کے ذریعے دستیاب طبی سامان جیسے کہ شوگر اوربلڈ پریشر کی نگرانی کے آلات اور سامان

اس بات کو لازمی بنائیے کہ گھر، دفتر ، اسکول یا دیگر اہم جگہوں پر فرسٹ ایڈ باکس موجود ہو اور ایسی جگہ رکھیں جہاں اِس تَک آسانی سے پہُنچا جا سکے اور کسی بھی حادثے کی صورت میں پریشانی سے بچا جاسکے اور متاثرہ شخص کو فوری طبی امداد مل سکے۔

نوٹ:آپ کو تاریخ تنسیخ یعنی ایکسپائری ڈیٹ کے حساب ادویات کو بدلناچاہیے۔

گھر میں پیش آنے والے حادثات کے لئے فرسٹ ایڈ ٹپس

اگر گھر میں کسی کو  کوئی حادثہ پیش آجائے توآپ پریشان ہونے کے بجائے فوری طبی امداد دیں ۔اس طرح کا اقدام کرکے ناصرف متاثرہ شخص  کی تکلیف کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے بلکہ زیادہ نقصان سے بھی بچایا جاسکتا ہے ۔

اگر کٹ یا رگڑ لگ جائے:

اگر چوٹ کی وجہ سے خون نکل رہا ہو تو زخم پر صاف کپڑا رکھ کر چند منٹ دبا کر رکھیں تاکہ خون رک جائے۔نیم گرم پانی سے دھو کر ہلکا سا خشک کر لیں ۔اگر رگڑ پر مٹی لگی ہو یا جانور کے پنجہ مارنے کی وجہ سے چوٹ لگی ہو تو اسے صابن کے جھاگ اور پانی سے دھو لیں۔اگر جلد پھٹ گئی ہے تو اس پر اینٹی بائیوٹک مرہم کی موٹی تہ لگاکر پٹی باندھ دیں۔اگر آپ کی کوشش کے باوجود خون بہنا بند نہ ہو تو بچے کو ایمرجنسی میں لے جائیں۔اگر کھال کا بڑا ٹکڑا کٹ کر الگ ہو گیا ہے تو اسے گیلے کپڑے میں لپیٹ کر برف پر رکھیں اور اپنے ساتھ ہاسپٹل لے جائیں کیونکہ ڈاکٹر اس کھال کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کر سکتا ہے۔اگر جانور کے کاٹنے کی وجہ سے گہرا کٹ لگا ہے تو ڈاکٹر کو دکھانا نہایت ضروری ہوگا-

اگر کانٹا چبھ جائے:

اگر کسی بچے کو سو ئی یا کانٹا چبھ جائے تو سب سے پہلے سوئی یاکانٹے کو باہر نکالیں۔ خون بہنے کی صورت میں خون کو روکیں اور متاثرہ جگہ پر پایو ڈین ٹنکچر لگا کر پٹی باندھ دیں۔ کانٹا جسم کے اندر ٹوٹ جانے کی صورت میں کو شش کر یں کہ کانٹا نکل سکے بصورت دیگر درد کو روکیں۔

حلق میں کچھ پھنس جائے:

حلق میں کو ئی چیز پھنس جانے کی صورت میں مریض کو سامنے کی طرف جھکا کر اس کی پشت پر کندھوں کے درمیان کھلے ہاتھوں سے پانچ مرتبہ زور دار ہاتھ ماریں۔ یہ طریقہ کار گر نہ ہونے کی صورت میں پیٹ پر دبائو دیں۔ ایسا کرنے کے لیے مریض کے پیچھے کھڑے ہو کر دونوں بازوئوں سے اس طرح گھیرا ڈالیں کہ ایک ہاتھ کی ہتھیلی اوپر اور ایک کی نیچے کی طرف ہو۔ مر یض کے بے ہوش ہونے اور سانس نہ لینے کی صورت میں فوری طور پر ہسپتال لے جائیں۔

اگر بجلی کا جھٹکا لگے:

