skip to Main Content
اداریہ: صرف مسلم  کامحمدؐ پہ  اجارہ  تو نہیں

مجھے کچھ دن اپنے بیٹے کے ہاں رہنے کا موقع ملا جن کی رہائش لندن کے مضافات(country side)میں کالونی نما علاقہ میں ہے جہاں روایتی انگلش تمدن کے مطابق تمام رہنے والے جب بھی ایک دوسرے کو گھر سے باہر دیکھتے ہیں تو ہیلو ، ہائے ہوتا ہے۔ بالخصوص کسی کے گھر کوئی مہمان آیا ہو تو اسے خصوصی طور پر گریٹنگ  سے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ خاکسار کو گھر سے باہر پا کر پڑوسی جوڑے ( جو ایک انڈین شخص اور انگریز خاتون پر مشتمل ہے )نے مجھ  سےعلیک سلیک کی۔ باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ اس انگریز کرسچین خاتون کا نام ” عائشہ ” ہے۔ بہت حیرانی ہوئی۔ اس سے جب اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ میرے والدین کو پیغمبر اسلام ” محمد ”  (صلی اللہ علیہ وسلم)  سے بہت عقیدت تھی اور انہوں نے اسی ناطے سے میرا نام “محمد”( صلی اللہ علیہ وسلم) کی  زوجہ مطہرہ کے نام پر  “عائشہ “رکھا۔

 مجھے یہ جان کر بہت خوشی محسوس ہوئی اور سیدنا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھی کثرت سے پڑھا اور میرا ذہن آج سے 25 سال قبل ایک ایسے دعوتی کارڈ کی طرف چلا گیا جو مجھے ایک عیسائی سویپرسراج کی طرف سے پاکستان میں موصول ہوا۔ جس پر” بسم اللہ الرحمنٰ الرحیم” ، “السلام علیکم و رحمۃاللہ ” لکھنے کے ساتھ ساتھ متمنی شرکت میں کچھ ایسے نام بھی تھے جو مسلمانوں کے ہوتے ہیں ۔ میں نے خصوصی طور پر سراج سے پوچھا کہ یہ عزیز آپ کے کیا لگتے ہیں معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ماموں، بھائی اور دیگر قریبی عزیز ہیں۔ اسی طرح مجھے ایک عزیز نے بتایا کہ لاہور میں میرے دفتر میں بھی ایک مسیحی  ملازم تھا۔ ایک دن وہ کام پر اپنے بچے کو بھی ساتھ لایا جسے  وہ عثمان کہہ کر پکار رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ عثمان تو اسلامی نام ہے تو کہنے لگا مجھے بہت پسند ہے اس لئے رکھ دیا۔

مجھے یہ جان کربہت  خوشی ہوئی کہ اسلامی نام غیر بھی استعمال کر رہے ہیں نیزبسم اللہ  اور السلام علیکم ، ماشاء اللہ  اور ان شاءاللہ  کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ مگر نہ جانے  آج مسلمان اتنی گھٹن کا  کیوںشکار ہیں کہ بعض علاقوں اور ممالک میں غیروں کے کچھ  اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے پر واویلا اور شور شرابا بھی کرتے ہیں۔

میرا ذہن 1400 سال قبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی طرف منتقل ہوا۔ جس میں یہودی اور عیسائی  بھی عبداللہ نام رکھتے تھے اور کسی مسلمان کو اس پر اعتراض نہ تھا۔ قرآن کریم میں مذکور انبیاء کے نام بھی دراصل یہودیوں اور عیسائیوں کے  نام تھے یہ تواسلامی تاریخ میں اس وقت آئے جب پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے بھیجے تمام انبیا کی صداقت کو تسلیم کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر قرآن میں کردیا تب مسلمانوں نے وہ نام رکھنے شروع کردیئے۔ اب تو سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے اور بچوں کے نام سوشل میڈیا پر گھومتے ہیں اور تمام مذاہب والے ایک دوسرے سے اچھے نام لے کر بچوں کو دیتے ہیں۔ جس میں یہود و ہنود مسلمانوں کے نام اور مسلمان یہود ہنود کے نام رکھ رہے ہیں۔ جہاں اسلام میں ایسی کوئی ممانعت نہیں ہے کہ کسی دوسرے معاشرہ سے اچھے نام نہ لئے جائیں بشرطیکہ وہ بامعنی  اور اچھے معنوں میں ہوں اور مشرکانہ نہ ہوں وہیں اس بات سے بھی کہیں  منع نہیں کیا گیا کہ کوئی غیر مسلم مسلمانوں جیسے نام نہیں رکھ سکتا یا اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتا۔ ایک مشہورسکھ شاعر  کنور مہندر سنگھ بیدی  کا یہ شعر سن کر تو دل بے اختیار  اللہ اکبر اور اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کا ورد کر اٹھتا ہے کہ

؎ عشق ہو جائے کسی سے، کوئی چارہ تو نہیں            صرف مسلم  کا  محمدؐ  پہ  اجارہ  تو   نہیں

image_printپرنٹ کریں