skip to Main Content
ایڈیٹر کے قلم سے:  مکرم مولانا دوست محمد شاہد ذکر خیر

بزرگوار م مولانا صاحب سے خاکسار کا تعلق بچپن سے ہے جب میری والدہ محترمہ، محترم مولانا کی اہلیہ محترمہ سے (جو رشتہ میں کزن تھیں) ملنے آپ کے گھر جایا کرتی تھیں اور مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتیں۔ محترم مولانا صاحب مرحوم نے انجمن کے چھوٹے سے گھر میں ایک بہت بڑی لائبریری بنا رکھی تھی اور ایک کونہ میں کرسی میز لگا کر بیٹھے مطالعہ میں مصروف رہتے۔ میں نے ہر موقع پر اس بزرگ ہستی سے رہنمائی لی۔ اللہ تعالیٰ سے عشق کی حد تک پیار تھا۔ چند سال قبل تک جب بآسانی چل پھر سکتے تھے۔ سائیکل سے گرنے کے بعد جب آپ صحت یاب ہوئے تو تب بھی آہستہ آہستہ مسجد میں آکر نماز ادا کرتے رہے۔ مسجد مبارک میں تو ایک عرصہ تک امامت کے بھی فرائض ادا کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ سے عشق کے بعد آپ کو حضرت محمد مصطفی ﷺ سے کمال درجہ کی محبت رکھنے والا پایا۔ جب بھی حضرت محمد ﷺ کا نام آتا فوراً درود پڑھتے اور اکثر آپ کی آنکھیں فرط محبت سے آنسوؤں سے تر ہوتیں۔ خلافت سے حددرجہ تک پیار تھا۔ اس سلسلہ میں غیرت بھی رکھتے تھے۔ کبھی کسی سے خلافت یا نظام سلسلہ کے متعلق منفی بات برداشت نہ کرتے۔ حضرت خلیفۃ المسیح رحمہ اللہ سے اس حد پیار تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی وفات کے صدمہ سے بیمار ہو گئے۔ آپ کو اس بیماری سے نکلنے کے لئے نظام جماعت نے اسلام آباد بھجوایا کہ ذرا آب و ہوا تبدیل ہو گی تو شاید طبیعت سنبھل جائے۔ میں چونکہ ان دنوں اسلام آباد میں مقیم تھا اس لئے آپ کی دیکھ بھال کیلئے میری ڈیوٹی لگی گو آپ نے وہاں چند دن ہی قیام فرمایا مگر مجھے اس وقت مرحوم کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ باربار ربوہ واپس جانے کا اظہار کرتے اور فرماتے کہ فارغ رہ کر میں زیادہ بیمار رہنے لگا ہوں۔ جب خاکسار کو ربوہ میں خدمات سونپی گئیں تو مسجد اقصیٰ کا انتظام وانصرام میرے سپرد تھا تو جمعہ پر تشریف لاتے۔ بسااوقات وہ اچکن زیب تن کی ہوتی جو خلفاء نے آپ کو عطا فرمائیں تو بہت ہی پیار سے اس کا ذکر فرماتے۔ حضرت صاحب کی طرف سے جو بھی حکم آتا فوراً اس کی تعمیل کرتے۔ بہت صاف گو تھے۔ میں نے بار ہا دیکھا کہ میں اگر آپ کے پاس ملاقات کے لئے حاضر ہوا ہوں تو سلام دعا کے بعد کہہ دیتے کہ آج معذرت مجھے خلیفۃ المسیح کو کچھ حوالے ارسال کرنے ہیں ان کی تلاش میں مصروف ہوں۔ آپ کی طبیعت میں لطیف مزاح تھا۔ میرے مختلف اسٹیشنز پر قیام کے دوران آپ کو تقاریر کرنے اور خطبات دینے کا موقع ملا۔ باوجود اس کے کہ علم کے بحر بے کراں تھے مگر ہر خطاب کی پوری تیاری فرماتے۔ اس وقت فوٹو کاپی کا اتنا رواج تو تھا نہیں۔ اپنے ہاتھ سے حوالے کے حوالے نوٹ فرماتے۔ آپ کے ساتھ سفر میں انسان بور نہ ہوتا۔ کوئی نہ کوئی مزاحیہ لطیفے سنا کر ماحول کو خوشگوار رکھتے۔ کھانا ہمیشہ خطبہ یا خطاب کے بعد کھاتے اور فرمایا کرتے کہ مرغ بھوکا اچھا لڑتا ہے۔
آپ ہر خط کا جواب ضرور دیتے۔ اگر آپ کو کوئی حوالہ یا تراشہ بھجوایا جاتا تو نہ صرف رسیدگی سے مطلع فرماتے بلکہ اکثر لکھا کرتے کہ میں اس سے ضرور فائدہ اٹھاؤں گا ایک دفعہ تحریر فرمایا کہ‘‘ پہلے رسالہ کا ایک حصہ تو الفضل انٹرنیشنل کے لئے آج سے زیر قلم بھی ہے’’ خاکسار نے لاہور اپنے قیام کے دوران آنمحترم کو لاہور سے چھپنے والے رسائل بھجوانے کا سلسلہ شروع کیا تو آپ کی خوشی دیدنی تھی۔ نہ صرف رسیدگی سے مطلع فرماتے بلکہ اس کے حاصل مطالعہ سے خاکسار کی بھی علمی پیاس بجھایا کرتے۔ آپ اپنے تحریر کردہ خطوط میں ایک تو تاریخ ضرور ڈالتے اور اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود خط خوشخط لکھتے۔ آپ کی تحریر پڑھ کر یہ کبھی احساس نہ ہوتا کہ جلدی میں لکھی ہوئی تحریر ہے بلکہ بسا اوقات حاشیہ آرائی بھی فرماتے۔ تیسرے یہ کہ یہ مصرعہ آپ کے خط کی زینت ہوتا۔ شکریہ کے بعد لکھتے۔

