skip to Main Content
نماز مومن کى معراج ہے

مجلس خدام الاحمدىہ برطانىہ کے نىشنل اجتماع کے موقع پرحضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز کے انگرىزى زبان مىں فرمودہ اختتامى خطاب کا اردو ترجمہ

(فرمودہ23ستمبر2018ء بروز اتوار بمقام Country Market, Kingsley, Bordon ،ىُوکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

 أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ-بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴿۱﴾

  اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ يَوۡمِ الدِّيۡنِؕ﴿۴﴾ اِيَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِيَّاکَ نَسۡتَعِيۡنُ ؕ﴿۵﴾ اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡہِمۡ ۬ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّيۡنَ ﴿۷﴾

امسال مجلس خدام الاحمديہ يوکے نے اپنا مرکزي عنوان‘‘صلوٰة’’ رکھا  ہے۔ مجھے اميد ہے اور ميں توقع رکھتا ہوں کہ خدام الاحمديہ کي انتظاميہ نے ہر سطح پر خدام اور اطفال کو صلوٰة کي طرف توجہ دلانے اور اس کي انتہائي اہميت کو واضح کرنے کي اجتماعي کوشش کي ہو گي۔ ليکن مجلس (خدام الاحمديہ) اور اس کے عہديدار صرف ايک حد تک نماز کي طرف توجہ دلا سکتے ہيں اور بالآخر ہر شخص جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اُس پر ہي منحصر ہے کہ وہ نماز کي اصل حقيقت اور اہميت کو سمجھتا ہے يا نہيں۔ يہ سب سے بنيادي عبادت ہے جسے اللہ تعاليٰ نے ہر انسان پر دن ميں پانچ بار لازم قرار ديا ہے۔ پس يہ ہر مسلمان پر بذات خود منحصر ہے کہ وہ نماز کي اعليٰ ترين اقدار کو اور دعا کي لامتناہي قوت کو سمجھتا ہے يا نہيں۔

آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم کي پيشگوئيوں کے مطابق اللہ تعاليٰ نے امام الزمان کو مبعوث فرمايا جس نے اسلام کي شان دنيا پر ظاہر کرني تھي اوراصل اسلامي تعليمات کو پھر سے زندہ کرنا تھا۔ وہ تعليمات جو عرصۂ دراز سے بُھلا دي گئي تھيں۔ ہم احمدي مسلمانوں کا دعويٰ ہے کہ ہم نے اُس امام الزمان کو مانا ہے۔ پس اگر ہم دعويٰ کرتے ہيں کہ ہم نے انہيں مانا ہے تو ہميں يہ بھي ماننا پڑے گا کہ نماز ايک بنيادي فريضہ ہے جسے ادا کرنے کي ذمہ داري ہمارے دين نے ہم پر عائد کي ہے اور يہ کہ ہميں اپني نمازوں ميں کبھي بھي سُستي نہيں کرني چاہيے بلکہ لازماً ہر وقت اسے مکمل فوقيت ديني چاہيے۔

جب ہم کلام اللہ کو ديکھتے ہيں تو ہميں نظر آتا ہے کہ اللہ تعاليٰ نے سورة البقرة کے آغاز ميں ہي فرمايا ہے کہ قرآن کريم متقيوں کو ہدايت دينے کے ليے نازل ہوا ہے۔ اس کے بعد فرمايا کہ اَلَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ(البقرة:4)۔يہاں اللہ تعاليٰ فرماتا ہے کہ حقيقي مومن وہ ہيں جو غيب پر ايمان لاتے ہيں۔ اس کا مطلب يہ ہے کہ وہ اللہ تعاليٰ کو بطور عَالِمُ الغيب قبول کرتے ہيں۔ اس کے بعد فرمايا: وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلوٰة(البقرة:4) اس کا لفظي ترجمہ يہ ہے کہ مومن وہ ہيں جو ‘نماز قائم کرتے ہيں’۔ پس اللہ تعاليٰ نے حُکم ديا ہے کہ ہر مسلمان کو لازمًا ہر روز نماز ادا کرني چاہيے۔ يہ حُکم آج بھي ايسا ہي قابل عمل ہے جيسا کہ ماضي ميں تھا۔ قرآن کريم کي تعليمات يقيناً تمام زمانوں کے ليے اور عالمي تعليمات ہيں۔

ہميں يہ خوش نصيبي حاصل ہے کہ ہم نے اس زمانہ ميں حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام کو قبول کيا ہے۔ مگر ہميں يہ سمجھنا چاہيے کہ آپؑ کي بيعت ميں آنا صرف اُس وقت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اگر يہ ہميں اللہ تعاليٰ کے احکامات پر عمل کرنے کي طرف رغبت دلاتي ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم اپنے ديني فرائض ميں غافل ہيں تو ہميں يہ دعويٰ کرنے کا کوئي حق نہيں پہنچتا کہ حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام کو قبول کرنے سے ہمارے اندر ايک روحاني انقلاب برپا ہوا ہے۔ يا يہ کہ اس طرح ہميں حقيقي اسلام کي تعليمات پر عمل کرنے کي توفيق ملي ہے۔ پس ہمارا آپؑ کو قبول کرنے کا زباني دعويٰ کھوکھلا اور بے معني ہو گا۔ قيام نماز کي اہميت سورة البقرة کي آيت 239ميں ايک بار پھر بيان ہوئي ہے۔ اللہ تعاليٰ فرماتا ہے:حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰي ٭ وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِيْنَ۔‘‘اپني نمازوں کي حفاظت کرو بالخصوص مرکزي نماز کي اور اللہ کے حضور فرمانبرداري کرتے ہوئے کھڑے ہو جاؤ۔’’يہاں قرآن کريم ميں واضح طور پر لکھا ہے کہ ‘‘اپني نمازوں کي حفاظت’’ کرنے کي ضرورت ہے اور خاص طور پر حُکم ہے کہ مرکزي نماز کي حفاظت کي جائے۔ نمازوں کي حفاظت کا مطلب ہے کہ ہميں نماز کے معاملہ ميں کبھي بھي سستي اور غفلت برتني نہيں چاہيے۔ اس آيت ميں يہ بھي حکم ہے کہ ہم اللہ تعاليٰ کے سامنے کامل تذلل اور تبتلِ تام کے ساتھ کھڑے ہوں۔

