skip to Main Content
صاحبزادہ مرزا غلام احمد کے اوصافِ حمیدہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ 9فروری 2018ء میں فرماتے ہیں۔

مکرم مرزا غلام احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑپوتے تھے۔ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے بڑے بیٹے تھے ان کے پوتے تھے۔ حضرت مرزا عزیز احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے۔ اور حضرت میر محمد اسحٰق صاحب کے نواسے تھے۔ اور میرے بہنوئی بھی تھے۔ ان کی والدہ صاحبزادی نصیرہ بیگم حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ یہ تمام رشتے اتنے قابل ذکر نہیں۔ اصل میں ان رشتوں کو جو چیز قابل ذکر بناتی ہے وہ ان کے اوصاف ہیں جو مَیں بیان کروں گا۔ خادم دین تھے۔ وقف زندگی تھے۔ اور ان دنوں میں باوجود کمزوری کے، بیماری کے اور بڑے بھائی کی وفات ہوئی تھی اس کے اثر کے باوجود جب مَیں نے ان کو ناظر اعلیٰ مقرر کیا تو تمام فرائض بڑی خوش اسلوبی سے انجام دئیے۔ دفتر میں حاضر رہے۔ اسی طرح فنکشنوں پہ بھی حاضر ہوتے رہے۔ ایک دن پہلے مدرسۃ الحفظ کا فنکشن تھا۔ کامیاب ہونے والے حفاظ میں اسناد تقسیم کرنی تھیں۔ وہاں شرکت کی۔ شام کو خدّام الاحمدیہ کے پروگرام میں شمولیت اختیار کی۔ وفات والے دن بھی صبح کئی لوگوں کے گھروں میں گئے۔ مریضوں کی عیادت کی۔ پھر اسی طرح پانچوں نمازیں مسجد مبارک میں جا کے ادا کیں۔ وقف زندگی کی حیثیت سے ان کی زندگی کا آغاز مئی 1962ء میں ہوا ہے۔ انہوں نے ایم۔ اے پولیٹیکل سائنس گورنمنٹ کالج لاہور سے کی اور پھر انہوں نے پبلک سروس کمیشن کا، CSS کا امتحان دیا اور اس میں کامیاب ہوئے۔ بڑی اچھی طرح کامیاب ہوئے بلکہ انہوں نے خود مجھے بتایا کہ مَیں نے یہ امتحان صرف اس لئے دیا تھا کہ لوگ کہتے تھے کہ یہ بڑا مشکل امتحان ہوتا ہے اور بڑی مشکل سے کامیابی ہوتی ہے۔ تاکہ دنیاوی لحاظ سے بھی کامیاب ہونے کے بعد پھر مَیں وقف کروں تا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ کہیں اور جگہ نہیں ملی تو یہاں آ گئے۔ اس کامیابی کے باوجود سرکاری نوکری نہیں کی۔ پبلک سروس کمیشن میں نہیں گئے اور زندگی وقف کی۔ جیسا کہ مَیں نے کہا 1962ء میں انہوں نے زندگی وقف کی۔ پھر ان کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بطور مینیجنگ ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز ربوہ کی خدمت سپرد کی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ان کو یہ بھی فرمایا کہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ جو تم نے حاصل کر لی ہے دینی تعلیم بھی حاصل کرو۔ چنانچہ حضرت سید میر داؤد احمد صاحب سے انہوں نے حدیث اور دینی علوم حاصل کئے۔ حضرت میر داؤد احمد صاحب ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر تھے اور رشتہ میں ان کے ماموں بھی تھے۔ ان کا پہلا نام مرزا سعید احمد تھا۔ بعد میں حضرت مصلح موعودؓ نے ان کی والدہ کے کہنے پر ان کا نام مرزا احمد رکھا۔ انہوں نے سیرۃ المہدی میں کوئی واقعہ پڑھا تھا اور اس لحاظ سے ان کا خیال تھا کہ مرزا سعید احمد نام نہ رکھا جائے۔ مرزا سعید احمد ان کی پہلی والدہ سے ان کے بھائی تھے جن کی جوانی میں وفات ہو گئی تھی۔ یہاں یُوکے میں بھی آکے وہ پڑھتے رہے۔ مرزا مظفر احمد صاحب وغیرہ کے کلاس فیلو تھے۔ حضرت مصلح موعود کو انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر کوئی نام بدلا تو حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کو رنج ہو گا تو ان کی بھی تسلی ہو جائے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پھر ہم ایسا نام رکھتے ہیں جس وجہ سے اُن کے والد کو بھی تکلیف نہ ہو اور پھر آپ نے مرزا غلام احمدنام رکھا اور ساتھ ہی حضرت مصلح موعودنے یہ فرمایا کہ ہم اس کو احمد کہہ کر پکاریں گے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کو ابھی اتنا عرصہ نہیں ہوا اور میرے لئے بہت مشکل ہے کہ میں غلام احمد کر کے نام لوں۔ 1964ء میں میری ہمشیرہ کے ساتھ ان کا نکاح ہوا۔ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھایا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی تو ان دنوں میں بیمار تھے۔ ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ اور دو بیٹے وقف زندگی ہیں۔ مرزا فضل احمد ربوہ میں ناظر تعلیم ہیں اور مرزا ناصر انعام یہاں یُوکے کے جامعہ کے پرنسپل ہیں۔ اور مرزا احسان احمد جو ہیں وہ امریکہ میں ہیں۔ گو دنیاوی نوکری ہے لیکن وہاں بھی جماعت کی خدمت کر رہے ہیں۔ نیشنل مجلس عاملہ میں سیکرٹری مال ہیں۔ اسی طرح افسر جلسہ گاہ ہیں۔ ان کی ایک بیٹی امۃالولی زبدہ ہیں۔ دوسری امۃ العلی زہرا ہیں جو میر محمود احمد صاحب، یہ میر مسعود احمد صاحب کے بیٹے ہیں، ان کی بیوی ہیں اور وہ بھی وقف زندگی ہیں اور آجکل ناظر صحت ہیں۔ مرزا غلام احمد صاحب کی جو خدمات ہیں انہوں نے ناظر تعلیم کے طور پر کام کیا۔ کئی سال ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد مقامی کے طور پر کام کیا۔ ناظر دیوان کے طور پر کام کیا بلکہ جب تک ناظر اعلیٰ نہیں بنائے گئے تھے یہ 96ء سے لے کے 2018ء تک ناظر دیوان کے طور پر رہے۔ پھر یہ صدر مجلس کارپرداز کے طور پر بھی 2012ء سے 2018ء تک تھے۔ پھر مرزا خورشید احمد کی وفات کے بعد ان کو میں نے ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی اور صدر صدر انجمن احمدیہ بنایا۔ اس سے پہلے خلافت رابعہ میں بھی کئی دفعہ ان کو قائمقام ناظر اعلیٰ اور قائمقام امیر مقامی بننے کی توفیق ملی۔ اسی طرح مجلس وقف جدید کے ممبر تھے اور 2016ء سے 18ء تک یہ صدر مجلس وقف جدید بھی رہے۔ انصار اللہ میں عاملہ میں رہے۔ مختلف قیادتیں ان کے سپرد رہیں۔ پھر نائب صدر صف دوم بھی رہے۔ پھر نائب صدر بنے۔ پھر 2004ء سے لے کے 2009ء تک صدر انصار اللہ پاکستان خدمت کی توفیق ملی۔ خدام الاحمدیہ میں مختلف سالوں میں مہتمم کے طور پر کام کیا۔ پھر نائب صدر خدام الاحمدیہ مرکزیہ رہے۔ اس کے بعد پھر 75ء سے 79ء تک صدر خدام الاحمدیہ مرکزیہ بھی رہے۔ اور میر داؤد احمد صاحب کے بعد ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز بھی ہوئے۔ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ خلافت لائبریری کمیٹی کے صدر تھے۔ بیوت الحمد سوسائٹی ربوہ کے صدر تھے۔ فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر تھے۔ اسی طرح جلسہ سالانہ میں ان کو کئی سال خدمت کی توفیق ملی۔ ڈیوٹیاں دیتے رہے۔ جب تک ربوہ میں جلسے ہوتے رہے یہ بطور نائب افسر جلسہ سالانہ اور ناظم محنت رہے۔ ناظم محنت کا بڑا محنت طلب کام ہوتا ہے اور ایسی لیبر سے واسطہ ہوتا ہے جو غیر احمدی بھی ہوتی ہے اور روٹی پکانے والے نانبائی اور پیڑے والے بگڑے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔ ان کو صحیح طرح قابو رکھنا جلسے کا ایک بڑا کام ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو بڑے احسن رنگ میں اس خدمت کی توفیق ملی۔ تبرّکات کمیٹی کے صدر رہے۔ رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کمیٹی کے ممبر تھے۔ مجلس افتاء کے ممبر تھے۔ تاریخ احمدیت کمیٹی کے ممبر تھے۔ سیکرٹری خلافت کمیٹی تھے۔ نگران مینیجنگ ڈائریکٹر الشرکۃالاسلامیہ بھی رہے۔ نظارت کے ساتھ ساتھ یہ بہت سارے کام اور کمیٹیاں بھی ان کے سپرد تھیں۔ 1989ء میں ان کو اور مرزا خورشید احمد صاحب کو اور انجمن کے دو کارکنان کو 298c کے تحت چند دن اسیر راہِ مولیٰ رہنے کی بھی سعادت ملی۔
لاہور میں 28؍مئی 2010ء کا جو واقعہ ہوا تھا جہاں احمدیوں کی بہت ساری شہادتیں ہوئی تھیں۔ اس وقت ناظر اعلیٰ نے لاہور جماعت کی تسلی کے لئے، شہداء کی فیملیز کو ملنے کے لئے، مریضوں کو دیکھنے کے لئے جو وفد فوری طور پہ لاہور بھجوایا تھا ان کے امیر مرزا غلام احمد صاحب تھے۔ شہداء کو ابھی ہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ یہ لاہور پہنچ گئے تھے اور اگلے تقریباً دو ہفتے تک انہوں نے لاہور میں ہی قیام کیا اور لاہور کے جو انتظامات تھے ان کی خودنگرانی کرتے رہے۔ دارالذکر میں یہ وفد گیا اور بڑی فراست اور محنت سے انہوں نے تمام کام سرانجام دیئے اور زخمیوں کے علاج کی نگرانی بھی کرتے رہے اور شہداء کی فیملیوں کے گھروں میں بھی گئے۔ دارالذکر میں اسی دن عاملہ کا اجلاس بلایا اور نئے امیر کا بھی وہاں اعلان کیا۔ مغرب عشاء کی نمازیں آپ نے وہیں پڑھائیں تا کہ لوگوں کو یہ حوصلہ رہے کہ واقعہ ہونے کے بعد یہ نہیں کہ مسجد خالی کر دینی ہے۔ اور جب یہ ہسپتال میں مریضوں کو پوچھنے کے لئے گئے تھے تو اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر صاحب وہاں آئے۔ انہوں نے تعزیت کی۔ مرزا غلام احمد صاحب نے ان کی اس طرف توجہ مبذول کروائی کہ جو حملہ ہوا ہے وہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت انگیز مواد کی تشہیر ہو رہی ہے اور بحیثیت گورنر آپ کا فرض ہے کہ اس طرف توجہ دیں۔ اسی طرح جاوید مائیکل صاحب جو اقلیتی امور کے صوبائی وزیر تھے وہ بھی تعزیت کرنے کے لئے آئے۔ یہاں بھی انہوں نے بڑی بہادری سے وزیر موصوف کو کہا کہ آپ تعزیت کے لئے آئے ہیں اس کے لئے ہم آپ کے مشکور ہیں۔ لیکن یہ بات واضح رہے کہ ہم خود کو اقلیت ہرگز نہیں مانتے۔ ہم مسلمان ہیں۔ جس پر وزیر نے عرض کیا کہ دراصل مَیں انسانی حقوق کا بھی وزیر ہوں اور مَیں اس لحاظ سے بھی آیا ہوں۔ آپ نے ان کو کہا کہ اپنی کابینہ میں آپ کو آواز اٹھانی چاہئے اور جماعت کے خلاف جو مہم ہے حکومت کو اس کو ختم کرنا چاہئے۔ لیکن بہرحال یہ تو ان کو ان کے فرائض کی طرف ایک توجہ دلائی تھی۔ اصل تو ہماری نظر ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر ہی ہے اور اسی نے یہ حالات ٹھیک کرنے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ 29اور 30مئی کو انہوں نے یہاں پریس کانفرنس بھی کی۔ 2؍جون کے ایکسپریس نیوز کے لائیو پروگرام میں پوائنٹ بلیک میں رات گیارہ بجے سے بارہ بجے تک انہوں نے شرکت کی۔ سوئس نیشنل ٹی وی اور بی بی سی اور وائس آف امریکہ اور صحارا ٹی وی، چینل فائیو اور دنیا ٹی وی وغیرہ سب کو انٹرویو دیا۔ بہرحال یہ وفد پھر 12؍جون تک وہاں رہا اور واپس آ گیا۔ اس میں انہوں نے بڑا واضح طور پر ان کو کہا تھا کہ ہم مسلمان ہیں اور کوئی ہمارے سے ہمارا مسلمان ہونا نہیں چھین سکتا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اپنے ایک خطبہ میں اپنی ایک رؤیا سنائی تھی اور اس میں انہوں نے ان کا جو ذکر کیا وہ یہ تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کہتے ہیں کہ مَیں سوچ رہا تھا کہ مجھے اپنی مصروفیتیں بڑھانی چاہئیں تو رات کو خواب میں میاں احمد کو دیکھا۔ مرزا غلام احمد صاحب کو دیکھا جو ہمیشہ بہت اچھا مشورہ دیا کرتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے متعلق بھی انہی کا مشورہ تھا کہ بجائے اس کے کہ تفسیر صغیر کے پیچھے نوٹس لکھوں۔ میں اپنا نیا ترجمہ کروں اور آپ فرماتے ہیں کہ الحمد للہ کہ خدا تعالیٰ نے اس ترجمہ کی توفیق عطا فرمائی اور بہت سے مسائل اس میں حل ہوئے۔ اور باقی پھر لمبی خواب ہے اس میں ذکر ہے کہ کس طرح انہوں نے شادی بیاہ کے متعلق اور لڑکوں کی ملازمتوں کے لئے کہا کہ کیا تجویزیں ہونی چاہئیں۔ خواب میں میاں احمدنے ہی حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کو وہ بتائیں کہ آپ اس میں مدد کر سکتے ہیں۔
(ماخوذ از الفضل انٹرنیشنل 19تا 25 جنوری 2001ء صفحہ 5۔ خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2000ء)
