skip to Main Content
(عابد وحید خان۔ انچارج پریس اینڈ میڈیا آفس لندن): نئے مرکزِ احمدیت ‘اسلام آباد’ میں ایک ہفتہ:(اردو ترجمہ۔ ناصر محمود طاہر)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد فضل لندن کے احاطہ میں 16 بابرکت سال رہائش پذیر رہنے کے بعد 15؍ اپریل 2019ء کو اسلام آباد منتقل ہو گئے۔ تب سے بہت سارے احباب نے مجھے تاریخ کے اس انتہائی اہم باب سے متعلق ڈائری لکھنے کی تحریک کی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ چونکہ میرا اسلام آباد منتقل ہونے کے ساتھ براہ راست تعلق نہیں تھا اس لیے میں کسی بھی طرح اپنے آپ کو اس لائق نہیں سمجھتا تھا کہ اس بارے میں کچھ لکھوں۔
گو کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ حضور اسلام آباد منتقل ہونے والےہیں لیکن حضورِ انور کے احترام کی وجہ سے مجھے کبھی ہمت نہ ہوئی کہ از خود حضورِ انور سے اسلام آباد پراجیکٹ کے بارے میں کوئی سوال پوچھوں۔ حضورِ انور بذاتِ خود گذشتہ کچھ ماہ کے دوران بسااوقات مجھے زیر تعمیرنئے مرکزمیں جاری کام کے بارےمیں کچھ فرما دیتے۔ بہت سارے ایسے احباب ہیں جو اس پراجیکٹ کو زیادہ قریب سے دیکھ رہے تھے اور وہ حضورِ انور کی اسلام آباد منتقلی کے بارے میں مجھ سے زیادہ واقف ہوں گے۔ یقیناً وہ اس کے ہر مرحلہ پربہتر طریق پر روشنی ڈال سکیں گے۔
اس کے علاوہ ‘الحکم’ میں ‘نیا مرکز’کے عنوان سے ایک تفصیلی مضمون شائع ہو چکا ہے جس میں حضورِانور کے بابرکت الفاظ بھی شامل ہیں۔اس لیے میں حضورِ انور کے اسلام آباد منتقل ہونے کے حوالہ سے شاید کوئی نئی بات بیان نہیں کر سکتا۔ تاہم یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں حضورِ انور کے مسجد فضل میں گزرے آخری چند ایام اور اسی طرح اسلام آبادمنتقل ہونے کے بعد پہلے ہفتہ میں حضور انور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتا رہا۔ اس لیے اس بارے میں چند ایک یادداشتیں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔
ایک بہت خاص جگہ
مرکز کی منتقلی کے بارے میں میرے جذبات بھی ہرایک احمدی مسلمان کی طرح، خاص طور پر وہ جو لندن اور اس کے گرد ونواح میں آباد ہیں، ملے جلے تھے۔ایک طرف تو میں افسردہ تھا کہ مسجد فضل کا دَوربطورجماعتی مرکز اختتام پذیر ہو رہا ہے اور دوسری طرف جماعت کی ترقی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ کر مجھے انتہائی خوشی بھی ہوتی تھی کہ اسلام آبادمنتقل ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔
مسجد فضل ایک بہت خاص جگہ تھی اور ہمیشہ رہے گی۔ ہزارہا احمدیوں کی اس مقام کے ساتھ یادیں وابستہ ہیں۔ اس جگہ سے وابستہ میری یادیں میرے بچپن سے شروع ہوتی ہیں۔ یہ وہ مسجد تھی جہاں وقتاً فوقتاً میں اپنے والدین کے ساتھ آیا کرتا تھا۔مجھے ہارٹلے پول سے طویل اور تھکا دینے والے کار کے سفر یا دہیں اور یہ بھی کہ کیسے ہر طرح کی تھکان حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی محبت بھری مسکراہٹ کو دیکھ کر خوشی اور فرحت میں بدل جاتی تھی۔
دسمبر1994ء میں میری والدہ کی وفات کے چند ہفتے بعدحضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نےرمضان المبارک میں مجھے ایک ہفتہ مسجد فضل میں گزارنے کے لیے بلایا۔ یہاں آ کر خلافت کی محبت کی بدولت والدہ کی وفات کاغم گویا بالکل ختم ہو گیا۔ مجھے یہ سعادت بھی نصیب ہوتی کہ روزانہ حضورِ انورؒ کے ساتھ آپ کی رہائش گاہ پر سحری کروں۔ میرادن حضورِ انورکے نواسوں کے ساتھ گزرتا۔ اس دوران کئی مرتبہ حضور کچھ لمحوں کے لیے ہمارے پاس تشریف لاتے اور ہر دفعہ میرا حال پوچھا۔
