skip to Main Content
شیخ طاہر احمد نصیر: نواب مودود احمد خان سابق امیر جماعت احمدیہ ضلع کراچی

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بنت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب  آف مالیر کوٹلہ کے پوتے اور نواب مسعود احمد خان صاحب اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی صاحبزادی محترمہ طیبہ صدیقہ صاحبہ کے صاحبزادے تھے ۔ اسی طرح حضر ت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نواب مودود احمد خان صاحب کی پھوپھی تھیں۔ نواب مودود احمد خان صاحب14 اور 15 جولائی 2019 ءکی درمیانی شب 78 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔

مرحوم 12 اپریل 1941 کو قادیان میں پیدا ہوئے۔جب آپ کی پیدائش ہونے والی تھی آپ کی والدہ صاحبہ کو آپ کی دادی حضرت نواب مبارکہ بیگم نے ایک دعائیہ نظم لکھ کر دی جو یہ تھی ۔

میرے   مولا   کٹھن   ہے  راستہ   زندگانی   کا
مرے   ہر ہر  قدم   پر  خود  راہ آسان پیدا کر
تری نصرت سے ساری مشکلیں آسان ہو جائیں
ہزاروں  رحمتیں  ہوں فضل کے سامان پیدا کر
جو تیرے عاشقِ صادق ہوں فخرِ آلِ احمد ہوں
الہٰی  نسل  سے  میری  تُو   وہ   انسان   پیدا  کر

اور بلا شبہ آخری شعر نواب مودود احمد خان صاحب کی وفات کے ساتھ پورا ہو گیا۔مرحوم  عبادت گزار اور خداتعالیٰ پر مکمل یقین اور ایمان رکھنے والے شخص تھے۔ مکرم ومحترم انور کاہلوں صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ انگلستان تحریر کرتے ہیں کہ مودو د احمد کی عمر ابھی 30 سال بھی نہیں لیکن میں نے اس کو باقاعدہ تہجد گزارپایا۔اسی طرح خداتعالیٰ نے آپ کی والدہ محترمہ کی دعا وٴں کو بھی منظور فرمایا جو انہوں نے دعائیہ شعر ملنے کے بعد کی تھیں ۔

اسی طرح آپ کی والدہ محترمہ آپ کی دادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے ایک  خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔ اس بیٹے کی پیدائش کے دنوں میں آپ نے مجھے اپنا ایک خواب سنایا کہ ان کے جسم سے ایک ہیرا پھوٹا کہ جو بہت شعاعیں دے رہا ہے۔ اور اس کی جڑ میں ایک چھوٹا ہیرا اور ہے، آپ فرماتی ہیں کہ خدا کرے کہ ان کا یہ خواب میرے بیٹے اور سب بچوں کے لئے پورا ہو جائے۔

نواب مودود احمد خان صاحب کے عقیقہ کی  تقریب بھی  بڑی شاندار طریق سے ہوئی جس کی دعوت کا انتظام آپ کی دادی محترمہ نے  قادیان میں کیا تھا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ بچے کی پیدائش سے پہلے آپ کی والدہ محترمہ بیمار ہو گئی تھیں اور آپ کے والد محترم حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب بغرض علاج انہیں قادیان لے آئے تھے اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ پوتے کی پیدائش کے بعد مالیر کوٹلہ سے قادیان آگئی تھیں۔ آپ مزید تحریر فرماتی ہیں حضرت دادی صاحبہ کو ‘مودود’ کے ساتھ بہت پیار تھا۔ ایک دفعہ اسے ایک ماہ کے لئے لاہور اپنےساتھ لے گئی تھیں ۔ مودودسوا سال کا تھا کہ ہم لوگ واپس قادیا ن آ گئے ۔ مودود بہت دیر کے بعدبولا اشاروں سے باتیں کرتا تھا۔ وہ آپ کو دو امی کہنے لگا۔ یعنی ایک امی میں اور دوسری وہ ۔ بہت ہی پیارالگتا تھا دو امی کہتا ہوا۔ لیکن نوکروں نے ہر وقت اصلاح کر کے چھڑوا دیا  کہ میاں بڑی امی کہو۔

