skip to Main Content
محمد شفیع خان: محترم مولانا ابولعطاء جالندھری کا ذکر خیر

جب قیام پاکستان اگست 1947ء میں عمل میں آیا۔ میری عمر اس وقت دس برس تھی۔ نقل مکانی کے بعد چند روز رتن باغ کے مہاجر کیمپ میں قیام کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کا ارشاد میرے والد محترم محمد شہزادہ خان کو موصول ہوا کہ آپ احمدنگر ضلع جھنگ چلے جائیں۔ والد صاحب قادیان میں جامعہ احمدیہ کے استاد تھے اسی حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ نے قیام پاکستان کے بعد جامعہ احمدیہ کو عارضی طور پر احمد نگر ضلع جھنگ کے گاؤں میں قائم فرمایا تھا کیونکہ ہنوز مرکز کی تعمیر ہونا باقی تھی۔ جس کے لئے ایک لق و دق بیابان میدان کا انتخاب کیا گیا تھا۔ جہاں دور دور تک نہ تو کوئی آبادی تھی نہ پانی اور درخت۔
والد صاحب کو موضع احمدنگر میں ایک چھوٹا سا دو کمرے کا کچا مکان رہائش کے لئے ملا جبکہ جامعہ احمدیہ کا قیام اسی گاؤں کی قدرے بڑی عمارت میں کیا گیا۔ مکرم مولانا ابوالعطاء جالندھری جامعہ کے پرنسپل تھے۔ وہ گاؤں کے وسط میں ایک مکان میں قیام پذیر تھے۔ جہاں مکان کے بیرونی حصے پر بیٹھک کے دائیں طرف ایک چھوٹی سی تختی نصب تھی۔ جس پر دفتر الفرقان تحریر تھا۔ رات گئے تک مولانا لیمپ کی روشنی میں بیٹھ کر رسالہ الفرقان کو تحریر فرماتے ان کے سامنے دینی کتب کا انبار لگا رہتا تھا۔ بعض اوقات فجر کی اذان تک وہ اپنا یہ دینی کام جاری رکھتے۔ میں کبھی کبھار فجر کی نماز کے وقت ان کے گھر کے سامنے سے گزرتا تو بیٹھک میں جھانک کر دیکھتا کہ حضرت مولانا اپنے نائب جناب نظام الدین مہمان صاحب کو کچھ لکھوا رہے ہیں۔ ان دنوں دیہات میں بجلی نہیں تھی۔ اس کے باوجود حضرت مولانا دینی جذبہ سے سرشار ساری ساری رات رسالہ الفرقان کی تالیف و تصنیف میں مصروف رہتے تھے اور دن کو اپنے جامعہ کے فرائض بخوبی سرانجام دیتے تھے۔
میں گو ابھی کم عمر تھا لیکن چونکہ مسجد میں وہ مجھے روزانہ فجر کے وقت دیکھتے تھے اور پھر میرے والد صاحب ان کے جامعہ میں ساتھی استاد تھے اس لئے مجھ سے محبت کرتے تھے۔ محترم مولانا ابوالعطاء کو شکار کا بہت شوق تھا۔ انہوں نے ایک شارٹ گن 12بور بندوق کا لائسنس حاصل کر رکھا تھا اور ہفتہ میں کبھی ایک بار کبھی دو بار نماز فجر کے معاً بعد گاؤں سے دور کھیتوں میں شکار کی غرض سے نکل جاتے۔ آپ مجھے مسجد میں سے بعداز نماز فجر ہمراہ لیتے میرے گلے میں کارتوس اور چاقو والا کپڑے کا تھیلہ ڈال دیتے اور شکار پر لے جاتے۔ آپ مجھے شکار کے دوران تاکید کرتے کہ جب بندوق کا فائر شکار پر ہو تو اڑتے پرندوں پر نظر رکھوں یہ مضروب کہیں دور جا کر گرتے ہیں اور اگر دھیان نہ رکھا جائے تو شکار ضائع ہوجاتا ہے۔ چنانچہ میں ان کے حکم کی تعمیل میں نہ صرف فائر کے بعد اڑنے والے پرندوں پر نظر رکھتا بلکہ ان کے پیچھے بھاگتا اور جہاں وہ گرتے وہاں سے انہیں اٹھا کر مولانا صاحب کے پاس لاتا جسے وہ ذبح کر کے میرے تھیلے میں ڈال دیتے۔ عموماً تین یا چار فائر کرتے تھے اور ہم سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی واپس آجاتے تھے۔ حضرت مولانا صاحب اس عاجز کمسن کو بھی شکار کئے گئے پرندوں میں ہر بار حصہ رسدی کے طور پر کچھ پرندے عنایت کردیتے اور فرماتے بیٹا یہ تمہارا حق ہے۔ تم نے اس شکار کے لئے میرے ساتھ تگ و دو کی ہے۔