اللہ تعاليٰ کا يہ حکم اس زمانہ ميں نہايت بر محل ہےکيونکہ دنيا بھر ميں  لوگ اپنے کاموں، سکولز، کالجز اور دوسري روز مرّہ کي سرگرميوں ميں مصروف ہيں۔ پس نمازوں کي حفاظت کے ليے ايک خاص کوشش کي ضرورت ہے۔ جہاں تک عام معمول کا تعلق ہے يعني يہ کہ لوگ کام پر جاتے ہيں  يا سکول جاتے ہيں تو اس ميں مرکزي نماز ظہر اور عصر ہے۔ اور يہي دو نمازيں ہيں جن ميں اکثر لوگ لاپروا ئي کرتے ہيں اور انہيں  ادا نہيں کرتے۔ پس قرآن کريم نے خاص طور پر تنبيہ کي ہے کہ ہم نے فرض نمازوں ميں کبھي کوئي کمزوري نہيں دکھاني يا اپني دنياوي مصروفيات کو کبھي ديني فرائض پر ترجيح نہيں ديني۔

اس آيت کے حوالہ سے ميں اس بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ظہر اور عصر کو ہي مرکزي نماز نہ سمجھا جائے بلکہ آج کل کي دنيا ميں ہر عمر سے تعلق رکھنے والے لوگ بشمول اکثر نوجوان رات دير تک پڑھائي کرتے ہيں، يا اپنا وقت بداخلاقي اور ردّي چيزوں ميں ضائع کرتے ہيں جيسے انٹرنيٹ ميں بلا مقصد سرفنگ (surfing)کر رہے ہوتے ہيں،ٹي وي يا فلميں ديکھ رہے ہوتے ہيں ، فون يا ٹيبليٹ پر بلاحد بندي سکرولينگ (scrolling)کررہے ہوتے ہيں اور رات دير تک messagesبھيج رہے ہوتے ہيں۔ اس کے نتيجہ ميں وہ فجر پر بيدار ہونے سے قاصر رہتے ہيں اور اُن کے معمول کي وجہ سے در اصل فجر اُن کے ليے مرکزي نماز بن جاتي ہے۔ پس دنياوي مصروفيات کي وجہ سے مرکزي نماز وہ نماز ہےجس کے چھوٹنے کا خطرہ ہو۔

آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم کے زمانہ ميں لوگ عصر کے وقت سب سے زيادہ مصروف ہوتے تھے۔ اس ليے آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم نے فرمايا کہ عصر مرکزي نماز ہے۔ (جامع الترمذي ابواب الصلوٰة  باب ما جاء في الصلوٰة الوسطي انہا العصر حديث182)ليکن آجکل کي دنيا ميں لوگوں کي مختلف معمولات ہيں اس ليے پانچ نمازوں ميں سے مرکزي نماز کوئي بھي ہو سکتي ہے۔ جيسا کہ مَيں نے کہا ہے کہ اکثر لوگوں کے ليے اب فجر در اصل مرکزي نماز ہے کيونکہ دير سے سونے کي وجہ سے  وہ اسے بروقت ادا کرنے سے قاصر ہيں۔ پس آپ کو جلد سونے کي عادت ڈالني چاہيے اور اگر يہ ممکن نہيں تو پھر آپ کو اِس پختہ نيت اور مصمم ارادہ کے ساتھ سونا چاہيے کہ آپ فجر کے ليے بيدار ہوں گے خواہ آپ کتنا ہي تھکے ہوں۔

مزيد يہ کہ جب بھي ممکن ہو ، خواہ آپ کو زائد کوشش بھي کرني پڑے پھر بھي آپ کو اپني نمازيں باجماعت اپني مقامي مسجد يا صلوٰة سينٹر ميں ادا کرني چاہئيں کيونکہ مَردوں کے ليے يہ خدا تعاليٰ کا حُکم ہے ۔ ايک مرد جو اپني نمازيں کسي جائز وجہ يا عذر کے بغير گھر ميں ادا کرتا ہے وہ خدا تعاليٰ کي خوشنودي اور رضا پانے والا نہيں ہو گا۔ ياد رکھيں کہ آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم نے فرمايا ہے کہ با جماعت نماز کا ثواب انفرادي نماز سے 27گنا سے زيادہ ہے۔(صحيح البخاري کتاب الاذان باب فضل صلوٰة الجماعة حديث نمبر 645)ايسي روايات سے ہميں احساس ہوتا ہے کہ اللہ تعاليٰ کتنا مہربان، سخي ، رحمٰن ورحيم اور کتنا فيض رساں ہے۔ اللہ تعاليٰ نے گناہ کي سزا اس کے برابر رکھي ہے يا جرم کے مطابق سزا  رکھي ہے۔ مگر جہاں تک اچھے اخلاق اور نيک اعمال کا تعلق ہے تو اللہ تعاليٰ ہميں کئي گنا زيادہ نوازتا ہے۔ سو يہ آپ کي ذمہ داري ہے کہ آپ اپنے رحمٰن خدا کي عظيم رحمانيت سے فائدہ اُٹھائيں ۔آپ مسجدوں ميں باجماعت نمازوں  کے ليے  جمع ہو کرخدا تعاليٰ کے حضور سر بسجود ہوں اور اُس سے اپنے گناہوں اور کوتاہيوں کي معافي مانگيں۔