بجلی کا جھٹکا لگنے کی صورت میں بے ہوشی، سانس کی رکاوٹ اور دل کی د ھڑکن بند ہو سکتی ہے۔ طبی مدد کے لیے سب سے پہلے پلگ یا سوئچ کے بند ہونے کو یقینی بنائیں یا اگر تار گرے ہوئے ہیں تو انہیں ہٹائیں یا مریض کو بجلی کے منبع سے دور کریں۔ اس دوران اپنا بچائو بھی اشد ضروری ہے، غیر موصل اشیاء مثلاً لکڑی اور ربڑ وغیرہ کا استعمال ایسی صورت میں مفید ہو سکتا ہے۔ بجلی سے متاثرہ مریض کو علیحدہ کرنے کے بعد اس کی نبض اور سانس کا معائنہ کریں اور سانس بند ہونے کی صورت میں مصنوعی تنفس دیں۔ سانس اور نبض نارمل ہو جائے تو جلنے کے زخم کا ابتدائی طبی علاج کر یں یا ہسپتال منتقل کریں۔

شہد کی مکھی کاٹ لے:

اگربھڑ یا شہد کی مکھی کاٹ لے تو متاثرہ جگہ پر خارش مت کر یں ورنہ تکلیف زیادہ ہو گی۔ کاٹے کی جگہ کو پانی اور صابن یا ڈیٹول والے پانی سے دھوئیں پھر برف کی ٹکور کریں۔

جل جانے کی صورت میں:

بعض اوقات شعلوں، کھولتے ہوئے مادوں یا کیمیکلز سے جسم جل جاتا ہے۔ جلنے کی وجہ کوئی بھی ہو زخموں کا طریقہ علاج ایک جیسا ہے۔ اگر جسم کا بہت زیادہ حصہ جل چکا ہو تو اسی وقت ایمبولینس کے لیے فون کریں۔ جلنے کی مختلف صورتوں میں طبی مدد بھی اس کے مطابق ہوتی ہے۔کسی کو کپڑوں میں آگ لگنے سے اسے اس طرح لٹائیں کہ جلا ہوا حصہ اوپر کی طرف ہو اور اس پر خوب پانی ڈالیں یا پھر کمبل یا دری میں لپیٹ دیں تاکہ شعلوں کو ہوا نہ مل سکے۔ اگر جسم گرم پانی یا سیال مادے سے جلا ہے تو اوپر پہنے ہوئے کپڑوں میں حرارت موجود ہو گی۔ انہیں احتیاط سے علیحدہ کر دیں کیو نکہ کپڑوں میں موجود حرارت سے مزید زخمی ہونے کا امکان ہے۔ اگر زخم کسی کیمیکل کی وجہ سے ہو اہے تو کپڑوں کو اتارنا ضروری ہے، مگر یاد رہے کہ اپنے ہاتھوں کو اس کیمیکل سے بچانے کے لیے کچھ پہن لیں۔ متاثرہ عضو کو پانی کے ٹب میں کم از کم 10منٹ لٹا دیں۔ جلی ہوئی جگہ پر برف ہرگز مت لگائیں۔ زخم شدید ہو تو طبی مدد طلب کرنے میں ہرگز تاخیرمت کریں۔

آنکھ پر چوٹ لگ جائے:

آنکھ پر چوٹ لگنے کی صورت میں مر یض کو اس طرح لٹائیں کہ ممکنہ حد تک حرکت نہ ہو۔ متاثرہ آنکھ کا معائنہ کر یں۔ آنکھ کی چوٹ آنکھ میں کسی چیز کے چلے جانے مثلاً گرد کے ذرات، شیشے کے ٹکڑے، آنکھ کے بال، دھات کے ٹکڑے اور کیمیکلز وغیرہ سے ہو سکتی ہے۔ عام درجہ حرارت کے پانی سے آنکھ کو اچھی طرح دھوئیں۔ اس کے لیے ضروری ہو گا کہ مریض اپنی متاثرہ آنکھ کھلی رکھے یا اپنا چہرہ پانی میں ڈبو کر آنکھ بار بار جھپکے۔ اگر آنکھ میں کو ئی چیز چبھ گئی ہو اور اندر گھسی ہو ئی ہو یا آنکھ میں اس سے زخم ہو گیا ہو تو پانی مت ڈالیں اور فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

مچھلی کا کانٹا پھنس جائے:

مچھلی کا کانٹا گلے میں پھنس جانے کی صورت میں روٹی کا نوالہ کھلائیں۔ کانٹا اس میں پھنس جائے گا، اس طرح اگر نگل بھی لیا جائے تو تکلیف نہ دے گا۔

دانت بھنچ جائے:

