skip to Main Content
راجا نصر اللہ خاں: نفس کو مارو  کہ اس جیسا کوئی دشمن نہیں

حضرت مسیح موعو دؑ نے فرمایا ہے کہ‘‘ نفس کو مارو کہ اس جیسا کوئی دشمن نہیں ’’یہاں نفس سے مراد نفس امارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہےکہ نفس تو بدی کا بہت حکم دینے والا ہے ۔( یوسف : 54) واضح ہو کہ نفس کو مارنے کا مطلب یہ ہے کہ بدی کا حکم دینے والے نفس امارہ اور اس کی پیروی میں پیدا ہونے والی بدخواہشات اور عادات کا قلع قمع کیا جائے۔ ان کی تعمیل اور تکمیل کرنے کی بجائے نیکی کی طرف رغبت ہونی چاہئے اور پاک خیالات و عادات کو اپنا شعار بنانا چاہئے۔یعنی تزکیۂ نفس کیا جائے اور ہر سوچ اور ہر عمل کو خداتعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالا جائے۔ حضرت مسیح موعود ؑ اپنی تحریر دل پذیر‘‘اسلامی اصول کی فلاسفی’’کے شروع کے حصہ میں ہی فرماتے ہیں۔
‘‘پہلا سر چشمہ جو تمام طبعی حالتوں کا مورد اور مصدر ہے اس کا نام قرآن شریف نے نفس امارہ رکھا ہے۔ جیساکہ وہ فرماتا ہے۔اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوْءِیعنی نفس امارہ میں یہ خاصیت ہے کہ وہ انسان کو بدی کی طرف جو اس کے کمال کے مخالف اور اس کی اخلاقی حالتوں کے بر عکس ہے جھکاتا ہے اور ناپسندیدہ اور بد راہوں پر چلانا چاہتا ہے۔ غر ض بے اعتدالیوں اور بدیوں کی طرف جانا انسان کی ایک حالت ہے جو اخلاقی حالت سے پہلے اس پر طبعاً غالب ہوتی ہے ۔اور یہ حالت اس وقت تک طبعی حالت کہلاتی ہے جب تک کہ انسان عقل اور معرفت کے زیر سایہ نہیں چلتا بلکہ چارپایوں کی طرح کھانے ،پینے ،سونے ،جاگنے یا غصہ او رجوش دکھلانے وغیرہ امور میں طبعی جذبات کا پیرو رہتا ہے۔’’

(اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد 10ص316)

انسان کی پیدائش کی غرض

اللہ تعالیٰ سورۃ الذاریات آیت 57 میں فرماتا ہے ۔‘‘ اور میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عباد ت کریں۔’’
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ اردو ترجمہ قرآن کریم ص950 نوٹ نمبر 1 میں جن و انس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
‘‘اس میں جن و انس سے مراد بڑے لوگ اور چھوٹے لوگ ہیں۔ دونوں کی پیدائش کی غرض اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے ۔’’
واضح ہو گیا کہ عبادت الہٰی سے انسان نفس کی پیروی اور سرکشی سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بندہ بن کر ہزار برائیوں اور بداعتدالیوں سے بچ سکتا ہے۔ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ عبادت الہٰی کی اعلیٰ اور ارفع اور افضل صورت اور طریق پنج وقتہ نماز کو قائم کرنا ہے جس کے متعلق قرآن کریم بار بار حکم دیتا ہے ۔ چنانچہ سورۃ بقرہ آیت 44 میں فرمایا گیا ہے۔ ‘‘او رنماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور جھکنے والوں کے ساتھ جھک جاؤ۔’’