ابھی قیام پاکستان کو چند ماہ ہی گزرے تھے کہ احمدنگر کے جامعہ میں تخفیف کی گئی اور اس کے نتیجہ میں میرے والد صاحب بھی ملازمت سے فارغ کر دیئے گئے۔ اساتذہ کی تخفیف کی وجہ انجمن کی وصولیات میں شدید کمی تھی۔ چونکہ تقسیم ہند کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار اور ملازمتیں چھوٹ گئی تھیں۔ زراعت پیشہ افراد نہ تو وقت پر اپنی فصلوں کی بوائی اور کٹائی کر سکے تھے نہ ہی اپنے جانوروں کی خوراک کا بندوبست کر سکے تھے۔ عجیب بے سروسامانی کی کیفیت تھی۔ ان حالات میں جماعتی نظام کو چلانے کے لئے انتظامیہ کو سخت فیصلے کرنے پڑے۔ مثلاً انجمن اور تحریک جدید نے اخراجات میں کمی کے لئے جلسہ سالانہ کے موقع پر سوائے مہمانوں کے اپنے گھروں سے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے کارکنوں کو ہدایات دیں تاکہ جماعتی نظام اور فرائض میں خلل واقع نہ ہو۔
ایسے حالات میں والد صاحب کی ملازمت چھوٹنے سے دوسرے متاثر احباب کی طرح ہم بھی فاقہ کشی کی حالت پر پہنچ گئے۔ ربوہ کی تعمیر ابتدائی دور میں تھی زمین جماعت نے خرید لی تھی لیکن آبادی ابھی خیمہ بستی کی صورت میں تھی۔ لوگ کچے گھر بنانے میں مصروف تھے۔ ربوہ میں تیل کے دیئے جلائے جاتے تھے۔ سٹیشن کے قریب دو عدد خیمہ زن چائے فروش تھے۔ ایک سیلونی صاحب کا خیمہ تھا اور دوسرا خان میر کابلی کا خیمہ تھا۔ جہاں رات گئے تک چائے بکتی تھی۔ حضرت مصلح موعودؓ کا قیام رتن باغ لاہور میں تھا۔ یہ ابتدائی دور کی بات ہے۔ بعد میں غلام رسول صاحب ٹھیکیدار نے اینٹوں کا بھٹہ بنایا۔
میں اپنی غربت کا قصہ بیان کر رہا تھا۔ والد صاحب کی ملازمت سے خلاصی کے بعد انہوں نے حکمت کی دکان بنائی لیکن گاؤں میں نہ چلی۔ میں نے گاؤں میں ایک کھلی جگہ پر سبزی کی چھوٹی سی دکان بنالی۔ کھیتوں سے لہسن، پیاز اور دیگر ایک دو سبزیاں لا کر گاؤں میں دن بھر فروخت کرتا شام کو کبھی آٹھ آنے کبھی دس آنے بچت ہوجاتی۔ سستا زمانہ تھا اللہ کے خاص فضل سے گزر اوقات ہونے لگی۔ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب سے چونکہ شفقت کا رشتہ تھا۔ آپ حسب ضرورت گھر کے لئے سبزی مجھ سے خرید کر لے جاتے تھے۔ ان کا دیا ہوا سبق مجھے آج بھی یاد ہے وہ اللہ کے فضل سے صادق اور امین تھے اور تقویٰ سے مزین انسان تھے۔ ایک دن وہ مجھ سے سبزی خریدنے کے لئے تشریف لائے انہوں نے مجھ سے دو سیر پیاز خریدے میں نے اپنے والد صاحب کے دوست اور ان کے جامعہ کے استاد کے تناظر میں ان کو ٹوکری میں سے موٹے موٹے اچھے پیاز وزن کر کے ان کے تھیلے میں ڈالے۔ پیاز بھرے پلڑے کا جھکاؤ اس قدر زیادہ تھا کہ وہ زمین کو چھورہا تھا۔ آپ نے یہ پیاز اپنے تھلیے سے واپس میری ٹوکری میں ڈال دیئے اور فرمایا دیکھو ٹوکری میں سے ایک طرف سے چھوٹے بڑے پیاز ملے جلے مجھے دو تاکہ میرے بعدآنے والے خریدار کو بھی میرے جیسے پیاز ملیں۔ یہ قرین انصاف نہیں کہ میں چونکہ تمہارے والد صاحب کا دوست ہوں اس لئے اچھے پیاز لے جاؤں اور میرے بعد آنے والا گاہک اسی دام میں مجھ سے کم تر (بچے کھچے) پیاز خریدے۔ یہ سراسر تقویٰ کے منافی ہے جو قرین انصاف نہیں۔ پھر فرمایا کہ یا تم اچھے پیاز یا جو بھی سبزی ہو وہ علیحدہ ٹوکری میں رکھو اور جو کم تر ہو وہ علیحدہ رکھو اور گاہک کو بتاؤ کہ یہ کم تر سبزی اگر لینا چاہو تو اس کے دام کم ہیں۔ پھر فرمایا باسی سبزیوں کو تازہ میں ملا کر فروخت کرنا تقویٰ کے خلاف ہے۔ وہ علیحدہ رکھ کر فروخت کرو اور گاہک کو بتاؤ کہ یہ باسی کم قیمت میں مل سکتی ہے تاکہ وہ اگر لینا پسند کرے تو بخوشی لے۔ پھر فرمایا ترازو کے پلڑے کو اتنا جھکا دینا کہ تمہارا منافع ہی جاتا رہے یہ بھی قرین انصاف نہیں۔ ہمیشہ پورا تولو لیکن سامان کا پلڑا قدرے باٹ کے پلڑے سے جھکا ہونا چاہئے۔
