skip to Main Content
محمود احمد منیب۔لندن : محترمہ سکینہ صالحہ محمود

خاکسار کی اہلیہ محترمہ سکینہ صالحہ محمود صاحبہ طویل علالت کے بعد 6جون 2019ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون اس وقت مرحومہ کی عمر70برس تھی اور موصیہ تھیں ۔ان کا وصیت نمبر 25441 تھا۔
محترمہ سکینہ صالحہ محمود صاحبہ یکم۔اپریل1949ءکو پشاور میں پیدا ہوئیں ۔آپ کے والد محترم چوہدری مولابخش صاحب محترم چوہدری اللہ بخش صاحب صادق وکیل التعلیم ربوہ کے ماموں تھے۔ آپKaz radio company میں کام کرتے تھے پرجوش داعی اللہ اور جماعت کے اعلیٰ عہدوں پرجیسے جنرل سیکرٹری اور سیکرٹری تبلیغ پشاورکے طور پر خدمات بجا لاتے رہے۔ مرحومہ ابھی دس سال کی تھیں کہ ان کی والدہ محترمہ امۃ القدیر صاحبہ وفات پا گئیں اور ان کی تعلیم و تربیت ان کے والد محترم اور ان کی بڑی بہن محترمہ ڈاکٹر صادقہ منصور صاحبہ نے کی۔ ربوہ میں میٹرک اور ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کی پھر پانچ سالہ نرسنگ کورس جنرل ہسپتال لاہور سے مکمل کیا۔
مرحومہ کے دادا حضرت میاں محمد دین صاحب صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں سے تھے جن کا تعلق ادرحماں ضلع سرگودھا سے تھا۔انہوں نے1895ء کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔مرحومہ کے ناناحضرت ڈاکٹرمنشی عبدالسمیع صاحبؓ اور نانی محترمہ عزیز فاطمہ صاحبہؓ آف کپورتھلہ نیز ان کے پڑناناحضرت منشی عبدالرحمن صاحبؓ ابتدائی صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں سے تھے۔ مرحومہ کی تعلیم و تربیت میں ان کے نانا و نانی کا بھی بہت بڑا حصہ تھا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ وتعالیٰ نے مرحومہ کے نکاح کا اعلان خاکسار کے ساتھ 1975ء میں فرمایا اور رخصتی 1977ء میں عمل میں آئی۔اور 1979ءمیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہلے بیٹے عطاالمنان کاشف سے نوازا۔ خاکسار کی تقرری بطور مربی سلسلہ مختلف جگہوں پر ہوئی میرے ساتھ جماعتی کاموں میں شامل رہیں ۔ مرکزسلسلہ نے خاکسار کی تقرری1980ء میں کینیا کیلئے کر دی خاکسارکی فیملی کیلئے رہائش کا انتظام نہ ہو سکا۔محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب میڈیکل آفیسر فضل عمر ہسپتال ربوہ کی خواہش پر کہ ‘‘آپ ایک کوالیفائیڈ سٹاف نرس ہیں’’مرحومہ نے فضل عمر ہسپتال میں ملازمت اختیار کر لی اس طرح ہسپتال کی طرف سے رہائش کیلئے کوارٹر کاانتظام ہوگیا۔کہا کرتی تھیں کہ مجھے مریضوں کی خدمت کر کے دلی خوشی محسوس ہوتی ہے اور ملازمت تنخواہ کے لئے نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کیلئے کرتی ہوں ۔مرکز نے 1984ء میں خاکسار کی فیملی کو کینیا بھجوا دیااس طرح انہوں نے وہاں پانچ سال تک خاکسار کے ساتھ جماعتی خدمات میں حصہ لیا۔
1984ءمیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دوسرے بیٹے تنویر الظفر سے نوازا۔ اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ کو خدا تعالیٰ نے بڑی شان کے ساتھ پورا فرمایا۔ واقعہ یوں ہے کہ جب ہمارے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش متوقع تھی تو تقریباً دوماہ قبل حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دعا کی درخواست کے ساتھ ایک بچے اور بچی کا نام تجویز کرنے کی درخواست کی گئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خط موصول ہوا اس میں تحریر فرمایا ‘‘آپ کا خط ملا۔ دعا کی اللہ تعالیٰ تنویر الظفر مبارک کرے’’ حضورنے ایک ہی نام تجویز فرمایا۔ اس طرح بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے حضور کے خط کے ذریعے یہ خوشخبری دے دی کہ بیٹا ہی پیدا ہوگا ۔
