skip to Main Content
عبدالماجد طاہر۔ لندن: سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورہ جرمنی

انفرادی، اجتماعی اور فیملی ملاقاتیں ، تقریب آمین ، جلسہ کا افتتاح پرچم کشائی اور مہمانوں کے تاثرات

3جولائی 2019ء

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح4 بج کر15منٹ پر تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔
صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔ حضور انور نے دفتری ڈاک، خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔

فیملی ملاقاتیں

پروگرام کے مطا بق 11بجے حضور انوراپنے دفتر تشریف لائے اور فیملیزسے ملاقاتیں شروع ہوئیں۔
آج صبح کے اس سیشن میں 35 فیملیز کے 121افراد اور 38خواتین نے انفرادی طورپر اپنے پیارے آقاسے ملاقات کی سعادت پائی۔ ملاقات کرنے والی یہ فیملیز جرمنی کی مختلف 23جماعتوں اور علاقوں سے آئی تھیں۔ اس کے علاوہ پاکستان، چاڈ، کانگو، مالی، غانا، تنزانیہ، قطر، بورکینا فاسو، گیمبیا، سینیگال، ماریشس، پرتگال، انڈونیشیا اور سعودی عرب سے آنے والے احباب اور فیملیز نے بھی شرف ملاقات پایا۔ جرمنی کی مختلف جماعتوں سے آنے والے احباب اور فیملیز میں سے بعض بڑے لمبے سفر طے کر کے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کے لئے پہنچے تھے۔
Bielefeldسے آنے والے 260 کلومیٹر ،Aachenسے آنے والے 265 کلومیٹر اور Münchenسے آنے والے 400کلومیٹر جبکہ ھمبرگ Hamburg سے آنے والے پانچ صد کلو میٹر اور برلنBerlinسے آنے والے احباب اور فیملیز 530کلومیٹر کا لمبا سفر طے کر کے ملاقات کے لئے حاضرہوئی تھیں۔
ملاقات کرنے والے ان سبھی احباب اور افراد نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔حضور انور نے ازراہ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔
ملاقاتوں کا یہ پروگرام دوپہر 1 بج کر 40منٹ تک جاری رہا۔ بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کچھ دیر کے لئے اپنی جائے رہائش پر تشریف لے گئے۔
دوپہر 2بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔ پچھلے پہر بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دفتری امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔

پاکستان سے آنے والے احمدیوں کی ملاقات

پروگرام کے مطابق شام6بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد کے ہال میں تشریف لائے جہاں دوران سال مختلف ذرائع سے پاکستان سے جرمنی پہنچنے والے احباب اور نوجوانوں کی حضور انور ایدہ اللہ سے ملاقات کا پروگرام تھا۔ ان نوجوانوں کی مجموعی تعداد 2صد سے زائد تھی اور یہ جرمنی کی مختلف جماعتوں سے ملاقات کے لئے پہنچے تھے۔ آج یہ سب اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے پیارے آقا کے دیدار سے فیض یاب ہو رہے تھے یہ سبھی وہ لوگ تھے جو اپنے ہی ملک میں، اپنے ہی ہم وطنوں کے ظلم و ستم سے ستائے ہوئے تھے اور اپنے گھر بار اور عزیزو اقارب کو چھوڑ کر اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے ہجرت کر کے اس ملک میں آبسے تھے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے باری باری ہر ایک کو شرفِ مصافحہ عطا فرمایا اور بعض سے پوچھا کہ کہاں سے، کس جماعت سے آئے ہیں، بعضوں سے ان کے اسائلم کیسز کے حوالہ سے بھی دریافت فرمایا۔ یہ نوجوان بھی اپنے پیارے آقا سے مصافحہ کرتے ہوئے حضور انور سے بات کرنے کی سعادت پاتے۔
یہ سب لوگ آج کتنے ہی خوش نصیب تھے کہ انہوں نے اپنے پیارے آقا کے قرب میں چند ساعتیں گزاریں ان کے دل تسکین سے بھر گئے اور زندگی کے دھارے بدل گئے اور کبھی نہ ختم ہونے والی دعاؤں کے خزانے لے کر یہاں سے رخصت ہوئے۔

ملاقات کرنے والوں کے تأثرات

ملاقات کی سعادت پانے والے یہ نوجوان جب مسجد کے ہال سے باہر آتے تو ان کے دلوں کی عجیب کیفیت ہوتی تھی۔ اکثر کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔
٭ ربوہ سے آنے والے ایک نوجوان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج میں بہت خوش ہوں، میری زندگی کی ایک ہی خواہش تھی کہ میری پیارے آقا سے ملاقات ہو اور میں حضور انور کے ہاتھ کو بوسہ دوں ۔آج خدا تعالیٰ نے یہ خواہش پوری کر دی، میں اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہوگا۔
٭ چونڈہ سے آنے والے ایک نوجوان کہنے لگے کہ میں نے حضور انور کے ہاتھ کو چھوا، میرا مصافحہ ہوا۔ آج میری دلی مرادیں پوری ہوگئی۔ میں آج کتنا خوش قسمت انسان ہوں۔
٭ سیالکوٹ سے آنے والے ایک نوجوان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا! آج پیارے آقا سے ملاقات میری زندگی کے سب سے اہم لمحات تھے۔ میں اسے زندگی بھر بھول نہ پاؤں گا۔ پس اگر کوئی زندگی ہے تو یہی زندگی ہے۔
٭ اوکاڑہ سے آنے والے ایک نوجوان دوست کہنے لگے کہ میں کتنا خوش قسمت انسان ہوں کہ میں نےحضور انور سے سلام کیا، حضور انور نے میرا ہاتھ پکڑا، مجھے نئی زندگی مل گئی۔ میرے اندر ایک روحانی کیفیت پیدا ہوئی۔ میں پہلے سے بدل چکا ہوں۔ میں بیان نہیں کر سکتا۔
٭ کنڈیارو سندھ سے آنے والے ایک صاحب نے بیان کیا کہ میرا دل اس وقت جذبات سے بھرا ہوا ہے۔ میں بولنے کی سکت نہیں پاتا۔ میں کچھ بیان نہیں کر سکتا۔ بس اتنا کہتا ہوں کہ مجھے آج ایک نئی زندگی ملی ہے۔
٭ سیالکوٹ سے آنے والے ایک نوجوان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ میرا دل سکون سے بھر گیا ہے۔ مجھے نئی زندگی ملی ہے میں اپنے اندر روحانیت محسوس کرتا ہوں۔ آج کی ملاقات میری زندگی کا ایک معجزہ ہے، پاکستان میں رہتے تھے کبھی تصور بھی نہیں تھا کہ حضور انور سے اس طرح ملاقات ہوگی۔ یہ ملاقات میری زندگی کا ایک خوشگوار ترین لمحہ ہے۔
٭ ربوہ سے آنے والے ایک نوجوان کہنے لگے کہ اس وقت بہت زیادہ دل دھڑک رہا ہے۔ ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ ایک کپکپی طاری ہے میں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ میری کیا کیفیت ہے۔ بس اتنا کہتا ہوں کہ میں نے اپنی مراد پالی اور میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا۔
٭ سیالکوٹ سے آنے والے ایک دوست کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر خاص فضل فرمایا ہے کہ میری حضور انور سے ملاقات ہوگئی ہے۔ میں کتنا خوش قسمت انسان ہوں کہ میں نے حضور کو اپنے انتہائی قریب سے دیکھ لیا ہے اور میرا دل سکون سے بھر گیا ہے۔ حضورانور نے میرا ہاتھ پکڑے رکھا۔
٭ ربوہ سے آنے والے ایک صاحب نے عرض کیا کہ آج میری حضور انور سے پہلی ملاقات تھی۔ میرا دل جذبات سے بھرا ہوا ہے۔ الفاظ میرا ساتھ نہیں دے رہے۔ میں نے حضورانور کے چہرہ پر اتنا نور دیکھا ہے کہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔
٭ رحیم یار خان سے آنے والے ایک نوجوان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے والدین نہیں ہیں۔ آج میری زندگی کو بہت سکون ملا ہے۔ مجھے آج پتہ چلا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے۔ ان چند لمحات نے میری زندگی بدل دی ہے۔
٭ ربوہ سے آنے والے ایک دوست نے عرض کیا کہ آج میری حضور انور سے پہلی ملاقات تھی۔ ربوہ میں تو ہم حضور انور کو TV پر دیکھتے تھے اور دل میں شدید خواہش تھی کہ کبھی ہماری بھی حضور انور سے ملاقات ہو۔ آج اللہ نے اپنے فضل سے یہ خواہش پوری کر دی اور حضور انور کو اپنے سامنے دیکھا ہے۔ حضور انور سے مصافحہ کیا ہے اور بات کی ہے۔
٭ راولپنڈی سے آنے والے ایک نوجوان نے بیان کیا۔ ملاقات کے بعد میرے دل کی ایک روحانی کیفیت ہے جو میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ ہم حضور انور کو MTA پر دیکھا کرتے تھے۔ آج میری زندگی کی اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ میں نے حضور انور کو انتہائی قریب سے دیکھا حضورانور کے ہاتھوں کو چھوا اور بوسہ دیا اور باتیں کیں۔ آج میرا جرمنی آنے کا مقصد پورا ہوگیا ہے۔ خدا تعالیٰ حضور انور کولمبی زندگی عطا فرمائے۔ ہمارا خلافت کے ساتھ ہمیشہ وفا کا تعلق قائم رہے اور ہماری اولادیں بھی ہمیشہ خلافت کے ساتھ وابستہ رہیں اور وفا کا تعلق قائم رکھیں۔
٭ ربوہ سے آنے والے ایک صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ میری بہت خوش قسمتی ہے میں اظہار نہیں کر سکتا۔ میں بھی MTAپر حضور انور کو دیکھا کرتا تھا اور اُن پیاسی روحوں میں شامل تھا جو آج بھی حضور انور سے ملاقات کی منتظر ہیں۔ آج خدا تعالیٰ نے مجھے یہ سعادت عطا فرما دی کہ حضور انور کو اپنے قریب سے دیکھا اور حضور انور کے ہاتھوں کو چھوا اور برکتیں حاصل کیں۔بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے نور ہی نور دیکھا ہے۔
٭ کھاریاں سے آنے والے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضور انور کے چہرہ پر ایک ایسا نور ہے کہ مجھ سے کچھ بولا نہ گیا۔ میں سوچ کر آیا تھا کہ یہ یہ بات کروں گا لیکن کچھ بول نہ سکا اور میرا جسم کانپنے لگ گیا اور میں بات نہ کر سکا۔
٭ گجرات سے آنے والے ایک نوجوان کہنے لگے کہ میں نے حضور انور سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن مجھ سے بولا نہیں گیا۔ میرا دل دھڑک رہا تھا۔ حضور انور نے خود ہی مجھ سے بات کی اور میرے کیس کے بارہ میں پوچھا۔ اس وقت بھی میرے جسم پر کپکپی طاری ہے۔
٭ ربوہ سے آنے والے ایک نوجوان کہنے لگے کہ میرا دل دھڑک رہا ہے میرا جسم کانپ رہا ہے۔ حضور انور کے چہرہ پر اتنا نور تھا کہ میں دیکھ نہیں سکا۔ مجھ سے بولا نہیں جارہا تھا۔ موصوف کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔
٭ کھاریاں (گجرات) سے آنے والے ایک نوجوان کہنے لگے کہ آج حضور انور سے ملاقات کے بعد میں اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت انسان سمجھتا ہوں۔ حضور انور کو اللہ تعالیٰ لمبی زندگی عطا فرمائے اور خلافت کا سایہ ہمیشہ ہم پر سلامت رکھے۔
٭ سانگلہ ہل سے آنے والے ایک نوجوان نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج میں اپنی خوشی کی حالت الفاظ میں بیان کر نے کی سکت نہیں پاتا۔ جیسے کسی انسان کو اس کی انتہائی قیمتی گمی ہوئی چیز مل جائے تو اس کی جو حالت ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ آج میری حالت ہے۔ ہم اپنے آقا کے دیدار کو ترسےہوئے تھے آج وہ دیدار ہوگیا۔ ایسے لگ رہا ہے کہ آج مجھے ایک بہت بڑی نعمت مل گئی ہے۔ اس ملاقات کو میں زندگی بھر یاد رکھوں گا۔
٭ شیخوپورہ سے آنے والے ایک دوست نے بیان کیا کہ خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج ملاقات کا موقع عطا ہوا۔ میں بہت خوش قسمت ہوں۔ مجھے یہ ملاقات زندگی بھر یاد رہے گی اور ہمیشہ میری زندگی کا حصہ رہے گی۔
٭ ربوہ سے آنے والے ایک نوجوان نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا یہاں ہال سے باہر جانے کو دل نہیں کر رہا۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک کونے میں کھڑا ہو کر حضور کو دیکھتا رہوں۔ میرا دل دھڑک رہا ہے، ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ ان پرایک کپکپی طاری تھی اور آنکھوں میں آنسو تھے۔
٭ ربوہ سے آنے والے ایک نوجوان نے عرض کیا کہ اس وقت میرا دل اندر سے رورہا ہے۔ میرے والدین فوت ہو چکے ہیں۔ آج میں نے ان دونوں کے لئے دعا کی درخواست کی ہے۔ مجھے آج بہت سکون ملا ہے۔ آج کا دن میری زندگی کا اہم دن ہے۔
٭ گوجرانوالہ سےآنے والے ایک نوجوان نے بیان کیا کہ میری زندگی کی ساری خواہشات آج ہی پوری ہوگئی ہیں۔ اب میری زندگی کی کوئی خواہش نہیں رہی۔ زندگی میں ایسا موقع پتا نہیں کب دوبارہ ملتا ہے۔میں بہت خوش قسمت انسان ہوں۔ خدا کے خلیفہ کے ہاتھوں کو چھوا ہے۔
٭ ربوہ سے آنے والے ایک نوجوان کہنے لگے کہ میں دعا کیا کرتا تھا کہ کبھی میری زندگی میں میری حضور انور سے ملاقات ہو۔ مجھے بھی آقا کے دیدار کی گھڑی نصیب ہو۔آج میں بہت خوش نصیب انسان ہوں کہ میری دعا قبول ہوگئی ہے اور آج مجھے حضور انور کے دیدار کی گھڑی نصیب ہوگئی ہے۔ میں نے اپنا ہاتھ حضور انور کے ہاتھوں میں دیا اور حضور انور سے دعا کے لئے بھی کہا۔
اکثر نوجوانوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہمیں آج اس قدر دلی سکون اطمینان اور خوشی ہے کہ ہمارے پاس بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ ہم نے آج وہ کچھ دیکھا ہے اور پایا ہے اس کے بارہ میں پہلے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
آج ملاقات کرنے والے ان سبھی احباب اور نوجوانوں نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت بھی پائی۔ ملاقات کا یہ پروگرام شام 6 بج کر 32منٹ تک جاری رہا۔

