skip to Main Content
نمازہائے جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید پرائیویٹ سیکرٹری لندن اطلاع دیتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 28؍اکتوبر 2019ء بروز سوموار نماز ظہر سے قبل مسجد مبارک میں درج ذیل نماز ہائے جنازہ حاضر و غائب پڑھائے۔

1۔نماز جنازہ حاضر

مکرمہ رشیدہ بیگم اہلیہ مکرم رانا فضل محمد مرحوم(ربوہ حال ٹوٹنگ ۔یوکے)
20؍اکتوبر2019ء کو 91سال کی عمر میں وفات پاگئیں ۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ا ٓپ مکرم ٹھیکیدار محمد حسین کی بیٹی تھیں۔ آپ کی شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مستری دین محمد کے بیٹے مکرم رانا فضل محمد مرحوم سے ہوئی تھی۔آپ کی ساس حضرت اماں جان کی خادمہ تھیں۔ حضرت اماں جان نے انہیں بھاگ بھری کا خطاب دیا ہوا تھا۔آپ کی شادی کے حوالہ سے قابل ذکر امر یہ ہے کہ حضرت اماں جان نے ہدایت فرمائی کہ ‘‘بھاگ بھری کی بہو کو میرے پاس لایا جائے۔ میں اسے دیکھنا چاہتی ہوں۔’’چنانچہ اس ہدایت کی تعمیل میں انہیں حضرت اماں جان کی خدمت میں لایا گیا اور آپ نے ازراہ شفقت ان کا منہ میٹھا کروایا۔تقسیم ہند کے وقت جب حضرت مصلح موعود ؓنے تحریک فرمائی تو مرحومہ کے شوہر کو قادیان میں رہنے کی توفیق ملی ۔مرحومہ انتہائی نیک ، صوم وصلوۃ کی پابند، کثرت سے تلاوت قرآن کریم کرنے والی ، خلافت کی اطاعت گزار،چندہ جات میں باقاعدہ اور مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی ایک نیک خاتون تھیں۔پسماندگان میں چار بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں ۔آپ مکرم عمران چغتائی (کارکن جامعہ احمدیہ یوکے)کی خوش دامن تھیں۔

نماز جناز ہ غائب

 مکرم محمد الطاف خان ( دارالعلوم غربی ربوہ )
19ستمبر 2019ء کو بقضائے الہٰی وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن آپ کے والد مکرم محمد حیات خان نے 1915 ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر بیعت کی توفیق پائی۔مرحوم کو پارٹیشن سے قبل اپنےوالد کے ہمراہ جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کا موقعہ ملا۔میٹرک کے بعد کچھ عرصہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں کام کرنے کے علاوہ لمبا عرصہ نظارت دیوان میں خدمت کی توفیق پائی ۔1996ء میں صدر انجمن سے ریٹائر ہونے کے بعد1999ء تک بالمقطع خدمت بجالاتے رہے۔ اپنے محلہ دارالعلوم غربی میں لمبا عرصہ بطور سیکرٹری مال بھی خدمت کی توفیق پائی۔اس عرصہ میں تحریک جدید اور وقف جدید کے سیکرٹری بھی آپ ہی تھے۔ آپ کا روزانہ کا معمول تھا کہ دفتری اوقات کے بعد رسید بک لے کر چندہ کی یاددہانی اور وصولی وغیرہ کے لئے نکل جایا کرتے تھے ۔ نمازوں کے پابند ، مالی قربانی میں پیش پیش ، ہر حالت میں راضی برضا اور سلسلہ کے لئے غیر ت رکھنے والے ایک مخلص ، باوفا اور نیک انسان تھے ۔ نماز فجر کے بعد قرآن کریم کی تلاوت بڑی باقاعدگی سے بلند آواز سے کرتے تھے ۔ اپنے بچوں کو بھی قرآن کریم کی تلاوت وتعلیم کی طرف بھر پور توجہ دلاتے رہے۔ اپنے ایک بیٹے کو قرآن کریم حفظ بھی کروایا ۔قرآن کریم ، آنحضرت ﷺ اور حضر ت مسیح موعود ؑ کی دعائیں کثرت سے بلند آواز میں ورد کیا کرتے تھے ۔کتب سلسلہ اور الفضل کا مطالعہ بڑی باقاعدگی سے کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے ۔پسماندگان میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم مولانا محمد منور (سابق مبلغ مشرقی افریقہ) کے بہنوئی، مکرم فضل الرحمان ناصر (استاد جامعہ احمدیہ یوکے ) کے والد ،مکرم سید شمشاد احمد ناصر( مربی سلسلہ امریکہ) کے خسر ، مکرم مبارک احمد طاہر (سیکرٹری مجلس نصرت جہاں) کے ماموں اور مکرم عبد الرزاق بٹ (مربی سلسلہ) کے نسبتی بھائی تھے۔