ایک خط میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ان کو لکھا کہ عزیزم احمد سلمہ اللہ۔ السلام علیکم۔ آپ کی پریشانی کا خط ملا۔ میں آپ کے لئے عاجزانہ دعا کرتا ہوں۔ آپ کی فطرت میں خدا تعالیٰ نے سچائی اور سعادت رکھی ہے اور ان دو صفات کے حامل انسان کو اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں فرماتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بیش از پیش روحانی ترقیات عطا فرماتا رہے اور طمانیت قلب کی جنت نصیب کرے۔
اسی طرح ایک اَور خط میں انہوں نے فرمایا کہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھتا ہوں۔ آپ سب کا حق بھی ہے اور خدمت دین میں بھی میرے سلطان نصیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی امان میں رکھے۔ صحت و سلامتی دے اور کبھی کوئی فکر اور پریشانی نہ آئے۔ اور پھر لکھا کہ مجھے بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ میری شدید خواہش ہے کہ احمدیت کو لوگ بہت جلد قبول کریں۔ پھر فرمایا کہ ایم ٹی اے کا ہتھیار بھی ساری دنیا میں چل رہا ہے اور میری خواہش کو عملی رنگ دے رہا ہے۔ اچھے اچھے پروگرام بھجوائیں تا کہ نور ہی نور ہو جائے۔ طاغوت اور شیطان رمضان میں پوری طرح جکڑا جائے۔
ان کی اہلیہ امۃ القدوس صاحبہ کہتی ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ جب بیمار تھے تو رات کو روزانہ وہاں جا کے ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔ یہ رشتے سے پہلے کی بات ہے۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے زمانے میں بھی خلافت سے بہت وابستہ تھے۔ حضور ان پر بہت اعتماد کرتے تھے اور 1974ء میں کافی عرصہ، یہ بھی اور مرزا خورشید احمد صاحب بھی، دن رات وہیں رہے۔ اور گھر آنے کی اجازت نہیں تھی۔
1973ء اور 74ء میں خاص طور پر اور بعد ازاں جب خدام الاحمدیہ کے صدر تھے اس وقت بھی یہ حضور کے ساتھ کام کرتے تھے۔ ایک لمبا عرصہ تو گھر آتے ہی نہیں تھے۔ پہلے بھی صبح کے گئے رات دس بجے کے قریب گھر آتے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اعزاز سے نوازا کہ ایک اجتماع کے موقع پر جب انہوں نے درخواست کی کہ حضور عہد دہروائیں گے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا کہ تم دہراؤ۔ یعنی صدر خدام الاحمدیہ کو کہا تم دہراؤ اور پھر حکماً ان سے عہد دہروایا۔ اور حضور نے خود باقی خدّام کی طرح کھڑے ہو کر پیچھے عہد دہرایا۔ مرزا خورشید احمد صاحب کی وفات پر مَیں نے یہ ذکر کیا تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے کہا تھا کہ یہ جو دو شخص ہیں وہ میرے بڑے وفادار ہیں اور ہر خلافت کے وفادار ہیں۔ انہوں نے مجھے لکھا تھا لیکن مجھے زبانی بھی بتاچکے تھے۔ اس وقت کیونکہ ان کو جھجھک تھی اس لئے اپنا نام نہیں لکھا تھا۔ اس لئے مَیں نے بھی جمعہ پہ نہیں بتایا۔ صرف مرزا خورشید احمد صاحب کا ہی بتایا۔ اصل میں مرزا غلام احمد صاحب اور مرزا خورشید احمد صاحب کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے فرمایا تھا کہ یہ ہر خلافت کے وفادار ہیں اور میرے وفادار ہیں۔ جب حضور کی انگوٹھی گمی تو اس کو تلاش کرنے کے لئے انہی کو بلایا اور یہ کہا کرتے تھے کہ پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے میرا نام لیا۔ احمد اور پھر خورشید یہ دونوں میرے وفاداروں میں سے ہیں اور ہر خلافت کے وفاداروں میں سے ہیں۔ پھر ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ رات کے نوافل میں اتنی گریہ و زاری ہوتی تھی کہ گھر گونج رہا ہوتا تھا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے، خلیفۂ وقت کے لئے، جماعت کے لئے، ماں باپ کے لئے، بہن بھائیوں کے لئے، بیوی بچوں کے لئے، رشتہ داروں کے لئے دعائیں کرتے تھے اور اپنے نوافل میں سورۃ فاتحہ کی بعض آیات کئی کئی دفعہ دہراتے رہتے تھے۔ کہتے ہیں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بہت زیادہ تعلق تھا۔ لیکن یہ تھا کہ ناانصافی نہیں تھی۔ اپنے گھر والوں سے بیوی کی عزت کروائی اور بیوی کا تعلق گھر والوں سے قائم کیا۔ یعنی دونوں رشتوں میں ایک توازن قائم رکھا۔ چھوٹے سے چھوٹا تحفہ بھی کوئی ان کو دیتا تو اس کی شکرگزاری کرتے۔ یا تو اس کو تحفہ کے طور پر لَوٹاتے یا گھر جا کے اس کا شکریہ ادا کرتے یا خط لکھ کے شکریہ ادا کرتے۔ ایک خوبی یہ تھی کہ جو کام بھی سپرد کرو جب تک وہ سرانجام نہ دے لیتے چین سے نہیں بیٹھتے تھے۔ علم بھی بہت تھا۔ یادداشت بھی ان کی خوب تھی۔ کوئی روایت ہو، پرانا رشتہ ہو، کہتی ہیں ان سے پوچھتی تو ان کو یاد ہوتا تھا۔ اور کہتی ہیں کہ مجھے سیروں کا شوق تھا تو مالی حالات چاہے اچھے ہوں یا نہ ہوں، طبیعت ٹھیک ہو یا نہ ہو بیوی کا حق ادا کرنے کے لئے سیروں پہ ضرور لے کر جاتے۔ ان کی اہلیہ، میری ہمشیرہ نے، لکھا ہے کہ عبدالرحمن انور صاحب کی بیوی بتاتی ہیں کہ عبدالرحمن انور صاحب نے خواب میں دیکھا کہ ان کی والدہ کے گھر کے دروازے پر گلاب کی بہت ہی خوبصورت دو بیلیں چڑھ رہی ہیں جن میں بہت خوبصورت پھول لگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ خواب تو سچی ہوئی۔ ان کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ ہر آمد پر پہلے چندہ ادا کرتے تھے۔ اس کے بعد اس کو خرچ میں لایا جاتا تھا۔ ان کی اہلیہ کو بھی ہماری والدہ کی طرف سے یا والد کی طرف سے جو جائیداد سے حصہ ملا اس کی پہلے وصیت ادا کی، حصہ جائیداد ادا کیا۔ اور جو آمد ہوتی تھی، اس کا حصہ جائیداد ادا کر دیتے تھے اور پھر مجھے بتاتے تھے کہ مَیں چندہ ادا کر آیا ہوں۔ اس طرح انہوں نے میری ساری جائیداد کا چندہ چکا دیا اور مجھے کوئی بوجھ بھی نہیں پڑا۔ بیٹے بیٹی کو گھر بنا کے دیا اور ان کی وصیت بھی خود اتار دی۔