مَيں نے پہلے بھي کئي مرتبہ کہا ہے کہ اگر ہماري جماعت اور ذيلي تنظيموں  کے سب عہديدار باجماعت نماز ميں باقاعدہ ہو جائيں تو ہماري مسجدوں ميں حاضري فوري طور پر 60يا 70فيصد بڑھ جائے۔ پس مَيں  نيشنل ، ريجنل اور لوکل مجلس عاملہ کے ممبران کو  اُن کي ڈيوٹي کے حوالہ سے  ايک بار پھر کہوں گا کہ وہ نمازوں کي باجماعت ادائيگي سے دوسروں کے ليے ايک مثبت نمونہ بنيں۔ 

مزيد يہ کہ جبکہ اس سال کے نيشنل اجتماع کا مرکزي عنوان ‘‘صلوٰة’’ ہے آپ يہ کبھي نہ سمجھيں کہ يہ مرکزي عنوان صرف اسي سال کے ليے ہے۔ بلکہ آپ  نماز کي طرف اپني توجہ کو مرکوز رکھيں اور اسے آخري دم تک اپني روز مرّہ  زندگي کا لازمي حصہ بنائيں۔  اس لحاظ سے اگر اگلے سال اجتماع کا مرکزي عنوان بدل جاتا ہے تو يہ نہ سمجھيں کہ اب آپ کو نماز پر توجہ دينے کي ضرورت نہيں اور يہ کہ اب آپ کي تمام توجہ صرف نئے مرکزي عنوان پر ہو۔ حقيقت يہ ہے کہ اس سال ‘‘صلوٰة’’ بطور مرکزي عنوان اس ليے رکھا گيا تاکہ ہر ايک خادم اور طفل کو زندگي ميں باجماعت نماز کي خاص اہميت سے اچھي طرح واقفيت ہو جائے۔

جيساکہ مَيں نے کہا يہ معاملہ صرف آج ، اِس ہفتہ، مہينہ يا سال کا نہيں ہے بلکہ پنجوقتہ نماز آئندہ ہر روز آپ کي باقي کي زندگي کي مسلسل ساتھي رہني چاہيے۔ بہر حال مَيں اس اميد کے ساتھ دعا کرتا ہوں کہ آپ نے اس سال کے پروگرام سے صحيح فائدہ اُٹھايا ہو گا اور آپ کو احساس ہو گيا ہو گا کہ نماز کي حقيقي ضرورت اور خاص اہميت کيا ہے۔جنہوں نے اپني نمازوں کي حالت کو بہتر بنايا  اور نمازوں سے فائدہ اُٹھايا، مجھے خوشي ہے کہ انہوں نے اس معاملہ کو سنجيدگي کے ساتھ ليا اور ترقي کرنے کي طرف گامزن رہے۔ ليکن آپ کو اب آرام نہيں کرنا چاہيے يا جو بھي بہتري آپ اپنے اندر لائے ہيں اُس پر مطمئن نہيں ہونا چاہيے بلکہ آپ کو اللہ تعاليٰ کي عبادت ميں مزيد سنجيدگي کے ساتھ  مسلسل توجہ ديني چاہيے اور نماز مکمل توجہ اور اِس کامل يقين کے ساتھ ادا کرني چاہيے کہ اللہ تعاليٰ اُن لوگوں کي سنتا ہے جو اُس کے حضور سنجيدگي کے ساتھ سجدہ ريز ہوتے ہيں۔

اگر آپ ميں سے بعض ايسے رہ گئے ہيں جنہوں نے دوران سال اپنے عبادت کے  معياروں کو بڑھانے کے ليے کوئي نتيجہ خيز کوشش نہيں کي تو  انہيں مزيد کوئي دن ضائع نہيں کرنا چاہيے۔ آپ ابھي سے مصمم ارادہ  اور سوچ سمجھ کر فيصلہ کريں کہ آپ نے اپني حالت کو بہتر بنانا ہے۔ اب وہ وقت ہے کہ آپ اس روحاني سيڑھي پر چڑھنا شروع ہوں جو ہميں اپنے خالق کي طرف لے جاتي ہے۔ اللہ تعاليٰ نے ہميں خود دعا اور عبادت کے بے مثال فوائد سے آگاہ کيا ہے۔ پس قرآن کريم کي سورة العنکبوت آيت 46ميں اللہ تعاليٰ فرماتا ہے:  اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْہٰي عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ۔ وَ لَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ۔ (ترجمہ):  يقيناً نماز بے حيائي اور ہر ناپسنديدہ بات سے روکتي ہے۔ اور اللہ کا ذکر يقيناً سب (ذکروں) سے بڑا ہے۔

يہاں جو عربي لفظ استعمال ہوا ہے وہ ہے ‘‘الفحشاء’’ جس کا ترجمہ ‘‘بےحيائي’’ کيا جاتا ہے۔ ليکن اس کے مطالب بہت وسيع ہيں۔ اس عربي لفظ کے چند اَور معاني ميں بے حد، بہت زيادہ اور بہت ہي بڑا گند، شامل ہيں۔ مزيد مطالب ميں بد اخلاقي، شہوت پرستي، بے ہودگي، گناہ يا جرم اور زنا شامل ہيں۔

اس آيت ميں يہ بھي کہا گيا ہے کہ نماز تمہيں ‘‘المنکر’’ سے بچاتي ہے۔ اس کا ترجمہ ‘‘ہر ناپسنديدہ بات’’ کيا گيا ہے۔ اس کے اَور مطالب ميں  ہر وہ فعل جو ردّي ہو يا جسے گندہ قرار ديا گيا ہو، قابلِ نفرت، بَد، مکروہ اور دوسروں کے نزديک ناشائستہ يا نازيبا شامل ہيں۔ جيساکہ آپ نے سنا کہ يہ تو واضح ہے کہ اِن  دونوں عربي الفاظ کے منفي مفاہيم اور معاني ہيں۔ سو يہ آيت دعا اور صلوٰة کي قوت کے حوالہ سے ايک غير معمولي اقرار ہے۔ اللہ تعاليٰ نے يقين دلايا ہے کہ وہ لوگ جو اپني نمازيں بروقت اور پوري شرائط کے ساتھ ادا کرتے ہيں وہ بہت سي بد اخلاقي، ناپاکي اور ناپسنديدہ حرکات سے بچائے جائيں گے۔

