skip to Main Content
منظوم رپورٹ سیر نمائندگان جلسہ سالانہ برطانیہ 2019 ء

ان ڈانڈے مینڈے رستوں کے ہر گام پہ اُلفت آپ کی تھی
دل آپ کی جانب کھنچتا تھا اور جان میں چاہت آپ کی تھی

وہ منظر ہم نے دیکھے سب، جب جھرنے جھیل میں گرتے تھے
اور ایسے ہر نظارے کی زنجیر، محبت آپ کی تھی

ہر وادی بھی اِٹھلاتی تھی، ہر جھرنا جھوم کے گاتا تھا
لو مہدی کے مہمان آئے! ہر لَے میں چاہت آپ کی تھی

گو سرد ہوا منہ زور بھی تھی برسات بھی تھی گھنگور بھی تھی
جب فیری میں ہم جا بیٹھے تو ہر ُسو مدحت آپ کی تھی

لہریں بھی جھوم کے اُٹھتی تھیں جب کالے پُول سمندر کی
قدموں سے لپٹتی جاتی تھیں اور اُن میں حدّت آپ کی تھی

وہ سیخ کباب اور برمنگھمؔ کا لنچ بھلائیں گے کیسے
ہاں کھایا تو تھا ہم سب نے پر ساری خدمت آپ کی تھی

ہم ناشتہ کیسے بھولیں گے وہ انڈوں اور پراٹھوں کا
مہمان نواز بھی قرباں تھے اور عام سخاوت آپ کی تھی

ہم چیسٹرؔ میں جب جا پہنچے تو مانؔ سمان دیا ہم کو
ہم جانتے تھے دل میں اُن کے دراصل حلاوت آپ کی تھی

وہ کیسا پیارا منظر تھا اسکاٹ لینڈؔ کی مسجد کا
احباب تھے سارے شہزادے، تسلیم حکومت آپ کی تھی
تبلیغ ٹرونؔ کے چرچ میں کی اور اُلفت کا پیغام دیا
مری رگ رگ سے جو پھوٹی تھی، ساری وہ نیابت آپ کی تھی

میں ردّی کا اک ٹکڑا ہوں یہ اچھی طرح سے جانتا ہوں
تبلیغ کی گر توفیق ملی تو اصل کرامت آپ کی تھی

پھر ایڈن برگ کے رستے سے ہم جا پہنچے بیت المہدی
خدام کھڑے مسکراتے تھے، کیا خوب سیادت آپ کی تھی

تھی مچھلی رات کے کھانے میں، سالن، چاول اور نان بھی تھے
پھر ناشتے کی سب چیزوں میں وہ نیاری جدّت آپ کی تھی

اک یار ہمارا نومیؔ ہے جو میرا رستہ تکتا تھا
میں اُس کے گھر مہمان ہوا، واں ساری سطوت آپ کی تھی

ہر چہرہ تھا مسرور ہوا، گل اشک بنے تھے آنکھوں میں
اب وقت آیا تھا رُخصت کا اِس پیار میں شدّت آپ کی تھی

اک لمبا سفر درکار تھا اب لندنؔ کو واپس جانے کا
ہر عزم ہمارا آپ ہی تھے، ہر گام پہ ہمّت آپ کی تھی

یہ سیریں دُور دراز کی سب مرہونِ منت آپ کے تھیں
اور ہم ناکارہ لوگوں پر بے پایاں شفقت آپ کی تھی

منظوم رپورٹ یہ لکھی ہے دربار میں اپنے آقا کے
اے کاش! بنے مقبول ادا، پل پل جو عنایت آپ کی تھی

میں آپ کے پیروں کو چھو کر اور دامن چوم کے کہتا ہوں
دل آپ کے ہیں جاں آپ کی ہے ہر رنگ میں رحمت آپ کی تھی

محمدمقصوداحمدمنیبؔ

image_printپرنٹ کریں