skip to Main Content
حافظ مظفر احمد : حضرت عمر فاروقؓ  کی سیرت وسوانح قسط نمبر3آخر

ضبہ بن محصن العنزی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرؓ بن الخطاب سے کہا کہ آپ حضرت ابوبکرؓ سے بہتر ہیں۔ اس پر حضرت عمرؓ رونے لگے اور فرمایا۔” خدا کی قسم حضرت ابوبکرؓ  کی ایک رات اور ایک دن ہی عمرؓ اور اس کی اولاد کی پوری زندگی سے بہتر ہے ۔ کیا میں تمہیں ان کی اس رات اور دن کا کچھ حال سناؤں؟”میں نے کہا ہاں اے امیر المومنین! اس پر فرمایا” ان کی رات تو وہ تھی جب رسول اللہؐ  کو مکہ سے ہجرت کرکے رات کو جاناپڑا اور حضرت ابوبکرؓ نے ان کا ساتھ دیااور ان کا دن وہ تھا جب رسول اللہؐ کی وفات ہوئی اورعرب مرتد ہوکر نماز اور زکوٰۃ سے منکر ہوگئے اس وقت انہوں نے میرے لوگوں سے نرمی کرنے کے مشورہ کے برخلاف جہاد کا عزم کیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس میں کامیاب کرکے ثابت فرمایا کہ وہ حق پر تھے۔”                   

   (منتخب کنز العمال جلد 4ص 348و ابوداؤد کتاب الزکوۃ)

بے نفسی

حضرت عمرؓ نے ایک شخص کو نشہ میں پاکر سزادینے کے لئے پکڑا تو اس نے آپ کو گالی دے دی آپ نے اسے چھوڑدیا۔ پوچھا گیا امیر المؤمنینؓ آپ نے اسے کیوں چھوڑدیا حالانکہ اس نے آپ کو گالی بھی دی؟ آپ نے فرمایاکہ” مجھے غصہ آگیا تھا اور اب اگر میں اسے سزادیتا تو اس میں میرے نفس کا دخل بھی ہوتا اور مجھے ہرگز پسند نہیں کہ میں اپنے نفس کی خاطر کسی مسلمان کو سزادوں۔”                  (المستطرف جلد 1ص588)

ایک طرف ہیبت اور جلال کا یہ عالم تھا کہ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ حضرت عمر ؓ کانام سن کر کانپتے اور تھراتے تھے دوسری طرف تواضع وانکسار کی یہ کیفیت تھی کہ ایک دن صدقے کے اونٹوں کے بدن پر خود اپنے ہاتھ سے تیل مل رہے تھے۔کسی نے کہا اے امیر المومنین یہ کام کسی خادم سے لیا ہوتا۔ فرمانے لگے مجھ سے بڑھ کر غلام اور کون ہو سکتا ہے؟جو شخص مسلمانوں کا والی ہے وہ ان کا خادم اور غلام ہے۔

                 (کنز العمال جلد 6ص 353)

آپ کے دور خلافت کا واقعہ ہے۔ مکہ سے واپسی پر ضجنان کی گھاٹیوں میں آپ کا قافلہ رُکا اس جگہ کثرت سے درخت اور گھاس پُھوس تھی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب میں اپنے والد خطاب ؓکے اونٹ لے کر اس جگہ آیاکرتاتھا۔میرے والد بڑے سخت تھے۔ ایک بارمیں جنگل سے اونٹ پر ایندھن کی لکڑیاں لے کر جاتاتو دوسری دفعہ جانوروں کے کھانے کے لئے سبز پتے لے کر جاتا۔ آج خدا نے مجھے مقام خلافت پر فائز فرمایا ہے جس سے بڑاکوئی مقام نہیں۔ پھر یہ شعر پڑھا

لَاشَی ءَ فِیْمَا تَرٰی اِلَّا بَشَاشَہ           یَبْقَی اْلِالٰہُ وَیُوْدِی المَالُ وَالولَدُ

یعنی جو کچھ تمہیں نظر آتا ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں سوائے ایک عارضی خوشی کے اور باقی رہنے والی صرف خدا کی ذات ہے جب کہ مال اور اولاد فنا ہوجاتے ہیں۔حضرت عمرؓ کی انگوٹھی پر یہ جملہ کندہ تھا۔”کَفٰی بِالمَوتِ وَاعِظًا یَا عُمُر”اے عمر موت نصیحت کےلئے کافی ہے۔                      (استیعاب جلد 3ص 236،243)