سال2000ءکے اوائل میں، اپنے والدصاحب کی وفات کے بعد مسجد فضل ہی وہ جگہ تھی جہاں میں اپنے غم کے زخموں کو مندمل کرنے کے لیے گیا۔ ان کی وفات کے چند دن بعد میرا سارا خاندان حضور سے ملاقات کرنے گیا۔ میرے بڑے بھائی اور بڑی بہنوں کے علاوہ میرے انکل اور آنٹیاں بھی اس ملاقات میں شامل تھیں۔ میں حضور کے دفتر کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ میرا خیال تھا کہ حضور مجھے دیکھ نہیں سکتے تھے لیکن آپ نے مجھے دیکھا اور میرے کرب اور غم کو محسوس کیا۔میں حیران رہ گیا جب حضور اپنے سامنے والی کرسیوں کے اوپر سے میری طرف جوکہ ایک سترہ سال کا ناکارہ اور کمزور سا لڑکا تھا متوجہ ہوئے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے بہت محبت اور شفقت سے فرمایا۔
‘مجھے تمہاری بڑی فکر ہے۔’’
حضورؒنے پھر میرے بہن بھائیوں اور بڑے رشتہ داروں کی طر ف دیکھا اور فرمایا۔
‘‘بہتر ہے کہ عابدکی شادی ہو جائے۔ یہ جوان ہو چکا ہے اور ابھی تک settleنہیں ہوا۔’’
یہ جان کر کہ حضور میرے لیے فکرمند ہیں اور لازماً میرے لیے دعا بھی کریں گے، میرا خوف اور مایوسی دُور ہوگئی۔
یہ کرب اور خوف کی کیفیت اپریل 2003ء میں اس وقت لَوٹ آئی جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا وصال ہوا۔ مجھے یہ ڈر محسوس ہوا کہ خلافت سے میرا ذاتی رشتہ اورتعلق گویا ختم ہو گیاہے۔ لیکن محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب سے زیادہ بابرکت ایام، سب سے زیادہ خوش قسمت لمحات، سب سے زیادہ محبت بھرے لمحے آئندہ آنے والے تھے جو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی معیّت میں گزرنے تھے۔
مسجد فضل وہی مسجد تھی جہاں حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے میری شادی کروائی۔ یہ وہی مسجد تھی جہاں حضور نے انتہائی مایوسی کے دنو ں میں ہمیں یہ یقین دہانی کرائی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اولاد کی نعمت عطا فرمائے گا۔ اور سب سے زیادہ قابلِ ذکر امر یہ کہ یہ وہی مسجد تھی جہاں حضورنے ایک نوجوان اور ناتجربہ کار لڑکے کی خدمت کو قبول فرمایا۔ یہ وہی مسجد تھی جہاں اگلے 12؍سال مَیں نے حضورسے بہت کچھ سیکھنے، آپ کی محبت کو محسوس کرنے، خلافتِ احمدیہ کی عظمت کا بارہا تجربہ کرنے، زندگی کے اسلوب سیکھنے، اور دنیا کے عظیم ترین استاد سے ہزاروں ملاقاتوں کے دوران روزانہ کی بنیاد پرحقیقی روحانیت اوراعلیٰ ترین دیانتداری کے معیار کا مشاہدہ کرنے کی سعادت پائی۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
مسجد فضل میرے لیے جائے امن تھی۔ یہ میری زندگی کا محور تھی۔پس جہاں ادب اور اطاعت کی وجہ سے میں نے حضور سے کبھی اسلام آباد منتقل ہونے کے بارے میں نہیں پوچھا ، وہاں یہ خوف کی وجہ سے بھی تھا۔نامعلوم ساخوف! اسلام آباد میں زندگی کیسی ہوگی؟ کیا یہ مختلف ہوگی؟کیا یہ کبھی پہلے جیسی بھی ہوسکتی ہے؟
میرے جیسے افراددور اندیشی سے کام نہ لیتے ہوئے صرف یہ دیکھتے ہیں کہ چیزیں ہمیں ذاتی طورپر کس طرح متاثر کرتی ہیں، جبکہ حضرت خلیفۃ المسیح ہمیشہ جماعت کی مجموعی ضروریات پر نظر رکھتے ہیں۔چنانچہ یہ بات حضورانورکے 12؍ اپریل 2019ءکے خطبہ جمعہ سے ایک دفعہ پھر ثابت ہوئی جب حضور نے اسلام آباد منتقل ہونے کا ذکر فرماتے ہوئے اس کی وجوہات بیان فرمائیں۔حضورِ انور نے یہ واضح فرمایا کہ یہ ضروری تھا اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق بھی۔
مسجد فضل میں آخری ملاقات
روانگی سے ایک دن قبل14؍ اپریل 2019ء کو میں صبح کے وقت مسجد فضل میں حاضر ہوا جس وقت اقوام متحدہ کے ایک سینئر مندوب کی حضور کے ساتھ ملاقات تھی۔
حضورِ انور کا دفتر زیادہ تر خالی ہو چکا تھا۔ کتابوں والی الماری جوکہ پہلے مکمل طور پر بھری ہوتی تھی، اب بالکل خالی تھی۔ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کا دفترمختلف ڈبوں سے پوری طرح بھرا ہوا تھا۔سامان سے بھرے ڈبے پیک ہو چکے تھے یا پیکنگ کے مراحل میں تھے۔ بہت سارے پہلے ہی اسلام آباد بھجوائے جا چکے تھے۔
مہمان کے ساتھ ملاقات اچھی رہی۔ انہوں نے حضور کی روزمرہ مصروفیات پر حیرانی کا اظہار کیا۔ اس پر حضورِ انورمسکرائے اور فرمایا۔
‘‘جس آدمی نے آپ کو میرے شیڈیول کے بارے میں بتایا ہے اسے میرے شیڈیول کاپانچ، دس فیصد ہی پتا ہے!’’