فیملی ملاقاتیں

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لے آئے جہاں پروگرام کے مطابق فیملیز ملاقاتیں شروع ہوئیں۔
آج شام کے سیشن میں 29فیملیز کے 118افراد اور اس کے علاوہ 40احباب نے انفرادی طور پر ملاقات کی سعادت حاصل کی۔ ملاقات کرنے والی یہ فیملیز جرمنی کی مختلف 70جماعتوں سے آئی تھیں۔ ان میں بعض تو بڑے لمبے سفر طے کر کے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کے لئے پہنچی تھیں۔
کاسل(Kassel)، Köln، Dortmund سے آنے والے قریباً2 صد کلومیٹر ،Düssel Dorfاور Bonnسے آنے والے قریباً230کلومیٹر، Reutlingenسے آنے والے 250کلومیٹر اور بوخالٹ(Bocholt)کے علاقہ سے آنے والی فیملیز 300کلومیٹر کا سفر طے کر کے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کے لئے پہنچی تھیں۔
اس کے علاوہ آج ملاقات کرنے والوں میں پاکستان، غانا، بورکینا فاسو، سوئٹزرلینڈ، تنزانیہ، سعودی عرب، بینن، سینیگال، لائبیریا، آسٹریلیا، کانگو، مالی، نائیجیریا، سیرالیون، گیمبیا، یونان اور فن لینڈ سے آنے والے احباب اور فیملیز نے بھی اپنے پیارے آقا سے شرف ملاقات پایا۔
ملاقات کرنے والے ان سبھی احباب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔حضور انور نے ازراہ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔
ملاقاتوں کا یہ پروگرام شام ساڑھے آٹھ بجے تک جاری رہا، بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

تقریب آمین

بعد ازاں پروگرام کے مطابق رات 9بج کر 25منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز مسجد کے مردانہ ہال میں تشریف لائے اور تقریب آمین کا آغاز ہوا۔ درج ذیل 38خوش نصیب بچوں اور بچیوں سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قرآن کریم کی ایک ایک آیت سنی اور آخرپر دعا کروائی۔ عزیزم فوزان اختر، طلال احمد، حسیب ملک، شایان احمد کاہلوں، جازب احمد، نایاب احمد طاہر، شعیب احمد خان، نورالدین چغتائی، آیان احمد، حسیب احمد، رانا مسروراحمد محمود، فارس احمد، فاران احمد مصطفیٰ، تحریم عطاء، فہیم احمد، توحید احمد، کرشن احمد، درمان احمد مبارک، لقمان محمود، شایان حفیظ، نوید احمد نثار، مصوّر احمد،
عزیزہ علیشہ ملک، خوباں قمر،علینہ روپ رفیع، انوش عتیق ،کائنہ امتیاز، ماریہ طارق، ارج للی مبارک، لبینہ سوسن احمد، ہانیہ افزاء شہروز، ھبتہ الشافی مبارک، عافیہ عاصم، صبیحہ انجم پال، حوریہ کائنات کاشف، عروسہ احمد، فریدہ تنویر،عزیزہ عابدہ بلال۔
تقریب آمین کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

4جولائی2019 ء

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح چار بج کر پندرہ منٹ پر تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ پر لے گئے۔ صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دفتری ڈاک، خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔ حضور انور کی مختلف دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔ دوپہر 2بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

جلسہ گاہ کالسروئے میں ورود مسعود

آج کے پروگرام کے مطابق جلسہ گاہ Karlsruheکے لئے روانگی تھی۔5 بج کر 45منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے اور دعا کروائی اوریہاں سے Karlsruheکے لئے روانگی ہوئی۔
بیت السبوح فرینکفرٹ سے Karlsruheکا فاصلہ 160کلومیٹر ہے۔یہ جگہ جہاں جلسہ کا انعقاد ہوتا ہےK.Messeکہلاتی ہے۔ اس کا کل رقبہ 1 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر ہے اور اس کا Coveredحصہ 70ہزار مربع میٹر ہے۔ اس میں 4 بڑے ہال ہیں اور یہ چاروں ہال ائیر کنڈیشنز ہیں۔ ہر ہال کا رقبہ 1250مربع میٹر ہے اور ہر ہال میں کرسیوں پر 12ہزار افراد بیٹھ سکتے ہیں اور ہر ہال میں 18ہزار سے زائد لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں۔
ان چاروں ہالوں سے ملحق مجموعی طور پر 128بیوت الخلاء ہیں اور بہت سے چھوٹے ہال اور کمرے بھی ہیں۔ یہاں 10ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کی جگہ موجود ہے۔ قریباً ایک گھنٹہ 55منٹ کے سفر کے بعد 7بج کر 40منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی جلسہ گاہ تشریف آوری ہوئی۔ جونہی حضور انور گاڑی سے باہر تشریف لائے تو افسر جلسہ سالانہ محمدالیا س منیر مجوکہ صاحب اور افسر جلسہ گاہ حافظ مظفر عمران صاحب نے حضور انور کو خوش آمدید کہا۔ بعد ازاں حضور انور کچھ دیر کے لئے اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