حق گوئی

حضرت عمرؓ نے فرمایا ”خدا کی قسم! اللہ کی ذات کے بارے میں جب میرا دل نرم ہوتا ہے تو وہ جھاگ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتا ہے۔اور خدا کی خاطر جب میرا دل سخت ہوتا ہے تو وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔”رسول کریمؐ نے حضرت عمرؓ  کی اسی حق گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ” اے عمر! جس راستے پر تم آ رہے ہو اگر اس راستے پر شیطان بھی آرہا ہو تو وہ یہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لے گا۔”اسی طرح فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے عمرؓ  کی زبان اور دل پر حق جاری فرمایا ہے۔”

                                     (ترمذی کتاب المناقب باب مناقب عمرؓ)

حضرت بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہؐ ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے تو ایک حبشی لونڈی نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ! میں نے منت مانی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامتی سے واپس لائے تو آپ کے سامنے ڈھولک بجاکر گانا گاؤں گی۔ رسول اللہ ؐنے فرمایا ”اگرتو تم نے نذرمانی ہے تو ڈھولک بجالو ورنہ نہیں۔”چنانچہ وہ ڈھولک بجانے لگی اتنے میں حضرت ابوبکرؓ تشریف لائے وہ دف بجاتی رہی پھر علیؓ  آئے تو بھی وہ دف بجاتی رہی پھر عثمان ؓ  آئے تو بھی بجاتی رہی پھر عمرؓ تشریف لائے تو اس نے ڈ ھو لک اپنے نیچے لی اور اس پر بیٹھ گئی۔اس پررسول اللہؐ نے فرمایا ”اے عمرؓ! شیطان بھی تجھ سے ڈرتا ہے۔ میں بیٹھا تھاتو یہ دف بجاتی رہی ابوبکرؓ،علیؓ اور عثمانؓ  آئے تو بھی یہ ڈھولک بجاتی رہی مگر اے عمرؓ! آپ آئے تو اس نے ڈھولک پھینک دی۔”

 (ترمذی کتاب المناقب باب قولہ ان الشیطان لیخاف من عمر ؓ)

رعایاپروری

حضرت عمر ؓ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھنے والے تھے۔18ہجری میں عرب میں قحط پڑا تو حضرت عمرؓ اپنی رعایا کے لئے بے چین ہو گئے۔اس وقت آپؓ  کی عجیب قلبی کیفیت تھی دور دراز سے غلہ اور دیگر اشیاء لوگوں کے لئے منگوا کر تقسیم کیں اور خود اپنے لئے مرغوب غذاؤں کا استعمال ترک کر دیا۔گھی مہنگا ہوگیاتواس کی بجائے تیل کھانے لگے۔ جس سے پیٹ میں تکلیف ہوجاتی مگر فرماتے اس وقت تک گھی نہ کھاؤں گا جب تک سب لوگ نہ کھانے لگیں۔                          (ابن سعد جلد3ص312)   

ایک دفعہ رات کوگشت میں تھے کہ ایک بدو کے خیمے کے پاس سے عورت کے رونے کی آواز آئی۔ پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ گھر میں ولادت متوقع ہے۔ کوئی عورت مدد کےلئے پاس نہیں ہے۔ آپ فوراً گھر واپس گئے اور اپنی بیوی حضرت ام کلثومؓ بنت علی ؓ کوساتھ لے آئے۔ام کلثومؓ نے وہاں جا کر اس عورت کی مدد اور خدمت کی اورکچھ دیر کے بعد آواز دی کہ اے امیر المومنین! مبارک ہو آپ کے دوست کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔ وہ بدو چونکا کہ خدا کی شان امیر المومنین میرے گھر میں اپنی زوجہ مطہرہ کو لے کر آئے ہیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا گھبراؤ نہیں کل میرے پاس آجانا بچے کے لئے وظیفہ بھی مقرر کر دیا جائے گا۔            (ازالۃ الخلفاء جلد 2ص79 و اسد الغابہ جلد 4ص71)