میٹنگ کے آخر پر مہمان نے حضورِ انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی درخواست کی۔ جماعت کے فوٹوگرافرعمیر علیم صاحب نے تصویر بنائی۔ ایم ٹی اے کا ایک نمائندہ بھی حضورِ انور کی مسجد فضل میں کسی اعلیٰ عہدیدار کے ساتھ آخری ملاقات کے اختتامی لمحات کو محفوظ کرنے کے لیے موجود تھا۔
میں حیران رہ گیا جب آفیشل فوٹوکے بعد حضور نے مجھےدوسری تصویر میں شامل ہونے کا ارشاد فرمایا۔ گزشتہ سالوں میں سینکڑوں مہمانوں اور اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ ہونے والی تصاویر کے وقت مَیں موجود ہوتا تھا لیکن اس سے پہلے کبھی یہ سعادت میرے حصے میں نہ آئی تھی۔
مجھے یوں لگا جیسے شاید حضور نے یہ خیال فرمایا ہوکہ مسجد فضل میں یہ کسی مہمان کے ساتھ آخری تصویر ہے اس لیے ازراہ ِ شفقت آپ نے مجھے بھی اس تاریخی لمحے میں شامل فرما دیا۔ اس پر میرا دل شکر کے جذبات سے پُر تھا۔
ایک نیا مرکز
15 اپریل 2019ء کو نماز عصر کے کچھ دیر بعد حضورِ انور مسجد فضل سے روانہ ہوئے۔ اگرچہ میں جانتا تھا کہ مجھے روزانہ اسلام آباد میں حضورِ انور کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت حاصل رہے گی لیکن پھر بھی اُس وقت وہاں پر حضورِ انور کو الوداع کہنے کے لیے موجود دوہزارسے زائد احباب سمیت میری کیفیت بھی بہت جذباتی تھی۔
حضورِ انورکے مسجد فضل سے رخصت ہونے پر جو بھی غم تھا وہ اسلام آباد کمپلیکس کوپہلی بار دیکھتے ہی فی الفور انتہائی خوشی میں بدل گیا۔ یہ ایک نہایت مسحورکن منظر تھا۔ اس میں وہ سب کچھ تھا جو میں نے تصور کیا تھا بلکہ شاید اس سے بھی کہیں زیادہ یہ مسجد نہایت خوبصورت اور دیدہ زیب ڈیزائن کی تھی اور یقیناً یہ جگہ خلافت کے مسکن کے طورپر موزوں تھی۔
پرائیویٹ سیکرٹری، ایڈیشنل وکالت تبشیر، ایڈیشنل وکالت مال اور وکالت تعمیل وتنفیذ کے نَو تعمیر شدہ دفاتر ابھی پوری طرح کام کے لیے تیا ر نہ تھے۔ مگر پھر بھی پہلے دفاتر سے بہترڈیزائن کیے گئے ہیں اوریقیناً کام کرنے کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوں گے۔
ابھی تک میں نے وہ دفترنہیں دیکھا تھا جسے دیکھنے کی مجھے سب سے زیادہ تمنّا تھی اوروہی واحد دفتر تھا جسے دیکھنے میں مجھے دلچسپی تھی۔ حضورِ انور اور آپ کے نئے دفترکو دیکھنا میرے لیے ایک نہایت جذباتی خواہش بن چکا تھا۔
نیا دفتر، پرانا معمول
کئی سال سے مجھے حضورِ انور کی خدمت میں روزانہ حاضر ہونے کی توفیق مل رہی ہے۔ چنانچہ جب یہ بات واضح ہوئی کہ حضورِ انور اسلام آباد تشریف لے جارہے ہیں تو میں اس سوچ میں رہا کہ کیا مجھے اب بھی یہ بابرکت سعادت نصیب ہو گی یا نہیں۔
مجھے ذاتی طور پرشعروشاعری سے کچھ زیادہ شغف نہیں مگر نئے دفاتر میں جانے سے کچھ ہفتے قبل مجھے خواہش پیدا ہوئی کہ میں اپنے دلی جذبات حضورِ انور کی خدمت میں پیش کروں۔ سو میں نے چندایک اشعار لکھے ۔ شاعری سے واقف لوگ انہیں یقیناً غیر معیاری اور بالکل عام سے اشعار تصور کریں گے۔
میں خود بھی حضورِ انور کی طرف سے کسی جواب کا منتظر نہ تھا مگر چند دن بعد ہی مجھے حضورِ انور کا خط ملا جس میں لکھا تھا کہ حضور نے میری نظم پڑھی ہے۔
گو مَیں نے اس میں حضور کو روزانہ رپورٹ کرنے کے معمول کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی تھی ، مگر حضور نے کچھ اس طرح جواب دیا کہ آپ ان خدشات کوجو مَیں محسوس کر رہا تھا اچھی طرح سمجھ گئےہیں ۔
حضورِ انور نے اپنے دستِ مبارک سے تحریر فرمایا۔
‘‘خواہ میں اسلام آباد میں ہوں یا لندن میں، تمہارا معمول وہی رہے گا۔ تم روزانہ مجھے رپورٹ کیا کرو گے۔’’
بہرحال جب 16؍اپریل 2019ء کی شام مَیں اسلام آباد میں حضورِ انور کے نئے دفتر کے باہر بیٹھا ہوا تھا تو معمول سے زیادہ نروس تھا۔ سوا چھے بجے منیرجاوید صاحب ، پرائیویٹ سیکرٹری نے جب میرا نام پکارا تو میں نے ایک لمبا سانس بھرا اور حضور کے دفتر میں داخل ہوگیا۔ حضورانور اپنی میز پر کام میں مصروف تھے لیکن جب میں اند داخل ہوا تو حضور نے مجھے دیکھا اور مسکرائے۔ یہ ایک نہایت محبت اور شفقت بھری مسکراہٹ تھی۔