معائنہ انتظامات جلسہ

قریباً 8بجے جلسہ سالانہ کے انتظامات کا معائنہ شروع ہوا۔ نائب افسران جلسہ سالانہ جن کی تعداد14ہے ایک قطار میں کھڑے تھے۔ حضور انور نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو السلام علیکم کہا اور فرمایا۔ اچھا یہ نائب افسران ہیں۔
جماعت ھمبرگ(Hamburg)سے 7خدام اور4اطفال680کلومیٹر کا سفر 5ایام میں سائیکلوں پر طے کر کے جلسہ گاہ پہنچے تھے۔ یہ سب ایک طرف کھڑے تھے۔ حضور انور ازراہ شفقت ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہوں نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم 680کلومیٹر کا سفر طے کر کے آج ہی پہنچے ہیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا! ماشاء اللہ،680کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے۔
بعد ازاں سب سے پہلے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے شعبہ رجسٹریشن اور کارڈ سکینگ سسٹم کا معائنہ فرمایا۔
مردانہ جلسہ گاہ کے ساتھ ایک کھلے ایریا میں ایک بڑی مارکی لگائی گئی ہے۔ جن لوگوں کو ہال میں جگہ نہ مل سکے وہ اس مارکی میں بیٹھیں گے اور یہاں باقاعدہ صفوں کے لئے لائنیں لگا کر نماز کا انتظام کیا گیا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے اس مارکی کے بارہ میں دریافت فرمایا۔
اس کے بعد حضور انور نے اُس سٹور کا معائنہ فرمایا جہاں کھانے پینے اور استعمال کی مختلف اشیاء سٹور کی گئی ہیں۔ یہاں سےضرورت کےمطابق ساتھ ساتھ یہ اشیاء مختلف شعبوں کو مہیّا کی جاتی ہیں۔
اس سٹور کے بالمقابل ایک دوسرے حصہ میں مختلف ممالک سے آنے والے غیر ملکی مہمانوں کے لئے کھانا کھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ حضور انور نے اس حصہ کو بھی دیکھا اور انتظام کے بارہ میں دریافت فرمایا۔
اس کے بعد حضور انور نے لنگر خانہ کا معائنہ فرمایا۔ سب سے پہلے حضور انور نے گوشت کی کٹائی کا جائزہ لیا اور منتظمین سے اس بارہ میں گفتگو فرمائی۔ اس گوشت کو ایک معین ٹمپریچر پر محفوظ کرنے کے لئے ایک کنٹینر نما فریزر حاصل کیا گیا ہے جس میں ٹنوں کے حساب سے گوشت رکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں حضور انور نے لنگر خانہ کا معائنہ فرمایا اور کھانا پکانے کے انتظامات کا جائزہ لیا اور کھانے کا معیار دیکھا۔
مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کے لئے ان کی ضرورت اور مزاج کے مطابق علیحدہ کھانا تیار کیا گیا تھا۔ حضور انور نے اس کا بھی جائزہ لیا۔ جلسہ سالانہ پر آنے والے ہزاروں مہمانوں کے لئے آج آلو گوشت اور دال کا سالن تیار کیا گیا تھا اور ساتھ وہ نان بھی رکھے گئے تھے جو مہمانوں کو دئیے جانے تھے۔
حضور انور نے ازراہ شفقت آلو گوشت اور دال سے چند لقمے تناول فرمائے اور اس بات کا جائزہ لیا کہ دونوں سالن صحیح پکے ہوئے ہیں یا ان میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔حضور انور نے کھانے کے معیار کے بارہ میں منتظمین سے گفتگو فرمائی۔لنگر خانہ کے کارکنان نے ایک بڑے سائز کا کیک تیار کیا ہوا تھا۔حضور انور نے ازراہ شفقت اپنے ان خدام کے لئے کیک کے مختلف حصے کئے اور ایک ٹکڑا تناول فرمایا۔
لنگرخانہ کے باہر ’’دیگ واشنگ مشین‘‘لگائی گئی تھی۔ یہ مشین گزشتہ گیارہ بارہ سالوں سے لگائی جا رہی ہے اور ہر سال اس میں مزید بہتری لائی جارہی ہے۔ یہ مشین احمدی انجینئرز نے مل کر خود تیار کی ہے۔ آغاز میں یہ صورت تھی کہ مشین پر دیگ رکھنے کے بعد ایک بٹن دبانا پڑتا تھا۔ لیکن گزشتہ ایک دوسالوں میں اس میں بہتری لائی گئی ہے۔ اب یہ بٹن  نہیں دبانا پڑتا بلکہ جونہی دیگ صفائی کے لئے رکھی جاتی ہے خود بخود فنکشن شروع ہو جاتا ہے اور دیگ دھلنے کا پراسیس مکمل ہونے کے بعد خود بخود باہر آجاتی ہے۔
اس مشین کے حوالہ سے حضور انور نے امیر صاحب جرمنی سے گفتگو فرمائی۔ بعدازاں لنگر خانہ کے کارکنان نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانے کی سعادت پائی۔
لنگر خانہ کے قریب ہی کھانا کھانے کے لئے دو بڑی وسیع مارکیز لگائی گئی تھیں۔ قریب ہی چائےکا سٹال بھی تھا۔ حضور انور نے ان انتظامات کو دیکھا اور اس حوالہ سے افسر صاحب جلسہ سالانہ سے بعض امور پر استفسار فرمایا۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پرائیوٹ خیمہ جات کے ایریا میں تشریف لے آئے اور خیمہ جات کے درمیانی راستہ سے گزرے۔ راستہ کے دونوں اطراف جرمنی کی مختلف جماعتوں اور علاقوں سے آنے والی فیملیاں اپنے اپنے خیموں کے پاس کھڑی تھیں یہ سبھی لوگ اپنے ہاتھ بلند کر کے حضور انور کی خدمت میں سلام عرض کرتے۔ حضور انور ازراہ شفقت اپنا ہاتھ بلند کر کے ان کے سلام کا جواب دیتے اور بعض سے حضور انور نے ان کے خیموں کے حوالہ سے گفتگو بھی فرمائی۔ مختلف اطراف سے احباب مسلسل نعرے بلند کر رہے تھے۔
حضور انور نے ازراہ شفقت ایک خیمہ کے قریب جا کر اس کا معائنہ فرمایا اور اس خیمہ میں ٹھہرنے والی فیملی سے گفتگو فرمائی اور یہ بھی دریافت فرمایا کہ کتنے لوگ اس خیمہ میں قیام کر سکتے ہیں اور اس خیمہ میں داخل ہونے کے لئے ایک ہی راستہ ہے یا اور بھی راستے ہیں اور اس خیمہ کے اندر باقاعدہ ایک بیڈ کا بھی انتظام کیا ہوا تھا۔ اس بارہ میں فیملی نے بتایا کہ ہمارے ایک ممبر تکلیف کی وجہ سے زمین پر نہیں لیٹ سکتے اس لئے ان کے لئے ہم نے ایک بیڈ کا انتظام کیا ہے۔
پرائیویٹ خیمہ جات کے احاطہ کے ایک طرف ایک حصہ پرائیویٹ Carvan کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔ ان خیمہ جات اور Carvan کے ارد گرد فینس لگائی گئی ہے اور گیٹ بھی بنائے گئے ہیں اور اس احاطہ میں رجسٹریشن، کارڈ چیکنگ اور سکینگ کے بعد ہی داخل ہوا جا سکتا ہے۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز لجنہ جلسہ گاہ کے انتظامات کے معائنہ کے لئے تشریف لے گئے۔ لجنہ کے لئے کھانا کھانے کا انتظام اور ان کے بازار کا انتظام بیرونی کُھلے ایریا میں مارکیز لگا کر کیا گیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں موجود ہالز میں ان کے جلسہ گاہ کے لئے وسیع جگہ مہیا ہوگئی ہے۔
حضور انور نے لجنہ کے انتظامات کا معائنہ فرمایا اور ان کے جملہ انتظامات کا جائزہ لیا اور ہدایات سے نوازا۔
لجنہ کے جلسہ گاہ میں ناظمۂ اعلیٰ کے تحت 10نائب ناظمہ اعلیٰ،58ناظمات،72 منتظمات،386 نائب ناظمات، 11 انچارج اور4 ہزار698 معاونات خدمت سرانجام دے رہی ہیں۔
لجنہ جلسہ گاہ کے انتظامات کے معائنہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیر نے MTAسٹوڈیوکا معائنہ فرمایا اور MTA 3العربیہ کی ٹیم سے ازراہ شفقت گفتگو فرمائی۔
اس کے بعد حضور انور MTA کی مارکی میں تشریف لے گئے جہاں MTAکے مختلف شعبہ جات قائم کئے گئے ہیں۔ یہاں MTAکے تحت مختلف پراجیکٹس بنائے جارہے ہیں۔گرافکس اور ایڈیٹنگ کے شعبہ جات میں بھی اسی جگہ کام کر رہے ہیں۔
بعدازاں حضور انور نے کتب کے سٹور اور سٹال کا معائنہ فرمایا یہاں مختلف میزوں اور سٹینڈز پر بڑی ترتیب کے ساتھ کتب رکھی گئی تھیں تا کہ کتب حاصل کرنے والے احباب بآسانی اپنی مطلوبہ کتب حاصل کر سکیں۔ نیشنل سیکرٹری اشاعت نے عرض کیا کہ نئی کتب میں براہین احمدیہ کے چاروں حصّوں کا جرمن ترجمہ شائع ہو اہے۔ اس کے علاوہ کتاب’’ Essence of Islam‘‘کا بھی جرمن ترجمہ شائع ہوا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتب دیکھیں۔
اس کے بعد حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس حصہ میں تشریف لے آئے جہاں مختلف شعبہ جات کے دفاتر قائم کئے گئے ہیں۔ ان شعبہ جات میں ’’شعبہ وقف نو،شعبہ رشتہ ناطہ، شعبہIAAAE ،شعبہ ہیومینیٹی فرسٹ،خدام CAFE،شعبہ تعلیم ، جامعہ احمدیہ، الفضل انٹرنیشنل، شعبہ تعلیم القرآن، شعبہ امورعامہ، شعبہ وصیت اور شعبہ جائیدادکے دفاترقائم کئے گئے ہیں۔
حضور انور نے انتظامیہ سے ان سب دفاتر کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ حضور انور ازراہ شفقت الفضل انٹرنیشنل اور جامعہ احمدیہ کے سٹال پر بھی تشریف لے گئے۔ خدا م کے سٹال کا بھی معائنہ فرمایا۔
بعد ازاں حضور انور ’’ہیومینیٹی فرسٹ ‘‘ جرمنی کے سٹال پر تشریف لے گئے اور ہیومینیٹی فرسٹ کا Appلاؤنچ کیا اور اس کے مختلف فنکشنز کے بارہ میں انچارج صاحب شعبہ ڈاکٹر اطہر زبیر صاحب سے دریافت فرمایا۔ انچارج صاحب نے بتایا کہ اس میں ہیومینیٹی فرسٹ، خدمت انسانیت اور رفاہ عامہ کے کاموں کے بارہ میں حضور انور کے ارشادات اور خطابات ڈالے جائیں گے۔ خدمت انسانیت کے حوالہ سے جو جو کام ہو رہے ہیں وہ ظاہر کئے جائیں گے، جو لوگ ان خدمت کے کاموں کے لئے فنڈ دینا چاہتے ہیں ان کے لئے اسی پروگرام میں پوری معلومات مہّیا ہوں گی۔ پوری دنیا میں ہیومینیٹی فرسٹ کے تحت ہونے والے پروگراموں کی رپورٹ بھی اس میں آیا کریں گی۔
ملک ساؤ تومے (Saö Tome)میں حکومت نے ہیومینیٹی فرسٹ کو ہسپتال کے آغاز کے لئے جو عمارت مہیا کی ہے اس کی تصاویر بھی یہاں آویزاں کی گئی تھیں۔ اس عمارت کا ماڈل بنا کر بھی یہاں رکھا گیا تھا۔ حضور انور نے یہ تصاویر اور اس عمارت کا ماڈل دیکھا۔
چئیرمین صاحب ہیومینیٹی فرسٹ جرمنی نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ ایک سال قبل حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ 2لاکھ 50ہزار یورو میں ہسپتال بنا دیں۔ حضور انور نے فرمایا تھا اللہ تعالیٰ کر دے گا۔
اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہوا ہے کہ ساؤتومے کی حکومت نے ہمیں پانچ ملین ڈالر کا ہسپتال دیا ہے جو گزشتہ 8سال سے بند پڑا تھا۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ یہ تو کمال ہو گیا ہے پھر تو اب آپ 2لاکھ یورو میں کام شروع کر دیں گے۔
ہیومینیٹی فرسٹ نے ایک کٹ تیار کی ہے جو ایک جیکٹ، پن کا سیٹ، نوٹ بک، پن ہولڈر، ویٹ پیپر،واسکٹ، وال کلاک، Sunگلاسز، کیپ اور ایک جناح کیپ پر مشتمل ہے۔ حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت باقاعدہ رقم ادا کرکے یہ کٹ خریدی اور ساتھ ہی انچارج کو ہدایت فرمائی کہ ملک Sao Tome سے جو نمائندہ آئے ہوئے ہیں ان کو تحفہ میں دے دیں۔
بعد ازاں حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس حصہ میں تشریف لے آئے جہاں سے MTAکی براہ راست نشریات کے انتظامات کئے گئے تھے۔ تین وین موجود تھیں جن میں MTA کے اپ لنک کے لئے تمام آلات اور مشینری نصب تھی۔ ایک وین کے ذریعہ MTAکے Liveپروگرام جلسہ گاہ سے براہ راست اپ لنک ہوں گے۔ دوسری وین سے MTA1اور تیسری سے MTA3 کے پروگراموں کی نشریات ہوں گی۔ ان انتظامات کا حضور انور نے جائزہ لیا اور مختلف امور کے حوالہ سے منتظمین سے گفتگو فرمائی۔
جلسہ گاہ کے مین ہال سے باہر ایک مارکی لگا کر اور مختلف کیبن بنا کر جلسہ سالانہ کے تمام پروگراموں اور تقاریر کا مختلف زبانوں میں Liveترجمہ کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہاں ٹرانسلیشن کے 20کیبن لگائے گئے ہیں۔ درج ذیل 13زبانوں میں جلسہ سالانہ کے تمام پروگراموں کا ترجمہ ہوگا۔ عربی، البانین، بنگلہ، بوزینین، بلغارین، انگریزی، فرنچ ،جرمن، انڈونیشن، رشین، سپینش، ترکش اور اردو۔اس کے علاوہ جلسہ مستورات کے خصوصی سیشن کے لئے 7زبانوں میں ترجمہ کا انتظام کیا گیا ہے۔ مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے والے مترجمین اپنی مارکی سے باہر کھڑے تھے۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لے آئے۔ جہاں پروگرام کے مطابق جلسہ سالانہ کی ڈیوٹیوں کی افتتاحی تقریب تھی۔ تمام ناظمین اپنے معاونین اور کارکنان کے ساتھ ایک ترتیب سے بیٹھے ہوئے تھے۔
افسر جلسہ سالانہ، افسر جلسہ گاہ اور افسر خدمت خلق کے علاوہ نائب افسران کی تعداد14ہے، ناظمین کی تعداد 70ہے اور نائب ناظمین کی تعداد 251ہے۔ جبکہ منتظمین کی تعداد 506ہے اور معاونین کی تعداد 7ہزار73ہے۔ معاون خصوصی کی تعداد 7ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر 7ہزار 924مرد و حضرات خدام ڈیوٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو عزیزم اویس احمد ملک صاحب نے کی اور بعد ازاں اس کا جرمن اور اردو زبان میں ترجمہ پیش کیا۔ اس کے بعد 9بج کر 13منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کارکنان سے خطاب فرمایا۔