ہم ايک ايسے زمانہ ميں رہ رہے ہيں جس کے ہر موڑ پر ہمارا سامنا ناشائستہ، بد اخلاقي اور مُضرات سے ہوتا ہے جو بني نوع انسان کو نيکي سے گناہ کي طرف دھکيل رہي ہوتي ہيں۔ پہلے سے بہت زيادہ ايک مومن کے ليے ضروري ہے کہ وہ اپنے آپ کو  ان لاتعداد بديوں اور بد اخلاقيوں سے بچائے جو اس معاشرے ميں پھيل رہي ہيں۔ اس کے ليے ہميں وہي طريق اختيا کرنا پڑے گا جو اللہ تعاليٰ نے خود ہميں بتايا ہے يعني يہ کہ اس کے حضور ہر روز پانچ مرتبہ سر بسجود ہوں۔ يہ نجات کي راہ ہے اور جولوگ اس راہ کو اختيار کرتے ہيں وہ نہ صرف اللہ تعاليٰ کے غضب سے محفوظ رہتے ہيں بلکہ اُس کے پيار ، اس کي رحمت اور اُس کے عظيم اجر کو پانے والے ہوتے ہيں۔

قرآن کريم کي بعض آيات پيش کرنے کے بعد اب ميں آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم کي بعض احاديث بيان کروں گا جن سے نماز کي خاص اہميت ظاہر ہوتي ہے۔ ايک مرتبہ ايک آدمي رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم کے سامنے آيا اور کہا يا رسول اللہ! مجھے وہ چيز بتائيے جو مجھے جنت کے قريب کر دے اور وہ چيز جو مجھے آگ سے دور کر دے؟ اس کے جواب ميں آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم نے فرمايا: تم اللہ کي عبادت کرو، کسي کو اس کا شريک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو اور زکوٰة دو اور صلہ رحمي کرو۔ اگر اس نے اس کو مضبوطي سے پکڑے رکھا تو جنت ميں داخل ہو گا۔

(صحيح مسلم کتاب الايمان باب بيان الايمان الذي يدخل بہ الجنة…حديث104اور105)

ايک اور موقع پر آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم نے فرمايا کہ نماز کو چھوڑنا انسان کو شرک يعني خدا تعاليٰ کے ساتھ کسي کو شريک ٹھہرانے اور کفر کے قريب کر ديتا ہے۔

 (صحيح مسلم کتاب الايمان باب بيان اطلاق اسم الکفر علي من ترک الصلوٰة حديث 246)

اس ميں کوئي شک نہيں کہ آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم کي يہ سخت تنبيہ کسي بھي مخلص مسلمان کے دل ميں ايک خوف ڈالنے کے ليے کافي ہے۔

ايک اَور حديث جو ہميں بچپن سے ہي سکھائي جاتي ہے  بہت اہميت کي حامل ہے جس سے نماز کي حقيقت ظاہر ہوتي ہے۔ مجھے يقين ہے کہ جو خدام اور اطفال يہاں موجود ہيں انہوں نے اس حديث کو کئي دفعہ سنا ہو گا۔ ايک مرتبہ آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم نے اپنے صحابہ سے دريافت فرمايا کہ کيا تم سمجھتے ہو کہ اگر کسي کے دروازے کے پاس سے نہر گزر رہي ہو اور وہ اس ميں دن ميں پانچ بار نہائے تو اس کے جسم پر کوئي ميل رہ جائے گي؟ صحابہؓ نے عرض کيا: يا رسول اللہ! کوئي ميل نہيں رہے گي۔ آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا يہي مثال پانچ نمازوں کي ہے۔ اللہ تعاليٰ ان کے ذريعہ گناہ معاف کرتا ہے اور کمزورياں دور کر ديتا ہے۔ 

(صحيح البخاري کتاب مواقيت الصلوٰة باب الصلوات الخمس کفّارة حديث 528)

آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم نے مزيد فرمايا کہ جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائيں تو انہيں نماز پڑھنے کي تاکيد کرو۔ اور جب وہ دس سال کے ہو جائيں تو نماز نہ پڑھنے پر سختي کرو۔(جامع الترمذي ابواب الصلوٰة باب ما جاء متي يؤمر الصبي بالصلوٰة حديث 407)اس حديث سے بچپن سے ہي نماز ميں باقاعدگي اختيار کرنے کي اہميت ظاہر ہوتي ہے اور يہ کہ نماز وہ سنگ بنياد ہے جس پر بچوں کو اپني مستقبل کي زندگي بناني چاہيے۔

پس اطفال الاحمديہ کے چھوٹے ممبروں کو بھي نمازوں کو توجہ کے ساتھ ادا کرنے اور چھوٹي عمر سے ہي  اللہ تعاليٰ سے ايک تعلق پيدا کرنے کي کوشش کرني چاہيے۔ بہر حال اگر ہم يہ دعويٰ کرتے ہيں کہ ہم نے آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم کو مانا ہے اور آپ کے سچّے خادم حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام کو  بھي مانا ہے تو ہم ميں سے ہر ايک کو يقيني بنانا چاہيے کہ ہم پنجوقتہ نماز کو التزام کے ساتھ ادا کر رہے ہيں۔ جيساکہ مَيں نے کہا کہ ہر گز اس خيال کا شکار نہ رہيں کہ ‘صلوٰة’  صرف ايک سال کے ليے بطور مرکزي عنوان ہے۔بلکہ يہ مرکزي عنوان آپ کي پوري زندگي کي بنياد بنني چاہيے۔