پھربہت سارے لکھنے والوں نے مجھے لکھا اور مَیں بھی دیکھتا ہی رہتا تھا کہ یہ دونوں بھائی ہمیشہ وہاں اکٹھے ہوتے تھے۔ ہماری ہمشیرہ یہی لکھتی ہیں کہ مرزا داؤد احمد صاحب کی اہلیہ کہا کرتی تھیں کہ احمد اور خورشید کو اگر دیکھ لوں کہ اکٹھے کہیں جا رہے ہیں تو مجھے لگتا تھا کوئی جماعتی مسئلہ ہو گیا ہے کہ یہ دونوں اکٹھے جا رہے ہیں۔ ہر کرائسس (crisis) میں بڑے حوصلے سے، ہمت سے، فہم سے، فراست سے کام کیا کرتے تھے۔ خلافت کی اطاعت تو تھی۔ یہاں جلسہ پہ آئے تھے تو کمزوری کافی تھی۔ ان کو میں نے کہا سوٹی لیا کریں۔ تو فوری طور پر انہوں نے سوٹی شروع کر دی کہ اب تو حکم مل گیا ہے اب لینی پڑے گی۔ چھڑی استعمال کرنی پڑے گی۔
چند سال قبل مَیں نے کہا تھا کہ ناظران جماعتوں میں جائیں اور ہر ایک گھر میں جا کے میرا سلام پہنچائیں۔ ان کے حصہ میں سندھ آیا۔ ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ واپس آئے تو لنگڑا کر چل رہے تھے۔ مَیں نے پوچھا۔ تو انہوں نے کہا کہ ایک گھر کی سیڑھی سے گر گیا تھا۔ جب فضل عمر ہسپتال میں دکھایا گیا تو پاؤں کی چھوٹی انگلی کی ہڈی کریک (crack) تھی اور دوسرے پاؤں کے ٹخنہ میں بھی ذرا سا، ہلکا سا کریک (crack) آیا ہوا تھا یا چوٹ تھی۔ ہلکا سا فریکچر تھا۔ کہتی ہیں مَیں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو دردنہیں ہوتی تھی۔ کہنے لگے درد تو محسوس ہوتی تھی لیکن کیونکہ خلیفۂ وقت کا پیغام گھر گھر پہنچانا تھا اس لئے گیارہ دنوں میں اس تکلیف کا احساس نہیں کیا اور اپنا کام ختم کر کے آئے۔ ان کے بڑے بیٹے لکھتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی ہجرت کے بعد حضور کے خطبہ کی کیسٹ سب سے پہلے آپ کے پاس آتی تھی اور بڑے اہتمام سے آپ سب کو اکٹھا کرتے اور حضور کا خطبہ سناتے تھے۔ پھر ایم ٹی اے آنے کے بعد بھی خطبات سننے کا خاص اہتمام کرتے تھے اور اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ سب گھر والے یہ خطبہ سنیں۔ حتی کہ جو گھر میں کام کرنے والے افراد ہیں یا باہر ملازم ہیں ان کو سنانے کے لئے بھی انہوں نے خاص اہتمام کیا ہوا تھا۔ لاؤڈ سپیکر لگایا ہوا تھا یا ٹی وی لگا کے دیا ہوا تھا۔ جب یہ لاہور گئے ہیں تو وہاں کا ایک واقعہ ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ جب رات میو ہسپتال گئے تو وہاں پر بہت رَش تھا اور ایمبولینس والے منہ مانگی قیمت مانگ رہے تھے۔ تو وہاں انہوں نے اونچی آواز میں اعلان کیا کہ سب انتظام صدر انجمن احمدیہ کرے گی۔ سب کی تدفین ربوہ میں ہو گی۔ سارے جنازے وہاں لے کے جائیں گے انشاء اللہ اور کوئی آبائی جگہ لے کر جانا چاہتا ہے تو اُسے اجازت ہے۔ بہرحال اس سے لوگوں میں کافی اطمینان پیدا ہوا۔ ہر زخمی کے گھر میں گئے۔ شہداء کے گھروں میں گئے۔ ان کے گھروں میں کھانے کا انتظام کروایا۔ اگر کوئی کمانے والے نہیں تھا تو ان کے لئے انتظام کروایا۔ اُس وقت بعض اطلاعات تھیں کہ بعض لوگ ان کے پیچھے ہیں اور ایجنسیوں کی طرف سے اطلاع تھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے تو ان کو وہاں سے واپس بلایا گیا۔ لیکن 28؍مئی سے جو اگلا جمعہ تھا یہ پھر وہاں گئے اور وہیں دارالذکر میں جا کر انہوں نے خود جمعہ پڑھایا تا کہ جماعت کے لوگوں کو بھی حوصلہ رہے۔ غریبوں کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ پرانے دوستوں کا خیال رکھتے تھے۔ ان کے بچپن کے ایک کلاس فیلو تھے جو پڑھائی پوری نہیں کر سکے اور انہوں نے گھروں میں رنگوں کا، رَنگ پینٹ (paint) کا کام شروع کر دیا، اس کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد اس کے بچوں کا خیال رکھا۔ 1989ء میں جب یہ گرفتار ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہو رہا تھا اور اس وقت مرزا خورشید احمد صاحب ناظر امور عامہ تھے۔ وہ ربوہ سے باہر تھے۔ یہ ان کے قائمقام تھے۔ مجسٹریٹ نے ان کو بلایا اور حکم دیا کہ اجتماع بند کرو۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے ہمیں اجتماع کرنے کی تحریری اجازت دی ہے اب بند کرنے کی بھی تحریری اجازت دے دیں۔ ہم بند کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا زبانی حکم ہے۔ تم بند کرو۔ انہوں نے کہا پھر زبانی پہ ہم بندنہیں کریں گے۔ خیر شام کو مرزا خورشید احمد صاحب بھی آگئے۔ ان کو بلایا۔ انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ جس کے نتیجہ میں جیسا کہ مَیں نے کہا کہ انہوں نے چند دن اسیری میں گزارے۔ ان کو گرفتار کر لیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔ ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ ہمارے ابّا نے پوری کوشش کی کہ خلافت کے وفادار رہیں اور ہمیں بھی یہی نصیحت کی۔ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ ابّا نے مجھے بہت تڑپ سے دعا کے لئے کہا بلکہ کئی دن کہتے رہے۔ مجھے نہیں پتا کہ معاملہ کیا تھا؟ لیکن بہرحال یہ تأثر تھا کہ خلیفۂ وقت کی طرف سے کوئی ہلکی سی ناراضگی کا معاملہ ہے جس کی وجہ سے ابّاکی نمازوں میں اتنی تڑپ ہوتی تھی جس کا میرے ذہن پر بھی اثر ہوا اور میری کیفیت بھی ویسی ہی ہو گئی۔
پھر جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی ہجرت ہوئی ہے اُس وقت ان کی والدہ صاحبزادی سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ بہت بیمار تھیں اور کافی حالت خراب تھی اور جس رات ہجرت تھی اس رات لگ رہا تھا کہ آج ان کی والدہ کی آخری رات ہے۔ لیکن آپ وہاں جماعتی معاملات میں مصروف تھے۔ ہجرت کے معاملات میں مصروف تھے۔ اس لئے والدہ کے کمرے تک بھی نہیں گئے اور جماعتی کاموں میں مصروف رہے۔
اسی طرح ان کا خلافت خامسہ میں میرے ساتھ بھی ہمیشہ اطاعت کا، وفا کا تعلق رہا ہے۔ بلکہ اپنے بیٹے کو پوچھنے پر یہی کہا تم دیکھتے نہیں خلافت کی صداقت کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات کس طرح خلافت خامسہ کے ساتھ ہیں۔ ان کے ایک بیٹے لکھتے ہیں کہ ہمیں نماز پر جگایا کرتے تھے۔ عام طور پر ذرا سخت تھے لیکن آخری دنوں میں اتنے درد سے جگاتے کہ اس سے شفقت ظاہر ہوتی۔ جو بھی ان کو اور ان کی اہلیہ کو خلفاء کے خطوط آئے ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ ان تمام خطوط کی کاپیاں بنا کے اور فائل بنا کے ہم تمام بچوں کے سپرد کر دیں کہ یہ ہماری عمر کا اَثاثہ ہے۔ ان خطوط کو اپنے پاس رکھنا۔