حضورِ انورکا چہرہ چمک رہا تھا۔ آپ نہایت پُروقار اور شگفتہ لباس میں ملبوس تھے۔ آپ نے شلوار قمیص اور اچکن زیبِ تن فرما رکھی تھی مگر پگڑی اتاری ہوئی تھی۔
حضورِ انور کا دفتر پہلے والے دفتر سے زیادہ کشادہ تھا۔ لمبائی میں تو کافی بڑا تھا اور کچھ حد تک چوڑائی میں بھی۔ ابھی تک دفتر کی سیٹنگ مکمل نہیں ہوئی تھی۔ گوکہ حضورِ انور کی کرسی کے عقب میں موجود کئی الماریوں میں کتب رکھی جا چکی تھیں مگر کئی ایک خالی بھی تھیں۔ ایک طرف ایک الماری تھی جس میں وہ تصاویر اورقیمتی اشیاء تھیں جو حضور مسجد فضل میں رکھا کرتے تھے۔ قالین کی بجائے فرش پر ٹائلیں نصب تھیں۔
حضورکے دفتر میں ایک چیزجو پہلے جیسے ہی رہی وہ حضورکی میز پر موجود کاغذات وغیرہ تھے۔ اس پر وہی تمام فائلیں موجود تھیں جن پر حضورِ انور سارا دن کام کرتے تھے۔ گھر تبدیل کرنے کے دوران بھی حضورِ انور کا کام متاثر نہ ہوا تھا بلکہ پہلے کی طرح جاری رہا ۔ میں آہستہ آہستہ حضور کی میز کی طرف بڑھا کیونکہ میں غلطی سے بھی کسی چیز کو گرانا نہیں چاہتا تھا اور حضورِ انور کے دفتر میں گزرنے والا ایک ایک لمحہ خاص احساس میں گزارنا چاہتا تھا۔ جب میں حضور کی میز کے سامنے بیٹھ گیا تو حضورِ انور کی دل نشیں مسکراہٹ نے میرا استقبال کیا اور آپ کے الفاظ نے میرا دل باغ باغ کر دیا۔حضورِ انور نے فرمایا۔
‘‘اس دفتر میں پہلی ملاقات تم کر رہے ہو ۔’’
یہ الفاظ سن کر جہاں میں اپنی اس سعادت پر خوش ہو رہا تھا وہاں اس ناچیز پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سوچ کر آنکھیں بھر آئیں۔ میں جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ میں یہ لمحات زندگی بھر نہیں بھلا سکوں گا۔ جب تک میں زندہ رہوں گا میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھوں گا کہ میں خلیفۃ المسیح کے ساتھ آپ کے اسلام آباد کے دفتر میں ملاقات کرنے والا پہلا شخص تھا۔ الحمد للہ
شاید حضور نے بھانپ لیا کہ میں جذبات پر قابو نہیں رکھ پا رہا تو آپ نے بات کا رخ بدل دیا اور دریافت فرمایا کہ مجھے اسلام آباد آنے میں کتنا وقت لگا؟ میں نے عرض کیا کہ ایک گھنٹہ۔ کیونکہ ایک جگہ راستہ بدلنے کی وجہ سے مجھے 15 منٹ تاخیر ہوئی تھی۔ اس کے جواب میں حضورِ انور نے فرمایا۔
‘‘یہ کوئی زیادہ وقت نہیں۔’’
دل تو بہت چاہ رہا تھا کہ حضور مجھ پر ترس ہی کھا لیں ! مگر حضورِ انور نے تو واضح فرما دیا کہ ایک گھنٹے کا سفر واقفِ زندگی کے لیے کچھ زیادہ نہیں۔ یہ بھی حضورِ انور کا تربیت کا ایک طریق تھا۔ ایک لحظہ قبل آپ نے ہی مجھے بتایا تھا کہ میں آپ کے دفتر میں شرفِ ملاقات کرنے والا پہلا شخص تھا۔ اور دوسرے ہی لمحے مجھے بتا دیا کہ میں کسی خاص ذاتی سہولت کی توقع نہ رکھوں ۔آپ ایک لمحے میں آسمان سے مجھے زمین پر لے آئے۔
جب میں حضور کے دفتر میں تھا تو احساس ہوا کہ مجھے مسجد فضل سے زیادہ اونچا بولنا پڑے گا۔ کیونکہ یہ دفتر زیادہ کشادہ اور چھت اونچی تھی اس لیے حضورِ انور اور میرے درمیان فاصلہ بھی کچھ زیادہ تھا۔
میں نے فوراً حضورِ انور کی خدمت میں مبارک باد پیش کی اور عرض کیا کہ حضور کا نیا دفتر خلافتِ احمدیہ کے مقام کی نسبت سے زیادہ موزوں ہے۔ مجھے یہ بات خاص طور پر اچھی لگی کہ دفتر بالکل مستطیل نماتھا جبکہ مسجد فضل والا دفتر چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ وسیع کیا گیا تھا اس لیے اس کی ہیئت بظاہر بے قاعدہ سی تھی۔
حضورِ انور کی طبیعت میں عاجزی اور سادگی کچھ ایسی ہے کہ آپ کو صرف کام کے لیے جگہ چاہیے۔ آپ کو بہت زیادہ کھلی یا غیر معمولی جگہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ درحقیقت حضورِ انوراپنے پہلے دفتر سے زیادہ مانوس تھے۔
حضورنے فرمایا۔