آپ خواہ کسي عمر کے ہوں، خواہ آپ کي عمر 70سال ہو ،80سال ہو يا اس سے بھي زيادہ ہو صلوٰة ايک ايسي چيز ہے جس کے بغير ايک حقيقي مسلمان کا جينا محال ہے۔ اس کے بغير کسي معياري چيز کو حاصل نہيں کيا جا سکتا۔ نماز ميں سستي کا کوئي بہانہ قابل قبول نہيں ہوسکتا۔

اس حوالہ سے حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم کي زندگي کا ايک واقعہ بيان فرمايا ہے کہ آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم کے پاس ايک قوم اسلام لائي اور عرض کي کہ يا رسول اللہ ہميں نماز معاف فرما دي جائے کيونکہ ہم کاروباري آدمي ہيں اس ليے پانچ وقت نماز ادا کر نے کے ليے ہميں فرصت نہيں ہوتي۔اس پر آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم نے فرمايا: جب نماز نہيں تو ہے ہي کيا؟ وہ دين ہي نہيں جس ميں نماز نہيں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 5صفحہ 253۔ ايڈيشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

جيسا کہ مَيں نے کہا نماز اسلام کاايک بنيادي جزو ہے اور ہميشہ رہے گا۔ ارکان اسلام ميں کلمہ طيبہ کے بعد دوسرا رُکن نماز ہے۔ نتيجةً اگر ہم اسلام کو مانتے ہيں تو ہميں ہر حال ميں اس کي تعليمات پر عمل کرنا چاہيے ورنہ ہمارا ايمان لانا کھوکھلا اور بے فائدہ ہے۔يہ ہمارے سامنے ايک ٹھوس حقيقت ہے۔

ا ب ميں حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام کے اقتباسات ميں سے چند ايک پيش کرتا ہوں جن سے روز روشن کي طرح  صلوٰة کي اہميت ظاہر ہوتي ہے اور يہ کہ ہميں نماز کيسے ادا کرني چاہيے۔ ايک موقع پر حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے فرماياکہ نماز بڑي ضروري چيز ہے اور مومن کي معراج ہے۔ خدا تعاليٰ سے دعا مانگنے کا بہترين ذريعہ نماز ہے۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 3صفحہ 247۔ ايڈيشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

نماز کس طرح پڑھني چاہيے؟ اس حوالہ سے حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و ا لسلام فرماتے ہيں:

‘‘نماز بہت ہي اچھي طرح پڑھو۔ کھڑے ہو تو ايسے طريق سے کہ تمہاري صورت صاف بتا دے کہ تم خدا تعاليٰ کي اطاعت اور فرماں برداري ميں دست بستہ کھڑے ہو۔ ’’

(ملفوظات جلد 3صفحہ 248۔ ايڈيشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے مزيد فرمايا:

نماز ميں‘‘جھکو تو ايسے جس سے صاف معلوم ہو کہ تمہارا دل جُھکتا ہے اور سجدہ کرو تو اس آدمي کي طرح جس کا دل ڈرتا ہے اور نمازوں ميں اپنے دين اور دنيا کے ليے دعا کرو۔ ’’

(ملفوظات جلد 3صفحہ 248۔ ايڈيشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

ايک اَور موقع پر حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے فرمايا:

‘‘نماز کو اسي طرح پڑھو جس طرح رسول اللہ صلي اللہ عليہ و سلم پڑھتے تھے۔’’(ملفوظات جلد 3 صفحہ 258۔ ايڈيشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) نماز ميں آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم کي کيا حالت ہوتي تھي؟ اس حوالہ سے حضرت عائشہؓ اور کئي صحابہؓ نے گواہي دي ہے کہ آپ کامل گريہ و زاري، تذلل اور تبتل تام کي حالت ميں نماز ادا کيا کرتے تھے۔

(ماخوذ از سنن النسائي کتاب قيام الليل وتطوع النہار باب کيف الوتر بثلاث)

حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے افسوس کا بھي اظہار فرمايا ہے کہ بہت سے لوگ  نماز کو توجہ کے بغير  جلدادا کرتے ہيں، اور جو اس کا حق ہے اس کے مطابق اسے ادا نہيں کرتے۔چنانچہ ايسے لوگوں کو مخاطب ہوتے ہوئے آپ نے فرمايا کہ يہ لوگ آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم يا آپ کے صحابہؓ کي طرح نمازيں ادا نہيں کرتے ۔ بلکہ آجکل لوگوں نے نماز کو خراب کر رکھا ہے۔ نمازيں کيا پڑھتے ہيں ٹکريں مارتے ہيں۔ نماز کو بہت جلد جلد مُرغ کي طرح ٹھونگيں مار کر پڑھ ليتے ہيں۔ يہ بالکل غلط ہے۔ہميں خشوع اور خضوع اور پورے آداب  کے ساتھ دعائيں کرني چاہئيں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 258۔ ايڈيشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے فرمايا کہ نماز کو سنوار کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھو۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 445۔ ايڈيشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

ايک اور موقع پر حضرت مسيح موعود عليہ السلام نے فرمايا ہے کہ ہميں صدقِ دل سے دعا کرني چاہيے  اور يقيني بنانا چاہيے کہ ہم نمازيں پورے آداب سے اور تعديلِ ارکان پورے طور پر ملحوظ رکھ کر ادا کر رہے ہيں۔ ہر رُکن کو احتياط سے اور  پوري توجہ کے ساتھ ادا کر رہے ہيں۔

بعض لوگوں کي نمازوں کي حالت پر افسوس کرتے ہوئے حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے فرمايا:

‘‘ گويا وہ نماز ايک ٹيکس ہے جس کا ادا کرنا ايک بوجھ ہے۔ اس ليے اس طريق سے ادا کيا جاتا ہے جس ميں کراہت پائي جاتي ہے۔ حالانکہ نماز ايسي شے ہے کہ جس سے ايک ذوق، اُنس اور سرور بڑھتا ہے۔ مگر جس طرز پر نماز ادا کي جاتي ہے اس سے حضورِ قلب نہيں ہوتا اور بے ذوقي اور بے لُطفي پيدا ہوتي ہے۔ ’’