مرزا انس احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب ان کی وفات ہوئی ہے مَیں خواب دیکھ رہا تھا کہ بھائی خورشید اور میاں احمد اللہ تعالیٰ کے پاس چلے گئے ہیں اور ان کی ملاقات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہو رہی ہے اور کہتے ہیں کہ اُس وقت خواب میں میرے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ کرے میری ملاقات بھی اسی طرح ہو جائے۔ سو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ! مجھے بھی اپنے قرب میں بلا لے۔ تو پھر اللہ نے فرمایا کہ تم آ گے آ جاؤ۔ کہتے ہیں میاں احمد سے میرا پرانا تعلق تھا اور تقریباً ہم عمر تھے۔ ان کی نیکیوں کو دیکھتا ہوں تو شرمندہ ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسا موقع دے۔ کہتے ہیں کبھی کسی بات پر مجھ سے ناراض ہو جاتے تو ہمیشہ وہ مجھے معاف کرنے میں پہل کرتے تھے۔ پھر اسی طرح انہوں نے ان کی نمازوں کی حالت کے بارے میں لکھا ہے کہ جب ان کو نماز پڑھتے دیکھتا تو ایسی رقّت کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے کہ مجھے رشک آتا تھا۔ انتہائی ذہین، ذمہ دار تھے۔ پنجوقتہ نماز کے لئے مسجد میں جانا، غرباء کی مدد کرنا اور ان کے کام آنا، اپنی قوتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق انہوں نے پائی۔
چوہدری حمید اللہ صاحب نے بھی یہی لکھا کہ بڑے معاملہ فہم اور صائب الرائے تھے اور اکثر اوقات مشورے کی مجالس میں آپ کی رائے ہی فیصلہ کُن ہوتی تھی۔ سلسلہ کے لٹریچر اور تاریخ سے گہری واقفیت تھی۔ جب بھی موقع پیش آتا سلسلہ کی خدمت میں آگے ہوتے۔ 74ء کے فسادات میں کئی ماہ تک حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی بھرپور معاونت کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے بیرون ملک دوروں میں شریک سفر ہوئے۔ ایک دفعہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے نمائندہ کے طور پر حضور کے وفد میں شامل ہوئے۔
قادیان کے کارکن اکرم صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے مرزا خورشید احمد صاحب کی وفات پر ان کو افسوس کیا تو انہوں نے بڑے درد سے مجھے کہا کہ میرے لئے قادیان میں خود بھی دعا کرنا اور دوسرے بزرگان کو بھی دعا کے لئے کہنا کیونکہ میاں خورشید کی وفات کے بعد اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے نئی ذمہ داریاں کما حقہ ادا کرنے کی توفیق دے۔ اس طرح دعا کے لئے بھی کہتے رہتے تھے۔ جب قادیان کا سفر کرتے تو درویشوں کے گھروں میں جاتے اور اسی طرح وہاں کے درویشوں کی بیوگان اور یتامی کی خدمت کرنے کی کوشش کرتے۔ مقامات مقدّسہ کا ان کو بڑا علم تھا۔ اکرم صاحب ہی یہ لکھتے ہیں کہ قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جہاں دعا کیا کرتے تھے اکثر وہاں کھڑے ہو کر نوافل پڑھا کرتے تھے اور مجھے بھی نصیحت کیا کرتے تھے کہ آپ لوگ خوش قسمت ہیں۔ ان مقامات میں، مقدس مقامات میں رہتے ہیں۔ اس لئے یہاں بہت دعائیں کیا کریں۔ خدام الاحمدیہ کے صدر کے طور پر ان کی بڑی خدمات ہیں۔ ہر جگہ خدام تک پہنچے۔ (مبشر) گوندل صاحب نے بھی لکھا کہ ایک دفعہ ان کا سندھ کا دورہ تھا تو بعض جگہ سواری نہیں جا سکتی تھی۔ کار بھی نہیں جاسکتی تھی تو پیدل سفر کر کے جنگلوں میں خدّام تک پہنچے جس کا خدّام پہ بڑا اچھا اثر ہوا اور اب تک وہ یاد کرتے ہیں۔ اسی طرح اسفندیار منیب صاحب جو شعبہ تاریخ کے انچارج ہیں وہ لکھتے ہیں کہ تاریخ احمدیت کے لئے بھی بطور خاص مفید وجود تھے۔ مشاورتی پینل کے رکن تھے۔ نہایت باریک بینی سے تاریخ کے مسودے کو دیکھتے تھے اور نہایت قیمتی اور وقیع تجاویز دیتے اور رہنمائی فرماتے تھے۔ جماعتی تاریخی واقعات کے پس منظر یا جزئیات و نفسیات سے بخوبی واقف تھے۔ اور محمد دین ناز صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد تعلیم القرآن کہتے ہیں جب ناظر اعلیٰ کی تعیناتی ہوئی تو میں ان کے کمرے میں گیا تو یہ نظارت علیاء کی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور حالت دیدنی تھی کہ آنسوؤں سے آنکھیں بھری ہوئی تھیں۔ دعاؤں کے جذبات سے مغلوب چہرہ تھا اور محویت میں ڈوبا ہوا تھا اور بڑی عاجزی سے انہوں نے مجھے بھی دعا کے لئے کہا۔
زاہد قریشی صاحب کہتے ہیں کہ یہ جب یہ خدام الاحمدیہ کے صدر تھے تو قائد خدام الاحمدیہ لاہور نے مجھے کسی کام کے لئے ان کے پاس بھیجا۔ میں ایوان محمود میں ملاقات کے لئے دفتر میں گیا اور کاغذ ان کے سپرد کئے۔ گرمیوں کا موسم تھا اور دوپہر کا وقت تھا۔ تو کاغذات لینے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ کھانا کھا لیا ہے؟ میں نے کہا کہ ابھی کام سے فارغ ہو کر مَیں دارالضیافت میں جا کے کھاتا ہوں۔ انہوں نے کہا نہیں میرے ساتھ چلو۔ تھوڑی دیر بیٹھو۔ ابھی انتظام ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں مَیں سمجھا کہ یہیں ایوان محمود میں انتظام ہو جائے گا۔ تھوڑی دیر بعد باہر آئے۔ سائیکل نکالی اور پھر کہا کہ میرے پیچھے بیٹھو۔ کہتے ہیں خیر چل پڑے۔ مَیں نے راستے میں کہا کہ مَیں دارالضیافت چلا جاتا ہوں۔ راستے میں دارالضیافت آتا ہے تو انہوں نے کہا نہیں پیچھے بیٹھے رہو۔ سخت گرمی میں سائیکل پر گھر لے گئے اور اپنے گھر میں جا کے وہاں کھانا کھلایا اور پھر مجھے رخصت کیا۔ جب صدر خدام الاحمدیہ تھے تو ہر خادم سے ان کا ذاتی طور پر بڑا تعلق تھا۔