حقیقی نماز کی خصوصیت

سور ۃ العنکبوت میں ارشاد الہٰی ہے ۔‘‘اور نماز قائم کرو یقیناً نماز بے حیائی او رہر نا پسندیدہ بات سے روکتی ہے۔’’ (العنکبوت:46)
اگر ہم قرآن کریم کے اس پاکیزہ بیان پر غور کریں تو واضح ہو جائے گا کہ نفس امارہ کو تزکیہ ٔ نفس کے عمل سے گزرنے اور دنیا داری اور بے راہ روی سے بچ کر دین داری اور روحانی ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے پنج وقتہ نماز بہترین ذریعہ اور دائم و قائم روحانی سیڑھی ہے جس کی مدد اور برکت سے انسان عام مومن کی سطح سے ترقی کرتے کرتے ‘‘با خدا انسان اور پھر خدا نما انسان ’’ کے مقام پر پہنچ سکتا ہے ۔ اسی لئے دین حق نے بار بار نماز کے قیام پر زور دیا ہے اور احادیث مبارکہ میں بھی اس کی بےحد تاکید اور ترغیب بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ ‘‘چالیس جواہر پارے’’ میں عبادات سے متعلق بخاری شریف کی حدیث مبارکہ کو درج کر کے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ بطور وضاحت تحریر فرماتے ہیں ۔
‘‘پہلی عبادت صلوٰۃ یعنی نماز ہے جس کے معنی عربی زبان میں دعا اور تسبیح و تحمید کے ہیں نماز دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں پانچ نمازوں کی صورت میں فرض کی گئی ہے اور جسمانی طہارت یعنی مسنون وضو کے بعد مقررہ طریق پر ادا کی جاتی ہے ۔ ’’آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں:‘‘نماز کی غرض و غایت خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق پیدا کرنا اور اس کی یاد کو اپنے دل میں تازہ رکھنا اور اس کے ذریعہ اپنے نفس کو فحشاء اور منکرات سے پاک کرنا اور خدا سے اپنی حاجتیں طلب کرنا ہے۔’’

(چالیس جواہر پارے ص17-18)

بچے بڑوں کو بھی نماز کی طرف توجہ دلائیں

حضر ت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خلافت مبارکہ کے ابتدائی دنوں میں ہی بچوں کو نماز کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔
‘‘دوسرے مساجد کو آباد کرنے کےلئے جس طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کی خواہش تھی کہ نئی صدی میں ہر گھر نمازیوں سے بھر جائے تو یہاں بھی آپ نمازیں پڑھنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں اور دیں۔ ربوہ کے ماحول میں جو خالصتاًاحمدیت کا ماحول ہے بچوں کو چاہئے کہ اپنے بڑوں کو بھی توجہ دلائیں او رخو دبھی خاص توجہ کریں اور مساجد میں زیادہ سے زیادہ جائیں اور مساجد کو آباد کریں تا کہ احمدیت کی فتح کے نظارے جو دعاؤں کے طفیل ہمیں انشاء اللہ ملنے ہیں، وہ ہم جلدی دیکھیں۔’’

(الفضل 10 جون 2003ء بحوالہ مشعل راہ جلد پنجم حصہ اول ص64)

یوم حساب پہلا سوال نماز کے متعلق ہو گا

حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے روز حساب کے وقت سب سے پہلا سوال یہ ہو گا کہ اس شخص کے نامہ ٔ اعمال میں نمازوں کا کیا حال ہے؟ اگر نمازوں کی ادائیگی کا حساب درست نکلا تو باقی اعمال کا حساب ہوگا ورنہ وہ شخص پہلے مرحلہ پر ہی ناکام ہو جائے گا۔شاعر نے کیاخوب کہا ہے۔

روز محشر کہ جان گداز بود
اولیں پُرسش نماز بود

کہ قیامت کے دن جب تمام انسان خدا تعالیٰ کے حضور لرزاں و ترساں حاضر ہوں گے تو پہلا سوال نماز کے متعلق ہو گا۔
مندرجہ بالا تصریحات سے واضح ہو گیا کہ انسانی پیدائش کی غرض عبادت الہٰی ہے۔تاکہ وہ اپنے اعمال اور خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع رکھے اور اپنے نفس کا محاسبہ اور اصلاح کرتا رہے اور عبادت کی اولین اور بہترین صورت نماز کی باقاعدہ ادائیگی ہے۔ جس سے انسان اپنے خالق اور مالک کی مناجات او ر تسبیحات اور دعا و تضرعات اور درود شریف و استغفار میں مصروف و محظوظ و ملتجی رہتا ہے ۔ اس طرح انسان کا دل اور دماغ توفیق اور معرفت حاصل کرتا ہے اور بے شمار گناہوں اور کمزوریوں اور قباحتوں اور پریشانیوں سے محفوظ و مامون رہتا ہے۔