مرحومہ مربی ہاؤس میں آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کر کے خوشی محسوس کرتیں بلکہ جلسہ سالانہ جو کہ خاکسار کے علاقے میں ہوا کرتا تھا اس پر آنے والے مہمانوں کیلئے ان کی ضرورت کے مطابق کھانے تیار کرتیں ۔ جب1988ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے کینیا کا دورہ کیا اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ایک مسجد جو خاکسار نے شیانڈا کے مقام پر تعمیر کروائی تھی اس کا افتتاح فرمایا اور حضور نے اس مسجد کی تعمیر کی خوشی میں 34ہزار شلنگ خاکسار کو بچوں میں تقسیم کرنے کیلئے عطا فرمائے۔اس مسجد کے افتتاحی موقع پر ریفریشمنٹ کیلئے سارا سامان مرحومہ نے اپنے گھر سے خود تیار کیا جس میں بسکٹ کیک وغیرہ شامل تھے۔
1990ءمیں خاکسار کو زیمبیا بھجوایا گیا تو خاکسار کے زیمبیا جانے کے بعد مرحومہ نے دوبارہ فضل عمر ہسپتال میں سروس اختیار کر لی۔ اس طرح دو سال مزید آپ کو فضل عمر ہسپتال میں خدمت کی توفیق ملی اور 1992ء میں خاکسار کی فیملی کو زیمبیا بھجوایا گیا۔ وہاں پر بھی آپ میرے ساتھ جماعتی کاموں میں حصہ لیتی رہیں۔ زیمبیا میں مربی ہاؤس کی تعمیر میں آپ کا بھرپور تعاون مجھے حاصل رہا بلکہ آپ صدر لجنہ زیمبیا کے طور پر لجنہ کو منظم کرنے اور ان کی تعلیم و تربیت میں مصروف رہیں۔1995ء میں زیمبیا میں پہلا جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق ملی۔جلسہ سالانہ کے مہمانہوں کے کھانے کے جملہ انتظامات مرحومہ کے سپرد تھے اور انہوں نے بڑی عمدگی اور خوش اسلوبی سے ان انتظامات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔1995ءمیں ہم زیمبیا سے واپس پاکستان آ گئے اور خاکسارکو بطور مربی سلسلہ بورے والا ضلع وہاڑی میں بھجوایا گیا۔خاکسارکی فیملی کو دارالنصر غربی کوارٹرز تحریک جدید میں رہائش ملی۔
ربوہ میں قیام کے دوران مرحومہ کو سیکرٹری ناصرات لجنہ حلقہ نصر غربی منعم بنایا گیا۔ اسی طرح جب ہمارے کوارٹرز کا حلقہ علیحدہ ہو گیا تو آپ کو حلقہ حبیب کی سیکرٹری دعوت الی اللہ لجنہ بنایا گیا۔اس خدمت کیلئے وہ اکثر و بیشتر مکرم سہیل شوق صاحب مرحوم کے ساتھ ارد گرد کے دیہاتوں میں دعوت الی اللہ کیلئے جایا کرتی تھیں۔ لندن میں قیام کے دوران حلقہ ساؤتھ چیم کی صدر لجنہ نے انہیں نگران حلقہ بنا دیااور اس خدمت کیلئے باقاعدگی کے ساتھ وہ اپنے حلقے کا اجلاس ہر ہفتے کرواتیں اور باقاعدہ تیاری کر کے جاتیں اور اس طرح انہیں اپنے حلقہ کی لجنہ کی تعلیم و تربیت کی خدمت کی توفیق ملی۔الحمدللہ
ربوہ میں قیام کے دوران مرحومہ نے اپنے آپ کو شعبہ تعلیم کے ساتھ وابستہ کر لیا اور سکول میں بطور ٹیچر کام کرنا شروع کر دیا۔ایسے بچے جو شرارتی اور نالائق ہوتے ان کو محبت پیار سے راہ راست پر لانااور ان کے دل میں تعلیم کا شوق پیدا کرنا ان کی خاص خوبی تھی۔اس لئے اکثربچے اور ان کی مائیں کہتیں کہ ہم نے ٹیچر صالحہ سے ہی پڑھنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرحومہ دوسروں کی خدمت کر کے دلی خوشی محسوس کرتیں غریبوں کی مدد کرنا آپ کا شوق تھا۔گھر پر کام کرنے والی ملازمہ کو تنخواہ سے بڑھ کر بعض اوقات دے دیتیں خوشی کے موقع پر ان کو نیا سوٹ لے کر دیتیں۔جب کوئی بیمار ہوتا اس کی تیمارداری کیلئے فورًا پہنچتیں۔