کسی وجہ سے دانت کے بھنچ جانے کی صورت میں مریض کی ناک کو دونوں انگلیوں کے ساتھ دبائیں، دباؤ پڑنے سے منہ کھل جائے گا۔

اگر سانپ کاٹ لے:

سانپ کے کاٹنے کی صورت میں کاٹے والی جگہ کو صابن سے دھو دیں۔ کاٹے والی جگہ سے دو سے چار انچ اوپر جسم کی طرف مضبوطی سے کپڑا باندھ دیں مگر خون کا بہاؤ نہ رکنے پائے۔ ایک صاف ستھرے بلیڈ یا چاقو سے ایک چوتھائی انچ کا کٹ لگائیں اور زخم پر منہ لگا کر زہر کھینچ کر تھوک دیں۔ جتنی جلدی ہو سکے مر یض کو ہسپتال منتقل کریں۔

پانی میں ڈوبنے کی صورت میں:

پانی میں ڈوبنے کی صورت میں مر یض کو پانی سے نکالنے کے بعد اوندھے منہ لٹا دیں اور منہ کو اندر سے صاف کریں۔ پیٹ کے نیچے کوئی گدی وغیرہ رکھ کر کمر پر ہاتھوں سے دباؤ ڈالیں تاکہ پانی پیٹ سے نکل جائے۔ سانس بند ہو نے کی صورت میںمصنوعی طر یقے سے سانس بحال کریں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

چوٹ لگنے کی صورت میں

ایسی صورتحال میں سب سے پہلے ضروی چیز خون کو روکنا ہے کیونکہ اکثر انسانی ہلاکتیں جسم سے حادثات کی صورت میں زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس صورت میں فوری طور پر مریض کو طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔مریض کو آرام سے سہارا دیں۔ اور لیٹا دیں۔ جہاں سے خون نکل رہا اس حصہ کو اونچا کر دیں۔ صاف رومال کی گدی بنا کر زخم کو سہار دیں۔ چوٹ یا خون بہنے والی جگہ سے کچھ فاصلے پر کس کر پٹی باندھ دیں تاکہ خون بہنے سے رُک جائے۔

نکسیر پھوٹنے کی صورت میں:۔

نکسیر میں خون ناک سے بہتا ہے۔ اس صورت میں مریض کا سر پیچھے کی جانب جھکا دینا چاہے۔ ایسا کرنے سے ناک اوپر کو اٹھ جائے گا اور خون کے بہاؤ میں کمی آجائے گی۔ مریض کی گدی پر ٹھنڈا پانی ڈالتے جائیں۔ ناک کے دونوں نتھنوں میں روئی رکھ دیں تاکہ خون کا بہاؤ کم ہوجائے۔ اگر خون جسم کے اندرونی حصے مثلاً پھیپھڑے وغیرہ سے نکلا رہا ہے تو مریض کو فوراً چت لیٹا دیں اور کسی قسم کی حرکت نہ کرنے دیں۔ مریض کو چوسنے کیلئے برف دیں۔

ہاتھ پاؤں اتر نے کی صورت میں:۔

بسا اوقات گرنے یا ضرب لگنے سے ہاتھوں اور پاؤں کے جوڑ نکل جاتے ہیں جو بہت زیادہ تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے میں ہاتھ اور پاؤں کو طبی امداد دیتے ہوئے اس حالت میں رکھیں جس میں وہ آرام محسوس کرے۔ متاثرہ حصہ کو پٹی سے سہارا دیں۔ چوٹ کی جگہ پر ٹھنڈا پانی ڈالیں۔ اگر آرام نہ آئے تو پھر گرم پانی کی دھار ماریں۔

موچ آنے کی صورت میں:۔

ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ، پاؤں کے جوڑ کے اردگرد کے بند بہت زیادہ کھنچ جاتے ہیں۔ جوڑ میں ورم آجاتا ہے اور حرکت کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں جسم کے متاثرہ حصہ کو آرام دہ حالت میں رکھیں۔ جوڑ پر برف یا ٹھنڈے پانی میں کپڑا گیلا کر کے رکھیں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو جوڑ کو گرم پانی سے سینک دیں اور جوڑ پر ایک پٹی مضبوطی سے باندھ دیں تاکہ جوڑ حرکت نہ کر سکے۔

