skip to Main Content
عطاء النور: سقراط(Socrates)(469-399ق م)

وہ ایک خدا کا تصور رکھتا تھا

سقراط اہل یونان کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے مامور کیا گیا تھا۔اس کے نزدیک زندگی آئندہ زندگی کے لئے بطور تیاری کے ہے۔وہ انسانی روح کو اہمیت دیتا تھا کیونکہ روح ہی ہے جس کا اگلے جہان میں جانا مقدر ہے۔سقراط کے اس فلسفہ کو آسمانی صداقت تو کہہ سکتے ہیں لیکن اسے کسی طور پر بھی سیکولر فلسفہ قرار نہیں دیا جا سکتا جیسا کہ جدید دانشوروں کا خیال ہے۔
سقراط کو انبیاء کے زمرہ سے نکال کر محض فلسفیوں میں شامل کرنے کی باربار کوشش کی گئی ہے۔بہت سے جدید مصنفین بلند علمی مقام رکھنے کے باوجود سقراط کے حقیقی مقام کی شناخت سے یکسر لاعلم رہے ہیں۔انہوں نے سقراط کو ایک ایسا مقام دینے کی کوشش میں جو اس کا اصل مقام نہیں ہے،کتابوں کی کتابیں لکھ ماری ہیں۔…
پس وہ لوگ جنہیں سقراط کے اعتقادات اور اس کی عقلیت پسندی میں تضاد نظر آتا ہے خود نظر کے دھوکہ میں مبتلا ہیں۔
دیکھا جائے تو سقراط دو ہیں۔ایک تاریخی اور دوسرا فرضی۔دونوں میں تضاد کی حد تک زمین آسمان کا فرق ہے۔یہی وجہ ہے کہ سقراط سے متعلقہ ماخذ میں جو لفظیات اور اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں ان کے مفہوم و معانی کی تعیین و تفہیم خاصی مشکل اور مشتبہ ہو کر رہ گئی ہے۔
اہل ایتھنز نے کبھی بھی سقراط پر یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ اخلاقیات کو زیر بحث نہیں لاتا۔اس کے برعکس اہل ایتھنز اس کومحض اس وجہ سے جھٹلاتے تھے کہ اس نے اپنی مخصوص قسم کی اخلاقیات پر ضرورت سے زیادہ زور دے کر ایتھنز کے نوجوانوں کے اخلاق تباہ کر دئیے ہیں۔…
جو شخص بھی اس سقراط سے واقف ہے جس کی عکاسی افلاطون اور اس کے بعض دیگر ہمعصروں نے اپنی تحریروں میں کی ہے وہ…بےبنیاد قیاس آرائیوں کو کبھی قبول نہیں کر سکتا…
جب سقراط چھوٹی موٹی اشیاء مثلاً صنعت و حرفت کے آلات اور ان کے طریق کار کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ ہر چیز کا ایک معین مقصد ہے جس کی تکمیل از حد ضروری ہے تو درحقیقت وہ تشبیہات اور استعارات میں انسانوں کی بات کر رہا ہے۔ورنہ وہ ہنر مندوں اور کاریگروں کے ہنر اور فن سے متعلق علم کی نفی نہ کرتا اور نہ ہی ان کو ان کی جہالت پر بُرا بھلا کہتا۔سقراط دراصل کہہ یہ رہا ہے کہ لوگ آسمانی علوم کی حقیقت سے نا آشناہیں حالانکہ یہ تمام انسانی مشاغل کی گہرائیوں میں موجود ہیں۔اس کے باوجود لوگ اس سے غافل رہتے ہیں۔اس کے نزدیک یہ ایک ایسی جہالت ہے جس کی موجودگی میں کوئی انسان درحقیقت انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔یہ ایسا ہی ہےجیسے ایک کاریگر اس وقت تک کاریگر نہیں کہلا سکتا جب تک وہ اپنے کام کی سوجھ بوجھ نہ رکھتا ہو یا وہ اپنی بنائی ہوئی چیز کا مقصد ہی نہ جانتا ہو۔بنی نوع انسان کی یہی وہ جہالت ہے جس کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے سقراط عمر بھر کوشاں رہا۔
اسے یقین تھا کہ تخلیق انسانی کے الہٰی مقصد کو انسان محض اپنی کوششوں سے حاصل نہیں کر سکتا۔انسان نہیں جانتا کہ اپنی تخلیق کا مقصد حاصل کرنے کے لئے اپنی زندگی کو کن خطوط پر استوار کرے۔اگرچہ سب کچھ جاننے کے دعویٰ کے باوجود وہ کچھ بھی علم نہیں رکھتا۔اور یہی اس کے نزدیک سب سے بڑی جہالت ہے…(اپنی ہستی کے مقصد کی تلاش)ہے مگر کامل عجز اور اپنی لاعلمی کا اعتراف کئے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔صرف اسی صورت میں انسان اس قابل ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے جہالت کے اندھیروں سے نکال کر درجہ بدرجہ علم کی روشنی کی طرف اس کی رہنمائی فرمائے۔سقراط کے نزدیک حقیقی علم صرف خدا تعالیٰ کا عطا کردہ علم ہے۔اس کے سوا باقی سب جہالت ہے۔…
پس سقراط نے اپنے پیغمبرانہ فرائض کی ادائیگی میں اشاروں کی زبان کا طریق اختیار کیا ہے۔اس کا مشن تو یہ ہے کہ وہ ہم وطنوں کو تخلیق انسانی کے اس اخلاقی، روحانی اور الٰہی مقصد سے آگاہ کرے جسے وہ خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ تو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