آپؑ مزيد فرماتے ہيں:‘‘مَيں نے اپني جماعت کو يہي نصيحت کي ہے کہ وہ بے ذوقي اور بے حضوري پيدا کرنے والي نماز نہ پڑھيں۔ بلکہ حضورِ قلب کي کوشش کريں جس سے اُن کو سرور اور ذوق حاصل ہو۔’’

(ملفوظات جلد 3صفحہ 443تا 444۔ ايڈيشن 1985ءمطبوعہ انگلستان)

ياد رکھيں کہ اللہ تعاليٰ نےدعا يا نماز کے ليے  اقام الصلوٰة کے الفاظ استعمال فرمائے ہيں۔ اقام الصلوٰة کے کيا معني ہيں؟ اس کا مطلب نماز کو کھڑا کرنا اور ادا کرنا ہے۔ يعني يہ کہ جب نماز کا وقت ہو تو اسے ہر کام اور مصروفيت پر فوقيت دي جائے۔ اور اسے با جماعت ادا کرنے کي کوشش کي جائے۔ جب تک ايک شخص نماز قائم نہيں کرتا اس وقت تک وہ اللہ تعاليٰ کا قرب حاصل نہيں کر سکتا۔ حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے  اقام الصلوٰة کے معني ايک اور رنگ ميں واضح فرمائے ہيں۔ آپؑ فرماتے ہيں:

اللہ تعاليٰ نے قرآن کريم ميں اَقِيْمُوْا الصَّلوٰة اس ليے فرمايا کہ نماز گري پڑتي ہے ۔ کيونکہ اگر کسي شخص کي توجہ قائم نہيں رہتي تو نماز کے مقاصد حاصل نہيں کيے جاتے ۔ مگر جو شخص اقام الصلوٰة کرتے ہيں تو اس کي روحاني صورت سے فائدہ اُٹھاتے ہيں تو پھر وہ دعا کي محويت ميں ہو جاتے ہيں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 3صفحہ 444۔ ايڈيشن 1985ءمطبوعہ انگلستان)

يہاں حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے واضح فرمايا ہے کہ جو لوگ توجہ کے ساتھ نماز ادا کرنے سے قاصر ہيں وہ صلوٰة کے حقيقي مقصد کو پا ہي نہيں سکتے۔ اگر ايک شخص نماز کے ليے کھڑا ہو مگر اس کا ذہن کہيں اَور ہو اور اُس کي توجہ اللہ تعاليٰ کي عبادت کے علاوہ کہيں اَور بٹي ہوئي ہو تو نماز کے مقاصد پورے نہيں ہوں گے۔ اس کے بر عکس وہ لوگ جو پوري توجہ سے نماز ادا کرتے ہيں اور نماز کے دوران اپنے ذہنوں کو خيالات سے خالي کر ديتے ہيں توايسے لوگ نماز سے حقيقي روحاني فائدہ اُٹھانے والوں ميں سے ہيں۔ يہي وہ لوگ ہيں جو اپني نمازوں کو اللہ تعاليٰ کے حضور کامل طور پر جھکتے ہوئے ادا کرنے کے قابل ہوتے ہيں۔ دعاؤں کي قبوليت کےليے اخلاص ،عاجزي اور انکساري شرط ہے۔ يقيناً قرآن کريم ميں اللہ تعاليٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگوں کي نمازيں اُن کے ليے نقصان دہ ثابت ہوتي ہيں اور اُن کي تباہي کا ذريعہ بنتي ہيں۔ آپ کو حيراني ہو رہي ہو گي کہ يہ کيسے ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے ليے نمازيں اُن کي تباہي کا موجب بنتي ہيں؟ حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے اس سوال کا جواب ديا ہوا ہے۔ آپ نے تحرير فرمايا ہے کہ بعض لوگ اخلاص کے بغير دعائيں کرتے ہيں۔ اُن کي نمازيں روحانيت سے خالي ہوتي ہيں  اس کے نتيجہ ميں وہ اُس روحاني سايہ کے نيچے آنے سے محروم رہ جاتے ہيں جو مومنوں کو غلط کاريوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے بر عکس وہ ايسي نماز ادا کرتے ہيں جس پر اللہ تعاليٰ لعنت بھيجتا ہے۔ اُن کي غير مخلصانہ اور کھوکھلي دعائيں ردّ کي جاتي ہيں اور اُن پر ماري جاتي ہيں۔ پس اُن کي خالي دعائيں لعنتي ہيں اور انہيں نقصان پہنچانے والي ہيں نہ کہ راحت اورآرام۔

حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام فرماتے ہيں کہ نماز ايسي شئے ہے کہ سيّئات کو دُور کر ديتي ہے۔جيسےسورہ ہود آيت 115 ميں فرمايا : اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْھِبْنَ السَّيِّاٰتِ۔يقيناً نماز کُل بديوں کو دُور کر ديتي ہے۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 445۔ ايڈيشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس نماز پاک ہونے اور ہر قسم کي بديوں سے بچنے کا ذريعہ ہے۔ حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام فرماتے ہيں کہ حسنات سے مراد نماز ہے۔ مگر آج کل يہ حالت ہو رہي ہے کہ عام طور پر نمازي کو مکّار سمجھا جاتا ہے۔ کيونکہ عام لوگ بھي جانتے ہيں کہ يہ لوگ جو نماز پڑھتے ہيں يہ اسي قسم کي ہے جس پر خدا نے واويلا کيا ہے کيونکہ اس کا کوئي نيک اثر اور نيک نتيجہ مترتب نہيں ہوتا۔ اُن کي نمازيں خالي ہيں اور تقويٰ کي بجائے وہ اُن کي تباہي کا موجب بنتي ہيں۔

