skip to Main Content

خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے نورفورک آئی لینڈ کے 2016ء تک گزشتہ انتہائی کامیاب دورے کے نتیجے میں مقامی سربراہان، انتظامیہ اور مقامی آبادی سے مضبوط روابط قائم ہوئے اور پہلی مرتبہ جزیرے پر جامع انداز میں اسلام احمدیت کا پیغام پہنچا تھا۔ اس دورے کی رپورٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خوشنودی کا اظہار فرمایا تھا۔ واضح رہے کہ جزیرے پر ایک بھی مسلمان نہیں اور نہ ہی تاحال جماعت کا قیام عمل میں لایا جا سکا ہے۔ وکالت تبشیر کی طرف سے اطلاع ملی تھی کہ 1994 ء میں یہاں ایک بیعت ہوئی تھی مگر مرکز کی طرف سے اس کا نام ، پتہ یا رابطہ میسر نہ ہونے کی وجہ سے اور انتہائی کوشش اور تلاش کے باوجود اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ البتہ یہاں کی Council of Elders کے صدر جناب Elbert Buffett صاحب نے ایک وفد کے ہمراہ جولائی 2016 ء میں لندن جاکر مکرم سر ڈاکٹر افتخار ایاز سے جزیرے کے سیاسی، معاشی، اور انسانی حقوق کے حوالے سے ملاقات کی تھی۔ الحمدللہ ان سے ہمارا مسلسل رابطہ اور مظبوط تعلق ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی تعمیل میں وکالت تبشیر لندن کی ہدایات اور مکرم امیر صاحب آسٹریلیا کی رہنمائی میں امسال 23؍ اگست 2019 ء تا 30؍ اگست 2019 ء خاکسار محمد امجد خان(نگران نور فورک)مکرم امام ماکران مبشر مربی سلسلہ اور مکرم انجم قیصرانی پر مشتمل وفد نے جزیرے کا دوسرا دورہ کیا۔ دورے سے قبل وفد کے اراکین نے حضور انور کی خدمت میں دعا کیلئے خطوط تحریر کئے اور روانگی سے قبل خاکسار کو مکرم جناب امیر صاحب آسٹریلیا نے اس سلسلے میں جو نصائح اور ارشادات فرمائیں ان کی روشنی میں دورے کےلئے ایک جامع پروگرام ترتیب دیا گیا۔
گزشتہ دورے کی طرح حضور انور ایدہ اللہ کی دعائوں کے طفیل اس مرتبہ بھی اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے دیکھنے کو ملے۔ الحمد للہ۔ ہمارے وفد میں شامل خادم مکرم انجم قیصرانی نے وقف عارضی کی غرض سے جو رقم بطور کرایہ اپنی جیب سے خرچ کی اللہ تعالیٰ نے اس سے زائد رقم کسی اور ذریعہ سے ان کو لوٹادی۔ روانگی سے قبل خاکسار نے جزیرے کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم Council of Elders کے صدرجناب Albert Buffett اور مقامی اخبار کی ایڈیٹر کو اپنے دورے کی غرض سے آگاہ کیااور بتایا تھا کہ ہماری آمد کا مقصد جزیرے پر مقیم تمام افراد کو اسلام احمدیت کا تعارف اور اسلام سے متعلق پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈا اور غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے نیز احمدیہ مسلم کمیونیٹی کی انسانیت کےلئے خدمات سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس وجہ سے ان دونوں شخصیات نے ہم سے ملاقات کا وقت مقرر کردیا تھا۔
