skip to Main Content

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دورِ خلافت میں رمضان المبارک کے خطبات میں دو واقعات بیان فرمائے۔جو یہاں قارئین کے لئے اپنے الفاظ اور مفہوم میں پیش ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے رمضان کے حوالہ سے جو تاریخ ساز خطبات ارشاد فرمائےاُن میں دو تمثیلیں حضور کثرت سے بیان فرماکر احبابِ جماعت کواللہ تعالیٰ کی طرف بلایا کرتے تھے۔ایک تمثیل میں فرماتے ہیں۔

ایک بادشاہ نے دربار لگایااور درباریوں سے کہاکہ آپ کو 5گھنٹے دیئے جاتے ہیں۔محل میں داخل ہو جاؤاور جو کچھ لینا چاہتے ہو۔لوٹنا چاہتے ہولوٹ لو۔درباریوں نے اپنی من پسند اشیاء اکٹھی کرنی شروع کر دیں ایک درباری اندر داخل ہوااور اس نے نرم و نازک وملائم بسترمحل میں لگے دیکھے اور یہ خیال کر کے کہ ابھی تو بہت وقت ہے کچھ آرام کر لوں اپنے دوستوں سے کہہ سکوں گاکہ میں بادشاہ کے بستر پر سو کر آیا ہوں۔ اس کی  گہری آنکھ لگ گئی اور مقرر شدہ 5گھنٹے سو کر گزر گئے۔اور اٹھنے کے بعد ہاتھ ملتا ہوا باہر آگیا۔

حضوریہ تمثیل بیان فرماکر فرماتے ہیں کہ رمضان میں بادشاہوں کےبادشاہ کا دربار لگتا ہے۔30دن سو کر بھی گزر سکتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کو اکٹھا کر کے زادِراہ بھی بنائی جا سکتی ہے۔

دوسری تمثیل میں بھی بادشاہ کے دربار لگنے کا ہی ذکر ہےفرماتے ہیں کہ بادشاہ نے کہا کہ جو لینا ہے لے لو۔لوگوں نے محل سے مختلف اشیاء اپنی پسند کی اکٹھی کرنی شروع کر دیں۔ایک بزرگ بوڑھا شخص اپنی جگہ سے اٹھا اور آہستہ آہستہ بادشاہ کی طرف بڑھا اور بادشاہ کو ہاتھ لگا کر کہا کہ میں بادشاہ کو لیتا ہوں۔کیونکہ جس کو بادشاہ مل گیا اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز اس محل میں قیمتی نہیں۔

حضور نے فرمایا۔دنیا میں سب سے قیمتی چیز خدا تعالیٰ ہے۔رمضان میں خدا تعالیٰ کا دربار سجتا ہے۔ان مبارک دنوں میں خدا تعالیٰ جو بادشاہوں کا بادشاہ ہےاس کو اپنا بنا لینے کی ضرورت ہے۔اس کا ہو جانے کی ضرورت ہے۔اس کو مل لینے کی ضرورت ہے۔

خدا تعالیٰ کا ہو جانے کیلئے،خداتعالیٰ کو اپنا بنا لینے کے لئے بہت محنت کی ضرورت ہے۔اپنے آپ کو اُس راہ میں فنا کرنےاور فدا ہو جانے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں جہاں 700گناانعامات بڑھا دینے کا ذکر فرمایا ہےوہاں ایک بیج اور دانے کا ذکر فرمایا ہےجو زمین میں بویاجاتا ہےاور وہ700گنا تک پھل دیتا ہے۔

اور رمضان میں ہر نیکی کا اجر700گنا تک ملنے کی ہم اللہ تعالیٰ کے حضور توقع رکھتے ہیں۔مگر اس دانےکی طرح جو اپنی اصلیت کھو کر700گنامیں تبدیل ہو جاتا ہے۔ہمیں اپنے آپ کو مار کر۔خدا کی راہ میں فنا ہو کر۔راتوں کو بیدار ہو کراور راتوں کو بیدار کر کےہر نیکی کے ثواب کو700گنا میں تبدیل کروانا ہے۔اپنی تمام استعدادوں اورقوتوں کو خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے ۔اس کو اپنا بنا لینے کیلئے صرف کرنا ہے۔اور احادیث میں اپنے ماتحتوں کےکام میں تخفیف کرنے کا جو ذکر ملتاہےاس میں ایک سبق یہ بھی ہےتا کہ عبادات کے حقوق کما حقہٗ ادا کر سکیں۔

image_printپرنٹ کریں