؏ تیرے اس لطف کی اللہ ہی جزاء دے ساقی
اور خط کے آخر میں آپ کی دعائیہ تحریر یہ ہوتی۔ ؏

ہر گام پر فرشتوں کا لشکر ہو ساتھ ساتھ
2005ء میں میں جب ربوہ آ گیا تو پھر میری طرف سے کوئی تراشے یا حوالے یا مضمون بھجوانے پر خط تو نہ لکھتے تاہم آپ کا پیغام دفتر کے کوئی کارکن بذریعہ فون سنوا دیتے۔ خاکسار نے اپنے مضامین یا کتب میں محترم مولانا مرحوم سے بہت رہنمائی لی ہے۔ آپ نے گوناگوں مصروفیات کے باوجودمیری چار کتب لفظاً لفظاً پڑھیں اور میری رہنمائی فرمائی اور جگہ بجگہ تصحیح بھی فرمائی۔ آپ میرے جامعہ احمدیہ کے مقالہ ‘‘سرایا’’ کے ممتحن بھی تھے۔ ایسے وقت میں بھی آپ نے حوصلہ بڑھایا۔ خود بھی دسیوں کتب کے مصنف تھے۔ اپنے دستخط سے دعائیہ کلمات کے ساتھ کتب تحفتاً بھجواتے۔ آپ اپنی کتاب فروخت نہ کیا کرتے بلکہ تحفتاً دے دیتے۔ ایک دفعہ مجھے دفتر بلوایا اور کہا کہ اہل علم اور مربیان کرام کی ایک فہرست بنا لائیں۔ میں جب فہرست کے ساتھ حاضر ہوا تو فہر ست کے مطابق اتنی ہی تعداد میں کتب گن کر مجھے دے دیں کہ یہ کسی طریقے سے ان تک پہنچا دیں ۔
آپ کا دفتر لائبریری سے ملحقہ تھا۔ آپ کو کسی کتاب کی کوئی کمی محسوس نہ ہوتی تھی لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنے گھر میں ایک الگ لائبریری بنا رکھی تھی۔ آپ کو جب بڑا کوارٹر ملا تو اس میں آپ نے اپنا کتب خانہ بنوایا اور دفتر بھی۔ ایک دن کہنے لگے کہ کسی وقت میرے غریب خانہ میں تو آئیں۔ خاکسار نے اسے اپنے لئے سعادت سمجھا اور ایک دن کے وقفہ کے ساتھ میں آپ کے گھر پہنچ گیا۔ سیدھے اپنے کتب خانہ میں لے گئے۔ اپنی لائبریری کا تعار ف کروایا پھر چائے پلائی۔آپ کو کتاب خرید کرنے کا بڑا شوق تھا۔ بڑے بڑے بک سٹورز پر کتب دیکھنے کے علاوہ فٹ پا تھ پر بھی نادر کتب کو ڈھونڈا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ ایسی جگہوں سے ایک توسستی کتب مل جاتی ہیں اور دوسرا اصل ایڈیشن ہوتا ہے اور حوالے موجود ہوتے ہیں۔ ایک دو دفعہ مجھے بھی لاہور قیام کے دوران آپ کے ساتھ کتب خریدنے کا موقع ملا۔ کتاب پکڑتے ہی سب سے پہلے سن اشاعت اور ایڈیشن دیکھا کرتے اور حوالے اس قدر ازبر تھے کہ کھڑے کھڑے کہہ دیتے کہ اس میں یہ حوالہ نہیں ہے یا ترمیم شدہ ہے۔ مربیان سے حد درجہ پیار کرتے اور عزت کی نگاہ سے دیکھا کرتے۔ مربیان کے کام کو سراہتے۔ ان کے حوصلے بلند کرتے۔ اور مربی کیلئے ‘‘مجاہد’’ کا لفظ استعمال فرماتے اور قرآنی آیات، احادیث میں بیان دعاؤں اور حضرت مسیح موعودؑ کی بیان فرمودہ منتخب دعاؤں سے مربیان کو دعا دیا کرتے۔
بعض ایسی جگہوں کا نام اکثر لیا کرتے جو تاریخی حیثیت اختیار کر گئی۔جیسے اسلام آباد کا نام۔ جہاں آپ کو 1974ء میں قومی اسمبلی میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی معاونت کی سعادت نصیب ہوئی۔ ایک دفعہ مجھے اپنے خط محررہ 16مئی2001ء میں لکھا۔‘‘ستمبر 1974ء کے فیصلہ کے معاً بعد عاجز کو اسلام آباد کی ایک اومنی بس میں سفر کے دوران یکایک ڈرائیور کی سیٹ کے سامنے توجہ سے دیکھنے کا خیال پیدا ہواکیا دیکھتا ہوں کہ یہ شعر آویزاں ہے جو ہر سرکاری مسلمان کو دعوت فکر دے رہا ہے۔ ؎