جب ان کی بڑی بہن مکرمہ ڈاکٹر صادقہ منصور صاحبہ بیمار ہوئیں تو ان کی تیمار داری اور خدمت کیلئے اپنی سکول کی ملازمت چھوڑ کرلاہور چلی گئیں اور اس وقت تک وہاں رہیں جب تک کہ اللہ نے ان کو شفاء عطا فرما دی۔ اسی طرح ہمارے حلقہ کی مکرمہ عقیلہ مغفور صاحبہ بیمار ہوئیں تو ان کے ساتھ لاہور گئیں اور ان کے علاج تک وہاں رہیں۔ اسی طرح ان کی ماموں زاد بہن مکرمہ نعیمہ زوجہ مکرم ملک سعید احمد صاحب مربی سلسلہ بیمار ہوئیں تو ان کے ساتھ لاہور گئیں۔ خاکسار کے ماموں زاد بھائی نصیر احمد ببی کی بازو ٹوٹ گئی تو اس کو لے کر ہسپتال پہنچیں اور اس کے علاج میں بھرپور مدد کی۔ اس طرح میرا بھتیجا سلیمان شدید یرقان سے بیمار ہو گیا اسے لے کر فورً اہسپتال پہنچیں اور اس کا علاج کروایا۔ اسی طرح ان کے بھائی مکرم خدا بخش ناصر صاحب سخت بیمار ہو گئے ان کو اپنے گھر میں لے آئیں اور مکرم ڈاکٹر لطیف قریشی صاحب سے ان کا علاج کرواتی رہیں۔ ان کی ایک سہیلی بیوہ ہو گئیں تو ان کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کرتے ہوئے باقاعدہ لندن سے رقم بھجواتی رہیں۔ آپ نے اپنی ایک بھتیجی جس کی والدہ وفات پا چکی تھیں اس کو اپنے گھر پر رکھ کر تعلیم دلوائی اور جب اس کی منگنی ہوئی تو اس کی شادی کیلئے پچاس ہزار روپے بھجوائے۔ محلے کے میٹرک تک کے بچے اور بچیوں کو اپنے گھر پر بلا کر بغیر ٹیوشن کے ریاضی پڑھایا کرتیں جو انکا پسندیدہ مضمون تھا۔ آپ نے اپنا زیور بیچ کر اپنے ایک دیور کی شادی کے جملہ انتظامات کئے۔
رشتہ داروں سے حسن سلوک
مرحومہ اپنے میکے اور سسرال دونوں طرف کے رشتہ داروں سے حسن سلوک کرنے میں سب سے آگے تھیں اور انکی خوشی اورغمی کے مواقع پر ضرور شامل ہوتیں خواہ کتنی تکلیف اٹھا کرربوہ سے گاؤں ادرحماں جانا پڑے۔اوررحمی رشتوں کو قائم رکھنا اور انکو نبھانا انہیں خوب آتا تھا۔اگر کوئی ان سے تعلق نہ رکھتا یا اچھا سلوک نہ کرتا تو بھی کہتیں کہ آنحضرت ﷺ کا حکم ہے کہ رحمی رشتوں کو قائم رکھو۔اس طرح خودان کو فون کر کے یا ان کے گھر پر جا کر ان سے تعلق قائم کرتیں۔اور اسی طرح ان کے سسرال میں اگر کوئی بچی ناراض ہو کر میکے آجاتی یا کوئی اور ناراضگی ہوجاتی تو وہاں جا کر بچی اور اس کے والدین کوبڑی خوش اسلوبی اور پیارسے سمجھا کراپنے گھر بھجواتیں اور جہاں ناراضگی ہوتی اس کو صلح میں بدل دیتیں۔ مرحومہ نے خاکسار کے ساتھ زندگی کے 42سال گزارے اور اس عرصہ میں نہایت اخلاص ومحبت، اطاعت اور وفاداری کا اعلیٰ نمونہ پیش کیاکبھی مجھ سے جھگڑا یا لڑائی نہیں کی اور مجھے جماعتی کاموں یا دینی کاموں میں جانے سے روکا نہیں۔بلکہ یہاں تک کہ ان آخری بیماری کے ایام میں خاکسار ظہر کی نماز کیلئے یا نماز تراویح کیلئے مسجد بیت الفتوح جاتا تو کئی گھنٹے وہاں گزر جاتے۔اور انہیں نے کبھی اس کا برا نہیں منایا بلکہ کہتیں تم نماز یا جماعتی کام کیلئے جاؤ اللہ میری حفاظت فرمائے گا۔ مرحومہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والی اورخدا کی نعمتوں کو یاد کر کے اس کا شکر ادا کرنے والی تھیںہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ میرے خدا نے مجھے کبھی کسی کا محتاج نہیں بنایا اورمیرے پاس سے کبھی پیسے ختم نہیں ہوئے۔آپ کادل ان بداخلاق جیسے بغض،کینہ،حسد ،تکبر اورغیبت سے پاک تھا۔کبھی ان کے سامنے کوئی دوسرے کی بری بات یا غیبت کرتا تو فوراًاس کو روک دیتیں بلکہ ہر ایک کی خوبیوں کو بیان کرتیں اور ہمیشہ مسکراتے ہوئے خوشی سے دوسروں سے ملتیں۔
مالی قربانی اور عبادات