‘‘مجھے اپنا مسجد فضل والا دفتر زیادہ پسند تھا۔ویسے میں نے ابھی اس دفتر کی settingمکمل نہیں کی اور شاید یہاں ایک صوفہ بھی رکھا جائے ، پھر دیکھیں گے کیسا لگتا ہے۔’’
ان ابتدائی لمحات کے بعد حضورِ انورنے مجھے ڈیلی بریفنگ (daily briefing)پیش کرنے کی ہدایت فرمائی اور حضور نے وہ پریس ریلیز بھی چیک کی جو میں نے اسلام آباد منتقل ہونے کے حوالے سے تیار کی تھی۔ آپ نے خودکئی چیزیں درست فرمائیں اور کئی ایک جملوں میں اپنے قلم ِمبارک سے تصحیحات کیں۔
دفتری امور سے متعلق میٹنگ مکمل ہونے کے بعد حضورِ انور نے ازراہ ِ شفقت مجھے مزید کچھ وقت دفتر میں رہنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اس پر میں نے حضورِ انور سے ایک سوال پوچھا جو میرے دل میں حضور کے مسجد فضل سے رخصت ہونے کے وقت سے تھا۔ میں نے عرض کیا۔
‘‘حضور کل جب آپ مسجد فضل سے رخصت ہوئے توکیا آپ جذباتی ہوئے تھے؟’’
حضورِ انور نے فرمایا۔ ‘‘یہ میراطریق نہیں ہے کہ زیادہ جذباتی ہو جاؤں۔ میں جہاں بھی جاتا ہوں جلدہی settle ہو جاتاہوں۔ میرا ہمیشہ سے یہی طریق رہا ہے۔ اسلام آباد میں مجھے اپنی نئی routineکا عادی ہونے میں صرف ایک گھنٹہ لگا۔ اور رات کو مجھے بغیر کسی دِقت کے پرسکون نیند آئی۔’’
نہایت دلآویز انداز سے حضورِ انور نے مزید فرمایا۔
‘‘لیکن میں مسجد فضل 15۔16 سال رہا ہوں اس لیے اس میں شک نہیں کہ میرا مسجد فضل سے ایک تعلق ہے اور اس سے بہت ساری یادیں وابستہ ہیں۔ وہاں مَیں روزانہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مشاہدہ کرتا رہا ہوں ۔ جب میں وہاں سے روانہ ہوا تو یقیناً مسجد فضل سے لگاؤ کے جذبات تھے اور یہ ہمیشہ میرے دل میں رہیں گے۔’’
پھر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ مسجد فضل میں آج نماز ِ فجر پر کتنے لو گ حاضرتھے۔ میں نے وہاں قریب رہنے والے ایک دوست سے بذریعہ text پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مسجد تقریباً بھری ہوئی تھی۔ حضور یہ سن کر خوش ہوئے۔ لیکن کچھ دن بعد حضور کو بتایا گیا کہ نماز فجر پر حاضری کم ہو گئی ہے۔
اس کے بعد حضورِ انور نے مجھے فرمایا کہ کھڑکیوں سے دفتر کے باہر دونوں طرف کا نظارہ کروں۔ حضور نے یہ بھی فرمایا کہ دفتر کے بالکل پیچھے والے کمرے کو بھی دیکھوں جوکہ ابھی تک پوری طرح تیار نہیں ہوا تھا لیکن جب یہ مکمل تیار ہو جائے گا تو اسے چیدہ چیدہ مہمانوں سے ملاقات کے لیے استعمال کیا جائے گا جیسا کہ مسجد فضل والے دفتر سے ملحقہ کمرہ استعمال ہوا کرتا تھا۔
ملاقات ختم ہونے کے بعد جونہی میں حضورِ انور کے دفتر سے باہر نکلا تو مجھے یہ محسوس ہوا کہ حضور اسلام آباد تشریف لا کر خوش اور مطمئن ہیں۔ یہ بات بھی میرے ذہن میں آئی کہ کس طرح 24گھنٹے کے اندر دنیا کا مرکزSurrey کا ایک چھوٹا سا گاؤں بن گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمتیں
اگلے دن سہ پہر کے وقت میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا اور رپورٹ پیش کی۔ حضور نے فرمایا کہ کیا میں نے اسلام آبادمیں نو تعمیر شدہ رہائشی مکان دیکھے ہیں؟ میں نے عرض کیا حضور صرف باہر سے دیکھے ہیں۔ اس پرحضور نے فرمایا۔
‘‘اگرحافظ اعجاز صاحب (استاد جامعہ احمدیہ)کے ساتھ تمہارے اچھے تعلقا ت ہیں تو ان سے کہو، شایدوہ تمہیں اپنا گھر دکھا دیں۔’’
حضورِ انور نے مجھے یہ بھی بتایا کہ بڑے (multi-purpose)ہال کو کیسے تعمیر کیا گیا ہے۔ چھت سبز رنگ کے ایک خاص مواد سے ڈھانپی گئی ہے تاکہ اسلام آباد کے گردونواح میں جو مجموعی طور پرسرسبز ماحول ہے وہ متاثر نہ ہو۔
حضور نے نہایت افسوس کے ساتھ یہ بھی بیان فرمایا کہ حضورکے علم میں آیا ہے کہ بعض لوگوں نے یہ باتیں کی ہیں کہ اسلام آباد کی تعمیر پر بہت زیادہ خرچ کر دیا گیا ہے۔
جب حضور یہ فرما رہے تھے تو صاف ظاہر تھا کہ اس بات سے حضورِ انورکو بہت تکلیف اور دکھ پہنچا تھا۔
حضورِ انور نے فرمایا۔
