skip to Main Content
نور کی شمع

رحمت باری کو دن رات برستے دیکھا
اس کے فضلوں کو صبح شام اترتے دیکھا

راستے جتنے تھے مہدی کے حدیقہ کی طرف
ہم نے دیوانوں کو ہر راہ پہ چلتے دیکھا

اک مسیحا کی صدا نے ہے جگایا جادو
ایک جنگل کو گلستاں میں بدلتے دیکھا

عشق بھی چیز ہے کیا کیسے بیاں ہو اس کا
اک نظر پڑتے ہی اشکوں کو برستے دیکھا

وہ سرِ بزم جو آیا تو عجب عالم تھا
اک تلاطم کو کناروں سے چھلکتے دیکھا

کیا عجب جذب کی طاقت تھی بیاں میں اس کے
اس کی ہر بات کو سینوں میں اترتے دیکھا

زندگی پا کے نئی اور نیا عزم لئے
شکر سے جھولیاں ہر شخص کو بھرتے دیکھا

ہے خلافت بھی عجب شمعِ ہدایت راشدؔ
جس کی خاطر سبھی پروانوں کو جلتے دیکھا

عطاء المجیب راشدؔ۔ لندن

image_printپرنٹ کریں