نواب مودود احمد خان صاحب کے دادا حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے 10 فروری 1945 ءکو وفات پائی۔ وفات سے پہلے جب آپ مرض الموت میں تھے آپ نے ایک کشف دیکھا جس کے بارے میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں۔ وفات سے دو تین روز پہلے کی بات ہےکہ ہم آپ کے پاس بیٹھے تھےآپ کی طبیعت بہت خراب تھی۔ آپ نے فرمایا کہ مودو دکو کیوں مارا ہے۔ ہم نے کہا اسے کسی نے نہیں مارا۔ کہا اس کو میرے پاس لاوٴ۔ آپ کے فرمانے پر عزیز کو بلایا گیا اب معلوم ہوا کہ واقعی اس کی والدہ نے اس کو اس وقت مارا تھا۔ آپ نے اسے پیار کیا۔ مسعود احمد سے کہا۔ اسے مارا نہ کرو۔

نواب مودود احمد خان صاحب کے نکاح کے حوالہ سے آپ کی والدہ محترمہ آپ کی دادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔ مودود کے نکاح پر آپ انفلوئنزا سے بیمار تھیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اپنے گھر میں ہی عشاء کے وقت نکاح پڑھایا۔ میں آپ کو اطلاع دینے گئی اور ساتھ یہ بھی عرض کیا کہ میں نے تو انگوٹھی آپ سے لینی ہے اور پہنانی بھی آپ ہی نے ہے۔ پہلے تو کہنے لگیں ابھی تو وقت ہے سنار کی دکان کھلوا کر لے آوٴجب میں نے کہا کہ میں نے تو آپ کی ہی لینی ہے۔ تو اپنا بکس منگوا کر ایک انگوٹھی نکالی۔ ہم مومن ) بہو( کو آپ کے پاس لے آئے۔ آپ  نے تبرک کا دوپٹہ اسے اڑھایا اور انگوٹھی پہنائی۔

نواب مودود احمد خان صاحب نے ٹی آئی کالج ربوہ اور لاء کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے سلسلے میں آپ کا تقرر مشرقی پاکستان ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش بنانے کی تحریک چل رہی تھی اور حالات انتہائی  خراب تھے۔ان دنوں جماعت احمدیہ برطانیہ کے سابق امیر محترم انور کاہلوں صاحب وہیں مقیم تھے۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ ان کے ایک دوست نے انہیں فون کیا کہ آپ فوراً ائیر پورٹ آئیں ایک ضروری کام ہے۔ آپ ایئر پورٹ پہنچے تو اس دوست نے ایک فوکر جہاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز ایک گھنٹے میں یہاں سے روانہ ہونے والا ہےآپ فوری طور پر اس پر سوار ہو جائیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دوستوں کو یہاں چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ انہوں نے اپنے دوسرے دوست سے کہا کہ مودود احمد خان صاحب کو اگر زبردستی بھی لانا پڑے تو لے آئیں۔ جب مودود صاحب ایئر پورٹ پہنچے تو انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس  پرمیں نے انہیں کہا  میں آپ کے والد کے بھائی کی طرح ہوں لہٰذا میں آپ کو حکم بھی دے سکتا ہوں۔ مودود صاحب دوسرے افراد کی طرح بغیر سامان پاسپورٹ اور پیسوں کے اس جہاز پر سوار ہوگئے اور اس کے ذریعے سفر کیا۔ جب ہمارا جہاز اڑنے کا انتظار کر رہا تھا تو اس وقت انڈین ائیر فورس کے جہازوں نے پانچ مرتبہ ڈھاکہ ایئر پورٹ پر حملے کئے، ہر حملے کے بعد رن وے کا معائنہ کیا جاتا تھا ۔ جہاز کا کپتان بار بار کے معائنہ سے تنگ آگیا اور اس نے جہاز اڑا دیا جونہی جہاز اڑا اس پر نیچے سے حملہ کیا گیا جب جہاز چٹاگانگ کے اوپر سے گزر رہا تھا اس وقت بھی اس پر زیادہ طاقت سے حملہ کیا گیا۔ اس جہاز میں 17 مسافر سوار تھے۔ تناوٴ انتہائی درجے پر تھا لیکن میں سو گیا۔ جب مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ ان حالات میں کس طرح اطمینان سے سو گئے۔ تو میں نے مودود صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دادی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی ہیں ان کے حفظ و امان کے لئے دعائیں کر رہی ہیں اس لئے اس جہاز اور مسافروں کی حفاظت کے لئے میں مودود کو تعویذ سمجھتا ہوں۔ جب جہاز چین کے شہر  Kunning  کے ائیر پورٹ کے نزدیک تھا تو کپتان نے اعلان کیا کہ جہاز میں صرف 15 منٹ کا ایندھن ہے اور وہ پہلی کوشش میں ہی جہاز کو رن وے پر اتارنا چاہتا ہے۔ الحمد للہ وہ اس کوشش میں کامیاب ہو گیا۔ بعد ازاں نواب مودود صاحب کراچی آگئے اور ایک مشہور فرم ORR. DIGNAM   اینڈ کمپنی میں ملازمت اختیار کر لی۔ اور اپنی محنت اور لیاقت کی وجہ   سے بہت جلد ترقی کرتے ہوئے اعلیٰ عہدے پر پہنچ گئے لیکن انکساری، وضع داری اور اللہ تعالیٰ سے محبت میں کوئی فرق نہ آیا۔