 (ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 445۔ ايڈيشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

ايک اَور موقع پر حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے نماز ميں پڑھي جانے والي دعاؤں کے ترجمہ کو سمجھنے کي اہميت بيان کرتے ہوئے فرمايا کہ نماز طوطے کي طرح مت پڑھو۔ سوائے قرآن شريف کے جو ربِ جليل کا کلام ہے اور سوائے ادعيہ ماثورہ کے جو نبي کريم صلي اللہ عليہ و سلم کا معمول تھيں۔ نماز بابرکت نہ ہو گي جب تک اپني زبان ميں اپنے مطالب بيان نہ کرو۔

آپؑ مزيد فرماتے ہيں کہ ہر شخص کے ليے ضروري ہے کہ اپني زبان ميں اپني دعاؤں کو پيش کرے اور رکوع ميں، سجود ميں مسنون تسبيحوں کے بعد اپني حاجات کو عرض کرے۔ ايسا ہي التحيات ميں اور قيام اور جلسہ ميں۔

فرمايا کہ نماز کا تعہد کرو جس سے حضور اور ذوق پيدا ہو۔ فريضہ تو جماعت کے ساتھ پڑھ ليتے ہيں۔ باقي نوافل اور سُنن کو جيسا چاہو طول دو۔ اور چاہيے کہ اس ميں گريہ و بکا ہو۔ تاکہ وہ حالت پيدا ہو جاوے جو نماز کا اصل مطلب ہے۔

(ماخوذ از  ملفوظات جلد 3 صفحہ 445۔ ايڈيشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

ميں نے حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام کے  متعدد اقتباسات پيش کيے ہيں جو ہميں ياد دلاتے ہيں کہ پنجوقتہ نماز کي بروقت اور توجہ کے ساتھ ادائيگي کتني عظيم  اہميت کي حامل ہے۔ پس تمام خدام اور اطفال کو ہر حال ميں نمازوں کو مقدم رکھنا چاہيے اور انہيں توجہ اور جو اُس کا حق ہے اس کے مطابق انہيں ادا کرنا چاہيے۔

جيساکہ مَيں نے پہلے کہا ‘صلوٰة’ کا مرکزي عنوان صرف ايک سال کے ليے نہيں ہے بلکہ اگر آپ چاہتے ہيں کہ آپ کي زندگي بابرکت اور خوشحال ہو تو نماز وہ سنہري کنجي ہے جسے کبھي نہ چھوڑيں۔ اگر آپ حقيقي مومن بننا چاہتے ہيں اور شرائط بيعت کے پابند ہونا چاہتے ہيں تو آپ کو سنجيدگي کے ساتھ پنجوقتہ نماز ميں باقاعدہ ہونا پڑے گا۔ اگر آپ اللہ تعاليٰ سے ايک ذاتي تعلق پيدا کرنا چاہتے ہيں تو جيسا کہ اُس نے بتايا ہے آپ کو اُس کے حضور سر بسجود ہونا پڑے گا۔ جب تک آپ اپني توجہ اور اپني استطاعت کو نماز اور عبادت کي طرف مرکوز نہيں کريں گے اللہ تعاليٰ آپ سے مطمئن نہيں ہو گا۔

آپ پر اللہ تعاليٰ کي عبادت فرض ہے۔ اگر آپ اُسے نظر انداز کريں گے اور دنياوي خواہشات کي طرف توجہ ديں گے تو شايد دنياوي عيش و عشرت اور آرام حاصل کرنے ميں تو کامياب ہو جائيں گے ليکن ياد رکھيں کہ ايک حقيقي مسلمان کي توجہ اگلي زندگي کي طرف مرکوز  ہوتي ہے جو دائمي ہے  نہ کہ اِس عارضي دنيا کي طرف جس کي خوشياں تھوڑے عرصہ کے ليے ہيں۔ پس دائمي خوشياں صرف اور صرف دعاؤں سے حاصل ہو سکتي ہيں۔

اگر ہم نماز ميں باقاعدہ ہيں اور ہم اخلاص اور سنجيدگي کے ساتھ دعائيں کر رہے ہيں تو ہماري زندگياں کامياب ہونے کے قابل ہوں گي۔ اللہ تعاليٰ کے وعدہ کے مطابق ہم بديوں، گناہوں اور بداخلاقيوں  کے شکنجے سے آزاد ہو جائيں گے ۔

ہمارا شمار اُن لوگوں ميں ہو گا جو اپنے خالق کے حقوق اور ايک دوسرے کے حقوق دونوں ادا کرنے والے ہيں ۔ہمارا شمار اُن لوگوں ميں ہو گا جو معاشرے ميں پيار، رواداري اور ہمدردري پھيلانے والے ہيں۔ ہم حقيقي مسلمان ہوں گے۔ ہماري نمازيں ردّ ہونے اور ہمارے ليے لعنت کا باعث بننے کي بجائے ہميں اپنے خالق کي طرف  رفعت بخش رہي ہوں گي اور ہماري زندگيوں ميں برکات کو بڑھانے کا ذريعہ ہوں گي۔پس ہر احمدي مسلمان کو مسلسل نماز کي طرف اور اللہ تعاليٰ کي عبادت کي طرف توجہ رکھني چاہيے خواہ وہ بچہ ہو، نو جوان ہو، جوان ہو يا بوڑھا ہو۔ اور ہر احمدي مسلمان کو اُن لوگوں ميں شامل ہونے کي کوشش کرني چاہيے جن کي دعائيں خدا تعاليٰ کي رضا کا باعث ہوں۔ 

آخر پر مَيں حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام کا ايک  اَور اقتباس پيش کرنا چاہتا ہوں جس ميں دعاؤں کي بے مثال برکات کا ذکر ہے۔ آپ عليہ السلام فرماتے ہيں:

