skip to Main Content
نماز کی اہمیت و فوقیت

حضور انور ایدہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا :۔اس سال مجلس خدام الاحمدیہ یوکے نےصلٰوۃ کو

حضور انور ایدہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا :۔اس سال مجلس خدام الاحمدیہ یوکے نےصلٰوۃ کو اپنا موضوع بنایا اور امید ہے ہر سطح پر کوشش کی ہو گی  اور نماز کی طرف توجہ دلائی ہو گی ۔ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود سمجھے کہ نماز کی دین حق میں کیا اہمیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دن میں پانچ بار فرض کیا ہے  ۔ہم نے وقت کے امام کو مانا ہے  آپ نے آنحضرتﷺ کی پیشگوئی کے مطابق جماعت بنائی تا کہ حقیقی تعلیم کا  احیا ءکیا جائے جنہیں نبیﷺ پر نازل کیا گیا۔ ہم پر فرض ہے کہ نماز کو وہ اہمیت دیں جو اس کا حق ہے اور ہمارے مذہب کا پہلا فرض ہے اس لیے کبھی بھی اس میں کمزوری نہیں دکھانی چاہئے اور ہر وقت اس کو فوقیت دینی چاہئے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سورۃ بقرہ کے آغاز میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن متقیوں کے لیے ہدایت ہے اور حقیقی مومنین وہ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں……..(البقرہ 4) پھر نماز اسی طرح فرض ہے جس طرح ماضی میں فرض تھی ۔قرآن کی تعلیم زمانے اور وقت کی قید سے آزاد ہے۔ حضرت مسیح موعود کی تعلیمات کا فائدہ اس وقت ہو گا جب ہم اس پر عمل کریں گے جو دراصل خدا تعالیٰ کی تعلیمات پر مبنی ہیں…….. (البقرہ :239) اللہ تعالیٰ صلوۃ وسطی کی حفاظت کا فرماتا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ اس کی حفاظت سستی اور کمزوری آڑے نہ آئے خدا کے حضور مکمل عاجزی اور انہماک سے نماز پڑھنے  کا حکم ہے اور اس کی اس زمانہ میں خاص اہمیت ہے تمام لوگ اس قدر منہمک اور مستغرق ہیں آجکل کے لوگوں کی مصروفیات کو دیکھا جائے تو صلٰوۃ وسطی ظہر و عصر کی ہوتی ہیں اس کے بارے میں لوگ خاص سستی دکھاتے ہیں ۔ہمیں کبھی سستی نہیں دکھانی چاہئے۔ اس آیت کی روشنی میں یہ خیال مت کریں  کہ صلٰوۃ وسطی سے مراد  ظہر و عصر ہی ہیں۔دور حاضر میں مختلف لوگ ہیں  جو رات  جاگے رہتے ہیں۔ مثلا انٹرنیٹ پر،فونوں  پر رات گئے تک وقت ضائع کرتے ہیں اور فجر کی نماز پر اٹھنے کے قابل نہیں ہوتے اس لیے ان کے لیے نماز فجر صلٰوۃ وسطی ہو گی ۔ نبیﷺ کے زمانہ میں سہہ پہر کے وقت مصروف ہوا کرتے تھے اس لیے عصر کی نماز قرار دی تھی ۔ پانچوں میں سے کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ آجکل بہت سے لوگوں کیلئے نماز فجر صلٰوۃ وسطی  بن چکی ہے۔ اس لیے رات جلدی سونا چاہئے یا مصمم ارادہ بنا کر سوئیں کہ صبح نماز فجر ادا کرنی ہے اور کوشش ہو کہ نماز باجماعت ادا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا مردوں کوحکم ہے کہ نماز باجماعت ادا کریں۔ جو گھر میں ادا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل کرنے والا نہیں ہوگا۔ نماز باجماعت کا ثواب 27 گنا ہے۔اپنا موضوع بنایا اور امید ہے ہر سطح پر کوشش کی ہو گی  اور نماز کی طرف توجہ دلائی ہو گی ۔ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود سمجھے کہ نماز کی دین حق میں کیا اہمیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دن میں پانچ بار فرض کیا ہے  ۔ہم نے وقت کے امام کو مانا ہے  آپ نے آنحضرتﷺ کی پیشگوئی کے مطابق جماعت بنائی تا کہ حقیقی تعلیم کا  احیا ءکیا جائے جنہیں نبیﷺ پر نازل کیا گیا۔ ہم پر فرض ہے کہ نماز کو وہ اہمیت دیں جو اس کا حق ہے اور ہمارے مذہب کا پہلا فرض ہے اس لیے کبھی بھی اس میں کمزوری نہیں دکھانی چاہئے اور ہر وقت اس کو فوقیت دینی چاہئے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سورۃ بقرہ کے آغاز میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن متقیوں کے لیے ہدایت ہے اور حقیقی مومنین وہ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں……..(البقرہ 4) پھر نماز اسی طرح فرض ہے جس طرح ماضی میں فرض تھی ۔قرآن کی تعلیم زمانے اور وقت کی قید سے آزاد ہے۔ حضرت مسیح موعود کی تعلیمات کا فائدہ اس وقت ہو گا جب ہم اس پر عمل کریں گے جو دراصل خدا تعالیٰ کی تعلیمات پر مبنی ہیں…….. (البقرہ :239) اللہ تعالیٰ صلوۃ وسطی کی حفاظت کا فرماتا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ اس کی حفاظت سستی اور کمزوری آڑے نہ آئے خدا کے حضور مکمل عاجزی اور انہماک سے نماز پڑھنے  کا حکم ہے اور اس کی اس زمانہ میں خاص اہمیت ہے تمام لوگ اس قدر منہمک اور مستغرق ہیں آجکل کے لوگوں کی مصروفیات کو دیکھا جائے تو صلٰوۃ وسطی ظہر و عصر کی ہوتی ہیں اس کے بارے میں لوگ خاص سستی دکھاتے ہیں ۔ہمیں کبھی سستی نہیں دکھانی چاہئے۔ اس آیت کی روشنی میں یہ خیال مت کریں  کہ صلٰوۃ وسطی سے مراد  ظہر و عصر ہی ہیں۔دور حاضر میں مختلف لوگ ہیں  جو رات  جاگے رہتے ہیں۔ مثلا انٹرنیٹ پر،فونوں  پر رات گئے تک وقت ضائع کرتے ہیں اور فجر کی نماز پر اٹھنے کے قابل نہیں ہوتے اس لیے ان کے لیے نماز فجر صلٰوۃ وسطی ہو گی ۔ نبیﷺ کے زمانہ میں سہہ پہر کے وقت مصروف ہوا کرتے تھے اس لیے عصر کی نماز قرار دی تھی ۔ پانچوں میں سے کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ آجکل بہت سے لوگوں کیلئے نماز فجر صلٰوۃ وسطی  بن چکی ہے۔ اس لیے رات جلدی سونا چاہئے یا مصمم ارادہ بنا کر سوئیں کہ صبح نماز فجر ادا کرنی ہے اور کوشش ہو کہ نماز باجماعت ادا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا مردوں کوحکم ہے کہ نماز باجماعت ادا کریں۔ جو گھر میں ادا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل کرنے والا نہیں ہوگا۔ نماز باجماعت کا ثواب 27 گنا ہے۔

image_printپرنٹ کریں