(الہام ، عقل، علم اور سچائی۔ص75,71)

سقراط پر مقدمہ

399ق۔م میں جبکہ ان کی عمر 72سال کی تھی۔مخالفین نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ وہ رائے عامہ کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں اور سرکاری خداؤں پر ایمان نہیں رکھتے اسی طرح وہ شہر کے نوجوانوں کو بھی خراب کرتے ہیں۔آپ کے اس دعویٰ کو سچا ثابت کرنے کے لئے ولاسٹوز سقراط کے اس بیان کا حوالہ دیتا ہے جو اس نے مقدمہ کی کارروائی کے دوران دی۔
‘‘میں یہی کہوں گا کہ مجھے خدا نے نہ صرف الہامات اور رؤیا کے ذریعہ اس کام کو سرانجام دینے کا حکم دیا بلکہ دیگر تمام ذرائع سے بھی یہ حکم دیا گیا ہے جن سے آج تک کسی کو بھی کچھ کرنے کا حکم دیا جاتا رہا ہے’’
(VLASTOS,G.(1991)Socrates,Ironist and More Philospher p157)
پھر اسی کتاب میں لکھا ہے۔
‘‘میں یقین رکھتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کے حضور جو خدمت بجالانے کی توفیق ملی ہے اس سے بڑھ کر کوئی خیر کبھی تم پر نازل نہیں ہوئی’’
(VLASTOS , G (1991)p-175)
(سقراط کو سونپے گئے مشن کے حوالہ سے یہاں خدا تعالیٰ کا واحد کے صیغہ میں استعمال قابل غور ہے۔)
پھر لکھا ہے:۔
ایتھنز کے لوگو!مجھے تم سے بہت پیار ہے اور میں تمہاری عزت کرتا ہوں لیکن اطاعت میں خداکی ہی کروں گا، تمہاری نہیں اور جب تک میں زندہ ہوں حکمت و دانائی کی تعلیم دینے اور اس پر عمل کرنے سے نہیں رکوں گا۔ (Jowett,B (1989)p 459)
سقراط کی عبادت کا تصور اہل ایتھنز کے عبادت کے تصور سے قطعاًمختلف تھا اہل ایتھنز کے نزدیک دیوتا ان چڑھاووں کے محتاج تھے جو یہ لوگ قربان گاہوں پر چڑھاتے تھے۔جبکہ سقراط کا اعتقاد یہ تھا کہ ہمارے تحائف کی اسے ضرورت نہیں بلکہ ہم اس کی عطا کے محتاج ہیں۔
(VLASTOS , G (1991)p-175)
اگراکثر نہیں تو بہت سے لوگ ایسے ضرور تھے جو سقراط سے اختلاف رائے تو نہیں رکھتے تھے لیکن اس کی موت کے ہرگز خواہاں نہ تھے۔وہ یقیناًبہت خوش ہوتے اگر سقراط کو ایتھنز سے ہجرت کرنے پر آمادہ کر لیا جاتا۔
سقراط نے اس تجویز کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ :
‘‘اس نے عمر بھر ایتھنز کے باشندوں کے لئے وضع کردہ قوانین سے استفادہ کیا ہے۔اب اگر وہی قوانین اسے زہر کا پیالہ پلانا چاہتے ہیں تو ان کے اس فیصلے سے گریز ناانصافی ہی نہیں ناشکری بھی ہوگی۔علاوہ ازیں کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس دنیا سے کہیں بہتر دنیا کی طرف نہیں جارہا’’ ممکن ہے تمہارا یہ خیال ہو کہ مجھے سزا دے کر تم خدا کے حضور کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کر رہے یا اس کی کسی نعمت کو جھٹلا نہیں رہے۔لیکن یاد رکھو اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر تمہیں میرے جیسا انسان آسانی سے نصیب نہیں ہوگا۔
مجھ پر الزام لگانے والے اپنی تمام تر گستاخیوں کے باوجود یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکے کہ میں نے کبھی کسی سے کوئی اجر طلب کیا ہے۔ان کے پاس اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی شہادت نہیں ہےلیکن میرے قول کی صداقت پر میرا ایک گواہ ہے، یعنی میری غربت۔اور یہ ایک کافی گواہ ہے۔