جماعت احمدیہ کے صد سالہ جشن تشکر کے موقع پر جماعت نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کو جو تحائف پیش کئے ان میں سے ایک لائبریری بھی تھی جس کا نام حضور نے “سلطان القلم لائبریری”عطا فرمایا۔ یہ لائبریری آج بھی موجود ہے اور غالباً خلافت لائبریری کے بعد سب سے بڑی لائبریری ہے۔ لیکن انتظامی تبدیلیوں کے بعد سے یہ لائبریری اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کی منتظر ہے اس لائبریر ی کو قائم کرنے میں مرحوم امیر صاحب کا بڑا عمل دخل ہے۔ وہ سید محمد رضاء بسمل صاحب  جنہیں لائبریری کا انچارج بنایا گیا گھر سے لیتے اور لائبریری پہنچ کر اپنی نگرانی میں شیلف بنواتے اور بعد میں کتابوں کو ترتیب سے رکھواتے۔ کتابوں سے بے حد محبت تھی خاکسار اس کا ذاتی طور پر گواہ ہے کہ مرحوم کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی کہ یہ لائبریری پھلتی پھولتی رہے۔ کتابوں کی خریداری کے لئے فنڈز کی فراہمی میں  کبھی بخل سے کام نہ لیا اور جب کبھی خاکسار یہ عرض کرتا کہ لائبریری میں  آنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے تو آپ فرماتے کہ اس کی  فکر نہ کریں یہ ریفرنس لائبریری ہے۔ دس سال بعد اگر کوئی شخص آپ کے پا س آتا ہے اور آپ سے کتاب مانگتا ہے تو آپ یہ نہ کہیں کہ لائبریری میں کتاب نہیں۔ سلسلہ کی کتب کے علاوہ ادبی کتابیں بھی لائبریری میں رکھواتے۔ شعبہ تصنیف و اشاعت کے حوالے سے خاکسار یہ عرض کرےگا کہ آ پ کی سرپرستی اور نگرانی میں 2008 ءمیں کراچی  کے رسالے المصلح نے خلافت نمبر شائع کیا  جو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور حضور انور نے اسے پسند فرمایا۔ اسی طرح خلافت جوبلی کے موقع پر جماعت احمدیہ کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا مشاعرہ ہوا جس کی صدارت  محترم چوہدری محمد علی صاحب نے فرمائی جو اس مقصد کے لئے بطور خاص ربوہ سے تشریف لائے۔ یہ امیر صاحب کی ہی سرپرستی کا نتیجہ ہے کہ 2010 ءمیں جماعت  احمدیہ کراچی نے اپنی تاریخ  دو جلدوں میں شائع کی۔

مضمون کا دوسرا حصہ امیر صاحب مرحوم کے بچپن کے دوست اور کلاس فیلو  ڈاکٹر مشتاق اے شیخ صاحب اسلام آباد  کا مضمون ہے۔ جو ہماری خصوصی درخواست پر آپ نے لکھ کر دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب تحریر کرتے ہیں کہ