‘‘ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اسلام آباد کے پراجیکٹ کے لیے کوئی خصوصی تحریک نہیں کی گئی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے تعمیر ہواہے۔ دنیا بھرمیں کسی جگہ بھی جماعت کے کسی پروجیکٹ کو اس کی وجہ سے روکا نہیں گیا۔ مثلاً مالی میں ابھی حال ہی میں ایک بہت خوبصورت مسجد کا افتتاح ہوا ہے۔’’
حضورِ انور نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا بھی ذکر کیا جو میں آپ کو دکھا چکا تھا جس میں راولپنڈی کے ایک احمدی نے اسلام آباد پراجیکٹ پر اعتراض کرنے والوں کے جواب میں لکھا تھا کہ جب کوئی شخص بیعت کرلے تو اس کی ذاتی پسند اور ناپسندخود بخود خلیفۂ وقت کی پسند ناپسند کے مطابق ہو جانی چاہیے۔ اور یہی ایک متحد جماعت کی پہچان ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا۔
‘‘یہ بات ایک سچے احمدی کی نمائندگی کرتی ہے۔’’
مقدّر میں لکھی بات
جمعرات 18؍ اپریل 2019ء کو مَیں حضورِ انور کے دفترمیں داخل ہوا اور عرض کیا کہ مَیں نے اسلام آباد میں حافظ اعجاز صاحب کا گھردیکھا ہے جن کی فیملی کو اسلام آباد کے نَو تعمیر ہونے والے کمپلیکس میں سب سے پہلے رہائشی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔
حضور یہ سن کر خوش ہوئے۔ اور آپ نے اسلام آباد میں واقفین ِزندگی کے لیے تعمیر ہونے والے گھروں کے بارے میں مزید تفصیلات بیان فرمائیں۔
حضورِ انور نے فرمایا۔
‘‘ان شاء اللہ جب تما م گھرتیار ہوجائیں گے تو یہاں ایک پوری کمیونٹی بن جائے گی۔ مسجد اور دیگرعمارات پر ابھی مزید کام ہونے والا ہے۔اور جب یہ مکمل ہو جائے گا توہم بچوں کے لیے ایک چھوٹا سا پارک بھی بنائیں گے تاکہ وہ اس میں کھیل سکیں۔’’
اس کمپلیکس کی تعمیرات اوران کے ڈیزائن کی تمام تر تفصیلات حضورِ انور کی راہنمائی اور ہدایات کے مطابق تیار ہوئی ہیں۔ اورجس طرح حضور نے اس کا نقشہ کھینچا اس سے یوں محسوس ہوا کہ یہ زمین پرایک جنت ہے۔
اُس دن کی بقیہ ملاقات میرے لیے انتہائی شرمندگی اور صدافسوس کا باعث تھی۔ MTA News کی تیار کردہ ایک رپورٹ جوحضورِ انور کے اسلام آباد منتقل ہونے کے بارے میں تھی ، میں پہلے ہی منظوری کے لیے پیش کر چکا تھا۔ ملاقات کے دوران حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ رپورٹ مناسب نہیں ہے۔ حضور نے مزید فرمایا کہ رپورٹ کے الفاظ اورtoneسے غلط تأثر ملتا ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا۔
‘‘رپورٹ میں تم نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسلام آباد منتقل ہونا میرے دور میں شروع ہونے والی کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خواہش تھی۔ یہ اُس وقت سے مقدَّر تھا جب سے اسلام آباد کی زمین خریدی گئی تھی۔ یہ درحقیقت ایک نشان ہے کہ کس طرح خلافتِ احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے مشن کو پورا کر رہی ہے۔ اگر کوئی کام ایک دَورِ خلافت میں مکمل نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے آئندہ دَور میں پورا فرما دیتا ہے۔ میں نے اپنے خطبے میں بھی بیان کیا تھاکہ ہر چیز کا ایک وقت مقررہوتا ہے ۔’’
مجھے انتہائی شرمساری اور دکھ ہوا مگر پھر بھی مَیں نے حضورِ انورکی شفقت اور محبت کا مشاہدہ کیا۔ رپورٹ کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد حضور نے بہت شفقت کے ساتھ میری راہنمائی فرمائی کہ اسے کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے اور آپ نے بذات ِخودسکرپٹ کے بعض حصے لکھوائے۔ جب ملاقات ختم ہوئی اور میں باہر نکلنے لگا تو حضور نے فرمایا۔
‘‘حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں ایک سال جلسہ سالانہ کے پہلے دن حضرت مصلح موعودؓ نے محسوس کیا کہ جلسہ گاہ میں لوگوں کے سہولت کے ساتھ بیٹھنے کے لیے جگہ کم ہے۔ اس بات کا ذکر آپؓ نے اپنے افتتاحی خطاب میں بھی فرمایا۔’’
اس کے بعد جو ہوا اس کو بیان کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا۔
