skip to Main Content
طلباء جامعہ احمدیہ کینیڈا کے ساتھ نشست  23۔اکتوبر 2016ء

س:حضور آج کل Mentol Illness اور ڈپریشن کافی لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ ہم بطور مربی ان کی کیسے مدد کر سکتے ہیں۔ کیا اسلام دوا کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اَلَا بَذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنَّ الْقُلُوْب۔ جواب دے دیا کہ اللہ سے تعلق پیدا کرو، لو لگاؤ۔ ایک تو دنیاوی خواہشات کی وجہ سے Mentol Illness دنیا میں پیدا ہورہی ہے زیادہ۔ دوسری بعض صورتوں میں بہت کم کیسز ہیں جو فینیٹک (Fanatic) ہوجاتے ہیں یا مذہبی طور پر اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ  پھر ان کو دماغی عارضہ ایک طرح کا ہوجاتا ہے۔  لیکن ان میں اکثریت نہیں ہے۔ exceptions تو ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن عموماً جن میں دنیاداری زیادہ ہے، دنیا کی خواہشات زیادہ ہیں ان کی جب خواہشات پوری نہیں ہوتی تو فرسٹریشن ہوتی ہے، بےچینیاں ہوتی ہیں۔ ماں باپ کو بعض دفعہ بچوں کی وجہ سے پریشانیاں ہو جاتی ہیں اور بعض کو مالی معاملات کی وجہ سے ہو جاتی ہیں بعض کے اور مسائل ہیں۔ تو اس کا حل یہی ہے کہ ہر ایک کو یہ خیال کرنا چاہئے کہ  اللہ تعالیٰ کی ذات پرتوکل کیا جائے ، اس پر بھروسہ کیا جائے، اسی سے مانگا جائے، اس سے تعلق پیدا کیا جائے ۔

 ایک تو یہ چیز ہے جو پیدا کرنی چاہئے دنیا میں۔ آجکل دنیاوی خواہشات زیادہ ہیں  اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ  جب کسی کی دنیا دیکھو تو اس کی لالچ کر کے، اس کی طرف نظر کر کے اس کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو۔تمہارے اندر حسد اور حرص نہ پیدا ہو۔ لیکن اگر دین دیکھو تو کوشش کرو کہ میں بھی اس مقام تک پہنچوں تاکہ اللہ سے تعلق قائم ہو۔ تو یہی ایک نسخہ ہے جس کے لئے انبیاء آتے  ہیں، جس کے لئے مذہب کی تعلیمات ہیں اور اسی بات کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باربار دہرایا ہے کہ میں اسی مقصد کے لئے آیا ہوں کہ بندے کو خدا سے ملاؤں اور جو دوریاں پیدا ہو گئی ہیں ان کو نزدیک کروں۔

تو یہ ایک ایسی چیز نہیں جو ایک دم ایک نصیحت سے پیدا ہوجائے یا اوور نائٹ یہ چلی جائیں گی۔ دنیا کا ماحول جو ہے اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے اور خواہشات اتنی بڑھ چکی ہیں، فرسٹیشن اتنی زیادہ ہیں، بے چینیاں اتنی زیادہ ہیں، قناعت میں کمی ہوچکی ہے۔ مستقل ایک پروسس ہے جس کو ہم نے باربار کہہ کہہ کے کم از کم جن لوگوں کی ذمہ داریاں ہم پر ہیں ان میں قائم کرنا ہے ۔سب سے پہلے تو اپنے آپ میں  پیدا کرنا ہوگا۔ بعض نیک لوگوں میں اس لئے بے چینیاں پیدا ہو جاتی ہیں کہ کیوں لوگ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا نہیں کرتے کیوں اپنی تباہی کے سامان پیدا کر رہے ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ کو جو بے چینی تھی دنیا کے لئے ہی تھی لوگوں کے لئے ہی تھی دنیا کی خواہشات کے لئے نہیں تھی۔ فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ جو اللہ تعالیٰ نے کہا وہ  یہی کہا کہ دنیا والوں کے لئے بےچین ہیں وہ بے چینی اور گھبراہٹ ان کے لئے تھی۔

ایک نیچرل چیز ہے وہ ہوتی ہے دنیا میں۔ لیکن دنیاوی خواہشات کے لئے بے چینیاں ڈپریشن ہے اور پھر مریض بن جاتے ہیں وہ اور چیز ہے۔ ان ملکوں میں چند دن ہوئے ایک ماں میرے پاس آئی ڈپریشن کی مريضہ تھیں ۔ساتھ ان کے بیٹا بھی تھا۔ چند سوال کئے بیٹے سے بھی اور فیملی سے بھی۔ انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ لڑکے کی حالت دیکھ کر میں نے کہا تم اصل وجہ ہو اپنی ماں کی ڈپریشن کی۔ ماں روپڑی کہ ہاں یہی  وجہ ہے۔ تو یہ چیزیں ہوتی ہیں۔ اس لئے ہمیں اپنے ماحول میں ، جامعہ میں طالب علم ہیں، جوان ہیں، لڑکے ہیں، اپنے اپنے ماحول میں، اپنے دوستوں کو، ساتھیوں کو اس بات کی طرف قائل کرو کہ ہم نے دین کو دنیا پہ مقدم رکھنا ہے اور ان ملکوں میں رہ کر بجائے اس کے کہ یہاں کی بے حیائیاں اور غلط باتیں سیکھیں بلکہ ہر قوم میں اچھی باتیں بھی ہوتی ہیں اچھی باتوں کو  اپنائیں اور بری باتوں سے بچیں اور اپنی ایک جو انفرادیت ہے جماعت کی  اور ذمہ داری جوہے اس کو محسوس کریں اور اس کو ادا کریں۔

image_printپرنٹ کریں