ہڈی ٹوٹنے کی صورت میں:۔

بلندی سے گرنے، سخت چوٹ لگنے یا کسی حادثہ کی وجہ سے ہاتھ، پاؤں یا پسلیاں وغیرہ ٹوٹ جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں متاثرہ حصہ کو حرکت دی جائے تو بہت زیادہ درد ہوتی ہے۔ ٹوٹی ہڈی کو پکڑنے کی کوشش نہ کریں۔ متاثرہ جوڑ کو اس کی اپنی حالت میں رہنے دیں۔ اس کے ساتھ کھپاچ (لکڑی کی سیدھی چپٹی ) باندھ کر سہارا دیں۔ فوری پرکھپاچ نہ ملے تو کسی بھی سخت اور سیدھی لکڑی یا شے سے مدد لی جا سکتی ہے۔ مریض کو چارپائی ، پلنگ یا تختہ پر لیٹائیں۔ اگر کپڑے اتارنے کی ضرورت ہو تو انہیں کاٹ کر اتاریں۔

بے ہوشی کی صورت میں:۔

مریض کیلئے فور ی طور پر تازہ ہوا کا بندوبست کریں۔ اس کا سر ذرا نیچے کر دیں اور لباس ڈھیلا کر دیں۔ منہ اور سینہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں۔ اس کے ہاتھ پاوں اور سینہ کو زور زور سے ملیں تاکہ دورانِ خون تیز ہو۔ چونا اور نشادر مکس کر کے سونگھانا بہتر ہے۔ہوش آجائے تو چائے کا قہوہ پلائیں۔

مرگی ، ہسٹیریا اور سکتہ کی صورت میں:۔

ایسے مریض کو آرام سے لیٹا دیں۔ اس کا لباس ڈھیلا کر دیں۔ دانتوں کے درمیان کوئی شے رکھ دیں تاکہ زبان کٹ نہ جائے۔ منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں۔ ہسٹریا کے مریض کو سلانے کی کوشش کریں سو کر اٹھنے پرمریض ٹھیک ہوجاتاہے۔ سکتہ کے مریض کا سر اور شانے بلند کر دیں۔ سر پر برف رکھیں اور پاؤں کو گرمی پہنچائیں۔ایسے مریض کو محرک شے نہیں دینی چاہیے۔

لو لگنے کی صورت میں:۔

مریض کو فوراً ٹھنڈی جگہ پر لے جائیں۔ اس کا سر اونچا رکھیں۔ لباس ڈھیلا کر دیں۔ سر، گردن کے نیچے برف رکھیں۔ برف والا پانی پلائیں اور پنکھا جھلتے رہیں۔

دم گھنٹے کی صورت میں:۔

مریض کو فوراً کمرے سے باہر لائیں۔ مریض کے گلے کے بٹن کھول دیں۔ تازہ ہوا میں رکھیں۔ چہرہ پر پانی کے چھینٹے ماریں اگر ضرورت پڑے تو مصنوعی سانس دیں۔

صدمہ کی صورت میں

مریض کو آرام سے چت لیٹا دیں۔ لباس ڈھیلا کر دیں۔تازہ ہوا میں رکھیں۔ کمبل اوڑھ کر مریض کو گرمی پہنچائیں۔

زہریلے جانوروں کے کاٹنے کی صورت میں

بھڑ، شہد کی مکھی اور بچھو کاٹ جائے تو ڈنک کو نکالنے کی کوشش کریں۔ اگر نہیں تو ایمونیا ،سوڈا ، سپرٹ ، ٹنکچر آیوڈین لگا دینے سے آرام آجاتا ہے۔بچھو کے کاٹے سے خون بہنے دیں اس کے بعد پوٹاشیم پرمنگنیٹ یا ایمونیا مل دیں۔

پاگل کتے کے کاٹنے کی صورت میں:۔

زخم والی جگہ کو مضبوطی سے باندھ دیں۔ زخم سے خون بہنے دیں۔ اس کے بعد کاربالک ایسڈ لگا دیں۔

زہر کھانے کی صورت میں:۔

کاسٹک سوڈا، تیزاب وغیرہ جلا دینے والے زہر ہیں ، بھنگ، افیون، دھتورہ وغیرہ خواب آور زہر ہیں۔ تیزابی زہرکی صورت میں چاک، میگنیشیا یا دودھ میں پانی اور صابن ملاکر دینا چاہیے۔ کاربالک کے زہر کیلئے انڈے کی سفیدی پھینٹ کر دیں۔ سلور نائٹریٹ کے زہر کیلئے نمک تریاق کا حکم رکھتا ہے۔ سوزشی زہر کی صورت میں قے کروائیں۔یا گلاس پانی میں ایک چمچ نمک ڈال کر پلا دینا چاہیے۔خواب آور زہر کیلئے مریض کو قے کروائیں اور سونے مت دیں۔