جنہیں حقیر سمجھ کے بجھا دیا تو نے
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی

آپ نے 1974ء کی قومی اسمبلی کی کارروائی MTAکے لئے ریکارڈ بھی کروائی۔ جس نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر دکھایا اور اس تاریخی ریکارڈنگ نے کل عالم دنیا میں احمدیت کی صداقت کے جھنڈے گاڑ دئیے۔
وقت کی بہت قدر کرتے اور دفتر میں بھی وقت کی قدر پر مشتمل چھوٹے چھوٹے اقتباسات خوشخط لکھوا کر لٹکا رکھے تھے۔ ایسی تحریرات شوق سے لٹریچر، اپنی تقاریر اور تحریرات میں بیان فرماتے جو ابھی تک لٹریچر کا حصہ نہ بن پائیں میں نے اپنی کتاب سیرت حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب پر ریویو لکھنے کی درخواست کی تو خوشی کے ساتھ اس کو قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو میرے لئے ایک سعادت ہو گی کہ حضرت مسیح موعودؑ کے ایک رفیق کا ریویو لکھوں۔ پھر مجھے بتلایا کہ حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب کے بارے میں میرے پاس ایسا اقتباس موجود ہے جو ابھی ہمارے لٹریچر کا حصہ نہیں بنا۔ آپ نے جب اس پر ریویو لکھا تو اتنا طویل کہ 5×8پر کمپوزکر کے 20صفحات بنے۔ جس کے آغاز پر آپ نے اس شعر کو زینت بنایا۔

مرنے کے بعد ہم کو زمین میں نہ کر تلاش
ہم عارفوں کے سینے میں رکھتے ہیں بودوباش

آج اس تحریر کے بعد جب مولانا خود ہمارے اندر موجود نہیں تو یوں لگتا ہے کہ یہ شعر محترم مولانا کی اپنی ذات کی عکاسی کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ آمین

image_printپرنٹ کریں