وہ خودکشی کو خدا تعالیٰ کے قانون کے خلاف ایک جرم قرار دے کر اس کی مذمت کرتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک زندگی خدا تعالیٰ کی عطا ہے اوروہی اس کا واحد مالک بھی ہے۔
اس کے نزدیک خودکشی قطعی طور پر ناقابل معافی جرم ہے۔چنانچہ اس مسئلہ پر وہ اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہتا ہے:
‘‘عقل کا تقاضا ہے کہ انسان کو خود ہی اپنی زندگی کا خاتمہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ انتظار کرنا چاہئے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس کو بدلالے جیسا کہ وہ مجھے بلا رہا ہے’’
اس گفتگو کے دوران کرائٹو (Crito)نے دخل اندازی کر کے زہر پلانے پر متعین ملازم کی طرف سے کہا کہ زیادہ باتیں کرنے کی وجہ سے زہر کا اثر کم ہو جائے گا اور دو تین بار زہر دینا پڑے گا۔سقراط نے اس تنبیہ اور اپنی اس تکلیف کی جو اسے پہنچ سکتی تھی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی اور ملازم سے کہا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے اوردو تین بار زہر پلانے کے لئے تیار رہے۔
سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے سقراط نے کہا:
‘‘میرے منصفو!اب میں تمہاری بات کا جواب دیتا ہوں‘‘منصفو، کہہ کر وہ اپنے ان مداحوں کو مخاطب کرتا ہے جو اس کے آخری لمحات میں اس کے گرد جمع تھے۔اور تمہیں دکھاتا ہوں کہ وہ شخص جو ایک سچے حکیم اور فلسفی کے طور پر زندہ رہا جب مرنے لگا تو اسے سکینت واطمینان حاصل ہے اور موت کے بعد دوسری دنیا میں بھی بہترین خیر و برکت کے حصول کی امید کر سکتا ہے۔
یوں سقراط ایتھنز کے لوگوں کو علم و معرفت کا درس دیتا رہا یہاں تک کہ اس نے زہر کا پیالا اپنے لبوں سے لگا لیا۔آہستہ آہستہ اس کے جسم سے جان نکل رہی تھی۔لیکن جب تک اس میں بولنے کی سکت رہی وہ اپنا مقدس فریضہ برابر ادا کرتا رہا یہاں تک کہ موت نے اسے خاموش کر دیا۔یوں خدا کے ایک عظیم الشان نبی کی زندگی اختتام کو پہنچی۔سقراط کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح ہے۔اس لحاظ سے وہ حضرت بدھ علیہ السلام کا ہمعصر تھا اور حضرت بدھؑ ہی کی طرح اس نے بھی اپنی تعلیمات کے بارہ میں خود کچھ نہیں لکھا بلکہ اس کے ساتھیوں اور ہمعصروں مثلاً افلاطون نے اس کی تعلیم اور زندگی کا ریکارڈ رکھا جو بعد ازاں مکالموں کی شکل میں ضبط تحریر میں لایا گیا۔
ہم سقراط کی شخصیت کے ہر پہلو کے معترف ہیں۔اس کاکردار نہایت اعلیٰ تھا مطمع نظر عظیم الشان ۔اس نے ایسی پاکیزہ زندگی گزاری جو اوہام پر مبنی نہیں ہوتی۔اس نے سلامتی کے ساتھ جنم لیا،سلامتی کے ساتھ زندہ رہا اور سلامتی کے ساتھ ہی مسکراتے ہوئے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی جبکہ اس سے محبت کرنے والے اس کے گرد کھڑے سسکیوں، آہوں اور چیخوں میں اسے الوداع کہہ رہے تھے۔ایتھنز نے کبھی اس جیسی پاک روح کورخصت ہوتے نہیں دیکھا تھا۔خدااس سے راضی ہو اور اس پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔مگر اس کے قاتلوں پر افسوس کہ ایتھنز کو سقراط جیسا عظیم انسان کبھی دوبارہ دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔

(الہام، عقل، علم اور سچائی صفحہ76-88)

ایتھنز(Athens)کا یونانی فلسفی جن کا شمار عموماً دانشور ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔جو دانائی اور فہم میں یکتائے زمانہ تھا۔آپ کے حالات زندگی کی مختصر سی جھلک حضرت خلیفۃ المیسح الرابع ؒ کی کتاب ‘‘الہام، عقل،علم اور سچائی’’کی روشنی میں پیش خدمت ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ تحریر کرتے ہیں۔
سقراط تو اپنی ذات میں ایک انجمن کی حیثیت رکھتا ہے۔یونانی فلسفہ کی تاریخ میں اسے جو مقام حاصل ہے وہ کسی اور کونصیب نہیں ہوا…سقراط کی ذات میں ہمیں الہام اور عقل کے مابین ایک کامل توازن نظر آتا ہے…یہ سقراط ہی تھا جس نے اس دور کے فلسفیانہ مباحث میں علم، سچائی اور عقل کو اتنے پُر زور طریق پر متعارف کرایا کہ بعض سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ وہ بہت ارفع و اعلیٰ اور لطیف فلسفوں کو گویا آسمان سے اتار کر زمین پر لانے والا انسان ہے…سقراط کے یہاں خدا تعالیٰ کی ہستی کے ساتھ ایک بہت گہرا اور ذاتی تعلق نظر آتا ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ مزید فرماتے ہیں۔
افلاطون اور ارسطو دونوں نظام کائنات کی حقیقت کو سمجھنے کیلئے عقل کو فوقیت دیتے ہیں…افلاطون کے نزدیک خارجی دنیا کے ادراک کو آخری اور کامل صداقت سمجھنا غلط ہے کیونکہ کسی چیز کی حقیقت کا صحیح علم حاصل کرنے کے لئے اس کا سطحی مطالعہ ناکافی ہے۔ اس کے خیال میں ہر خارجی مظہر(Phenoenon)کے اندر گہرے معانی کا ایک جہان پوشیدہ ہے جس تک رسائی محض سطحی تجزیہ کے ذریعہ نہیں ہو سکتی۔ افلاطون نظر نہ آنے والی ایسی بادشاہت کو تسلیم کرتا ہے جسے ایک عظیم الشان باشعور ہستی تمام نظام کائنات کو قائم رکھنے کیلئے بہت سے ماتحت کارندوں کے ذریعہ چلا رہی ہے…اس کے نزدیک سچا علم صرف عقل اور وجدان کے باہمی اشتراک سے ہی حاصل ہوتا ہے…خلاصہ کلام یہ کہ افلاطون کا یہ نظریہ تھا کہ ظاہری عالم مخفی ایک سراب ہے۔

(الہام، عقل، علم اور سچائی ص67,66)

اس کی شخصیت کی تعمیر ہی انبیاء کی طرز پر ہوئی ہے…اس کے وجود کا ذرہ ذرہ خدائے واحد کی محبت میں سرشار تھا اور خدا تعالیٰ کی توحید پر اس کا ایمان غیر متزلزل تھا۔وہ یونانی دیو مالائی خداؤں کو کسی قیمت پر ماننے کے لئے تیار نہ تھااورنہ ہی اس معاملہ میں اسے کسی قسم کی مفاہمت کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا تھا…ادنیٰ سے جھوٹ کے ساتھ بھی مصالحت کرنا سقراط کی فطرت میں نہیں تھا اور معاشرہ کے دباؤکے نتیجہ میں اپنے عقیدہ میں معمولی سی تبدیلی قبول کرنے کی بجائے وہ بخوشی جان دینے کے لئے تیار تھا۔یہ وہی یونانی فلسفی نہیں ہے جس کے متعلق بظاہر یہ متناقضی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ مغربی فلسفہ کا بانی مبانی تھا۔
پھر حضور ؒ فرماتے ہیں۔
سقراط کی تو دنیا ہی اور تھی۔وہ تو انبیاء کی دنیا تھی۔سقراط رؤیائے صادقہ اور الہام پر ایمان رکھتا تھا۔وہ اس بات کا قائل تھا کہ علم صداقت ہے اور صداقت علم۔اس کے نزدیک انسان کیلئے خداتعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ علم کے علاوہ کوئی علم قابل اعتبار نہیں ہے۔

(الہام، عقل، علم اور سچائی ص68تا70)

image_printپرنٹ کریں