skip to Main Content
روحانی اور جسمانی سلسلسہ
         یہ عادت اللہ ہے کہ جس طرح سے وہ جسمانی سلسلے کی پرورش اور تربیت کرتا ہے اور گزشتہ پرورش کافی نہیں ہوتی اسی طرح سے روحانی سلسلہ کا حال ہے اور روحانی جسمانی دونوں سلسلے پہلو بہ پہلو چلتے ہیں۔ اگر کوئی شخص خدا سے ہی منکر ہو تو اس بحث کا الگ ایک طریق ہے۔ خداتعالیٰ کے قائل کو چاہئے کہ دونوں سلسلوں کو بالمقابل رکھ کر ایک ہی نظر سے دیکھ کر فائدہ اٹھائے۔ جس نے جسمانی سلسلہ پیدا کیا ہے اسی نے روحانی سلسلہ بھی پیدا کیا ہے۔ جس طرح وہ جسمانی سلسلہ کی تازہ بتازہ پرورش کرتا ہے اسی طرح وہ روحانی سلسلہ کی بھی تازہ بتازہ پرورش کرتا ہے۔ جس طرح جسمانی حالت ایک تازہ پانی کی محتاج ہے اسی طرح روحانی حالت بھی تازہ آسمانی وحی کی محتاج ہے۔ جس طرح جسم بغیر پرورش کے مر جاتا ہے اسی طرح روح بھی بغیر پرورش کے مردہ ہو جاتی ہے۔ روحانی امور میں اگر ہمیشہ گذشتہ ہی گذشتہ کا حوالہ دیا جاوے تو بجز اس کے روحانی حالت ایک مردہ حالت ہو جاوے گی اور کیا ہو سکتا ہے؟
خداتعالیٰ ہمیشہ طبعاً چاہتا ہے کہ وہ پہچانا جاوے۔ وہ اپنی شناخت اور زندگی کے ثبوت میں ہمیشہ حقائق، معارف اور تازہ بتازہ نشان دکھایا کرتے ہے اور یہ امور کوئی عقلی استبعاد بھی نہیں رکھتے۔ یہی سلسلہ ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔ ہزاروں لاکھوں انبیاء آئے۔ انہوں نے عملی طور سے ثبوت دئیے۔ دنیا پر حجت پوری کی۔ اب کوئی شخص صرف یہ کہہ کر کہ میں سائنس دان یا فلاسفر ہوں ایک ایسی متواتر اور ثابت شدہ شہادت کو کیسے توڑ سکتا ہے۔چاہئے کہ جس طرح سے اس گروہ پاک نے عملی زندگی اور نمونے سے اپنے دعویٰ کا ثبوت دیا اسی طرح سے اس کا رد بھی کیا جاتا۔ ہاں البتہ ان لوگوں کو یہ کہنے کا حق پہنچتا تھا کہ پرانے قصے کہانیاں کیوں پیش کی جاتی ہیں کوئی زندہ نمونہ یا ثبوت پیش کیا جاوے۔ سو اس کے واسطے ہم تیار ہیں۔ صرف ہیئت دان اپنی ہیئت وغیرہ یا نظام شمسی میں غور کرنے سے خداتعالیٰ کے وجود کا یقینی ثبوت بہم نہیں پہنچا سکتا۔ البتہ ایک امکان پیدا ہو سکتا ہے کہ خدا ہوناچاہئے۔ یہ بات کہ خدا ہے اور یقینا ہے ہمیشہ انبیاء کے پیش کردہ اصول سے ہی ثابت ہوتا رہا ہے۔ اگر ہماری طرح کے انسان دنیا میں نہ آتے تو خدا کے ثبوت کا کوئی حقیقی اور کامل ذریعہ ہرگز ہرگز دنیا میں نہ ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ اگر کوئی منصف مزاج ہوتااور شرافت بھی اس کے حصہ میں آئی ہوتی تو اس ابلغ اور محکم ترتیب اور نظام شمسی وغیرہ سے اتنا نتیجہ نکال سکتا تھا کہ خدا ہونا چاہئے۔ باقی یہ امر کہ یقینا خدا ہے اور وہ دنیا کا مالک ، متصرف اور حکمران ہے۔ بجز خدا سے آ کر خدا نمائی کرنے والوں کے ممکن نہیں۔ وہ لوگ مشاہدہ کرانے والے ہوتے ہیں اور تازہ بتازہ نشانوں کے پیش کرنے سے گویا   خدا کو دکھا دیتے ہیں۔             
    
( ملفوظات جلد پنجم ص 620 )
image_printپرنٹ کریں