skip to Main Content
کرامت الرحمٰن: یو ٹرنU

 آج کل ایک ٹرم کا عام استعمال ہونے لگا ہے۔وہ لفظ یوٹرن ہےاس کا مطلب اپنے ہی بیان سے مکر جانا ہوتا ہے۔ایک بہترین لیڈر کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے اس پر قائم رہتا ہے ۔ ایک نیک آدمی کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ سچ بولتا ہے خواہ اس کی وجہ سے اس کو جتنا مرضی نقصان ہو جائے وہ سچ کو جھوٹ میں کبھی بھی نہیں تبدیل کرتا ہے۔ دنیا میں ان لوگوں کی ہسٹری پڑھ کر دیکھ لیں جنہوں نے دنیا کو بدل کے رکھ دیا اور وقت کا دھارا ان کے گرد گھومنے لگا انہوں نے جو کہا اس کو سچ کر کے دیکھایا اور اپنے آ پ کو جھوٹ سے ہمیشہ دور رکھا اور اس سچ کی بدولت انہوں نے دنیا کا نقشہ بدل کر کے رکھ دیا سچ بولنے میں کامیابی کے سو فیصد امکان ہوتے ہیں اور جھوٹ بولنے میں ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہو سکتا ۔ سچ کو اگر آ پ جھوٹ میں بدلتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ آپ یوٹرن لیتے ہیں۔جیسے کہ آج کےسیاستدانوں میں یہ ایک عام بیماری ہو گئی ہے پہلے وہ ایک بات کرتے ہیں جب حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو فوراً ہی یوٹرن لے لیتے ہیں تاکہ حالات کے رخ کو بدلا جا سکے حالانکہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس سے بہت سی دوسری بیماریاں جنم لیتی ہیں یہ تو ایسے ہی ہے کہ غربت ہی تمام بُرائیوں کی جڑ ہوتی ہے۔ جڑ جب تک قائم ہے تو پھر بُرائیوں کا ہونا بھی لازم ملزوم ہونا ہوتا ہے اگر برائیاں موجود ہیں تو پھر غربت کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے جب تک غربت کو ختم نہ کیا جائے اس وقت تک معاشی نظام کبھی بھی بہتر نہیں ہوسکتا ہے۔ جب معاشی نظام کمزور ہوتو پھر کسی ملک کا سیاسی نظام بھی کمزور ہو گا ۔ ایسی حالت میں ترقی کرنے کے جو منصوبے بنائے جاتے ہیں وہ بھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔ان کا تعلق عوام کی فلاح و بہبود سے ہوتا ہے جب اس کے مواقع میسر نہیں ہونگےمعاشرہ میں بے چینی کی لہر دوڑے گی ایسی صورت میں ملک میں بدامنی پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے جب اس کو روکنے میں ناکامی ہو جائے پھر لڑائی کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں تو ایسی صورت میں لوگوں کے جذبات کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے جب یہ حالت آجائے تو پھر کیا ہوتا ہےتب ایسے ایسے نقصانات ہوتے ہیں جن کا تصور کرنا انسان کے بس میں بھی نہیں رہتا ۔ نقصانات ہونے سے پہلے منصوبہ بندی اگر کر لی جائے تو کچھ بہتری کی طرف رحجانات تبدیل ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔رحجانات کو تبدیل کرنے کےلئے اپنی سوچوں پر کنٹرول کرنا بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو سمجھو تم نے اپنے آ پ کو پہچان لیا جس نے اپنے آ پ کو پہچان لیا گویا اس نے زندگی کا مقصد حیات پا لیا ۔ یہی تو انسان کا اس دنیا میں آنے کا اصل مقصد ہے۔

       پاکستان کے لیڈر قائد اعظم تھے اگر ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے جو کہا اس کو کر کے دنیا کو دیکھادیا۔

ان کا قول ہے۔

think a hundred times before you take decision but once the decision is taken stand by it as one man.

اس دنیا  میں جو انبیاء آئے انہوں نے سچ بولنے پر بہت زور دیا۔جھوٹ بولنے کا پرچار نہیں کیا۔

سچ بولنے پر سقراط نے زہر کا پیالہ پی لیا۔سقراط کےد وستوں کا کہنا تھا کہ سقراط سے زیادہ شریف عالم اور متوازن فکر رکھنے والا آدمی انہوں نے ساری دنیا میں نہیں دیکھا۔ اس کے اندر سچائی تھی۔ اس نے کسی کو تکلیف نہ دی بلکہ دوسروں کی تکلیفیں خود برداشت کیں۔ یہاں تک کہ جب اسے زہر کا پیالہ دیا گیا تو پیالہ دینے والے کی طرف سقراط نے دیکھ کر کہا:

“تم دنیا کے شریف ترین اور نیک آدمی ہو”

جب سقراط نے اپنے خلاف عدالت سے فیصلہ سنا اور مسکرا کر کہا

“اے ایتھنز کے لوگو! اب تمہیں زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور کچھ دنوں کے بعد تم لوگوں کو احساس ہو گا کہ  تم نےایک عقل مند آدمی کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے”

اور پھر سقراط نے مسکرا کر جیوری ممبران کی طرف مسکرا کر دیکھا اور کہا۔

“اب رخصتی کا وقت آگیا ہے۔ ہم اپنے اپنے راستوں کی طرف جا رہے ہیں۔ میں موت کے راستے کی طرف اور تم زندگی کے راستے کی طرف۔ کون سا راستہ درست ہے؟نہ تم جانتے ہو اور نہ میں۔ جاننے والی صرف خدا کی ذا ت ہے”

image_printپرنٹ کریں