‘‘حضرت مصلح موعودؓ کے الفاظ سن کر حضرت مرزا ناصراحمدؒنے نو جوانوں کو اکٹھا کیا اور ساری رات جلسہ گاہ کو کشادہ کرنے اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام کیا۔ اگلی صبح جب حضرت مصلح موعودؓ نےیہ دیکھا تو آپ بہت خوش ہوئے۔’’
حضورِ انور نے فرمایا: ‘‘یہ ہے وہ جذبہ جس کے ساتھMTA کے کارکنان اور واقفینِ زندگی کوہمیشہ سب کام کرنے چاہئیں۔ جس کسی نے بھی اسلام کی خاطر اپنی زندگی وقف کی ہے اسے ہرگز یہ خیال نہیں ہونا چاہیے کہ رات کے آٹھ بج گئے ہیں اور اب کام ختم۔بلکہ انہیں اُس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھنا چاہیےجب تک کام ٹھیک طریقے سے مکمل نہ ہو جائے۔’’
میں اس افسوس کے ساتھ میٹنگ سے رخصت ہوا کہ خلیفۂ وقت جو معیا ر چاہتے ہیں ہم اس تک نہیں پہنچ سکے لیکن مجھے یقین تھا کہ اب ہم بہت بہتر رپورٹ تیارکرسکیں گے کیونکہ حضورِ انور نے بہت واضح راہنمائی اور ہدایات عطا فرمائی تھیں۔
میں نے اپنی کار میں بیٹھ کر نیوز رپورٹ کا سکرپٹ (script)دوبارہ لکھا اور پھر MTA ٹیم رات دیر تک کام کرکے حضورِ انور کی ہدایات کے مطابق رپورٹ تیا ر کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
الحمدللہ اگلے دن حضورِ انور نے فرمایا کہ آپ نے نئی رپورٹ دیکھ لی ہے جو بہت بہتر ہے۔ البتہ حضور نے یہ بھی توجہ دلا دی کہ ہمیں عاجزی کے ساتھ رہنا چاہیے۔
حضورِ انور نے فرمایا۔ ‘تمہاری نظر ثانی شدہ رپورٹ ابتدائی ڈرافٹ سے بہت بہتر ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اسے اتنی پذیرائی ملے گی جتنی ‘الحکم ’کے مضمون کو ملی ہے جوآج شائع ہوا ہےجس میں مسجد فضل کی یادوں اور یہاں منتقل ہونے کی وجوہات کا ذکر ہے۔’’(نوٹ: اس مضمون کے لیے ملاحظہ فرمائیں ہفت روزہ ‘الحکم’ 19؍اپریل 2019ء)
اس پر میں نے عرض کیا۔ ‘‘ حضور، آپ نے درست فرمایا الحکم کا مضمون بہت بہتر ہے کیونکہ اس میں اس مرکز میں منتقل ہونے کے بارے میں حضورِ انور کے اپنے الفاظ درج ہیں۔ خلیفۂ وقت کے اپنے الفاظ کے قریب بھی کوئی اور چیز نہیں پہنچ سکتی۔’’
لندن آنے جانے کا سفر
جمعۃ المبارک 19؍ اپریل 2019ء کوحضورِ انور اسلا م آباد منتقل ہونے کے بعد پہلی مرتبہ یہاں سے روانہ ہوئے۔ حضورِ انور خطبہ جمعہ ارشاد فرمانے کے لیے بیت الفتوح تشریف لے گئے۔ اورجمعہ کے فوراً بعد اسلام آباد واپس تشریف لے آئے۔
نماز عصر کے تھوڑی دیر بعد میری حضورِ انور کے ساتھ ملاقات تھی جس میں مَیں نے عرض کیا کہ حضور کا بیت الفتوح کا سفر کیسا رہا؟
حضورِ انور نے فرمایا۔
‘‘جاتے ہوئے لندن سے آنے والی ٹریفک کافی زیادہ تھی، چونکہ ایسٹرکا ہفتہ ہے اس لیے بہت سارے لوگ چھٹیاں منانے جا رہے ہوں گے۔شکر ہے لندن کی طرف جانے والی سڑک زیادہ تر خالی تھی اس لیے ہم وقت پر پہنچ گئے اور خطبہ بھی وقت پر شروع ہو گیا۔ اسلام آباد واپس آتے ہوئے بھی سڑک خالی تھی اور ہم جلدی واپس پہنچ گئے۔ میں نے تقریباً اسی وقت دوپہر کا کھانا کھایا جس وقت جمعہ کے دن میں مسجد فضل میں کھاتا تھا۔’’
حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔
‘‘دراصل واپسی کے سفر میں نظمیں سنتے ہوئے میری آنکھ لگ گئی تھی اور میں اس وقت بیدار ہوا جب ہم اسلام آباد کے قریب پہنچ چکے تھے۔’’
میں خوش تھا کہ حضورِ انور کو جمعہ کے بعد سفرمیں کچھ منٹ آرام کا موقع مل گیا۔ الحمد للہ
اس کے بعد حضورِ انور نے فرمایا کہ نیا دفتر ابھی تک پوری طرح تیار نہیں ہوا۔ آپ نے فرمایا۔ ‘‘اگرچہ میرے سٹاف نے کتابوں کے شیلف ترتیب دینے کا اچھا کام کیا ہے لیکن یہ پوری طرح میری ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے میں اسے دوبارہsetکر رہا ہوں۔ اور اب زیادہ تر کتابیں ٹھیک جگہ پر ہیں۔ جہاں تک باقی دفتر کا تعلق ہے تو جیسے جیسے مجھے وقت ملے گا آہستہ آہستہ ٹھیک کروں گا۔’’
ایک دل سوز لمحہ