 یہ پچاس کی دہائی کا آخر  اور ساٹھ کی دہائی کاشروع تھا جب مجھے جناب مودود احمد خان صاحب سے متعارف ہونے کا شرف حاصل ہوا جب ہم دونوں نے  ٹی آئی کالج ربوہ میں داخلہ لیا  اور اس طرح رفتہ رفتہ ہماری دوستی کی بنیاد پڑ گئی۔ اس زمانہ میں کالج میں سائنس اور آرٹس کی کچھ کلاسز اکٹھی ہوا کرتی تھیں۔ مثلاً انگریزی، دینیات وغیرہ۔ اس طرح روزانہ کا رابطہ رہنے لگا۔ شام کو یہی گروپ جس میں کہ مودود احمد خان صاحب، سید امین احمد صاحب مرحوم  مرزا ادریس احمد صاحب مرحوم)  حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ کے بڑے بھائی( مرزا حنیف احمد صاحب، غلام محمد صاحب مرحوم، شیخ مبشر احمد صاحب مرحوم اور دو تین دوسرے دوست گول بازار میں نماز مغرب سے پہلے چائے پینے کے لئے اکٹھے ہوا کرتے تھے۔اس مجلس میں ہر موضوع زیر بحث آتا سیاست، مذہب، شاعری، دنیاوی مسائل غرض کہ نہایت دلچسپ شام ہوا کرتی تھی۔ میں نے ہمیشہ دیکھا کہ جناب مودود خان صاحب اپنی بات دلیل سے کرتے جو بڑا  مدبرانہ انداز ہوتا۔ اس تعلق کو نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے  لیکن میں نے کبھی مودود احمد خان صاحب کو غصہ میں نہیں دیکھا نہ ہی کسی کے ساتھ تلخ کلامی کرتے ہوئے۔ عجب قسم کا انسان تھا۔ کم از کم بے تکلف دوستوں کی محفلوں میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں دلائل کا زور کبھی تلخ کلامی کی حدوں کو چھونے لگتا ہے۔ لیکن اس شخص کو کبھی میں نے ایسا کرتے دیکھا نہ سنا ۔

کالج ہی کے زمانے میں ایک ڈرامیٹک کلب بھی ان کی سرگرمیوں کی فہرست میں ہوتا تھا۔ ٹی آئی کالج کے ہوسٹل کی سالانہ تقریب بہت جوش و خروش سے منائی جاتی

تھی،باہر کے کالجوں کے طلباء اور اساتذہ کو بھی شرکت کی دعوت دی جاتی تھی۔1960 ءکی تقریب میں ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک ڈرامہ مشاعرہ کے رنگ میں پیش کیا جائے۔ سید امین احمد صاحب مرحوم اور شیخ مبشر احمد صاحب مرحوم کو ذمہ داری سونپی گئی کہ مزاحیہ غزلیں تیار کریں۔ اس طرح کے مواقع پر اساتذہ کو بھی طنز و مزاح کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اس ڈرامے میں مودود احمد خان صاحب نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ اس زمانے میں جناب پرنسپل صاحب یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے پاس ایک  کالے  رنگ کی مورس کار ہوتی تھی۔ چنانچہ قوالی کا آئٹم اس طرح بنایا گیا جو بے حد پسند کیا گیا   ” ساڈے سجنا دی ڈاچی اے کالے رنگ دی”

مجھے مودود احمد خان صاحب سے زیادہ قریب ہونے کا موقع اس وقت ملا جب 1959ء میں FSc   کے بعد BSc تھرڈ ائیر میں ٹی آئی کالج میں  ہم دونوں اکٹھے ایک ہی کلاس میں ہو گئے۔ اس زمانے میں آپ قصر خلافت کے علاقہ میں ایک کشادہ کوٹھی میں رہتے تھے۔ تھرڈ  ائیر کے امتحانات سر پر تھے اور پڑھائی سخت۔ اس لئے کئی بار ایسا کرنا پڑتا کہ رات کا کھانا کھا کر ہم اکٹھے پڑھتے اس طرح رات کے دو تین بج جایا کرتے۔ لیکن اس دوران خان صاحب ہماری تواضع کا بھی خاص خیال رکھتے۔ کبھی چائے آرہی ہے۔ کبھی حلوہ اور کبھی فروٹ۔ لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ امتحا ن سے پہلے ہی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے مجھے داخلے کی کال آگئی چنانچہ میں سید امین احمد صاحب مرحوم، ڈاکٹر حمید احمد خان صاحب مرحوم اور دیگر تین دوست لاہور چلے گئے۔ جبکہ مودود خان صاحب کو قانون دانی کا شوق ہوا اور انہوں نے لاء کالج لاہور میں داخلہ لے لیا۔یہاں سے گریجوایشن کرنے کے بعد وہ کراچی چلےگئے۔اور وہاں ملازمت کرلی۔

جب بھی ان سے ملاقات ہوئی وہی انداز وہی مسکراہٹ وہی محبت بھرا انداز پایا۔ وہ بلاشبہ جماعت کے ایک سرگرم رکن اور بے لوث خدمت گزار تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان سے راضی رہے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اور ان کی جماعتی خدمات اور اللہ تعالیٰ سے لگاؤ اور محبت کو قبول کرے ۔ آمین

image_printپرنٹ کریں