اسی طرح بہت سارے لوگوں نے لکھے ہیں کہ ہم نے بہت سارے کام کے سلیقے ان سے سیکھے۔ ڈاکٹر سلطان مبشر بھی لکھتے ہیں کہ بہت سارے کام کے اسلوب اور طریقے ان سے سیکھے۔ ان کو بڑی گہرائی میں جاکر کام کرنے کی عادت تھی۔ ڈاکٹر سلطان مبشر صاحب ہی لکھتے ہیں کہ 84ء کے آرڈیننس کے بعد وفاقی شرعی عدالت میں جو اپیل کی گئی اس کے انتظامات کے ذمہ دار میاں احمد صاحب تھے۔ کہتے ہیں مجھے یاد ہے کہ میاں صاحب اچانک ایوان محمود، جہاں خاکسار بیڈمنٹن کھیل رہا تھا، خود تشریف لائے اور کہنے لگے کہ لاہور عدالت میں کتب کی ضرورت ہوتی ہے جو یہاں لائبریری سے لے جانا ہوں گی اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ وہاں لے کے جایا کریں اور جن کتب کی ضرورت ہوتی تھی وہ لاہور سے فون پر ربوہ لکھوا دی جاتی تھیں اور پھر لائبریری کے عملے کے ساتھ یہ خود محنت کرتے، کوشش کرتے اور کتابیں نکلواتے۔ یہ نہیں کہ صرف کہہ دیا تو چلے گئے بلکہ ان کو بیٹھ کر خود کام کروانے کی عادت تھی۔ یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھنے والے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ آج ہی میرے پاس آؤٹ ڈور میں ایک خاتون بشریٰ صاحبہ یہاں ربوہ کی رہنے والی ہیں آئیں۔ شوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں۔ ان کے ریزلٹ دیکھ کر میں نے انہیں کہا کہ خدا کے فضل سے اب تو آپ کے نتائج نارمل آئے ہیں۔ یہ سن کر وہ رو پڑی۔ تو میں نے تعجب سے انہیں دیکھا تو انہوں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا کہ ہاں ڈاکٹر صاحب میری شوگر تو ٹھیک ہو گئی ہے مگر میرا مفت علاج کرانے والے دونوں حضرات مرزا خورشید احمد صاحب اور مرزا غلام احمد صاحب اس دنیا سے چلے گئے۔ کہتے ہیں مَیں نے انہیں تسلی دی کہ خدا کے فضل سے جماعتی نظام کے تحت یہ علاج جاری رہے گا مگر وہ بہت یاد کرتی رہیں اور روتی رہیں۔ عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل کہتے ہیں کہ 73ء کے آخر میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مجلس شوریٰ خدام الاحمدیہ کے مشورے کے بعد صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ مقرر کیا تو مرزا غلام احمد صاحب اس وقت نائب صدر تھے۔ مَیں نے بھی انہیں اپنی عاملہ میں ان کے وسیع تجربے کی وجہ سے نائب صدر کے طور پر تجویز کیا۔ مرزا غلام احمد صاحب اپنے علم اور تجربہ اور اپنی عمر اور مقام کے لحاظ سے مجھ سے بہت سینئر تھے لیکن جب آپ کو نائب صدر مقرر کیا گیا تو عطاء المجیب صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے انتہائی عاجزی سے ہر کام میں بھرپور تعاون کیا اور کسی مرحلے پر بھی ذرہ برابر بھی اظہار نہیں ہونے دیا کہ وہ تو مجھ سے بہت سینئر ہیں۔ ایک شاہد عباس صاحب ہیں۔ ملائیشیا سے لکھتے ہیں کہ 2005ء میں مَیں نے بیعت کی اور مرکز کی زیارت کے لئے گیا تو دفاتر میں مرزا غلام احمد صاحب تشریف لا رہے تھے تو میرے ساتھی معلّم دانیال صاحب نے مجھے کہا کہ یہ خلیفۂ وقت کے بڑے قریبی رشتہ دار ہیں۔ ان کو دعا کے لئے کہہ دیں۔ کہتے ہیں مَیں ان کے پاس گیا اور کہا کہ میں شیعہ فرقے سے جماعت احمدیہ میں داخل ہوا ہوں میرے لئے دعا کریں۔ انہوں نے مجھے گلے لگایا اور میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور بڑے جوش سے کہا کہ مَیں آپ کو ایک ایسی ہستی کیوں نہ بتا دوں جن کو میں خود دعا کے لئے درخواست کرتا ہوں۔ تو مَیں نے پوچھا وہ کون ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ خلیفہ وقت اور فرمایا کہ خلیفہ وقت کو دعا کے لئے لکھا کرو۔ یہ نومبایع کہتے ہیں کہ مَیں نے ان کی آنکھوں میں خلیفۂ وقت کی جو محبت اور جوش دیکھا تھا وہ قابل دید تھا اور وہ لمحات خاکسار کی آنکھوں میں نقش ہو کے رہ گئے ہیں۔ انجم پرویز صاحب یہاں عربی ڈیسک کے مربی ہیں وہ لکھتے ہیں کہ چوہدری محمد علی صاحب نے بتایا کہ ایک دن دوپہر کو شدید گرمی میں سائیکل پر میاں احمد کسی شخص کو تلاش کر رہے تھے جو رنگ و روغن کرنے والا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ اتنی گرمی میں کس کو تلاش کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ اس شخص کو میں نے ایک غلط ہومیوپیتھی دوائی دے دی ہے اور اب اس کی تلاش کر رہا ہوں کہ کہیں وہ کھا نہ لے تو صحیح دوائی اس تک پہنچا دوں۔ اس لئے مَیں خود اس کو تلاش کر کے اس کو دوائی پہنچانے کی کوشش کر رہا ہوں اور وہ مل نہیں رہا۔
اسی طرح جو بھی فرائض اور بہت ساری جگہوں پر جو خدمات ان کے سپرد تھیں وہ بڑے احسن رنگ میں انجام دیتے رہے۔ بہت سارے واقعات لوگوں نے لکھے ہیں۔ اسی طرح جو بھی دفتروں میں ان کے ساتھ کام کرنے والے تھے وہ کہتے ہیں کہ انتہائی نرمی سے اور پیار سے اور محبت سے کام کرواتے تھے۔ دکھی اور مشکلات میں مبتلا لوگوں اور ضرورتمندوں کی ممکن حد تک ہمدردی کرنے والے اور ان کی مشکلات دور کرنے والے اور بڑے زیرک، معاملہ فہم تھے۔ ایسی خداداد صلاحیت تھی کہ فوری طور پر معاملے کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے اور پھر جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا کہ فوری طور پر کارروائی کرکے ان کو کام سرانجام دینے کی عادت تھی۔
اسی طرح ایک دفعہ کچھ لڑکے دفتر میں آئے۔ یہ وفات سے چند دن پہلے کی بات ہے حفاظت مرکز کے جو بعض کارکنان ہیں انہوں نے ان سے زیادتی کی تھی۔ کوئی مارا مُورا تھا یا سختی کی تھی۔ وہ شکایت لے کر آئے تھے۔ کسی کو زیادہ ضربیں بھی لگی ہوئی تھیں۔ اس پر انہوں نے ان سے کہا کہ تم نے ہسپتال میں جا کر دکھایا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ تو ان کو کہا کہ پہلے جا کر علاج کرواؤ۔ آج دفتر میں چھٹی ہے۔ جب دفتر کھلتا ہے تو میں انشاء اللہ ساری کارروائی کروں گا اور جو بھی قصور وار ہے، چاہے وہ عہدیدار ہو اس کو سزا ملے گی اور فوری طور پر وہاں کارروائی بھی کر دی اور لڑکوں کو بھیجا کہ پہلے اپنا ہسپتال سے علاج کروا کے آؤ۔
دیوان میں اقبال بشیر صاحب ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ جب میاں احمد صاحب کو ناظر دیوان بنایا گیا تو دفتر کا عملہ تھوڑا تھا اور صرف دو کلرک تھے اور ایک مددگار تھا۔ کام جب زیادہ ہو جاتا تھا تو اکثر اوقات یہ ہوتا تھا کہ میاں احمد صاحب ہمارے ساتھ آ کے بیٹھ جاتے تھے اور ڈاک کی آمد و روانگی وغیرہ کا کام ہمارے ساتھ کیا کرتے تھے۔