اعمال اور نفس کی پاکیزگی کے لئے بنیادی باتیں

ایک بات ہمارے ذہن میں ہر وقت مستحضر رہنی چاہئے کہ بندگی اور معرفت کا حق ادا کرنے کے لئے خود کو ہمیشہ اللہ کا ایک عاجز اور محتاج اور دل سے شکر گزار بندہ ہی یقین کرنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے عاجزی اور فروتنی اور بے نفسی پر بے حد زور دیا ہے اور ہمیں بار بار اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مقبول اعمال اور عبادات کے لئے اخلاص اور بے ریائی اولین شرط ہے ۔جبکہ خود پسندی ، ظاہر داری اور تکبر اور تصنع انسان کے اعمال کو اور عبودیت کو پامال کرد یتے ہیں۔
حضرت مسیح موعودؑ بعض اہم امور کے بارہ میں اپنی جماعت کو آسان اور دلچسپ مثالوں سے سمجھانے کےلئے بعض بزرگوں کی حکایتیں بھی بیان فرماتے تھے۔ چنانچہ حضورؑ نے اپنی کتب اور ملفوظات میں تذکرۃ الاولیاء ،گلستان سعدی اور مثنوی مولانا روم سے بھی کئی سبق آموز اور دل پذیر باتیں بیان فرمائی ہیں۔

ایک ظاہر دار حاجی کا قصہ

حضرت مسیح موعودؑ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے جو خاکسار کو کچھ اس طرح یاد ہے کہ ایک حاجی نے تین حج کئے تھے۔ اس نے ایک درویش صفت بزرگ کو دعوت پر بلایا۔جب امیر کبیر حاجی کے ملازم نے دستر خوان پر پُر تکلف کھانا چن دیا تو میزبان حاجی نے اس بزرگ پر اپنی نیکی کا اثر بٹھانے کےلئے ملازم سے کہا کہ اس برتن میں تو کچھ ڈال کر لاؤ جو میں پہلے حج کے موقع پر خرید کر لایا تھا۔ ملازم نے اس کے حکم کی تعمیل کی لیکن اس مہمان بزرگ نے کوئی تعریف نہ کی تو تھوڑی دیر بعد ظاہر پرست حاجی نے ملازم سے کہا کہ اس برتن میں تو کچھ ڈال کر لاؤ جو میں دوسرے حج کے موقع پر خرید کر لایا تھا۔ ملازم نے اس کے حکم کی تعمیل کی لیکن اس مہمان بزرگ نے پھر کوئی تعریف نہ کی۔ تھوڑی دیر بعد و ہ حاجی صاحب ملازم سے مخاطب ہو کر بولے کہ اب وہ برتن بھی لے آؤ جو میں تیسرے حج کے موقع پر لایا تھا۔ اس پر اس اللہ کے نیک بندے یعنی مہمان نے دنیا دار حاجی سے کہاکہ آپ نے اتنی مشقت اور خرچ اٹھا کر تین حج کئے لیکن تین متکبرانہ اور پُر تصنع جملوں سے تینوں حجوں کا ثواب ضائع کر دیا۔
قارئین کرام!آئیے اب چشم تصور سے ایک اور دعوت کا نظارہ کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں جس کا انتظام آج سے تقریباً چودہ سو سال قبل ایک غریب صحابی نے اپنے مہمان کےلئے کیا تھا۔اور یہ پاکیزہ واقعہ حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے خطابات میں کئی بار بیان فرمایا ہے جسے کچھ مختصر کر کے درج کیا جاتا ہے۔
بخار ی کی حدیث مبارکہ ہے کہ ایک غریب حال شخص حضرت نبی کریمﷺ کی خدمت میں آیا۔ حضورؐ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ آج رات کون اس کو مہمان بنائے گا۔ انصار میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ میں یا رسول اللہ ﷺ! پھر وہ انصاری اس شخص کو اپنے گھر لے گیا ۔ اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ حضرت رسول مقبول ﷺ کا مہمان ہے۔ اس کی بہت خاطر کرنی چاہئے اس کی بیوی نے کہا کہ گھر میں صرف بچوں کے لائق کھانا موجود ہے۔ اس شخص نے کہا کہ تم بچوں کو کسی طرح بہلاؤ اور کھانا مانگیں تو کسی طرح ان کو سلا دو۔ اور جب مہمان کھانا کھانے کے لئے کمرے میں آوے تو کسی بہانہ سے چراغ بجھا دیجئو اور اس طرح ظاہر کرنا کہ ہم بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر کھا رہے ہیں پھر وہ سب کے سب کھانے پر بیٹھ گئے اورمہمان نے تو کھانا کھایا ۔مگر دونوں میاں بیوی خالی پیٹ سو گئے۔ صبح کو جب وہ انصاری رسول مقبول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ رات تم دونوں نے مہمان نوازی کا جو عمل کیا اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ عرش پر ہنسا۔

(پانچ سو مشہور و معتبر احادیث کا مجموعہ مؤ لفہ حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب حدیث نمبر 218-اختصارًا)