23 اگست بروز جمعہ: نور فورک ایئر پورٹ پر اترنے کے بعد آسٹریلین فیڈرل پولیس کے افسر نے امام کامران مبشر سے سوال کیا کہ آپ کے سامان میں اتنی زیادہ کتب کیوں ہیں اور آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟ ۔ امام صاحب نے جواب دیا کہ میں مسلم مشنری ہوں۔ عیسائی مشنری یہاں کس لیے آتے ہیں۔ میں بھی بطور مسلمان مشنری یہاں لوگوں کو اسلام کی تعلیم دینے آیا ہوں۔ آفیسر نے کہا کہ یہ فیصلہ تو یہاں کے Elderکریں گے کہ تمہیں اس کی اجازت ہے یا نہیں۔ جس پر اس کو جواب دیا گیا کہ ہمارے ان کے پہلے ہی بہت اچھے تعلقات ہیں تو پولیس آفیسر نے مسکرا کر کہا کہ Good Luck
اپنی قیام گاہ پر پہنچتے ہی خاکسار نے مقامی اخبار کی ایڈیٹر سے رابطہ کرکے ہمارا ‘‘Coffee & Islam’’پمفلٹ اخبار میں شائع کرنے کی درخواست کی ۔تا تمام مقامی آبادی کو ہماری جزیرے پر آمد اور دورے کے مقصد سے آگاہی ہوجائے۔ اس کے بعد محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس ہی روز ہمارے وفد نے جزیرے پر تاریخ میں پہلی مرتبہ آذان اور نماز جمعہ کی ادائیگی کی تاریخ رقم کی۔ اخبار کی ایڈیٹر نے ہمارے پمفلٹ کو جمعہ کی رات ہی شائع کردیا اور یوں خدا کے فضل سے ہماری آمد کے ساتھ ہی تمام جزیرے میں اسلام احمدیت کے تعارف اور ہر قسم کے سوالات کے جواب کے حصول کی براہ راست پیش کش کا اعلان ہوگیا۔ اخبار کی ایڈیٹر نے ہم سے درخواست کی کہ اپنے دورے کے اختتام پر اس کی مکمل روداد اس کو اخبار میں شائع کرنے کےلئے فراہم کریں۔
24؍ اگست : صبح کو ہماری Council of Elders کے صدر جناب Albert Buffett سے ملاقات ہوئی ان کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اپنی آمد کا مقصد بیان کرتے ہوئے ہم ان کو بتایا کہ ہم اس بار جزیرے کے تمام افراد سے رابطہ کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں سے اس سلسلے میں کونسل کے کوآرڈینیٹر Mr. Greg Magri سے رابطہ کرنے کو کہا اور بتایا کہ وہ اس سلسلے میں آپ کی مدد اور تعاون کریں گے۔ دوپہر کو Council of Eldersکے روح رواں اور جزیرے کے تمام لوگوں کی ہردل عزیز اور جانی پہچانی شخصیت سے ظہرانے پر ملاقات ہوئی اور آئندہ کی حکمت عملی طے کی گئی۔
25؍ اگست: صبح کے وقت نور فورک کی ایک اور اہم ترین سیاسی اور سماجی تنظیم کے سربراہ سے انفرادی ملاقات کی گئی تو انہوں نے اگلے روز اپنی تنظیم NIPD کی مجلس عاملہ سے ملاقات کی دعوت دی بعد ازاں جزیرے کے مقامی ریڈیو “PINE EM99”کے مینیجر مل کر اسلام احمدیت کے تعارف کے لئے امام کامران مبشر صاحب کے انٹرویو کا وقت اگلے روز مقرر کیا گیا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد جماعتی پمفلٹس
Coffee & Islam” ۔ “The Holy Quran” ۔ “The Holy Prophet” اور “Islam the Religion of Peace” کے علاوہ جماعت کے بنیادی تعارف اور بعض اعتراضات کے مختصر جوابات پر مشتمل مقامی ضروریات کے مطابق تبلیغ کے لئے مواد تیار کیا گیا اور پرنٹ کراکر لفافوں میں ڈال کر پوسٹ کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔
26 اگست : اللہ تعالیٰ کے فضل سے صبح 8:30پر مقامی ریڈیو پر اما م کامران مبشر صاحب کا 20 منٹ سے زائد انٹرویو براہ راست نشر کیا گیا۔ جس سے دوران انہوں نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انتہائی خوبصورت اور جامع انداز میں ہمارے اس دورے کے مقاصد ، اسلام احمدیت کا بنیادی تعارف،دنیا بھر میں جماعت کی خدمت ِ انسانیت اور اسلام کے پیغام ِامن و محبت کو بیان کیا۔ انٹرویو کے بعد ریڈیو اسٹیشن کے مینیجر کو قرآن کریم اور دیگر جماعتی کتب کاتحفہ پیش کیا گیا۔