‘‘ حصولِ فضل کا اقرب طريق دعا ہے اور دعا کامل کے لوازمات يہ ہيں کہ اس ميں رِقّت ہو۔ اضطراب  اور گدازش ہو۔ ’’ فرمايا: ‘‘جو دعا عاجزي، اضطراب اور شکستہ دلي سے بھري ہوئي ہو وہ خدا تعاليٰ کے فضل کو کھينچ لاتي ہے اور قبول ہو کر اصل مقصد تک پہنچاتي ہے۔ ’’(ملفوظات جلد 6 صفحہ 93۔ ايڈيشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)پس جب آپ عاجزي اور کرب کي حالت ميں دعا کرتے ہيں اور اس طرح دعا کرتے ہيں کہ آپ کي دعائيں دل کي گہرائيوں سے نکل رہي ہوں تو پھر اللہ تعاليٰ کي برکات آپ کي طرف کھچي چلي آتي ہيں۔

 مَيں تہِ دل سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعاليٰ آپ سب کو اس طريق پر نماز ادا کرنے کي توفيق عطا فرمائے۔آپ کي دعائيں جذبات، اخلاص اور درد سے بھري ہوئي ہوں جو آپ کواللہ تعاليٰ کا پيار اور قرب نصيب کر رہي ہوں۔ سجدے کي حالت ميں  ہمارے دل اپنے آقا کے حضور پگھل رہے ہوں ۔ہم ايسي عاجزي اور ہمہ نيستي کے ساتھ دعا کرنے والے ہوں جس ميں ہمارے وجود کا ہر ذرّہ اللہ تعاليٰ کو سجدہ کرنے کي حالت ميں ہو۔

دل کي گہرائيوں سے نکلنے والي ايسي دعائيں يقيناً قبول ہوتي ہيں اور اللہ تعاليٰ کا پيار حاصل کرنے کا ذريعہ بنتي ہيں جو ہمارا حقيقي مقصد ہے۔اگر ہم اس طريق پر عبادت کرنے کے قابل ہوتے ہيں تو ہم نہ صرف اللہ تعاليٰ کے حقوق ادا کرنے والے ہوں گے بلکہ ہم انسانيت کے بھي حقوق ادا کر رہے ہوں گے۔ کيونکہ يہ ناممکن ہے کہ ايک شخص اللہ تعاليٰ کي رضا اور قرب پا گيا ہو اور وہ اُس کي مخلوق کے حقوق ادا کرنے سے غافل ہو۔پس اِنہيں دو مقاصد کے ليے اس زمانہ ميں حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام کي بعثت ہوئي ہے تا کہ بندے کو اللہ تعاليٰ سے تعلق پيدا ہو اور انسانيت کو ايک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کي طرف توجہ دلائي جائے۔ اگر ہم ان دو مقاصد کو پورا کرنے کے ليے اُس روحاني مشعل کو پکڑنے کے  قابل ہو جائيں گےجن کا ذکر حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة و السلام نے فرمايا ہے تو پھر بلا شبہ دنيا کي توجہ ہماري طرف ہو گي اور ہماري طرف مائل ہونے والے لوگوں کي تعداد بڑھتي چلي جائے گي۔ تب ہي ہم اسلام کے حقيقي پيغام کو پھيلانے اور لوگوں کو اس طرف لانے  کي ذمہ داري ادا کرنے والے ہوں گے۔يہ وہ عظيم کام اور مشن ہے جسے مجلس خدام الاحمديہ کو اخلاص کے ساتھ قبول کرنا چاہيے۔

آپ کو دن رات اُن لوگوں کا ردّ کرنے کے ليے جو اسلام کے نام کو بدنام کررہے ہيں يا اسلام پر بے بنياد الزامات لگا رہے کام کرناچاہيے۔آپ لوگوں کو اسلام کي روشن تعليمات کو دور دور تک پھيلانے کے ليے پيش پيش ہونا چاہيے تاکہ ہم وہ بابرکت دن ديکھنے والے ہوں جب دنيا آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کے جھنڈے تلے متحد ہو گي۔ آپ لوگوں کا شمار اُن لوگوں ميں ہونا چاہيے جو اپنے دين کي خاطر ہر چيز کو قربان کرنے کے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔ تب ہي آپ دنيا ميں  انسانيت کو اللہ تعاليٰ کي عبادت کي طرف لانے والے  روحاني انقلاب کو برپا کرنے کے ليے اپنا کردار ادا کر سکيں گے۔ تب ہي ہم آج کي کالي گھٹاؤں کو صاف نيلے آسمان ميں بدلتا ہوا ديکھيں گے۔ تب ہي ہم اُس انتہائي اہم زمانے کے گواہ ہوں گے جب اللہ تعاليٰ کي شريعت دنيا بھر ميں حاوي ہو گي۔ پس اس عظيم کام کے ليے آپ کو ہميشہ تيار اور مستعد رہنا چاہيے۔ آخري دم تک اسے اپني زندگيوں کا  اوّلين کام اور مقصد سمجھيں۔

جيسا کہ مَيں نے پہلے کہا يہ کام صرف ايک سال يا چند دنوں کا نہيں ہے بلکہ يہ کام آپ کي پوري زندگي  کے ساتھ رہنا چاہيے۔ يہ آپ کي زندگيوں کا  واحد مقصد ہے جسے آپ کو چھوٹي عمر سے ہي سمجھنا چاہيے۔

اللہ تعاليٰ ہم سب کو اِس کے مطابق اپني زندگيوں کوگزارنے کي توفيق عطا فرمائے ۔ اللہ تعاليٰ ہر لحاظ سے مجلس خدام الاحمديہ  کو برکات سے نوازتا رہے ۔ آمين۔ اب ميرے ساتھ دعا ميں شامل ہو جائيں۔

(ترجمہ:فرّخ راحيل۔ مدير اردو ، اسماعيل ميگزين)

image_printپرنٹ کریں