متذکرہ دو دعوتوں پر غور کریں۔ پہلی پر تکلف اور خرچ کے لحاظ سے مہنگی دعوت جو ایک شیخی باز حاجی نے اپنے نفس کی بر تری کےلئے کی۔ فقط تقویٰ کی بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے بے اصل اور بے وقعت ہوگئی اور زمین کے فرش پر ہی رہ گئی۔ جبکہ غریب انصاریؓ کی چند درہم کی سادہ سی دعوت ایثار اور تقویٰ کی دولت سے مالا مال ہونے کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے عرش پر پہنچی اور انمول ٹھہری۔

ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے

حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں خالص اور مقبول نیکی اور عمل کا راز سمجھا دیا ہے۔ کہ ہماری ہر سوچ ہر عمل اور ہر قدم تقویٰ کی بنیاد پر ہونا چاہئے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اطاعت کےلئے ہو نہ کہ نفس پرستی اور دکھاوے اور سستی شہرت کے لئے۔فرمایا۔

ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے
اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے

یعنی اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہی عمل اور نیکی پسندیدہ اور قابل قدر ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر ہو۔ ادنیٰ اور اعلیٰ کے فرق کو شیخ سعدی نے خوب بیان کیا ہے۔

اگر شبہا ہمہ شب قدر بودے
پس قیمت لعل و سنگ یکساں بودے

یعنی اگر ہر رات شب قدر کی طرح ہوتی تو پھر شب قدر کی کوئی قدر نہ رہتی۔ اس فرق کو ایک اور مثال سے یوں بیان فرمایا۔

گر سنگ ھمہ لعلِ بدخشاں بودے
پس قیمتِ لعل و سنگ یکساں بودے

یعنی اگرتمام پتھر لعل بد فشاں ( کی طرح قیمتی) بن جاتے تو قیمتی اور لعل اور عام پتھر کی قیمت برابر ہوجاتی ۔

(گلستان سعدی باب 8)

جو خاک میں ملے اسے ملتا ہے آشنا

نفس کی رعونت اور انانیت کو مارنے کا ایک نہایت ہی بنیادی اور کارگر نسخہ حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں بتایا ہے۔آپؑ فرماتے ہیں

جو خاک میں ملے اُسے ملتا ہے آشنا
اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما

‘‘تذکرۃ الاولیاء’’ از حضرت شیخ فرید الدین عطار میں حضرت با یزید بسطامی کے حالات میں تحریر ہے ۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ
‘‘مجھ سے بذریعہ الہام اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عبادت و خدمت تو بہت ہے لیکن اگر تو ہماری ملاقات کا متمنی ہے تو ہماری بارگاہ میں وہ شے شفاعت کے لئے بھیج جو ہمارے خزانے میں نہ ہو۔ آپ نے سوال کیا کہ وہ کون سی شے ہے۔فرمایا گیا کہ عجز و انکساری اور ذلت و غم حاصل کر۔ ان کو حاصل کرنے والے ہمارا قرب حاصل کر لیتے ہیں۔’’

(تذکرۃ الاولیاء اردو باب 14 ص 92 ۔ناشر ملک اینڈ کمپنی غزنی سٹریٹ ۔ اردو بازار لاہور)

اچھا کھانا اور پہننا تقویٰ اور تزکیۂ نفس کے خلاف نہیں

ہماری جماعت کی یہ بھی تعلیم ہے کہ نیک اعمال کےلئے سب سے مقدم تقویٰ اور تزکیۂ نفس ہے۔ لیکن جائز نعمتوں کا استعمال کرنا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا دین حق کی تعلیم کے عین مطابق ہے۔ پہلے بزرگوں میں سے بھی کئی اہل اللہ عمدہ لباس وغیرہ استعمال کرتے تھے۔
‘‘تذکرۃ الاولیاء’’ کا پہلا باب حضرت اما م جعفر صادقؒ کے حالات اور اقوال پر مشتمل ہے۔ لکھا ہے کہ ‘‘ایک دفعہ آپ کو بیش بہا قیمتی لباس میں دیکھ کر کسی نے اعتراض کیا کہ ایسا قیمتی لباس اہل بیت کےلئے مناسب نہیں تو آپ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر جب اپنی آستین پر پھیرا تو اس کو آپ کا لباس ٹاٹ سے بھی زیادہ کھردرا محسوس ہوا۔ اس وقت آپ نے فرمایا ‘‘ھذا للخلق و ھذا للحق ’’ یعنی مخلوق کی نگاہوں میں تو یہ عمدہ لباس ہے لیکن حق کے لئے یہی کھردرا ہے۔’’