الحمدللہ میں نے یہ ہفتہ حضورِ انورسے ملاقاتوں میں گزارا اور یہ مشاہدہ کیا کہ حضورکا معمول بالکل بھی تبدیل نہیں ہوا۔ جگہ اگرچہ مختلف ہے لیکن حضرت اقدس مسیح موعود ؑکا مشن اسی طرح جاری ہے جس طرح پہلے بھی جاری وساری تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
ایک وقت تھا جب قادیان ایک گمنام بستی تھی ۔ ایک وقت تھا جب ربوہ ایک بے آباد اور ویران مقام تھا۔ ایک وقت تھا جب Southfieldsلندن کا ایک غیر معروف حصہ تھا۔ اب ان مقامات کو دنیا بھرکے لوگ جانتے ہیں اور ان کے نام تاریخ عالم میں ہمیشہ روشن رہیں گے۔ اور اب یہی ‘‘ٹلفورڈ سرے’’ کے بارےمیں کہا جاسکتا ہے۔
اب جبکہ جماعت احمدیہ کا مرکز اور میری زندگی کا محور بھی اسلام آباد ہے، حضورِ انور کے وہ الفاظ جو آپ نے چند ہفتے قبل مجھ سے مسجد فضل میں فرمائے تھے، ہر وقت میرے ذہن میں گونجتے ہیں۔ مارچ کے مہینے میں ایک روز بعد دوپہر حضورانوراسلام آباد پروجیکٹ کا معائنہ فرمانے کے بعد مسجد فضل پہنچے۔ حضور نے ازراہِ شفقت مجھے اسلام آباد کی چند تصاویر اورایک وڈیو دکھائی تو مَیں مختلف عمارات میں ہرایک چیز کی مکمل تفصیل اور ان کی وسعت اور خوبصورتی کو دیکھ کر دَنگ رہ گیا۔
مجھے تصاویر دکھانے کے بعد حضورِ انور نے جو فرمایا اس سے میرا دل کانپ اٹھا اور میں اداس سا ہوگیا۔ لیکن سچ پوچھیں تو حضورِ انور کے الفاظ سن کر میرا دل حضورِ انور کی محبت میں اور بھی سرشار ہوگیا۔ حضور نے کمال عاجزی سے اسلام آباد کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا۔
‘‘اب میرے بعد آنے والے خلفاء کو بہتر سہولیات میسر ہوں گی اور وہ یہ کہہ سکیں گے کہ مَیں نے بھی اُن کے لیے اور جماعت کے لیے پیچھے کچھ چھوڑا ہے۔’’
اس بات کو ہوئے ہفتوں گزر چکے ہیں لیکن اب بھی ان الفاظ کو یاد کرکے میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ اور جس بات کا ذکر حضور نے فرمایا اس کا تصور بھی اپنے ذہن میں لانا میرے لیے ممکن نہیں کیونکہ میرا دل اس کی اجازت نہیں دیتا، میرادماغ اس سوچ سے ہی مفلوج ہو جاتا ہے۔
حضورِ انور کی اس بات کے جواب میں مَیں حضورِ انور کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ آئندہ آنے والے خلفاء حضورِ انور کونہ صرف اسلام آباد منتقل ہونے کی بابرکت وجہ سے یاد رکھیں گے بلکہ ہمیشہ اس حقیقت کی وجہ سے بھی یاد رکھیں گے کہ حضور نے اپنی ذات کا ذرہ ذرہ اور جسم کا روآں روآں جماعت کے لیے قربان کردیا۔ وہ اپنے پورے دل کے ساتھ آپ سے محبت کریں گے اور آپ کی عزت کریں گے جس طرح حضور اپنے سے پہلے خلفاء سے محبت اور ان کی عزت کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کی خواہشات کا احترام فرماتے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ حضورِ انور کا اسلام آباد تشریف لانا بھی حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خواہش کے احترام میں ہےاور اُن کی اس آرزو کو پورا کرنے کے لیے ہے کہ اسلا م آباد کو مرکز بنایا جائے۔
لیکن میں خاموش رہا اور دل میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے محبوب آقا کو صحت وسلامتی والی لمبی زندگی عطا فرمائے۔آمین
یہ میری زندگی کا ایسا یادگار لمحہ تھا جوہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضورِ انور کی کمال شفقت اور مہربانی سے مجھے لندن میں پریس اور میڈیا کے دفتر کے علاوہ یہاں تبشیر کے دفتر میں اپنے کام کے لیے جگہ عنایت کی گئی ہے۔ دوپہر اور شام کے اوقات میں مجھے اسلام آباد میں پیارے حضور کے قرب میں کام کرنے اور نماز مغرب تک یہاں رہنے کی سعادت مل رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ مجھے ہمیشہ خلافت کی عاجزانہ خدمت کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے اورحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز کی قیادت میں اسلام آباد منتقل ہونا ہر لحاظ سے مبارک اور جماعت کی ترقیات کا موجب بنائے۔آمین

(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل24مئی 2019ء)

image_printپرنٹ کریں