حضرت عمرؓ اپنی رعایا کے ایک ایک فرد کا کتنا خیال رکھتے تھے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے خوب ہوتا ہے ۔اپنے زمانہ خلافت میں انہوں نے ایک رات گشت کے دوران ایک مسلمان سپاہی کی بیوی کو کچھ ایسے اشعار پڑھتے سنا جس میں وہ اپنے خاوند سے جدائی اور اداسی کا رونا رو رہی تھی۔ حضرت عمرؓ کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میرے خاوند کومحاذ پر گئے کئی مہینے ہوچکے ہیں اور اس کی یاد مجھے ستا رہی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا تم فکر نہ کرو میں اسے قاصد بھجوا کر بلواتا ہوں ۔دوسری طرف اپنی صاحبزادی حضرت حفصہؓ سے جا کر فرمایا کہ ”ایک مسئلہ مجھے پریشان کررہا ہے تم اس بارہ میں میری رہنمائی کرو، یہ بتاؤ کہ عورت کتنے عرصہ بعد خاوند کی ضرورت محسوس کرتی ہے؟” حضرت حفصہؓ نے حیاء سے سر جھکا لیا تو آپؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق بات کے بیان کرنے سے نہیں روکتا اس پر حضرت حفصہؓ نے انگلی سے تین چار ماہ یا چار چھ ماہ کا اشارہ کیا ۔ حضرت عمرؓ نے فیصلہ صادر فرمایا کہ ”آئندہ مجاہدین کوچارسے چھ ماہ سے زیادہ عرصہ تک محاذ جنگ پر نہ رکھا جائے۔”                              (کنز العمال جلد8ص 308،بیھقی جلد9ص 29)

عدل وانصاف

حضرت عمر ؓ  کا عدل وانصاف زبان زد عام تھا۔حضرت زیدؓ بن ثابت کو آپ نے قاضی مقرر کیا تھا۔ایک دفعہ خود ان کی عدالت میں ایک فریق کی حیثیت سے حاضر ہونا پڑا وہاں تشریف لے گئے۔حضرت زیدؓ نے امیر المؤمنین کی تعظیم کے لئے کرسی خالی کر دی۔حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا کہ اس مقدمے میں یہ پہلی نا انصافی ہے۔مطلب یہ تھاکہ قاضی کا یہ فرض ہے کہ ہرایک سے عام عدالتی طریق کار کے مطابق برتاؤ کرے۔

                             (الفاروق شبلی ص302)

حضرت عمرؓ  کا یہی عدل وانصاف تھا۔جس کی بناء پراہل یورپ کوبھی کہنا پڑاکہ اگر اسلام میں ایک اورعمرؓ پیدا ہو جاتا تو آج عالم اسلام کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔

حضرت عمرؓ نے اہل بیت المقدس سے جو معاہدہ کیا وہ آزادیٔ مذہب و ضمیر کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہے گا۔ معاہدہ میں تحریر تھا”ایلیاء کے رہنے والوں کو امان دی جاتی ہے، ان کے گرجاؤں اور مذہب سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔ مذہب کے بارے میں ان پر کوئی جبر نہ ہوگا۔۔۔اس معاہدے پر خدا اس کے رسول ، خلفاء اور مسلمانوں کا ذمہ ہے۔”               (طبری جلد5ص 25)

مسیحیوں کے مذہبی سربراہ اعلیٰ اسقف کے ساتھ زیارت بیت المقدس کے دوران کلیسائے قیامت میں نماز کا وقت ہوگیا۔انہوں نے کہا آپ یہیں نماز پڑھ لیں۔حضرت عمرؓ نے کمال دوراندیشی سے فرمایا ”اگر میں نے ایسا کیا تو مسلمان میری پیروی میں یہاں نماز پڑھیں گے اور آپ کو گرجاؤں سے نکال دیں گے۔ اور عہد امان کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہوگا۔” چنانچہ انہوں نے باہرتشریف لاکر کلیسائے قسطنطین کے دروازے کے سامنے مصلّیٰ بچھواکر نماز پڑھی۔یہ واقعہ ان کی اسلامی رواداری کی شاندار مثال ہے۔ 

                                  (عمر فاروق اعظم مترجم ص 303از محمد حسین ہیکل)

حضرت عمرؓ نے اپنی شہادت سے چارروزقبل فرمایا ” اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی دی تو میں اہل عراق کی بیواؤں کا ایسا بندوبست کروں گا کہ انہیں میرے بعد کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔”           (بخاری کتاب الفضائل اصحاب النبی ؐ باب قصۃ البیعہ)