ریاض محمود باجوہ صاحب، مربی رہے ہیں۔ ریٹائر ہو گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک دن میں دفتر میں بیٹھا تھا تو دوران گفتگو میاں صاحب کے لہجے میں سختی آ گئی اور عام طور پر ہو بھی جاتا ہے اور مجھے اس پر کوئی ملال اور تعجب بھی نہیں تھا۔ مَیں گھر آ گیا۔ شام ہوئی تو دروازے پر دستک ہوئی۔ مَیں نے دروازہ کھولا تو میاں صاحب کھڑے تھے۔ ان کو دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ وہ کہنے لگے کہ آج آپ سے دفتر میں تلخی سے بات ہوئی ہے۔ اس پر آپ سے معذرت کرنے آیا ہوں۔ کہتے ہیں ان کا یہ رویّہ تو میرے تصور میں بھی نہیں تھا۔ اس وقت سے میں ان کا قائل ہوں۔ اسی طرح ایک مددگار کارکن نے بھی لکھا۔ ایک عام کارکن نے بھی لکھا کہ مجھے پہلے ڈانٹا۔ اس کے بعد معذرت کی۔ اسی طرح ایک اور واقعہ کسی نے لکھا کہ میرے سے دفتر میں کچھ زیادتی ہوئی تو انہوں نے تھوڑی سی تنبیہ کی۔ مَیں گھر میں بیٹھا استغفار کر رہا تھا تو اتنے میں دروازہ کھٹکا اور جب میں باہر گیا تو دیکھا کہ میاں احمد صاحب کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج میں نے تمہیں کچھ سخت الفاظ کہہ دئیے تھے۔ اس کے لئے معذرت ہے اور واپس مڑ کے کار میں بیٹھے اور واپس آ گئے۔
مبشر ایاز صاحب کہتے ہیں کہ مَیں خالد رسالہ کا ایڈیٹر تھا۔ محمود بنگالی صاحب مرحوم آسٹریلیا سے تشریف لائے ہوئے تھے ان کا انٹرویو تھا۔ انہوں نے ایک واقعہ بتایا کہ جب میاں احمد صاحب صدر تھے تو اس وقت وہ تربیتی کلاس کے دوران ناظم اعلیٰ تربیتی کلاس تھے۔ جب کلاس ختم ہوئی تو انہوں نے جب بِل پیش کیا تو کچھ آنے بجٹ سے زائد خرچ ہو گئے تھے۔ کچھ آنے کا مطلب ہے کہ چند پیسے۔ صدر صاحب کی طرف سے بل مسترد ہو گیا۔ رد ہو گیا کہ یہ نہیں پاس ہو سکتا۔ کہتے ہیں مَیں خود ان کے پاس گیا کہ یہ کون سی بڑی بات ہے۔ چند آنے زائد ہوئے ہیں اور یہ کوئی ایسی بڑی رقم نہیں ہے۔ اگر آپ نہیں دیتے تو مَیں اپنی جیب سے خرچ کر لیتا ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ جیب سے خرچ کرنے کا معاملہ نہیں ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ مَیں آپ لوگوں کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ جماعتی اموال کو خرچ کرنے میں احتیاط کرنی چاہئے اور جو جماعتی قواعد ہیں جو نظام موجود ہے ان کو فالو (follow) کرنا چاہئے۔ اور اگر ضرورت زیادہ تھی تو پہلے منظوری لیتے پھر خرچ کرتے۔ اور کہتے ہیں کہ بنگالی صاحب کہا کرتے تھے کہ ان کی یہ گرفت جو تھی یہ پھر باقی زندگی میں میرے بہت کام آئی۔ کہتے ہیں خلافت کے ساتھ بھی ان کا بڑا تعلق تھا۔ ایک دفعہ ایک افتاء کمیٹی میں زکوٰۃ کے معاملے میں بات ہو رہی تھی۔ افتاء نے ایک رپورٹ تیار کی تھی۔ میرا خیال ہے گھوڑوں کے اوپر زکوٰۃ نہ ہونے کے اوپر شایدبحث ہو رہی تھی۔ اس کو مَیں نے ردّ کر دیا اور میں نے کہا اس کا دوبارہ جائزہ لیں۔ اجتہاد کی ضرورت ہے۔ کئی کمیٹیاں بنیں۔ ہر دفعہ علماء کی لمبی لمبی بحثیں ہوتی تھیں اور نتیجہ پہ نہیں پہنچتے تھے۔ آخر صدر صاحب نے ان کو اس کمیٹی کا صدر بنایا۔ وہاں بھی علماء بڑی تیاری کر کے آئے تھے کہ مَیں نے جو بات کی ہے اس کے اُلٹ کریں۔ تو انہوں نے کچھ دیر تو ان کی بات سنی۔ پھر مبشر ایاز صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے بڑے جلالی رنگ میں کہا کہ جب خلیفۂ وقت نے فیصلہ کر دیا تو پھر ہم یہ سوچ کیوں رہے ہیں کہ اس کے خلاف ہو سکتا ہے اور ساری دلیلوں کو ردّ کر دیا اور یہ نہیں دیکھا کہ کون بڑا عالم ہے اور کون کیا کہہ رہا ہے۔ کہتے ہیں تاریخ احمدیت اور جماعتی واقعات اور روایات کے تو گویا یہ انسائیکلو پیڈیا تھے اور کہتے ہیں کہ آجکل مَیں سوانح حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھ رہا ہوں کہیں مجھے دقّت پیش آتی تو ان کی طرف رجوع کرتا اور ان کا اس بارے میں بڑا مستند اور ثقہ اور ٹھوس علم تھا۔ اسی طرح قادیان کے مقامات کے بارے میں بڑا علم تھا اور اگر قادیان میں کوئی ان کو کہہ دیتا کہ ہمیں دکھائیں اور وہاں کے تاریخی مقامات کا تعارف کروائیں تو بڑی خوشی سے تعارف کروایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ تو یہ بیمار تھے۔ پاؤں میں موچ پڑی ہوئی تھی لیکن پھر بھی کسی کو احساس نہیں ہونے دیا اور لے کے پھرتے رہے۔ جب سیڑھیاں چڑھنے لگے تو تب مبشر ایاز صاحب کہتے ہیں ہمیں احساس ہوا بلکہ انہوں نے خود ہی بتایا کہ مجھے یہ تکلیف ہے۔ تب ہمیں شرمندگی ہوئی کہ کیوں ان کو تکلیف دی۔
اسی طرح اور بہت سارے معاملات ہیں۔ جب بھی جماعتی خدمت کے لئے کہیں بھیجا تو پھر انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ رستے میں تکالیف کیا ہیں۔ ایک دفعہ کسی جماعتی معاملہ میں دو فریقین میں لڑائی ہو گئی تھی۔ ان کی صلح کے لئے ان کو بھیجا گیا اور راستہ بڑا خراب تھا۔ کار آگے جا نہیں سکتی تھی۔ ٹریکٹر ٹرالی پر مرزا خورشید احمد صاحب بھی اور میاں غلام احمد صاحب بھی دونوں بیٹھے اور مربیان کو ساتھ بٹھایا اور چلے۔ راستے میں ایک ایسا راستہ آیا کہ ٹرالی کا وہاں سے گزرنا بھی خطرناک تھا۔ وہاں سے پھر اترے۔ پھر پیدل چلے اور آخر کار جب اس گاؤں، اس جگہ پر پہنچے تو مسجد میں بلا کر فیصلہ دیا۔ انہوں نے دعائیں بھی کیں اور لوگوں کو بھی احساس ہوا ہو گا کہ جب اتنی دُور سے اور مشکل سفر کر کے آئے ہیں تو سالوں کی جو لڑائی تھی اور ان کا معاملہ تھا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی قربانی اور ان کی دعاؤں کی وجہ سے حل ہوگیا۔