خطاب حضورانور

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشہد و تعوذ اور تسمیہ کے بعد فرمایا۔
کل سے ان شاء اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ جرمنی کا جلسہ سالانہ شروع ہورہا ہے۔ جلسہ سے کئی ہفتہ پہلے آپ لوگ کام شروع کر دیتے ہیں بلکہ بعض شعبہ جات تو کئی مہینے پہلے شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ میں کئی دفعہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جو بڑی جماعتیں ہیں جن میں جرمنی بھی شامل ہے ان کے کارکنان اس قدر تربیت یافتہ ہو چکے ہیں ان کی ایسی ٹریننگ ہو چکی ہے کہ بڑی آسانی سے تھوڑے وقت میں ہی بڑے اہم کام سرانجام دے لیتے ہیں۔ اس دفعہ دقتیں تھیں مشکلات تھیں۔مجھے بتایا گیا کہ آخری وقت میں یہ ہال ملے گا اور 36 گھنٹے میں اس کو تیار کرنا ہوگا۔ اب افسر جلسہ گاہ کو 36گھنٹے میں اس کی تیاری کی بڑی فکر تھی کہ کس طرح تیار ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی ہمت سے کارکنوں نے اور جو دوسری ٹیمیں ہیں کمپنی والے بھی آتے ہوں گے انہوں نے اس کا م کو سرانجام دیا۔
حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔
ایک وقت تھا کہا جاتا تھا کہ فلاں شخص ہمارے کارکنوں میں بڑا جِن ہے اوربڑے بڑے کام کر لیتا ہے اب میں نے دیکھا ہے یہاں بھی اور یوکے میں بھی بعض اورجگہ بھی۔ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو جنّات کی فوج عطا کردی ہے۔ بعض توہم پرست جو احمدی نہیں شاید میری بات سن کے خیال کریں کہ شاید جلسہ گاہ میں جنّوں کی فوج پھر رہی ہوگی اور کہیں انہیں نقصان نہ پہنچادے لیکن ہمارے جِن اللہ تعالیٰ کے فضل سے فائدہ پہنچانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کرنے والے ہیں اور اس کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہیں اور بعض ایسے لوگ جن کی ٹیکنیکل بیک گراؤنڈ نہیں، یا اس طرح وہ Skilledنہیں وہ مہارت نہیں جو ہونی چاہئے اس کے باوجود بڑے ماہرانہ انداز میں کام سرانجام دے دیتے ہیں۔ تو یہ آپ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں کہ اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے وہ کام جس کے لئے دوسرے لوگوں کو بڑی رقمیں خرچ کرنی پڑتی ہیں اور بڑے specialistبلانے پڑتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے معمولی کارکنان کے ذریعہ سے بڑے سستے خرچ کے ساتھ وہ کام سرانجام دینے کی ہمیں توفیق دے دیتا ہے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کا شکرانہ ہم میں سے ہر ایک کو ادا کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ وہ ہمیں توفیق دے رہا ہے کہ جماعت کی خاطر ہم اپنے وقت اور اپنی صلاحیتوں کو کام میں لائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو جلسے کے ان تین دنوں میں اور اس کے بعد وائنڈ اپ میں بھی اس کام کو احسن رنگ میں سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے اور بغیر کسی دقت کے جو سمیٹنے کا کام ہے وہ بھی سرانجام پا جائے۔ اس کے لئے جو ٹیمیں مقرر ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ توفیق دے۔
حضور انور نے فرمایا۔
ان دنوں میں میں یہ ہمیشہ یاد دہانی کرواتا ہوں اب پھر یاددہانی کروا رہا ہوں یہ نہ سمجھیں کہ کام کی وجہ سے ہماری نمازیں معاف ہوگئی ہیں۔ وقت پہ نمازیں ادا کرنے کی تمام کارکنان کوشش کریں اور ان کے افسران، نائب افسران، شعبہ جات اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام معاون بچے خادم جو بھی ہیں وہ نمازیں وقت پہ ادا کریں اور دوسری بات خوش اخلاقی ہے خوش اخلاقی کی بار بار مجھے تلقین کرنی پڑتی ہے تا کہ بھول نہ جائیں۔ عموماً تو یہ معیار بہت بہتر ہوچکا ہے لیکن یہاں مردانہ جلسہ گاہ میں بھی اور زنانہ جلسہ گاہ میں بھی یا دوسری ڈیوٹیوں میں جو کارکنات ہیں جن کی ڈیوٹی کھانا کھلانے پر ہے، مہمان نوازی پر ہے یا نظافت پر ہے ٹوائلٹ وغیرہ پر ہے یا کسی بھی طرح کے تربیتی معاملات میں ہے، ڈسپلن پہ ہے ان میں بعض لوگوں پر زیادتی کر جاتی ہیں۔  بعض بوڑھی عورتیں ہیں ان سے صحیح طرح پیش نہیں آتیں۔ مجبوریاں ہیں کارکنات کی بھی مجبوریاں ہیں۔ بعض دفعہ رش پڑ جاتا ہے ٹوائلٹس availableنہیں تو کارکنات یا کارکن وہ مجبور ہیں وہ بھی کیا کریں۔ لیکن اگر مہمان یا کوئی بھی بڑی عمر کا شخص کوئی غصہ کا اظہار بھی کر دے تو آپ لوگوں کو خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور کسی کو غلط قسم کا جواب نہ دیں جس سے اس کی دل آزاری ہو۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔
پس اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم نے جہاں اتنے جوش اور ولولے سے جلسہ سے پہلے کام کئے اور مختلف شعبوں میں کام کئے اس جلسہ کے انتظام کو آسان بنانے کے لئے اور وقت پر ختم کرنے کے لئے اسی طرح جلسہ کے دنوں میں بھی، باوجود تھکاوٹ کے، باوجود بعض مجبوریوں کے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باقی دن بھی گزارنے ہیں اور مہمانوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا ہے اورہر ایک سے آپ کا سلوک احسن ہونا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اب دعا کر لیں۔
خطاب کے بعد حضور انور نے دعا کروائی۔ حضور انور کا یہ خطاب 9بج کر 22منٹ تک جاری رہا۔
بعد ازاں حضور انور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے آئے۔ بعد ازاں پروگرام کے مطابق 10بجے حضور انورنے مردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لے جا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔ جلسہ سالانہ کے ایام میں حضور انور کا قیام جلسہ گاہ کے اندر ہی ایک رہائشی حصہ میں تھا۔

5جولائی 2019ء

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح 4 بج کر 15منٹ پرمردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔ صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی مختلف نوعیت کے دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔

پرچم کشائی و نماز جمعہ

آج اللہ تعالیٰ کےفضل سے جماعت احمدیہ جرمنی کے 44ویں جلسہ سالانہ کا آغاز ہو رہا تھا اور آج جلسہ سالانہ کا پہلا روز تھا۔ پروگرام کے مطابق دوپہر 1بج کر 55منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پرچم کشائی کی تقریب کے لئے جلسہ گاہ کے چاروں ہالوں کے درمیان واقع ایک کھلے لان میں تشریف لائے۔ حضور انور نے لوائے احمدیت لہرایا جبکہ امیر صاحب جرمنی نےقومی پرچم لہرایا۔ بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔
MTAانٹرنیشنل کی یہاں جلسہ گاہ سے Liveنشریات صبح سے ہی شروع ہو چکی تھیں۔ پرچم کشائی کی یہ تقریب بھی دنیا بھر میں براہ راست Liveنشر ہوئی۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس کے ساتھ جلسہ کا افتتاح ہوا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ کا مکمل متن حسبِ طریق علیحدہ شائع ہوگا۔
حضور انور کا یہ خطبہ جمعہ 3بجے تک جاری رہا۔ یہ خطبہ جمعہ MTAانٹرنیشنل پر Live نشر ہوا۔
خطبہ جمعہ کا درج ذیل زبانوں میں تراجم کا انتظام کیا گیا تھا۔عربی، البانین، بنگلہ، بوزینن، بلغارین، انگریزی، فرنچ، جرمن ،انڈونیشین، رشین، سپینش اور ترکش۔
خطبہ جمعہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نماز جمعہ کےساتھ نماز عصر جمع کر کے پڑھائی۔
ریڈیو FM پر بھی حضور انور کا خطبہ جمعہ Liveنشرہوا۔ اس ریڈیو کی رینج 2کلومیٹر ہے۔ جلسہ سالانہ کے تمام پروگرام بھی اس ریڈیو کے ذریعہ نشر ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ دوسری سہولت APPکی بھی ہے۔ جلسہ سالانہ جرمنی کی نشریات اردو اور جرمن زبان میں Jalsa Radio Appمیں بھی سُنی جا سکتی ہیں۔ نیز جس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں۔ اس کے لئے اس Appمیں یہ سہولت موجود ہے کہ وہ فون کے ذریعہ نمبر ملا کر جلسہ کی نشریات اپنے فون پر بھی سُن سکتا ہے۔