بعد ازاں ایک مقامی ریسٹورنٹ میں مقامی لوگوں سے ملاقات میں جماعتی تعارف ہوا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد پولیس سینٹر جاکر پولیس کے مقامی سربراہ سے ملاقات کی گئی اور ان کو قرآن کریم اور دیگر جماعتی کتب پیش کی گئیں۔ انہوں نے ہماری آمد کا مقصد جان کر مشورہ دیا کہ آپ اپنے دورے کی تفصیلی رپورٹ مقامی اخبارات میں ضرور شائع کروائیں۔ ملاقات سے فارغ ہوکر پوسٹ آفس جاکر جزیرے کی تمام آبادی کو ان کے PO BOX کے ذریعے اسلام احمدیت کے تعارف اور عقائد پر مبنی 2600 پمفلٹس 925 لفافوں میں بند کرکے پوسٹ کئے گئے ۔اس طرح ڈاک اور معزز شخصیات سے بالمشافہ ملاقات کے ذریعے کُل 2650 کے قریب پمفلٹس ، جماعتی کتب اور قرآن کریم نور فورک کے لوگوں تک پہنچائے۔
شام 6:30بجے NIPDکے صدر اور ا ن کی تمام مجلس عاملہ کے اراکین سے انتہائی اہم میٹنگ ہوئی۔ ابتداء میں امام کامران مبشر صاحب نے اپنے وفد کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ ہمارے دورے کا مقصد اسلام احمدیت کے بارے میں بنیادی معلومات، اسلام پر کئے جانے والے اعتراضات اور منفی پراپیگنڈا کا جواب دینا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جماعت کی طرف سے خدمت خلق کے پروگرامز اور بالخصوص احمدی ڈاکڑز کی طرف سے بلامعاوضہ خدمات کی پیش کش کی۔ خاکسار نے NIPDکی مجلس عاملہ کو بتایا کہ ہم مستقبل میں تبلیغ اسلام کی غرض سے بار بار آنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کے علاوہ خاکسار نے تمام اراکین کو جلسہ سالانہ آسٹریلیا میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ NIPDکی مجلس عاملہ نے خاکسار کو نور فورک کے سیاسی اور اقتصادی حقوق کی پامالی اور اقوام متحدہ میں ان کی جدوجہد سے متعلق ایک رپورٹ مکرم ڈاکٹر سر افتخار ایاز کو ارسال کرنے کی درخواست کی اور اسکے لئے مواد فراہم کیا۔ بعد ازاں فریقین نے ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیا اور ہماری طرف سے صدر NIPDکوقرآن کریم اور دیگر جماعتی کتب کا تحفہ پیش کیا گیا۔
27؍ اگست: صبح 7:30پر نورفورک چیمبر آف کامرس کی صدر اور ایک ممبر کے ہمراہ تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ان کو جماعت کا تعارف اور احمدی ڈاکٹرز کی طرف سے بلامعاوضہ مقامی لوگوں کی خدمت سے متعلق پیش کش سے آگاہ کیا جس کو انہوں نے بے حد سراہا علاوہ ازیں جزیرے کی تجارتی اور معاشرتی صورتحال اور مقامی اسپتال کی کارکردگی بہتر کرنے کے حکومتی اقدامات پر بات ہوئی۔ ملاقات کے اختتام پر ان کو جماعتی کتب اور تحائف پیش کئے گئے۔
شام ان کو 4:00 بجے نورفورک اسپتال کی سربراہ اور اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقات ہوئی۔ میٹنگ میں جماعت کا تعارف اور احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشین کی بلا معاوضہ انسانی خدمات کی فراہمی کی پیش کش کی گئی۔ انہوں نے اس کو سراہتے ہوئے احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر سے رابطہ کروانے کی درخواست کی تا ان سے تفصیلی گفتگو کے بعد آئیندہ کالائحہ عمل طے کیا جاسکے۔