محترم مولانا ابوالعطاء جالندھری نہ صرف ایک جید عالم دین تھے بلکہ وہ علم و فضل میں بھی پایہ کے باعمل انسان تھے۔ پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے تعریفی کلمات آپ کے بارے میں فرمائے وہ آپ کی دینی خدمات کی عکاسی کرتے ہیں۔ بطور حقوق العباد آپ کا مرتبہ اور مقام نمایاں ہے۔ راقم الحروف اس بات اور واقعات کا چشمدید گواہ ہے کہ آپ جب کبھی چنیوٹ سے احمدنگر تانگہ پر سفر کرتے تھے تو سالم تانگہ کرایہ پر لیتے تھے اور سفر کے دوران جس قدر بھی احمدی بچے اور بچیاں پیدل راستے میں ملتے تانگہ پر سوار کرتے۔ خود ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھ جاتے اور زیادہ گنجائش پیدل آنے والے بچوں کے لئے چھوڑ دیتے۔ ان دنوں احمدنگر میں کوئی بس نہیں رکتی تھی۔ نہ کوئی سفر کا ذریعہ آمدورفت تھا۔ گاؤں میں صرف دو تانگے تھے ایک احسان الٰہی کا اور دوسرا محمددین کا۔ یہ صبح سواریاں لے کر چنیوٹ اور لالیاں کو نکل جاتے اور دن بھر گاؤں کے لوگ پیدل سفر کرتے تھے۔
مولانا صاحب کی زندگی کے کئی اہم واقعات ہیں جو ہمارے لئے باعث نصیحت اور باعث عمل ہیں۔ آپ رسالہ الفرقان ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ ترتیب دیتے تھے۔ رات بھر اس کی تدوین و تحریر میں صرف کرتے تھے۔ جبکہ دن بھر جامعہ میں اپنے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ فلاحی کاموں میں آپ پیش پیش رہتے تھے۔ سیلاب اور بارشوں کے ایام میں آپ ضرورت مندوں کی دستگیری فرماتے تھے۔ بہت سے غریب طلباء اور طالبات کے تعلیمی اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔ آپ کے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں بہت سے واقعات ایمان اور روح کی تازگی کا باعث ہیں۔
جہاں تک جامعہ میں تعلیم و تربیت اور انتظامی امور کا تعلق ہے آپ نے باوجود اپنی دیگر مصروفیات اور شب وروز دینی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنے جماعتی فرائض کو بھی بطور احسن نبھایا۔ دوران کلاس جامعہ کے طلباء کو روزانہ لیکچر دیا کرتے تھے۔ گرمیوں میں جب احمدنگر سے تین میل کے دور نہر پر آپ جامعہ کے طلباء کو بغرض تفریح لےجاتے تھے۔ تو وہاں نمازوں کا اہتمام فرماتے اور کھانے کے بعد طلباء کے دو گروپ بنا کر ان میں بیت بازی کرواتے۔ یہ بیت بازی درعدن، کلام محمود اور درثمین کے روح پرور اشعار پر محدود ہوتی تھی۔ جامعہ کے طلباء کی صحت اور خوراک پر بھی آپ گہری نظر رکھتے۔ محمدعلی باورچی کھانا تیار کرتا تو آپ اسے چیک کر کے ہدایات دیتے۔ منشی عبدالخالق صاحب جامعہ کے خوراک اور اجناس کے سٹور کیپر تھے۔ ان کو طلباء کی سال بھر کی اجناس کی ضروریات سے آگاہ کرتے۔ فٹ بال، والی بال کھیل کی سرپرستی ماسٹر غلام حیدر صاحب کے ذمہ تھی۔ آپ ان سے بھی رابطہ میں رہتے۔ جامعہ کے طلباء کے لباس کے بارے میں خاص خیال رکھتے۔ ان واقفین کی ضروریات سے مرکز کو بروقت آگاہ کرتے۔ جامعہ کی عمارت اور رہائش گاہ میں اور گاؤں کے تمام علاقوں میں وقارعمل کا اہتمام فرماتے تاکہ طلباء میں خدمت خلق اور اپنی مدد آپ کا جذبہ اجاگر ہو۔ خاص کر جب احمدنگر اور اس کے گردونواح کے گاؤں سیلاب میں ڈوب جاتے تو جامعہ کے طلباء چارپایوں اور لکڑیوں کے بالے اور شہتیر باندھ کر پانی میں اتر جاتے اور ڈوبتے لوگوں کو اور ان کے مال و اسباب کو بحفاظت سیلاب زدہ علاقے سے محفوظ مقام پر پہنچاتے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم مولانا صاحب کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

image_printپرنٹ کریں