پریس کانفرنس

نماز جمعہ و عصر کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز کانفرنس روم میں تشریف لے گئے جہاں پر یس کانفرنس کا انعقاد ہوا۔
جرمنی،سلووینیا اور میسیڈونیا سے آنے والے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندگان اور جرنلسٹس حضور انور کی آمد کے منتظر تھے۔ 3 بجکر 10منٹ پر پریس کانفرنس شروع ہوئی۔
٭ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا۔
دیکھیں ہمارا جلسہ ہمارے جماعت کے ممبران کے لئے ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ احمدی روحانی طور پر ترقی کریں، اپنے اخلاق بہتر کریں اور خدا تعالیٰ کے حقوق اور حقوق العباد کو سمجھیں کہ کس طرح سے ہم یہ حقوق بہترین رنگ میں ادا کر سکتے ہیں۔
٭ اس کے بعد ایک سوال islamophobia کے حوالہ سے ہوا۔ اس جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے فرمايا۔
مجھے تو نہیں پتا کہ islamophobia کیوں ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں دو قسم کے مسلمان پائے جاتے ہیں۔ کچھ دہشت گرد اور شر پسند ہیں جو اپنے ہی ممالک میں فساد اور مسائل پیدا کر رہے ہیں جن کا اثر مسلم ممالک سے باہر بھی پہنچ رہا ہے۔ پھر دوسری قسم کے مسلمان بھی ہیں، جیسا کہ ہم ہیں جو ہمیشہ اسلام کی حقیقی تعلیم کا پرچار کر رہے ہوتے ہیں۔ جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک مسلمان کے کیا فرائض ہیں اور الله تعالیٰ کے کیا حقوق ہیں اور اس کی مخلوق کے کیا حقوق ہیں اور کس طرح سے بہتر رنگ میں ہم یہ حقوق ادا کر سکتے ہیں۔ پس اگر آپ اسلام کے متعلق ہمارے نقطۂ نظر کو دیکھیں تو پھر کسی قسم کا islamophobia پیدا نہیں ہونا چاہئے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ islamophobia اصل میں کیوں پیدا ہوتا ہے؟ آپ لوگوں میں سے ہی جو کہ صحافی اور مضمون نویسں ہیں کہتے ہیں کہ ان شر پسند مسلمانوں کی بہت ہی معمولی تعداد ہے جو مشکلات اور فساد پیدا کر رہے ہیں۔ اس لئے آپ اسے islamophobia نہیں کہہ سکتے ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ فساد کچھ شدت پسند مسلمانوں نے پیدا کیا ہے۔ میرے نزدیک تو کوئی مسئلہ ہونا نہیں چاہئے۔ اگر آپ اسلام کو ہماری نظر سے دیکھیں تو پھر آپ کو اسلام میں کچھ بھی غلط نظر نہیں آئے گا۔ پس جب کوئی غلط چیز نہیں ہوگی تو islamophobia بھی نہیں ہو گا۔ ہاں کچھ ایسے لوگ ضرور ہیں جو دنیا میں فساد کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں میں سے بھی ہیں اور دوسروں میں سے بھی ہیں۔ ہر سال ہزاروں لوگ امریکہ میں قتل کئے جاتے ہیں، تو کون ہے جو انہیں قتل کرتے ہیں؟ یہ تو انہی کے ملک کے، امریکن لوگ ہی ہیں۔ یہی چیز مسلم ممالک میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت ان لوگوں کے بارہ میں جو اپنے ہی ملک میں اپنے ہی لوگوں کو قتل کر رہے ہوتے ہیں آپ یہ تو نہیں کہتے کہ یہ لوگ جو بھی کر رہے ہیں عیسائیت کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ پس مسلمانوں میں شر پسند لوگوں کے اعمال کو اسلام کی طرف منسوب نہیں کرناچاہئے۔
٭ ایک صحافی جن کا تعلق macedoniaسے تھاانہوں نے سوال کیا کہ آپ کا جلسہ سالانہ کے موقع پر پوری دنیا کے لئے کیا عمومی پیغام ہے۔
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ یہ تو میں اپنے خطبہ جمعہ میں بیان کر چکا ہوں کہ ہمیں ایسا مسلمان بننا ہو گا جو اچھے اخلاق اپنانے والے ہوں، ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے خالق اور اس کی مخلوق کے حقوق پورے کرنے والے ہوں اور آپس میں امن اور پیار محبت سے رہنے والے بنیں۔
٭ اس کے بعد بوسنیا سے آنے والے ایک صحافی نے سوال کیا کہ یورپ میں بعض لوگوں کو مشرقی ممالک مثلاً پاکستان وغیرہ سے آنے والے لوگوں سے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اس یورپی معاشرہ میں رہ کر بھی اپنے ہی culture اور روایات کی حفاظت کرتے ہیں اوریورپی روایات نہیں اپناتے۔ اس بارہ میں حضور انور کا کیا خیال ہے؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ اس کے متعلق تو وہی بیان کر سکتے ہیں جنہیں خطرہ ہے۔ باقی یہ ہے کہ جو پاکستان سے آتے ہیں یا اور بھی لوگ جو اپنی values کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، جو اپنے مذہب کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس پر قائم رہتے ہیں۔ اگر وہ اپنے مذہب کو practice کرتے ہیں تو اس بارہ میں تو یورپ کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئے۔ اگر پور پین لوگوں کو ان سے خطرہ ہے تو پھر میرے خیال میں تو ایک غلط خطرہ ہے۔ کیونکہ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ ان کو اپنے آپ پر یقین اور اعتماد نہیں ہے کہ ایک چھوٹی سیcommunity یا تھوڑے سے لوگ یا immigrants ان لوگوں پر زیادہ influence کر جائیں گے اور یہ لوگ شاید out numberہو جائیں  اور مسلمان زیادہ ہو جائیں۔ سو کبھی کسی ملک میں immigrants اتنے زیادہ نہیں آسکتے کہ مقامی لوگوں کو وہ out number کر دیں۔ اگر لوکل کسی مذہب کے معاملہ میں outnumber ہوتے ہیں تو اس مذہب کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ جس طرح christianity دنیا میں پھیلی تھی تو hristianitycنے ہر ملک کے culture کو یا ان کی civilisation کو ان ملکوں کی آبادیوں کو outnumber کیا۔ ایسا تونہیں تھا کہ immigrantsنے آکر christianity پھیلائی۔ اگر یہ مذہب کی حفاظت کرتے ہیں تو کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے مذہب کی حفاظت نہیں کرتے تو ان کو فکر کرنی چاہئے۔ ان کو چاہئے کہ وہ اپنے مذہب کی حفاظت کریں اور اپنے مذہب کی اقدار کو قائم رکھیں۔ اگر یہ لوگ اپنی تعلیمات اور اقدار کوقائم رکھیں گے تو مسلمان کبھی ان پر influence نہیں کر سکیں گے۔ اس لئے خطرے والی کوئی بات نہیں ہے۔
٭ آخر پر ایک خاتون نے یہ سوال کیا کہ جماعت میں عورت اور مرد کا کس حد تک فرق ہے اور وہ کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ آپ کو ایک بنیادی بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ ہم ایک مذہبی جماعت ہیں اور ہم نے مذہبی تعلیمات پر عمل کرنا ہے، ہم نے اپنی مقدس کتاب کی پیروی کرنی ہے جو کہ قرآن کریم ہے، ہم نے نبی کریم ﷺکی سنت اور اقوال کی پیروی کرنی ہے اور اگر آپ پیروی نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بنیادی تعلیمات سے انحراف کر رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلام نے آغاز سے ہی عورتوں کے حقوق قائم کئے ہیں۔ ایک صدی پہلے بھی یورپ میں عورتوں کو حقوق حاصل نہیں تھے۔ عورت کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کا ورثہ حاصل کرے اور نہ ہی اسے ووٹ دینے کا حق تھا اس کے علاوہ بھی کئی باتیں ہیں۔ اسلام نے عورت کے لئے وراثت کا حق قائم کیا اور اسے اپنے خاوند سے خلع لینے کا بھی حق دیا اگر وہ اس کے ساتھ خوش نہیں ہے۔ اسلام نے یہ بات قائم کی کہ عورت اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے لیکن اپنے والدین کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد۔ اور اس کےعلاوہ کئی اور احکامات ہیں جن کے ذریعہ سے عورتوں کے حقوق قائم کئے گئے ہیں اور یہی چیز یں ہماری جماعت میں پائی جاتی ہیں۔
آپ دیکھ سکتی ہیں کہ عورتوں کا الگ ہال ہے جہاں انہیں ساری سہولتیں دی گئی ہیں۔ کل وہ اپنا پروگرام منعقد کریں گی جہاں عورتیں خطاب کریں گی اور میں بھی وہاں عورتوں کی طرف خطاب کروں گا۔ تو اسلام نے بتا دیا ہے کہ یہ مرد کی ذمہ داری ہے اور یہ عورت کی۔ یہ کام ہیں جو مردوں نے کرنے ہیں اور یہ کام ہیں جو عورتوں نے کرنے ہیں۔ میری یہ فلاسفی ہے کہ اگر عورتیں مردوں کی سر پرستی کے بغیر کام کریں تو زیادہ بہتر رنگ میں کام کر سکتی ہیں۔ جو عورت آپ کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے وہ مردوں سے کئی درجہ بہتر مقرر ہے۔
3 بجکر 30 منٹ پریہ پریس کانفرنس ختم ہوئی اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصره العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