2۔نماز ہائے جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید پرائیویٹ سیکرٹری لندن اطلاع دیتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 30؍اکتوبر 9201ء بروز بدھ قبل نماز ظہر درج ذیل نماز ہائے جنازہ حاضر وغائب پڑھائے۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم شیخ عمر فاروق صاحب (ارلز فیلڈ۔یوکے)
26؍اکتوبر 2019ء کو 69سال کی عمر میں وفات پاگئے ۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم دس سال قبل لاہور سے یوکے شفٹ ہوئے تھے۔5۔6سال سے شعبہ ضیافت(مسجد فضل) میں خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ حضورانور سے ملاقات کرنے والے احباب کے لئے پہلے لندن اور اب اسلام آباد میں چائے کا انتظام بڑی بشاشت اور تندہی کے ساتھ کرتے تھے۔ کچھ عرصہ سے دل کے عارضہ میں مبتلا تھے لیکن اس کے باوجود باقاعدگی سے اس خدمت میں مصروف رہتے ۔ مرحوم صوم وصلوۃ کے پابند، چندوں کی ادائیگی میں باقاعدہ ، مہمان نواز، ہنس مکھ اور ایک خوش اخلاق انسان تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔

نماز جناز ہ غائب

 مکرم مبارک احمد (ربوہ)
24 جون 2019ء کو 76 سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے وفات پاگئے ۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم مخلص ، باوفا ، نہایت بزرگ اور نیک صفت انسان تھے۔ لمبا عرصہ ضلع لیّہ میں سیکرٹری مال کے طور پر احسن رنگ میں خدمت کی توفیق پائی ۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں کے پابند ، دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ، پرہیزگار اور لین دین کے کھرے انسان تھے ۔بطور احمدی ان کی شناخت قابل رشک تھی۔عدالتوں میں لوگ انہیں ایماندار ی کی وجہ سے جانتے تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔
 مکرمہ پروفیسر نسیم بانو (لطیف آباد ضلع حیدر آباد)
16 جون 2019ء کو 79سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ نمازوں کی پابند،تہجد گزار اور نظام جماعت سے تعاون کرنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔
 مکرمہ منظوراں بی بی (پریم کوٹ ضلع حافظ آباد)
19 جولائی 2019ء کو 83سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ اپنے خاندان میں واحد احمدی تھیں۔ ان کے سب بہن بھائی زور لگاتے رہے کہ یہ بھی جماعت کو چھوڑ دیں لیکن آپ نے انہیں کہا کہ مجھ سے تعلق رکھنا ہے تو رکھو لیکن میں جماعت کو ہر گز نہیں چھوڑوں گی ۔چنانچہ زندگی کے آخری سانس تک اس عہد پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں ۔

3۔نمازہائے جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید پرائیویٹ سیکرٹری لندن اطلاع دیتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 31؍اکتوبر 2019ء بروز جمعرات قبل نماز ظہردرج ذیل نماز ہائے جنازہ پڑھائے۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم ڈاکٹر شریف احمد (ڈینٹسٹ )ابن مکرم حاجی غلام محمد (لندن)
24؍اکتوبر 2019ء کو 92سال کی عمر میں وفات پاگئے ۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم کے والد کو قبول احمدیت کی وجہ سے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔مرحوم نے لاہور سے اپنی تعلیم مکمل کی اور بطور ڈینٹسٹ منڈی مریدکے سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1953 ء کے فسادات میں ہجرت کرکے چنیوٹ میں کلینک قائم کیا۔1974ء میں آپ کی دکانوں اور مکان کو آگ لگادی گئی ۔اس دوران جلوس پر دفاعی فائر کرنے سے ایک شخص کی ہلاکت پر آپ کو اپنے والد اور بیٹے کے ساتھ کئی سال اسیر راہ مولیٰ ہونے کی سعادت ملی ۔جیل سے رہا ہونے کے بعد مرحوم نے ربوہ میں رہائش اختیار کی اور بطور ڈینٹسٹ کام کا آغاز کیا جو یوکے آنے تک جاری رہا۔ مرحوم بے شمار خوبیوں کے مالک تھے ۔خلافت سے عشق کی حد تک پیار تھا۔ خلیفۂ وقت کے منہ سے نکلی ہوئی ہربات پر نہ صر ف خود بلکہ بچوں کو بھی عمل کروانے کی کوشش کرتے ۔نماز باجماعت اور تہجد کے پابند تھے۔ چندہ جات کی ادائیگی اور دیگر تحریکات میں حصہ لینے کا بھی خاص اہتمام کرتے تھے ۔ بہت نیک دل ،صدقہ و خیرات کرنے والے ، ملنسار، غریب پرور، بچوں سے شفقت سے پیش آنے والے ، ایک ہمدرد،دعا گو اور صاحب رؤیا بزرگ تھے ۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ آٹھ بیٹیاں ، چھ بیٹے اور کثیر تعداد میں پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں ۔

نماز جناز ہ غائب

مکرمہ امۃ القیوم قریشی اہلیہ مکرم مبارک احمد باری مرحوم (وینکوؤر ۔کینیڈا)
19 مئی 2019ء کو 73 سال کی عمر میں بقضائے الہٰی وفات پاگئیں ۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت منشی سراج دین ؓ کی پوتی ، مکرم ڈاکٹر بشیر احمد شاد کی بیٹی اور مکرم بابو عبدا لغفار شہید کی بہو تھیں ۔چھوٹی عمر میں بیوہ ہوگئی تھیں جس کے بعد اکیلے ہی اپنے تین بچوں کی پرورش کی ۔ حیدرآباد (پاکستان) میں اپنا سکول کھولا جو کہ علاقہ کا واحد سکول تھا۔ سخت مخالفت کے باوجود آٹھ سال تک سکول چلاتی رہیں ۔مرحومہ صوم و صلوۃ کی پابند بہت خوش مزاج ، ملنسار، مخلص اور نیک خاتون تھیں۔پسماندگان میں تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

image_printپرنٹ کریں