مرحومہ کو خلافت سے والہانہ محبت تھی جب بھی خلیفہ وقت کی طرف سے کوئی تحریک ہوتی تو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں مثلا ًتحریک جدید اور وقف جدید کے چندہ جات میں نمایاں حصہ لیتیں بلکہ میرے والدین اپنے والدین ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام پر بھی باقاعدگی کے ساتھ چندہ جات ادا کرتیں۔سال کے شروع میں ہی اپنے چندہ جات ادا کر دیتیں مرحومہ نے 4مرتبہ اپنا زیور مساجد کی تعمیر کیلئے پیش کیا۔ایک مرتبہ کینیا میں قیام کے دوران تقریبا ًتین تولے ،دوسری مرتبہ زیمبیا میں قریبًااسی قدر اور تیسری مرتبہ لندن میں قیام کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزسے ملاقات کے دوران اپنا زیور حضور کی خدمت میں پیش کیا۔حضور نے دریافت فرمایا کہاں خرچ کرنا تو عرض کی جہاں حضور پسند فرمائیں۔چوتھی مرتبہ مسجد بیت الفتوح کے ایک حصہ کی تعمیر نو کیلئے تحریک ہوئی تو جو زیوران کی والدہ کی نشانی کے طور پر تھاوہ بھی لجنہ کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ میری طرف سے مسجد کے فنڈ میں دے دیں۔
نمازوں میں باقاعدگی اختیار کرتیں اور اپنی نمازیں لمبی پرسوز اور رقت کے ساتھ پڑھتیں۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الہامی دعا رَبِّ کْلّْ شیَ ئٍ خاَدِمْکَ رَبِّ فاحفَظنِی وَانصْرنیِ وَارحَمنِی کو اکثر پڑھتی رہتیں۔ گھر میں باجماعت نماز پڑھا کرتیں اور یہاں تک کہ آخری شدید بیماری کے دنوں میں بھی جب ہم نماز پڑھنے کیلئے کھڑے ہوتے تو کہتیں کہ مجھے بھی اٹھا کر بٹھا دو تاکہ میں بھی باجماعت نماز پڑھ لوں۔اور اپنے بچوں کو اکثر باجماعت نماز پڑھنے کی نصیحت کرتیں۔تلاوت کلام پاک تو ان کی روح کی غذاتھی۔جب Dialysis کیلئے جاتیں جو کم از کم چار گھنٹے کا دورانیہ ہوتا تھا اس میں اکثر اپنے آئی پیڈ پر قرآن کریم کی تلاوت کرتیں یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرتیں۔
مرحومہ کے گردوں میں انفیکشن کی وجہ سے 2013ء سےDialysisہو رہے تھے۔اس وجہ سے ہی بعض دیگر بیماریوں مثلاً اعصابی کمزوری اور لو بلڈ پریشر میں مبتلا ہو گئی تھیں۔ مارچ کے آخر میں پھیپڑوں میں پانی بھر جانے اور چیسٹ انفیکشن کی وجہ سے ہسپتال داخل ہوئیں۔اور تقریباً ایک ماہ تک آئی سی یو میں رہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کی شفا یابی کے سامان پیدا فرمائے اور گھر آگئیں۔اس کے بعد دوبارہ وہی بیماریاں حملہ آور ہوئیں۔اور 2جون کو ہسپتال داخل ہوئیں۔آخری تین ایام گہری غنودگی اور بیہوشی میں گزرے اور 6جون کی رات کو اللہ کے حضور حاضر ہو گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔بیماری کے دوران مرحومہ کے دونوں بیٹوں مکرم عطاء المنان کاشف اور مکرم تنویر الظفر نے تیمار داری اور خدمت کا حق ادا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے دونوں بیٹوں کو اس کی بہترین جزا عطا فرمائے۔اسی طرح ان کے حلقہ کی مستورات نے ان کی بہت خدمت کی۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے احسن عطاء فرمائے۔
ہمارے محبوب آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت نئے مرکز اسلام آباد میں مرحومہ کی نماز جنازہ پڑھائی اورجنازے سے قبل خاکسار کی ساری فیملی کے افراد کو شرف ملاقات بخشااور تعزیت فرمائی۔ خاکسار کے دونوں بیٹے جنازہ کو لے کر 11جون کو ربوہ پہنچے۔ مکرم سید خالد احمد شاہ صاحب ناظر اعلیٰ وامیر مقامی نے بعد نماز عصر مسجد مبارک ربوہ میں نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ دارالفضل میں تدفین کے بعد مکرم قمر احمد کوثرصاحب پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ نے دعا کروائی۔
درخواست دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی رضا اور خوشنودی کی اعلیٰ جنتوں کا وارث بنائے اور ہمیں ان کیلئے دعائیں کرنے اور ان کی نیکیوں کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

image_printپرنٹ کریں