ناک اور آنکھ میں کسی چیز کے پڑ جانے کی صورت میں:۔

ایسی صورت میں بڑی احتیاط سے اس چیز کو نکالیں ۔ اگر زیادہ صورتحال خراب ہو توفوراً مریض کو ہسپتال لے جائیں۔

ڈوبنے کی صورت میں:۔

ایسے شخص کا منہ اور ناک صاف رومال سے صاف کریں۔ اس کو منہ کے بل اوندھا لیٹا دیں۔ بدن خشک کریں۔ پیٹ کو نیچے دبا کر پانی نکالیں۔اگر زیادہ صورتحال خراب ہو تو مصنوعی طریقے سے سانس دلائیں۔

ایمرجنسی اور حادثات میں زیادہ تر اموات سانس اور دل بند ہونے یا جسم سے خون کے وافر مقدار میں ضیاع کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ابتدائی طبی امداد کی فراہمی ہر زخمی شخص کا بنیادی حق ہے لیکن ہر شخص تک ہر جگہ اور ہر وقت اِسکی رسائی کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے میں زیادہ سے زیادہ ’’فرسٹ ایڈ‘‘ کی تربیت کو عام کیا جائے اور لوگوں کو آگاہی کے ساتھ ساتھ زندگی بچانے کی مہارتوں پر عبور حاصل کرنا چاہیے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ماہانہ روڈ ٹریفک حادثات میں لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد سالانہ بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ روڈ ٹریفک ایمرجنسی نہ صرف پاکستان کا بلکہ ساری دنیا بالخصوص ترقی پذیر ممالک کا بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور ان حادثات میں بروقت اور مناسب طبی امداد کی عدم فراہمی کیوجہ سے بہت سے لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں ہر شہری کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ایمبولنس سروس ایمرجنسی سروس کا ایک اپنا کردار ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن بحیثیت شہری ہر ایک کو طبی امداد کی تربیت حاصل کرنی چاہیے تاکہ حادثے یا سانحے کی صورت میں وہ متاثرین کو طبی امداد فراہم کر سکیں۔ طبی امداد کی اہمیت سے آگاہ شہری ہی اپنا کردار ادا کر کے متاثرین کی زندگی بچا سکتا ہے-

اگر آپ کو فرسٹ ایڈ کا تجربہ نہ ہوتوانٹرنیٹ سے فائدہ اٹھاتےہوئے فرسٹ ایڈ کی ویب سائٹ پر جاکر یا یوٹیوب پر دستیاب ٹیوٹوریلز دیکھ کریا فرسٹ ایڈ کے حوالہ سے مختلف اقسام کی ایپس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ایسے کرنے سے آپ کو مختلف بیماریوں یا حادثات میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے سے متعلق معلومات حاصل ہوجائیں گی۔ ٹھنڈ لگ گئی ہو، کھانسی ہو، ہڈی ٹوٹ جائے یا شہد کی مکھی کاٹ لے، غرض یہ کہ انٹرنیٹ پر بے شمار بیماریوں اور حادثات کی ابتدائی طبی امداد سے لے کر گھریلو ٹوٹکے تک موجود ہیں اور ساتھ معلومات بھی درج ہوتی ہیں۔ گھروں میں عموماً پیش آنے والے چھوٹے موٹے حادثات کو بھی تفصیلاً اور ویڈیوز کے ذریعے سمجھایا گیا ہوتا ہے، مثلاً نکسیر پھوٹنا، انگلی کٹ جائے، پیر میں موچ آجائے، کانٹا چبھ جائے، قے دست ہوجائیں یا بچوں کے سر میں چوٹ لگ جائے وغیرہ۔ انٹرنیٹ پر بہت ساری مفید ویب سائٹس ہیں، جن کوآپ گوگل پر first-aidلکھ کر سرچ کرسکتے ہیں اور نہ صرف اپنے گھرو الوں کے لیے بلکہ دوسروں کے بھی کام آسکتے ہیں۔

image_printپرنٹ کریں