skip to Main Content
حافظ محمد مبرور: تم ہی ہو

دل جس کو ڈھونڈتا ہے وہ راز تم ہی ہو
تم انتہائے عشق اور آغاز تم ہی ہو
مغموم دل کی راحت بے مایہ دل کا زر
کانوں میں رس جو گھولے آواز تم ہی ہو
صد ساز گونجتے ہیں بے کیف ہیں سبھی
مزمارِ آسمانی اور ساز تم ہی ہو
جو مانگتے ہیں تم سے کوئی نشانِ حق
اے کاش وہ سمجھتے اعجاز تم ہی ہو
چاہے زمانہ تم سے منہ پھیر لے تو کیا
تقلید ہو گی جس کی انداز تم ہو ہی
ہم کو عزیز از جاں بس تیرا ساتھ ہے
حافظ ہیں نازاں جس پروہ ناز تم ہی ہو

image_printپرنٹ کریں