سینیگال کے وفد کی ملاقات

آج شام سینیگال، مایوٹی آئی لینڈ اور لتھوانیا سے آنے والے وفود اور مہمانوں کی اجتماعی ملاقات کا پروگرام تھا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالی ٰبنصرہ العزیز 8بجے ملاقات ہال میں تشریف لائے۔ سب سے پہلے ملک سینیگال سے آنے والے وفد نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرف ملا قات پایا۔ سینیگال سے 9 ۔افراد پر مشتمل وفد جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہوا۔ مہمانوں میں سینیگال کے دوسرے بڑے شہر ‘‘امبور ’’کے کمشنر MrSear Ndao، ڈائریکٹر جنرل اسٹیبلشمنٹ محکمہ صحت Mr Mordiaw ،ڈائریکٹر ریڈیو Daff Umar Sayedo صاحب اور سیکرٹری جنرل علماء کونسل محمد حبیب گنّ صاحب شامل تھے۔
٭ وفد کے ممبران نے حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز کے استفسار پر باری باری اپنا تعارف کروایا۔ سینیگال سے آنے والے مہمان Sear Ndaoصاحب جو کہ اپنے علاقے میں کمشنر ہیں نے عرض کیا۔
‘‘میں حضور انور سے مل کر بہت خوش ہوں اور حضور انور کے آج کے خطبہ جس میں محبت اور توحید کا درس تھا میں اس سے بے حد متاثر ہوں۔ اگر میں یہ جلسہ نہ دیکھتا اور حضور انور سے نہ ملتا تو یقیناً سمجھتا ہوں کہ میں اپنی زندگی میں ایک بہت بڑا خلا محسوس کرتا اور آج میں یہ سمجھتا ہوں کہ حضورانور کو مل کر میری زندگی کا مشن مکمل ہو گیا ہے۔ میں یہ بات بر ملا اور ہر جگہ کہہ سکتا ہوں کہ حضور انور صرف ایک روحانی آدمی ہی نہیں بلکہ وہ یقینا ًخدا کے مقرر کردہ انسان ہیں۔ وہ اس دنیا کےنہیں ہیں۔ یہ باتیں بیان کر کے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کہنے لگے کہ مجھ میں طاقت نہیں کہ میں اتنی بڑی ہستی کے بارہ میں کچھ کہہ سکوں۔’’
انہوں نے اپنے وفد کی طرف سے حضور انور کی خدمت میں کشتی کا تحفہ پیش کیا۔ اور کہا کہ یہ کشتی امن کی کشتی ہے۔ ’’محبت سب کیلئے نفرت کسی سے نہیں‘‘ کی کشتی ہے۔ اب جو اس میں سوار ہو گا وہی امن پائے گا اور یہ احمدیت کی کشتی ہے۔ اور کشتی کا تحفہ دینے کا ایک دوسرا مطلب یہ بھی تھا کہ ہمارے ملک کی معیشت اس سے وابستہ ہے۔ لہٰذا ہمارے ملک کیلئے خاص دعا کریں۔
نیز انہوں نے کہا کہ ہم حضور انور کو سینیگال آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ‘‘میں وقت نکال لوں گا۔ ان شاءاللہ’’
٭ سینیگال سے ایک آنے والے مہمان ڈاکٹر مور جاؤ صاحب(Mordiaw)جو کہ ڈائریکٹر جزل اسٹیبلشمنٹ محکمہ صحت ہیں اور سینیگال کے تمام ہسپتالوں کے انچارج ہیں کہنے لگے۔
حضور انور سے ملا قات ہمارے لئے بہت بڑی سعادت ہے۔ جماعت نے وہاں ہسپتال کھولا ہے وہ بہت ہی اعلیٰ اقدام ہے اور کینیڈا والوں نے اس ہسپتال کیلئے سامان بھجوایا ہے۔ اس کیلئے بھی میں حضورانور کا شکر گزار ہوں۔ مزید ہسپتال اور صحت اور تعلیم کے شعبہ میں سینیگال ضرورت مند ہے۔ خصوصاً ماں اور بچے کی careکے ہسپتال کی ضرورت ہے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا۔ ‘‘ہم جائزہ لیں گے’’۔ نیز فرمایا کہ‘‘ہم جب کسی کی طرف دوستی کاہاتھ بڑھاتے ہیں تو پیچھے نہیں ہٹتے’’اس پر سب ڈیلیگیشن نے بیک زبان حضور انور کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہماری طرف سے بھی یہ ہاتھ بھی پیچھے نہیں ہو گا۔
موصوف نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ہوئے کہا۔
‘‘میں نے دنیا کے بہت سے ممالک دیکھے ہیں۔ مذہبی اور سیاسی اجتماع بھی دیکھے ہیں۔ امریکہ، یورپ سب جگہوں پر گیا ہوں۔ لیکن آج تک ایسا نظام ، ایسا حقیقی اسلام اور اسلام کی ایسی تصویر اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ایسی اطاعت کبھی نہیں دیکھی جو میں نے یہاں لوگوں میں دیکھی ہے۔ اور خلافت سے ایسی محبت میں یہ علیٰ وجہ البصیرت کہہ سکتا ہوں کہ دنیا میں کسی جگہ بھی کوئی اپنے سیاسی یا مذہبی لیڈر سے ایسا پیار نہیں کر تا، یہاں میں نے اپنے خلیفہ سے لوگوں کو کرتے دیکھا ہے۔ میں اس سچائی کو تسلیم کر تا ہوں۔’’
ڈاکٹر مور جاؤ صاحب اور ان کے ساتھ کمشنر Sear Ndao صاحب نے عرض کیا۔
ہم دل سے اس سچائی کو قبول کرتے ہیں اور جو ہم نے دیکھا یہ ایک ایسی سچائی ہے کہ جس کو کوئی بھی رد نہیں کر سکتا اور ہم اور ہمارے دل آج سے آپ کے ساتھ ہیں۔ اور جو ہم نے دیکھا اور آپ سے سنا ہے خاص طور پر خطاب میں، یہ کبھی دل سے محو ہونے والا نہیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا۔ ‘‘اصل چیز تقویٰ ہے اور انسان کو ہمیشہ تقویٰ سے کام لیتا چاہیے۔ اللہ تعالی ٰآپ کے ساتھ ہو۔’’
٭ سینیگال سے آنے والے عمر سیدو ڈف صاحب Daff Umar) (Sayedo جو کہ ایک ریڈیو کے ڈائریکٹر ہیں نے عرض کیا۔
میں ریڈیو کا ڈائر یکٹر ہوں جہاں جماعت کا ہر جمعہ کو پروگرام ہوتا ہے اور حضور انور کا خطبہ جمعہ فرنچ زبان میں لائیو نشر ہو تا ہے۔ یہ ملاقات میرے لئے اور میری فیملی کیلئے زندگی کا ایک قیمتی سرمایہ ہے جس کو میں کبھی بھی بھول نہیں سکتا۔ میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خدا کے خلیفہ کا ممنون ہو گیا ہوں۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس کا ہو گیا ہوں۔ کیونکہ جب میں نے انہیں دیکھا ہے اور جب میں نے یہ سچائی دیکھی ہے، اس کے بعد اب میرے لئے چارہ نہیں کہ میں ان کا نہ ہوں۔ میں ان کا ہوں۔ میں کہیں بھی ہوں، دنیا میں کسی جگہ بھی ہوں، آج کے بعد خدا کے خلیفہ کاہوں۔“
میں حضور انور سے اپنے اور فیملی کیلئے دعا کی درخواست کرتا ہوں۔ حضور انور کے خطبہ کا میرے دل پر بہت اثر ہے۔ نیز ہمارے ملک میں پٹرول اور گیس نکلا ہے اس کیلئے کبھی دعا کی درخواست ہے۔
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ”میں نے گھانا کے صدر کو بھی یہ بات کہی تھی کہ اگر آپ انصاف کے ساتھ تقسیم نہ کریں اور کرپشن ہو تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تیل سے تو نائیجیریا بھی مالامال ہے۔ لیکن وہاں اتنی غربت ہے کہ لوگ ڈسٹ بن سے اٹھا کر بھی کھانا کھا رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے وسائل کی تقسیم انصاف کیساتھ ہونی چاہئے۔
٭ بعد ازاں محمد حبیب گنّ صاحب سیکرٹری جنرل علماء کونسل نے اپنا تعارف کروایا اور کہا کہ
میں امبور کی بڑی مسجد کا امام ہوں اور آپ کا ممنون ہوں۔ آپ نے جو خطبہ دیا، توحید، محبت اور بھائی چارے کا درس دیا اصل اسلام یہی ہے۔ آپ جو کام محبت اور اخوت کا اور اسلام کی ترقی کا اور امت کو متحد کرنے کا کر رہے ہیں آج اسلام کو اس کی بہت ضرورت ہے۔ نیز اگر حضورانور ارشاد فرمائیں تو جہاں یو کے میں حضورانور رہتے ہیں وہاں بھی آؤں اورآکر دیکھوں۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصره العزیز نے فرمایا۔
یو۔کے کا ویزہ اگر مل جائے تو ضرور آئیں۔ ویزہ ایمبیسی نے دینا ہے۔ باقی انتظامات ہمارے ذمہ ہیں۔
ملاقات کے آخر پر وفد کے سبھی ممبران نے حضور انور سے شرف مصافحہ حاصل کیا اور تصاویر بنوائیں۔ سینیگال کے وفد کی یہ ملاقات 8 بج کر 25 منٹ تک جاری رہی۔

مایوٹ آئی لینڈ کے وفد کی ملاقات

بعد ازاں مایوٹ آئی لینڈ (Mayotte Island) سے آنے والے وفد نے حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی سعادت پائی۔
مایوٹ آئی لینڈ سے امسال 9۔افراد پر مشتمل وفد آیاتھا جن میں دو میاں بیوی احمد سلیم صاحب اور محترمہ ایلاد چکرین صاحبہ کا تعلق ملکی سیاست سے تھا۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دریافت فرمانے پر احمد سلیم صاحب نے بتایا کہ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل اور سیاستدان بھی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی سیاست میں حصہ لیتی ہیں۔
٭ مایوٹ کے مبلغ نے عرض کیا کہ ہم وہاں اپنی مسجد اور ایک لائبریری بنانا چاہتے ہیں جس کیلئے سلیم صاحب ہماری بہت مدد کر رہے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ ہماری کمیو نٹی ہر جگہ بنی نوع انسان کی خدمت کر رہی ہے۔ ہم کوئی یورپین کمیونٹی نہیں ہیں۔ ایک مذ ہی کمیونٹی میں اسلام کا پیغام پہنچار ہے ہیں۔ آپ وہاں جو ہماری مدد کر رہے ہیں، اپنی فیس لیتے ہوئے اس کو مد نظر رکھنا ہے کہ ہم بنی نوع انسان کی بھلائی اور خدمت کیلئے کام کررہے ہیں۔
٭ وفد میں ایک دوست لابیون یوسف صاحب اپنی فیملی کے ساتھ شامل تھے۔ موصوف وہاں کے ابتدائی احمدیوں میں سے ہیں اور اس وقت جماعت کے سیکرٹری مال بھی ہیں۔ موصوف نے عرض کیا۔
میں اپنے خاندان میں پہلا احمدی ہوں۔ احمدی ہونے سے قبل میرے پاس کچھ نہ تھا۔ احمدیت قبول کی تواحمدیت کی برکت سے خدا تعالی ٰنے مجھے کام بھی عطا کیا۔ گھر بھی عطا کیا اور بیوی بچے بھی عطا کئے۔
٭ مبلغ انچارج نے عرض کی کہ ان کے والد ان کو کافر کہتے ہیں اور ان کی بہت مخالفت کرتے ہیں۔
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان کو نصیحت فرمائی کہ آپ اپنے والد کیلئے دعا کیا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہدایت دے۔
موصوف نے عرض کیا کہ ان کے ہاں جب بچہ کی پیدائش ہوئی تھی تو ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ بچہ معذور ہے۔ یہ مستقبل میں نہ تو بیٹھ سکے گا، نہ کھڑا ہو سکے گا اور نہ ہی دیکھ پائے گا۔ چنانچہ انہوں نے حضور انور کی خدمت میں دعا کی غرض سے تحریر کیا اور اس کے بعد الله تعالیٰ کے فضل سے بچے کی نشو ونما معجزانہ رنگ میں ہوئی اور وہی بچہ اب بیٹھ بھی سکتا ہے اور کھڑ ا بھی ہو سکتا ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔
يوسف لابیون صاحب نے ملاقات کے بعد بتایا کہ گو کہ بچہ بیٹھ سکتا تھا اور کھڑ ا بھی ہو سکتا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں بھینگا پن تھا۔ لیکن ملاقات کے بعد حضور انور کے دست مبارک پھیرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے معجزانہ رنگ میں اس کی آنکھیں بھی ٹھیک کر دیں اور اس کا بھینگا پن بھی دور کر دیا۔ الحمدللہ
مایوٹ آئی لینڈ کے وفد کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملا قات 8 بج کر 40 منٹ تک جاری رہی۔ وفد کے تمام ممبران نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