(تذکرۃ الاولیاء ص3)

سلام میں پہل کرنے سے بھی مروّت اور نرم دلی پیدا ہوتی ہے

مروت اور دلجوئی اعلیٰ انسانی صفات ہیں۔ سلام میں سبقت لے جانا بھی بہت بڑی نیکی ہماری جماعت کی فرشتہ سیرت ہستی حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ اس نیکی میں ایک منفرد مثال تھے۔
سلام کی اہمیت مسلم شریف کی اس حدیث مبارکہ سے ظاہر ہوتی ہےرسول مقبول ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم لوگ ہر گز جنت میں داخل نہیں ہو سکتے۔ جب تک تم ایمان نہ لاؤ۔ اور تم ہرگز ایمان نہیں لا سکتے۔جب کہ تم آپس میں محبت نہ کرو اور لوگو کیا نہ آگاہ کروں میں تم کو ایسی بات پر کہ اگر تم وہ کرو تو آپس میں محبت پیدا ہوگی ۔ سنو وہ یہ ہے کہ آپس میں بہت سلام کیا کرو گے۔

(پیارے رسول کی پیاری باتیں از حضرت میر سید محمد اسحٰق صاحب حدیث نمبر 141)

نفس کی سرکشی اور من مانی کا مسلسل محاسبہ اور اصلاح ضروری ہے

نفس امارہ کی سرکش خصلت طبعی طور پر انسان میں موجودہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ شیطان انسان کے خون میں دوڑ رہا ہے ۔ اس لئے اللہ کی مدد چاہتے ہوئے پورے استقلال اور مسلسل کوشش سے اس پر قابو پانا ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے ہمیں اصلاح نفس کے لئے یہ نسخہ تعلیم فرمایا ہے۔
‘‘چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔’’

(کشتیٔ نوح ۔روحانی خزائن جلد19ص12)

مثنوی مولانا روم کی ایک سبق آموز حکایت

مولانا روم کی بے حد سبق آموز حکایات میں سے ایک قابل غور حکایت مختصراً پیش کی جاتی ہے ۔مولانا روم فرماتے ہیں۔
ایک دفعہ برف باری کے دنوں میں ایک سپیرا کسی خاص سانپ کی تلاش میں ایک اونچے پہاڑ پر پہنچا تو اسے برف میں پڑا ایک بہت بڑا مردہ اژ دھا دکھائی دیا۔ اس نے سوچا کہ اگر و ہ کسی طرح اس اژدھے کو کھینچ کر شہر میں لے جائے تو لوگ حیران بھی ہونگے اور خوش بھی اور اسے انعام دیں گے۔ چنانچہ وہ اس اژدھا کو رسیوں میں باندھ کر شہر میں لے آیا اور شہرمیں منادی کردی جس پر لوگ دوڑے دوڑے آئے اور ایک اژدحام اکٹھا ہوگیا۔لوگ اس اژدھے کو دیکھ کر اپنے اپنے شورو غل اور رونق میں مصروف تھے کہ دن میں سورج کی تمازت پیدا ہونے کی وجہ سے وہ ٹھٹھرا ہوا مردہ نما سانپ اچانک بیداراور متحرک ہونے لگا اور اس زور سے پھنکارنے لگا کہ لوگوں کے مارے خوف کے ہوش اڑ گئے اور وہ ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ادھر ادھر بھاگ نکلے۔
اس حکایت سے مولانا روم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسان کا نفس بھی اژدھا کی مانند ہے۔ اسے بالکل مردہ نہ سمجھنا چاہئے کیونکہ وہ موقع پاکر پھر بھی اپنی سرکشیوں اور بے اعتدالیوں پر اتر آتاہے۔ اس لئے انسان کو ہمیشہ نفس امارہ کی طرف سےخبردار رہناچاہئے اور دعا اور نیک اعمال اور باقاعدہ محاسبہ سے اسے زیر رکھنا چاہئے۔ذوق دہلوی نے کیا خوب کہا ہے۔‘‘بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا’’
صاحب ایمان کی اصل منزل
حضرت مسیح موعودؑ اپنی عظیم اور پر معارف تصنیف ‘‘اسلامی اصول کی فلاسفی’’ کے شروع کے حصہ میں نفس امارہ کا ذکر کرنے کے بعد نفس لوامہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ۔
‘‘اور اخلاقی حالتوں کے دوسرے سر چشمہ کا نام قرآن شریف میں نفس لوامہ ہے جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے۔وَلَا اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ(القیامۃ :2)یعنی میں اس نفس کی قسم کھاتا ہوں جو بدی کے کام اور ہر ایک بے اعتدالی پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے۔یہ نفس لوّامہ انسانی حالتوں کا دوسرا سر چشمہ ہے جس سے اخلاقی حالتیں پیدا ہوتی ہیں اور اس مرتبہ پر انسان دوسرے حیوانات کی مشابہت سے نجات پاتا ہے۔اور اس جگہ نفس لوامہ کی قسم کھانا اس کو عزت دینے کے لئے ہے ۔ گویا وہ نفس امارہ سے نفس لوامہ بن کر بوجہ اس ترقی کے جناب الہٰی میں عزت پانے کے لائق ہوگیا۔ اور اس کانام لوامہ اس لئے رکھا کہ وہ انسان کو بدی پر ملامت کرتا ہے اور اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ انسان اپنے طبعی لوازم میں شتر بے مہار کی طرح چلے اور چارپایوں کی زندگی بسر کرے بلکہ یہ چاہتا ہے کہ اس سے اچھی حالتیں اور اچھے اخلاق صاد ر ہوں اور انسانی زندگی کے تمام لوازم میں کوئی بے اعتدالی ظہور میں نہ آوے …لیکن نیکیوں کے بجالانے پر پورے طور سے قادر بھی نہیں ہو سکتا ۔ اورکبھی نہ کبھی طبعی جذبات اس پر غلبہ کر جاتے ہیں ۔تب گرجاتا ہے اور ٹھوکر کھاتا ہے۔گویا وہ ایک کمزور بچہ کی طرح ہوتا ہے جو گرنا نہیں چاہتا ہے مگر کمزوری کی وجہ سے گرتا ہے پھر اپنی کمزوری پر نادم ہوتا ہے۔غرض یہ نفس کی وہ اخلاقی حالت ہے جب نفس اخلاق فاضلہ کو اپنے اند ر جمع کرتا ہے اور سرکشی سے بیزار ہوتا ہےمگر پورے طور پر غالب نہیں آسکتا۔’’