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک تجارتی قافلہ نے مدینہ کے نواح میں عیدگاہ پرپڑاؤ کیاحضرت عمرؓ نے عبدالرحمن ؓبن عوف سے کہا آئیں آج رات ہم ان کی حفاظت کی خاطر پہرہ دیں۔چنانچہ وہ رات ان کا پہرہ دیتے اور نماز پڑھتے رہے۔ حضرت عمرؓ نے ایک بچے کے مسلسل رونے کی آواز سنی تو اس کی والدہ سے جاکر کہا کہ اللہ سے ڈرو اور بچے سے حسن سلوک کرو۔ وہ پھررویا تو حضرت عمرؓ نے یہی کہا۔ جب رات کے آخری حصے میں بچہ پھر رویا تو حضرت عمر ؓنے اس کی والدہ کو پھر نصیحت کی اور پوچھاکیا وجہ ہے تمہارا بیٹا رات بھربے چین رہا۔اس نے کہا دراصل میں اس کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں اور یہ ضد کرتا ہے۔ فرمایا”وقت سے پہلے اس معصوم کا دودھ کیوں چھڑاتی ہو؟” وہ کہنے لگی اس لئے کہ حضرت عمرؓ دودھ پیتے بچے کا وظیفہ مقررنہیں کرتے۔ حضرت عمرؓ نے کہاتیرا بھلاہو۔اسے دودھ چھڑانے کی جلدی نہ کرو۔پھرمسجد نبوی میں جاکرنماز فجرپڑھائی۔ غلبہ رقّت کی وجہ سے تلاوت لوگوں کو سمجھ نہ آتی تھی۔سلام پھیرکراپنے آپ سے کہنے لگے۔اے عمرؓ! تیرابُرا ہو!نامعلوم تم نے کتنے مسلمانوں کے بچوں کو قتل کیا پھر اعلان عام کر دیا کہ آئندہ سے دودھ چھڑوانے میں جلدی نہ کریں۔ آج سے ہر مسلمان نومولود کا وظیفہ مقررکیا جاتا ہے۔                      (ابن سعد جلد 3ص 301)

حضرت عمرؓ کے پاس ابوموسیٰ ؓ  کی طرف سے (یمن سے) ایک شخص آیاانہوں نے اس سے وہاں کے لوگوں کے بارے میں پوچھا اورفرمایا وہاں کی کوئی خبر؟ اس نے کہا کہ ایک شخص نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کا اعلان کردیا ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایاپھرتم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہنے لگا ہم نے اسے قتل کردیا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا تم نے اسے تین دن کی مہلت کیوں نہ دی۔تم ہرروز اسے کھانا کھلاتے اورپھراسے توبہ کرنے کو کہتے۔ شایدوہ توبہ کرلیتا اور اللہ کے حکم کی طرف واپس لوٹ آتا۔ پھر فرمانے لگے اے اللہ! میں وہاں موجود نہیں تھا اور نہ میں نے یہ حکم دیا(کہ اس شخص کو) قتل کردیاجائے اور جب یہ بات مجھ تک پہنچی تو ہرگزمجھے اچھی نہیں لگی۔                  

(بیھقی جلد 8ص207)

حضرت عمرؓ ایک عیسائی راہب کے پاس سے گزرے تو وہاں رک گئے۔ اس راہب کو کسی نے آواز دے کر بلایا اور کہا۔” یہ امیرالمؤمنین ہیں۔” وہ راہب آیا۔ترکِ دنیا اور فاقہ اور مسلسل عبادت کی وجہ سے وہ بے حال ہوچکاتھا۔ حضرت عمرؓ نے اس کی یہ حالت دیکھ کر رو پڑے۔کسی نے کہا کہ یہ تو عیسائی ہے آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمانے لگے مجھے علم ہے لیکن مجھے اس پر ترس آیااور قرآن کی یہ آیت یادآئی کہ ”کچھ لوگ عمل کرنے والے اور محنت کرنے والے ایسے ہونگے۔جو بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔”(سورۃ الغاشیہ آیت4-5)مجھے اس کی محنت اور عبادت کا حال دیکھ کر اس پر ترس آیا کہ اس کے باوجود یہ بے چاراآگ میں جائے گا۔

  (کنزالعمال جلد1ص175)   

فضائل

رسول کریم ؐنے فرمایا ”جس نے عمرؓ  کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اور جس نے عمرؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ اور عمر میری امت کا محدث ہے۔ پوچھا گیا کیسامحدّث؟ فرمایا جس کی زبان پر فرشتے کلام کرتے ہیں۔”

(مجمع الزوائد جلد 9ص 69,70،استیعاب جلد 3ص 240,243)

حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد آپ نے خلیفہ راشد کے طور پر آپؐ  کی جانشینی کا حق ادا کیا۔ آپ کے دورمیں ہی”رسول اللہ ؐکے خلیفہ کے خلیفہ” کی لمبی ترکیب کی بجائے ”امیر المومنین”کا لقب خلیفہ وقت کےلئے معروف ہوا۔ آپ کے عہد میں شام،عراق او رمصر کی وہ فتوحات ہوئیں اور بہت کثرت میں مال و غنیمت آیا جن کا وعدہ رسول اللہ ؐنے فرمایا تھا۔ حضرت عمرؓ نے صحابہ سے مشاورت کے بعد باقاعدہ دفتر دیوان بنایا جس میں ہرشخص کے مرتبہ کے مطابق وظیفہ مقرر ہوتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے رمضان میں صلوۃالتراویح کے بابرکت طریق کو رواج دیا اور ہجری قمری کیلنڈر کا آغاز فرمایا۔ جو آج تک جاری ہے۔                                 (استیعاب جلد 3ص 236)