لتھوانیا کے وفد کی ملاقات

بعد ازاں پروگرام کے مطابق ملک لتھوانیا ( Lithuania)سے آنے والے وفد نے ملاقات کی سعادت پائی۔ لتھوانیا سے 58۔افراد پر مشتمل وفد جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہوا۔ اس میں 46 غیر احمدی، غیر مسلم احباب تھے جبکہ 12 ۔ احمدی احباب تھے۔
٭ وفد میں شامل ایک دوست نے عرض کیا کہ وہ مصنف ہیں اور ایک رسالہ بھی نکالتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا۔
میرا مقصد یہ ہے کہ میں انسانیت کے لحاظ سے لکھوں تا کہ لوگ قریب آئیں۔ حضورانور کے خطابات سے انتخاب کر کے بھی لکھتا ہوں تا کہ لوگ اسلام کے قریب آئیں اور ان کو اسلام کی حقیقی تعلیم کا پتہ چلے۔ میں نے پہلا رسالہ احمدیہ کے حوالہ سے نکالا ہے اور اس میں جماعت کا تعارف، خلفائے احمدیت کا تعارف اور جلسہ سالانہ کے حوالہ سے اور جماعت جو خدمات کر رہی ہے اس حوالہ سے تفصیل سےلکھا ہے۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ اس کو اب لتھوانیا میں پھیلائیں۔ آپ تو سارے ملک میں جماعت کا تعارف کروارہے ہیں۔ اس کو اب سارے ملک میں پھیلائیں۔ اس طرح وہاں کے مبلغ کی سستی بھی دور ہو جائے گی اور اس کو بھی کام کرنا پڑے گا۔
٭ لتھوانیا سے Petras Janulionis (پطرس یانولیونس صاحب) نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا۔
جلسہ پر آنے سے قبل اسلام کے بارے میں میرا تصور کچھ اچھانہ تھالیکن جلسہ میں شمولیت کے بعد اسلام کے بارے میں میرے جذبات بہت مثبت ہو گئے ہیں۔ مجھےجلسہ میں اس بات کا احساس ہوا کہ مسلمان اپنے عقیدے کے ساتھ بہت سنجیدہ ہیں بلکہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ عیسائیوں کی نسبت بہت زیادہ سنجیدہ ہیں۔ آپ کے خلیفہ بہت متاثر کرنے والی شخصیت ہیں اور لوگوں سے بہت کھل کر بات کرتےہیں۔
٭ لتھوانیا سے Ignas Brazauskas(اگنس برازاو سکس صاحب) کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ سے اسلام کا بطور مذہب احترام کرتا تھا۔ یہاں آ کر احساس ہوا کہ اسلام امن اور برداشت کا مذہب ہے۔ خلیفہ صاحب کی شخصیت سے بہت متاثر ہوں۔
٭ Rita Aspegiene(ریتااسپی گی انے صاحبہ) نے بیان کیا کہ۔
جلسہ کا ہر دن ایک نیا تجربہ تھا۔ جلسہ کے دوستانہ ماحول نے بہت متاثر کیا۔ خلیفہ بہت متاثر کن شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ تحمل کے ساتھ ہر کسی کے سوال کو سنتے اور جواب دیتے ہیں اور آپ کی حس مزاح بھی بہت اچھی ہے۔
٭ لتھوانیا سے Manefa Miskiniene (مانیفامسکی نی انے صاحبہ) نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ جلسہ میں شمولیت سے قبل اسلام کے بارے میں شش و پنج میں تھی کیونکہ بعض مسلمان نہایت غصیلے اور دوسرے مذاہب کے بارےمیں عدم برداشت کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن جلسے میں شمولیت کے بعد مجھے اندازہ ہوا ہے کہ احمدی مسلمان دوسروں کی رائے اور مذہب کا احترام کرنے والے اور تمام انسانیت میں امن اور محبت بانٹنے والے لوگ ہیں۔
موصوفہ کہتی ہیں کہ اسلام کے بارے میں بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملا۔ سب لوگ محبت کرنے والے اور خدمت کیلئے تیار رہنے والے ہیں۔ خلیفہ صاحب کی مثبت سوچ میرے ذہن پر نقش ہو گئی ہے۔ ان کے سوالوں کے دئیے گئے جوابات بہت مفصل اور ہر کسی کو با آسانی سمجھ میں آنے والے تھے۔ حضور کا امن کا پیغام بہت متاثر کن ہے اور مجھے بہت خوشی ہے کہ مجھے حضور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت ملی۔
٭ لتھوانیا سے Gena Pavlauskiene (گینا پاولاو سکی انے صاحبہ)نےکہا۔ اسلام کے بارے میں علم میں اضافہ ہوا۔ قرآن کی تلاوت سن کر بہت مزہ آیا۔ خلیفہ صاحب کے جوابات بہت تفصیل پر مبنی اور مثبت تھے۔
٭ Marija Komiago (ماریا کوميا گوصاحبہ) نے کہا کہ جلسہ میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد سے ملنے کا موقع ملتا ہے جو امن کی تعلیم پھیلانا چاہتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات کے حوالے سے مختلف موضوعات پر بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ جلسہ کے دوران ہر طرف مسکراتے چہرے بہت متاثر کرتے ہیں۔ خلیفہ صاحب بہت علمی شخصیت ہیں اور کمال کی حس مزاح رکھتے ہیں۔
٭ لتھوانیاسےLaurynas Valatka(لاور ینس والا تکا صاحب)نے کہا کہ۔
جلسہ میں شامل ہونے کے بعد اسلام کے بارے میں میری رائے 180 کے زاویے پر تبدیل ہوئی ہے۔ جماعت بہت پر امن اور دہشت گردی کے بالکل خلاف ہے۔ جماعت احمدیہ دنیا کے تمام مسائل چاہے وہ امیگریشن ہو یا نیوکلئیر جنگیں یا معاشی مسائل سب کا حل پیش کرتی ہے۔ خلیفہ صاحب نہایت سادہ طبیعت کے مالک ہیں اور دیگر دنیاوی لیڈروں کے بر عکس ہیں جو اپنے آپ کو باقی دنیا سے اوپر سمجھتے ہیں۔ آپ نہایت شفیق، محبت کرنے والے اور بہت اچھی حس مزاح کے مالک ہیں اس بات نے مجھے بہت متاثر کیا۔
٭ لتھوانیا سےRima Povileniene(ریمارپوو یلی انے صاحبہ) نے کہا۔
جلسہ میں شمولیت سے اسلام کی تعلیمات کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اسلام اور جماعت کے تعارف اور تاریخ پر مبنی نمائش بہت ہی فائدہ مند ہے۔ جلسے کا منظم نظام حیران کن طور پر متاثر کرتا ہے۔ ہماری لتھوانین احمدی دوست Aukse Ahmed بہت محبت کرنے والی خاتون ہیں جنہوں نے جلسہ کے دوران ہر چیز کا تعارف ہمیں پیش کیا۔ تمام کارکنان بہت محبت کرنے والے اور برداشت کا مادہ رکھنے والے ہیں۔ حضور انور سے ملا قات کے دوران بہت سکون اور امن حاصل ہوا اور آپ کے جوابات سے بہت متاثر ہوں۔
٭ لتھوانیاسے Stanislava Ligeikiene(ستانس لاوالیگئی کی انے صاحبہ) نے کہاہے کہ مسلمانوں سے میرا تعلق 1970 ءسے ہے۔ جماعت کی اتنی بڑی تعداد کا ایک جگہ ایک مقصد کے لئے اکھٹا ہونا اور نہایت خوش اسلوبی سے اتنی بڑی تعداد کا نماز ادا کرنا اور دعائیں کرنا بہت متاثر کرتا ہے۔ حضورانور کا اس سوال کہ ’’اپنی روح کو کیسے پاک کیا جائے؟ ‘‘کا جواب بہت اچھا لگا کہ روح کو پاک کرنے کیلئے اللہ تعالی سے دعا کریں، اس سے بخشش طلب کریں اور اس سے پیار کریں وہ آپ سے پیار کرے گا۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ روح کو پاک کرنے کیلئے اسلام کا اپنا نظریہ ہے۔ عیسائیت کا اپنا نظریہ ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہمیں ہمیشہ صحیح راستہ پر چلائے۔ گناہوں سے پاک کرے۔ پھر اس پاکیزگی پر قائم رکھنے کی توفیق دے۔ یہ احساس پیدا ہو کہ میرے ہر کام کو خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ احساس ہو جائے کہ خدا میرے ہر کام کو دیکھ رہا ہے تو پھر انسان وہی کام کرے گا جو ٹھیک ہو گا اور صحیح ہو گا۔
٭ لتھوانیا سے ایک میاں بیوی Zilvinas Juzulenas اور Jurgita Juzuleniene (زلو ینس یوزولینس صاحب اور یور گیتا یوزولیانے صاحبہ) جلسہ میں شریک ہوئے۔ یہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
ہمیں جلسے میں شمولیت کر کے بہت خوشی ہے۔ ہم اپنی دو سالہ بچی کے ساتھ آئے ہیں۔ چھوٹی بچی کے ساتھ سفر کرنا مشکل تھا لیکن جلسہ کے ماحول اور خلیفہ صاحب کی محبت ہمیں یہاں کھینچ لائی۔ جلسہ کے دوران صبر اور برداشت کا معیار بہت بلند تھا۔ لوگ بہت خوش اخلاق تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ہمیں خلیفۃ المسیح سے ملاقات کا بے چینی سے انتظار تھا کیونکہ یہ لمحات بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ بہت یاد گار لمحات ہیں۔ خلیفہ کی آواز اور مسکراہٹ نہایت خوبصورت اور بہت متاثر کن ہے۔ ہم نے اپنی والدہ اور بیٹی کے لئے دعا کی درخواست بھی کی۔ خلیفہ صاحب کی دعائیں ہمارے لئے بہت قیمتی ہیں۔ ہم شکر یہ اداکرتے ہیں کہ آپ محبت، صبر اور نیک تعلیم کو دنیا میں پھیلا رہے ہیں۔
٭ ایک دوست نے عرض کیا کہ الله تعالی کے فضل سے لتھوانیا میں ہماری جماعت ترقی کررہی ہے۔ حضورانور لتھوانیاكب تشریف لائیں گے؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آپ پوچھ رہے ہیں کہ کب آئیں گے؟ آپ دعوت کیوں نہیں دیتے؟ اس پر موصوف نے عرض کیا کہ ہم دعوت دیتے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ بڑی آہستہ آواز میں دعوت دی ہے۔ اس پر موصوف نے مسکراتے ہوئے بلند آواز سے کہا ہم حضور انور کو دعوت دیتے ہیں۔
٭ لتھوانیا سے ایک Lawyer کمپنی کے سربراہSarunas Badauskass( شارونس بادوسکس صاحب) بھی جلسہ میں شریک تھے۔ یہ کہتے ہیں کہ
جلسہ سالانہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں اسلام کی پر امن تعلیم کا پتہ چلتا ہے اور اسلام کے بارہ میں جو غلط تصورات ہیں ان کا قلع قمع ہو تا ہے۔
٭ Boleslav Ragucki(بولے سلاور اکوتسکی صاحب نے کہا کہ
اتنے اہم اور بڑے جلسہ میں شمولیت میرے لئے بہت خوشی کا باعث ہے۔ مجھے اسلام کی حقیقی تعلیم جاننے کا موقع ملا۔ میں نے بہت سی اچھی اور پر حکمت با تیں سنیں۔ مجھے یہاں کا نظام بہت اچھا لگا۔
٭ ایک مہمان خاتون نے عرض کیا کہ حضور خلیفۃ المسیح کی حیثیت سے بے حد مصروف ہیں۔ حضور انوراپنی hobbies کیلئے کیسے وقت نکالتے ہیں؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا ہے کہ