اور بہت سارے واقعات ہیں۔ کچھ ملتے جلتے، کچھ نئے۔ لیکن اب وقت نہیں ہے کہ بیان کئے جائیں۔ ہر ایک نے لکھا ہے کہ کارکنوں کے ساتھ بہت زیادہ محبت سے پیش آیا کرتے تھے۔ ان کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا خیال رکھنا۔ پھر وہ لکھتے ہیں کہ جب یہ نائب ناظر تعلیم تھے تو اگر خلیفہ وقت کی طرف سے بعض حالات کی وجہ سے کسی طالبعلم کے وظیفہ کی نامنظوری آ جاتی تو اس وقت یہ کہا کرتے تھے کہ وظیفہ کی منظوری یا دوسری خوشی کی کوئی خبر ہو تو خلیفۂ وقت کی طرف سے دیا کرو اور اگر ناراضگی اور نامنظوری ہے تو ہمیں اپنی طرف سے دینی چاہئے۔
ظفر احمد ظفر صاحب مربی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے بھی پاؤں میں فریکچر ہونے کا وہی واقعہ پھر سنایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہم بھی ساتھ تھے پاؤں سوج گیا لیکن انہوں نے پرواہ نہیں کی۔ سلیم صاحب بھی یہ لکھتے ہیں کہ جب آپ حضرت خلیفۃ ثالث کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے تو جب زیادہ ڈاک اکٹھی ہو جاتی تھی تو سارے سٹاف کو کہا کرتے تھے کہ اپنی اپنی ساری ڈاک ایک جگہ اکٹھی کر دو اور پھر سب تقسیم کرو اور تقسیم میں خود اپنے ذمہ بھی لیتے تھے اور کہتے ہیں ہم کلرکوں سے زیادہ ڈاک یہ خود پرائیویٹ سیکرٹری کے طورپر اپنے ذمہ لیا کرتے تھے اور جواب دے کے ہمارے سے پہلے کام بھی ختم کر لیا کرتے تھے۔ خط لکھنے میں ڈرافٹنگ میں بھی ان کو بڑا اچھا ملکہ تھا اور تحریر بھی ان کی بڑی شُستہ تھی۔ بڑی پختہ تحریر تھی اور ڈرافٹنگ جیسا کہ مَیں نے کہا بہت اچھی تھی۔ وکالت مال ثانی کے ایک کارکن لکھتے ہیں کہ تحریک جدید کی ہم تاریخ لکھ رہے تھے’مالی قربانی ایک تعارف‘ اس پہ ہم لکھ رہے تھے۔ کئی غلطیاں نکلیں اور آخر فائنل ڈرافٹنگ کر کے جو وکیل المال تھے انہوں نے کہا کہ یہ فائنل میاں احمد کو دے آؤ تاکہ وہ پڑھ لیں اور دیکھ لیں کوئی نقص تو نہیں رہ گیا۔ کہتے ہیں تو میں نے کہا چلو ٹھیک ہے میاں احمد کو دے دیتے ہیں۔ 150 سے 200 صفحے ہیں۔ اتنا کام تھا کہ چار پانچ دن تو ہمیں سکون ملے گا۔ لیکن کہتے ہیں صبح مَیں دفتر آیا تو وہ لفافہ پڑا ہوا تھا اور اس پہ درستیاں بھی کی ہوئی تھیں اور نشان بھی لگائے ہوئے تھے اور راتوں رات وہ ساری پڑھ کے انہوں نے صبح اس تک پہنچا دی۔ یہ تھی ان کی کام کی efficiency جو ہر کارکن کے لئے ایک نمونہ ہے۔
صدر مجلس کارپرداز تھے۔ وہاں بھی بڑی گہرائی سے جائزہ لیا کرتے تھے۔ پھر جب یہ ناظر اصلاح و ارشاد مقامی تھے تو سمیع اللہ زاہد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دن انہوں نے مجھے کہا کہ جتنے مربیان کی فیملیز یہاں رہتی ہیں ان کی فہرست بناؤ۔ چنانچہ جب میں نے ان کو فہرست دی تو اپنی اہلیہ کے ساتھ ہر فیملی کے گھر میں گئے اور ان کو کہا کہ تمہارے خاوند میدان عمل میں ہیں اس لئے تمہاری کوئی پریشانی ہو، کوئی ضرورت ہو تو اُن کو پریشان نہیں کرنا۔ تم مجھے آ کے بتایا کرو۔
فریدالرحمن صاحب یہاں تعمیل و تنفیذ کے وکالت کےکارکن ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ چوہدری محمد علی صاحب کی کتاب کی کمپوزنگ مَیں نے کی اور فائنل مسودہ دکھانے کے لئے چوہدری صاحب نے مجھے ان کے پاس بھیج دیا۔ میں نے ان کو دیا اور تھوڑی دیر کے لئے رکا۔ تو انہوں نے پوچھا کہ کوئی مسئلہ ہے۔ میں نے بڑے ڈرتے ڈرتے کہا میری والدہ کا آپریشن ہے۔ کہتے ہیں مَیں نے اتنی بات ہی کی تھی تو انہوں نے کہا کہ کتنی رقم چاہئے؟ اور اپنی دراز سے خزانے کی چیک بُک نکالی اور میز پر رکھی۔ تو مَیں نے کہا سات ہزار روپیہ چاہئے۔ ضرورت ہے مجھے دے دیں اور جب میرا بِل آئے گا تو اس میں سے کاٹ لیں۔ لیکن انہوں نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں سے مجھے چیک دیا اور فرمایا کہ دعا بھی کروں گا۔ تمہارا یہ مسئلہ نہیں ہے کہ بِل آئے، کاٹوں یا نہ کاٹوں۔ تم یہ پیسے لے جاؤ اور اگر اَور بھی ضرورت ہو تو میرے پاس آ جانا اور ڈرنا نہ۔ اسی طرح حافظ صاحب نے بھی لکھا ہے کہ خلافت سے ان کا ایک خاص تعلق تھا جو ہر موقع پر ظاہر ہوتا تھا۔ اور جب ان کو ناظراعلیٰ بنایا گیا ہے تو انجمن کے اجلاس میں ناظران کے سامنے مجلس میں انہوں نے جو پہلی بات کی وہ یہ تھی کہ مجھے تعاون کے لئے کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو آپ سب خدّام سلسلہ بہرحال کریں گے کیونکہ خلیفۃ المسیح نے مجھے مقرر کیا ہے۔ لیکن مجھے آپ کی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے کیونکہ بعض وجودوں کے قدموں میں جگہ پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح جب نظارت دیوان سے یہ بدلے گئے اور ناظر اعلیٰ بنائے گئے تو ان کے ایک کارکن لکھتے ہیں کہ دفتر جانے سے پہلے ہمیں خود دفتر ملنے کے لئے آئے اور پھر کہا کہ آپ سے رخصت لینے آیا ہوں۔ یہ الفاظ سن کر ہمارا دل بہت بھر آیا تو ہم نے کہا کہ میاں صاحب! آپ یہیں رہ جائیں یا ہمیں بھی ساتھ لے جائیں۔ جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ مَیں کیسے ساتھ لے جا سکتا ہوں۔ مَیں تو خود خلیفۃ المسیح کے حکم پر جا رہا ہوں۔ اور پھر یہاں سے چند دنوں بعد ہی اپنے رب کے حکم سے اُس کے پاس چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔ یہ اس جگہ چلے گئے جہاں ہر ایک نے اپنی باری پر جانا ہے۔ لیکن خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو خدا کی رضا کے لئے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں پر قائم رہنے کی اور وہ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور جس طرح انہوں نے وفا کے ساتھ اپنے وقف کو نبھایا اور اپنے سپرد خدمات کو نبھایا اللہ تعالیٰ باقیوں کو بھی نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام واقفین زندگی اور عہدیدار ان کو بھی چاہئے کہ اسی طرح کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو آئندہ بھی نیک، صالح، فدائیت اور وفا کے ساتھ خدمت کرنے والے کارکنان مہیا کرتا رہے۔

(الفضل انٹرنیشنل 2مارچ2018ء)

image_printپرنٹ کریں