(اسلامی اصول کی فلاسفی ۔روحانی خزائن جلد 10ص317)

نفس مطمئنہ

حضرت مسیح موعودؑ اپنی تصنیف‘‘اسلامی اصول کی فلاسفی’’ میں فرماتے ہیں۔
‘‘پھر ایک تیسرا چشمہ ہے جس کو روحانی حالتوں کا مبدء کہنا چاہئے۔ اس سر چشمہ کا نام قرآن شریف نے نفس مطمئنہ رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتاہے۔یٰٓاَیَّتُھَاالنَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ۔اِرْجِعِی اِلیٰ رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً۔فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ۔ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ(الفجر 28تا31)یعنی اے نفس آرام یافتہ جو خدا سے آرام پا گیا اپنے خدا کی طرف واپس چلا آ۔تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر آجا۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس میں نفس تمام کمزوریوں سے نجات پا کر روحانی قوتوں سے بھر جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ سے ایسا پیوند کر لیتا ہے کہ بغیر اس کے جی بھی نہیں سکتا اور جس طرح پانی اوپر سے نیچے کی طرف بہتا اور بسبب اپنی کثرت کے اور نیز روکوں کے دور ہونے سے بڑے زور سے چلتا ہے اسی طرح وہ خدا کی طرف بہتا چلا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے وہ نفس جو خدا سے آرام پا گیا اس کی طرف واپس چلا آ۔پس وہ اسی زندگی میں نہ موت کے بعد ایک عظیم الشان تبدیلی پیدا کرتا ہے اور اسی دنیا میں نہ وہ دوسری جگہ ایک بہشت اس کو ملتا ہے اور جیسا کہ اس آیت میں لکھا ہے کہ اپنے رب کی طرف یعنی پرورش کرنے والے کی طرف واپس آ۔ایسا ہی اس وقت یہ خدا سے پرورش پاتا ہے اور خدا کی محبت اس کی غذا ہوتی ہے اور اسی زندگی بخش چشمہ سے پانی پیتا ہے۔’’

(اسلامی اصول کی فلاسفی ۔روحانی خزائن جلد 10 ص318)

حضرت مسیح موعودؑفرماتے ہیں۔

جسم کو مَل مَل کے دھونا یہ تو کچھ مشکل نہیں
دل کو جو دھووے وہی ہے پاک نزد کردگار

image_printپرنٹ کریں