رات کو Council of Eldersکے چیف کوآرڈینیٹر Mr. Greg Magriکو ہم نے اپنی قیام گاہ پر کھانے کی دعوت دی۔ کھانے کے بعد ہم نے انکے سامنے نماز باجماعت ادا کی۔ نماز سے وہ انتہائی متاثر ہوئے اور انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ مجھے آپکی عبادت کے الفاظ تو سمجھ میں نہیں آئے مگر میں نے اپنی تمام زندگی میں اتنےمتاثر کن الفاظ پر مشتمل اور دل و روح کو انتہائی اطمینان و سکون بخش عبادت نہیں دیکھی۔ جو سکون اور اطمینان مجھے آج میسر آیا ہے وہ کبھی نہیں ملا۔ وہ بار بار ان الفاظ کو دہراتے اور ہمارا شکریہ ادا کرتے رہے۔ بعد میں چائے پر ان کے ساتھ ایک طویل اور انتہائی کامیاب تبلیغی نشست ہوئی۔
28 اگست: صبح کو مقامی کتب خانہ اور دستکاری کے مرکز میں ملاقات کے دوران Mr. Gregنے بتایا کہ آپ کی طرف سے اخبار میں تبلیغی اشتہار کی اشاعت اور بذریعہ ڈاک تمام آبادی کو تقسیم کئے گئے لٹریچر سے متعلق لوگوں کا رّدِ عمل آنا شروع ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض تبصرے مخالفت میں بھی ہیں مگر زیادہ تر موافقت میں ہیں اور یہ بات ان کے لئے خوشگوار حیرت کا باعث ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام احمدیت سے متعلق تبصروں کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس کے بعد ہم نے مقامی اخبارات میں اشاعت کےلئے اسلام احمدیت کے مختصر تعارف اور جزیرے میں اپنی تبلیغی سرگرمیوں پر مبنی ایک مضمون بذریعہ ای میل بھجوادیا۔ اس کے بعد جتنے لوگوں سے ہماری ملاقات ہوئی انہوں نے بتایا کہ آپ کے ارسال شدہ پمفلٹ ہمیں مل گئے ہیں۔
29 اگست: صبح کو ایک ریسٹورنٹ میں Coffee & Islam کے تحت انفرادی مذاکرے ہوئے۔ رات کو Mr. Greg Magri نے کھانے پر مدعو کیا تھا۔ ان کو سورۃ الفاتحہ بمعہ انگریزی ترجمعہ کا ایک خوبصورت فریم بطور تحفہ پیش کیا اور نماز مغرب و عشاء ادا کی۔ اس مرتبہ بھی وہ نماز کی ادائیگی دیکھ کر اور سن کر بے حد متاثر ہوئے ۔ایک اور اہم خوشی کی بات یہ تھی کہ Mr. Greg کو ہم نے تین سال قبل قرآن کریم کا جو تحفہ دیا تھا اس کو انہوں نے اپنے Guest Lounge میں سجاوٹ کی میز پر ایک انتہائی خوبصورت Matکو انہوں نے (جو خُود بُنا تھا پر سجایا ہوا تھا) ان کا کہنا تھا کہ جو بھی مہمان ان کے گھر آتا ہے وہ ضرور قرآن کے بارے میں سوالات کرتا ہے اور میں اکثر باہر جاکر درختوں کی چھائوں میں بیٹھ کر سکے ترجمہ کا مطالعہ کرتا ہوں۔
30 اگست : خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے سے ہمارا یہ انتہائی کامیاب دورہ اختتام پذیر ہوا ۔جس کے دوران جزیرے کی تمام اہم ترین شخصیات سے جماعت کا تعارف کے حوالے سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اخبارات اور ریڈیو پر اسلام احمدیت کے پیغام کی اشاعت ہوئی۔ جزیرے پر تاریخ کا پہلا جمعہ ادا کیا گیا اور سب سے بڑھ کر جزیرے کے تمام افراد اور گھروں تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔ الحمدللہ علیٰ ذالک۔

image_printپرنٹ کریں