”میری hobby جماعت کا کام ہی ہے‘‘
٭ لتھوانیا سے Yaqubov Dadojon (یعقو بوو دادو جان صاحب) بیان کرتے ہیں کہ
جلسہ کے تمام انتظامات نہایت منظم طریق سے کئے گئے۔ رضاکاروں نے مہمانوں کا بہت خیال رکھا۔ تقاریر کا معیار بہت اچھا تھاخاص کر مجھے جرمن تقریر بہت اچھی لگی جس میں بہت ساری نصائح کی گئیں۔ میری خواہش ہے کہ احمدیہ جماعت پوری دنیا میں پھیل جائے۔
٭ Marija Ragucka(ماریارا گوتسکا صاحبہ) نے کہا کہ
پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ میں شامل ہوئی ہوں۔ بہت برداشت کا ماحول تھا۔ مجھے خلیفہ سے مل کر بہت خوشی محسوس ہوئی۔ ان کی باتیں حکمت سے پر تھیں ۔ ملاقات کے بعد بھی میں اس خوشی کو محسوس کر رہی ہوں۔
٭ ایک مہمان کے سوال کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا۔
تمام مذاہب خدا کی طرف سے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے تمام قوموں میں انبیاء بھجوائے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے خود کہا کہ اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں lost) (tribes کیلئے آیا ہوں۔ بائبل میں اس کا ذکر ہے۔ مسیح علیہ السلام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ ساری دنیا کیلئے آئے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ قرآن کریم آخری کتاب ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ میں ساری دنیا کیلئے آیا ہوں۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ کو ساری دنیا کیلئے، تمام اقوام عالم کیلئے مبعوث فرمایا گیا۔ اور قرآن کریم آخری شریعت ہے اور قیامت تک کیلئے ہے۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء خدا کی طرف سے آئے ہیں اور مختلف اقوام اور علاقوں کی طرف مبعوث کئے گئے جبکہ آنحضرت ﷺکو ساری دنیا کیلئے نبی بناکر بھیجا گیا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا۔
قرآن کریم کہتا ہے لَا اِکراہَ فی الدِّیْن کہ مذہب میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ہر انسان مذہب کو اختیار کرنے کے لحاظ سے آزاد ہے۔ جو نہیں مانتے وہ بھی ہمارے دوست ہیں، انسانیت کی حیثیت سے سب دوست ہیں۔ ہم تو سب سے محبت و پیار کا تعلق رکھتے ہیں۔
٭ ایک سوال کے جواب میں کہ احمدی اور باقی مسلمانوں میں کیا فرق ہے۔ حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا ۔
آنحضرتﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں ایک ریفارمر آئے گا۔ ایک مصلح آئے گا جو مسیح اور مہدی ہو گا۔ جماعت احمد یہ ایمان رکھتی ہے کہ وہ مسیح و مہدی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی صورت میں آچکا ہے جبکہ دوسرے مسلمان ابھی تک اس کا انتظار کرہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالی نے آپؑ کو بھیجا ہے اور آپؑ نے جماعت کی بنیاد رکھی جو آج ساری دنیا میں اشاعت اسلام کا کام کر رہی ہے۔ جبکہ دوسرے مسلمان کہتے ہیں کہ ابھی مسیح مہدی نہیں آیا اور تم آنے والے کو نبی مانتے ہو جبکہ ہم کسی نبی کے آنے کے قائل نہیں۔ اس پر ہم ان کو یہ دلیل دیتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے آنے والے کا نام ’’نبی اللہ‘‘ رکھا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دوسرے مسلمان ہمیں دائرہ اسلام سے باہر نکالتے ہیں اور کافر کہتے ہیں۔
حضور انور ایدہ الله تعالىٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔
ہم کہتے ہیں کہ بانیٔ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت ﷺکی پیشگوئی کے مطابق آئے اور اسلام کی اصل اور حقیقی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی اور قرآن کریم کی تعلیم پیش کی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں دو مقاصد لے کر آیا ہوں۔ ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ کا حق ادا کرو، خدا تعالیٰ کو پہچانو اور دوسرا یہ کہ اس کے بندوں کے حقوق ادا کرو، ہر ایک دوسرے کا حق ادا کرے۔ یہی اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔
٭ ایک مہمان نے عرض کیا کہ حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ بہت پر معانی تھا۔ میں اس پر حضورانور کا شکریہ ادا کر نا چا ہتا ہوں۔
٭ ایک دوست نے سوال کیا کہ عیسائیوں اور یہود کے پاس تو ten commandments ہیں ۔جبکہ مسلمانوں کے پاس کیا ہے؟
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا: مسلمانوں کے پاس قرآن کریم کی تعلیم ہے۔ ہم احمدی اس پر عمل کرتے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا ۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے احمدیوں کیلئے 10 شرائط بیعت رکھی ہیں۔ خداتعالیٰ سے لے کر بندوں کے حق ادا کرنے تک ساری باتیں ان میں آگئی ہیں۔ جو احمدی بیعت کرتا ہے وہ ان سب پر عمل کرتا ہے۔
٭ لتھوانیا سے Jeronimas Laucius(یارو نیمس لاوسس صاحب) نے کہا کہ
میں مصنف ہوں اور آپ کی جماعت کی امن کی کوششوں کو ہمیشہ اخبارات اور رسائل میں لکھتا رہوں گا۔ میں دوسری مرتبہ جلسہ میں شامل ہوا ہوں اور یہ جلسہ مجھے پچھلے جلسہ کا تسلسل ہی لگا ہے۔ جلسہ سالانہ نہایت مفید پروگرام ہے کیونکہ اس میں عصر حاضر کے مسائل کے حل کے بارہ میں تقاریر کی جاتی ہیں، دنیامیں امن پھیلانے کی ترغیب دی جاتی ہے اور جو لوگ ایمان سے دور ہو جاتے ہیں ان کو ایمان کے قریب کرنے کے بارہ میں تعلیم دی جاتی ہے۔ مجھے خلیفہ صاحب کی تقاریر سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔
٭ لتھوانياسے Henrikas Sargelis ( ہینرکس سر گیلس صاحب) بیان کرتے ہیں کہ
پہلے میں اسلام کے متعلق منفی سوچ رکھتاتھا اور اب جلسہ میں شامل ہونے کے بعد میری سوچ مثبت ہو گئی ہے۔ میرے دل میں مسلمانوں کے لئے عزت کے جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔ نئی معلومات ملنے کے ساتھ ساتھ میرا مذہب کی طرف رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔ جلسہ کے انتظامات نہایت منظم طور پر کئے گئے اور تمام لوگ بہت خوش اخلاقی سے پیش آئے۔ خلیفہ صاحب سے ملاقات کا تجربہ بہت اچھارہا۔ ان سے بہت سادہ اور اچھے انداز میں گفتگو ہوئی۔ میرےدل میں ان کے لئے نہایت عزت کے جذبات ہیں۔
٭ لتھوانیاسےDanguole Sarapiniene(دانگوالے ساراپینی انے صاحبہ) نے کہا کہ
مجھے دوسری مرتبہ جلسہ سالانہ میں شمولیت کا موقع ملا۔ بہت منظم اور خوشگوار ماحول تھا۔ خلیفہ صاحب سے مل کر بہت خوشی محسوس ہوئی اور ان کے ساتھ تصویر بنانے کا موقع بھی ملا۔ جب میری بیٹی کی شادی ایک احمدی ،مسرور احمد قمر سے ہوئی تو شروع میں میرے خیالات اسلام کے بارہ میں منفی تھے۔ میں نے جب اپنے داماد کا بیٹی کے ساتھ اچھا رویہ دیکھا اور جب مجھے انہوں نے اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کیا تو مجھے اطمینان ہو گیا اور میں نے اسلام کو دوسرے انداز سے دیکھنا شروع کیا۔ جلسہ سے مجھے اسلام کی اور واقفیت حاصل ہوئی ہے۔ میں بہت خوش ہوں۔
٭ لتھوانیا سے Danuta Sargeliene(دانو تاسار گیلی انے صاحبہ) نے کہا کہ
میں تمام مذاہب کا احترام کرتی ہوں اور اسی طرح اسلام کا بھی۔ جلسہ میں شرکت کر کے میرا اسلام کے بارہ میں علم بڑھا ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کا عورتوں سے سلوک بہت اچھا ہے۔ جلسہ نہایت منظم تھا۔ مجھے اخلاص سے بھرپور عبادتوں کو دیکھ کر بہت اچھا لگا۔
٭ لتھوانیاسےAbdussator Boboev(عبد الستار بوبوایو صاحب) نے کہا کہ
میں نے احمدیوں کے بارہ میں سنا تھا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور شراب کو جائز سمجھتے ہیں۔ جلسہ میں شامل ہونے سے پہلے احمدیوں کی مسجد دیکھی اور اس میں نماز پڑھی تو پتہ چلا کہ یہ لوگ مسلمان ہیں اور پانچ ارکان دین پر عمل کرتے ہیں۔ جلسہ میں شامل ہو کر پتا چلا کہ یہ امام مہدی کو مانتے ہیں اور بالکل شراب نہیں پیتے اور حرام سے بچتے ہیں۔ یہاں جلسہ میں شامل ہو کر احمد یہ جماعت کے بارہ میں بہت معلومات ملی ہیں اور میں بنیادی طور پر آپ لوگوں کو مسلمان سمجھتا ہوں۔ ارکان دین اور ارکان اسلام وہی ہیں جو مسلمانوں کے ہوتے ہیں۔ مجھے اب علم ہوا ہے کہ آپ لوگ امام ابو حنیفہ کو امام سمجھتے ہو اور ان کی فقہ پر عمل کرتے ہو۔ جلسہ میں بہت کچھ اچھالگا۔ یہاں پر حج کے بعد دوسری مرتبہ اتنے مسلمانوں کو اکٹھے ہوتے دیکھا۔ خلیفہ صاحب سے ملاقات بہت اچھا تجربہ تھا۔ ان کا چہرہ بہت نورانی تھا۔ جب میں تاجکستان ہوتا تھا تو MTA پر ان کو دیکھا کر تا تھا اور بہت متاثر ہوتا تھا۔ وہ بہت نیک انسان ہیں۔
٭ لتھوانیا کے وفد کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملا قات 9بج کر 20 منٹ تک جاری رہی۔ آخر پر وفد کے تمام ممبران نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔ پروگرام کے مطابق 10بجے حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

image_printپرنٹ کریں