رسول اللہ ؐنے فرمایا ہر نبی کے نائب اور وزیرہیں اور میرے وزیراہل زمین میں سے ابوبکرؓو عمرؓہیں۔                       (ترمذی کتاب المناقب باب اماوزیرای)

رسول کریمؐ نے اپنے بعد ان دونوں بزرگ ہستیوں کی پیروی کی ہدایت فرماکران کی جانشینی کی طرف بھی اشارہ فرمادیاتھا۔آپؐ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کہ میں کتنا عرصہ تم میں باقی رہوں۔پس میرے بعد ابوبکرؓ وعمرؓ کی پیروی کرنا۔(ترمذی کتاب المناقب باب اقتدوابالذ ین من بعدی ابی بکرؓ وعمرؓ)اسی طرح فرمایا یہ دونوں (ابوبکرؓوعمرؓ) اہل جنت کے بوڑھو ں کے سردار ہیں۔ پہلوں اور پچھلوں میں سے سوائے نبیوں اور رسولوں کے۔(ترمذی کتاب المناقب باب ابوبکرؓ وعمرؓ سیداکھول الجنۃ)

حضرت مسیح موعودؑ حضرت عمرؓ کے مناقب عالیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

”حق یہ ہے کہ صدیق اکبرؓ اور عمر ؓفاروق بزرگ صحابہ میں سے تھے۔اور انہوں نے اپنے حقوق ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔انہوں نے تقوی کو اپنا راستہ اور عدل کو اپنا طریق بنایا۔ ۔۔۔اور میں نے شیخین یعنی حضرت ابو بکرؓ اور عمرؓ سے زیادہ کثرت فیض اور دین اسلام کی تائید کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔یہ دونوں چاند سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ اپنی امت اور قوم کے سورج رسول ؐاللہ کی پیروی کرنے والے تھے اور در حقیقت وہ آنحضرؐت کی محبت میں فنا تھے۔اور ان کا نیک انجام آنحضرت ؐ کے قرب کی صورت میں ہوا یعنی حضوؐر کے پاس دفن ہوئے۔ اور اعلیٰ درجہ کی دینی خدمات اور مسلمانوں پر احسانات کی سعادت انہوں نے پائی۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس پر متقی لوگ غافل نہیں رہتے۔یہ فضل اس کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔”                                (سر الخلافہ ترجمہ ازعربی۔ص345،346)

مائیکل ایچ ہارٹ دنیا کی عظیم شخصیات میں52نمبر پرحضرت عمر ؓ کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔

عمر ؓ  کی کامیابیاں مؤثر ثابت ہوئیں۔ (حضرت )محمد ؐکے بعد فروغ اسلام میں عمرؓ کا نام نہایت اہم ہے ۔ ان سریع الرفتار فتوحات کے بغیر شاید آج اسلام کا پھیلاؤ اس قدر ممکن نہ تھا۔ مزید برآں اس کے دور میں مفتوح ہونے والے علاقوں میں سے بیشتر عرب تمدن ہی کا حصہ بن گئے ۔ ظاہر ہے کہ ان تمام کامیابیوں کا اصل محرک تو (حضرت) محمدؐ ہی تھے ۔ لیکن اس میں عمرؓ کے حصہ سے صرف نظر کرنا بھی ایک بڑی غلطی ہو گی۔ اس کی فتوحات (حضرت ) محمدؐ کی تحریک ہی کا نتیجہ تھیں۔ اس سے بلا شبہ کچھ پھیلاؤ عمل میں آتا لیکن ایسی عظیم وسعت عمر ؓ  کی شاندار قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی ۔

اس امر میں کچھ لوگوں کو ضرور تعجب ہو گا کہ مغرب میں عمرابن الخطاب ؓ  کی شخصیت اس طور پر معروف نہیں ہے۔ تاہم یہاں اس فہرست میں اسے چارلی میگنی اور جولیس سیرز جیسی مشہور شخصیات سے بلند درجہ تفویض کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمام فتوحات جو عمر ؓکے دور خلافت میں واقع ہوئیں ، اپنے حجم اور پائیداری میں ان فتوحات کی نسبت کہیں اہم تھیں جو سیزر یا چارلی میگنی کی زیر قیادت ہوئیں۔

image_printپرنٹ کریں