عبدالباسط بٹ:محترم خواجہ سرفراز احمد کی جماعتی خدمات اور خلفاء سلسلہ کے ساتھ شفقت و محبت کے واقعات

خواجہ سرفراز احمد صاحب ہمہ جہت بردبار اور با اثرشخصیت کے مالک تھے اس حوالہ سے ان کے آباء کا ذکر ضروری ہے خواجہ عبدالرحمٰن صاحب والد خواجہ سرفراز احمد صاحب فدائی اور مخلص احمدی تھے وہ ایک ہمدرد غمگسار اور نافع الناس وجود تھے سیالکوٹ میں آمد کے بعد تا وفات وہ احمدیت اور انسانیت کی خدمت کے لئے صبح شام کوشاں رہے اور ہر دم اپنی اولاد کو بھی خلافت احمدیہ کے ساتھ اخلاص و فاکے ساتھ وابستہ رہنے کی تلقین کرتے رہے ۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے ساتھ ان کا ایک مشفقانہ تعلق تھا اور جماعتی اور اجتماعی معاملات میں ان کو یاد کیا کرتے تھے مکرم خواجہ عبدالرحمٰن صاحب دربار خلافت میں انتہائی عاجزی انکساری اور تابعدار ی کے ساتھ حاضر ہوتے خواجہ عبدالرحمٰن صاحب کی خلافت سے اخلاص کے ساتھ وابستگی تھی کہ مکرم خواجہ سرفراز احمد صاحب کا رشتہ حضرت چوہدری ظفر اللہ صاحب کے بھائی چوہدری اسد اللہ خان صاحب کی دختر سے حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے 26دسمبر 1955ء برموقعہ جلسہ سالانہ بذاتِ خود پڑھایا ان کے ساتھ صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب اور میر محمود احمد صاحب ناصر کے نکاح کا اعلان بھی حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے ان کے ساتھ کیا ۔حالانکہ بظاہر خاندانی معاشرتی تفاوت بھی محسوس ہوتا تھا لیکن خلافت کے ہر دو وفاداروں نے یہ سب اشیاء پسِ پشت ڈال کر یہ رشتہ طے کیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ رشتہ انتہائی کامیاب اور بابرکت رہا ۔1974کے پر آشوب موقعہ پر  حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒکے ارشاد پر خواجہ عبدالرحمٰن صاحب آہا لیان ربوہ کے لئے مسلسل خوردونوش کی اشیاء سیالکوٹ سے بذریعہ ٹرک بھجواتے رہے اور تا وقتِ ضرورت اس کام کو جاری رکھا ۔یہ اخلاص  ووفا کا پیمانہ خواجہ سرفراز احمد کے حصہ میں زیادہ آیا اور وہ بھی خلافت احمدیہ کے طابِعداروں میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کر گئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے 1974ء کے پر آشوب دور میں خواجہ صاحب کو یاد فرمایا خواجہ سرفراز احمد صاحب بلاتعامل اپنے آقا کی خدمت میں حاضر ہوگئے ربوہ آمد کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ازراہ شفقت خواجہ صاحب کے لئے کچھ گزارا عنایت فرمایا کہ خواجہ صاحب عدالت سے میرے حکم کی تعمیل میں آئے ہیں شاید کوئی ضرورت ہو خواجہ صاحب بتاتے ہیں خاکسار نے پیامبر کو اپنا بٹوا نکال کر پیش کیا کہ دیکھ لیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی برکت سے میرے بٹوے میں کتنے پیسے ہیں ۔مجھے کسی قسم کی مالی ضرورت درپیش نہ ہے میں تو خوش نصیب ہوں دربار خلافت کے حکم پر اپنا مال وقت خدمت اور جانثاری کے لئے بلایا گیا ہے میں تو اپنے مرشد کے در پر دھونی رمانے آیا ہوں اب مجھے یہ وقت وفا اور اخلاص کے ساتھ نبھانے دیں جب پیامبر نے یہ مژدہ سنایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی شفقت اور نواز برداری سے حکم بھی ہے کہ یہ قبول کیا جائے تو خواجہ صاحب نے بصد عجز و منت عرض کیا کہ حضور انور ایدہ اللہ کی خدمت میں اس غلام کی طرف سے یہ عرض کر دیا جائے کہ یہ عاجز غلام ایسے حکم کی تعمیل نہ کر سکتا ہے مجھے میرے والد محترم نے روانگی کے ساتھ ہی گزارا دے کر بھیجا ہے یہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی کمال شفقت تھی کہ اس پر آشوب زمانے میں جماعت اور ذاتی مالی امانتیں بھی خواجہ صاحب کے سپر دکی اور خواجہ صاحب کو اپنی نگرانی ان کو محفوظ ر کھنے کی توفیق پائی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث جماعتی اور ذاتی عدالتی معاملات کو خواجہ صاحب کے زریعے ہی مشاورت کے ساتھ طے کرواتے تھے اور پر اعتماد طریق پر خواجہ صاحب کو معاملہ فہمی کی طے تک سمجھا دیتے تھے ۔

حضرت مرزا طاہر احمد صاحب سے خواجہ سرفراز احمد صاحب تلمیذ حاصل کیا کرتے تھے اور ان کی خدمت میں دعا کے لئے دفتروقف جدید میں ہی حاضر ہوتے اگر حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ان کو گھر پر ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے تو خواجہ صاحب جواباً عرض کرتے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب جماعتی دفتری ضرورت مند اورخانگی مصروفیات کی وجہ سے آپ کو آرام کا وقت بھی ملنا چاہئے آپ آرام فرما نے کے لئے بھی وقت نکال لیا کریں میں تو دفتر میں حاضر ہو کر ثواب لے لیا کروں گا۔خواجہ صاحب نصیحتاً منع کرتے کہ دوپہر کو آرام کے وقت کسی بزرگ کو ملنا اکرام ضیف کے خلاف ہے جب حضرت مرزا طاہر احمد صاحب حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ہو گئے تو احترام خلافت میں انتہائی عا جزی اور انکساری آ گئی منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد ملاقات میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے فرمایا سرفراز تم ملنے نہیں آئے خواجہ صاحب نے عرض کیا دربار خلافت میں جماعتی امور  اور احباب جماعت کے ساتھ بےپناہ مصروفیت کی وجہ سے مناسب نہ سمجھا کہ ذاتی ملاقات کی جائے اس لئے اجتماعی ملاقات میں حاضر ہوا ہوں ۔پھر جلد ہی 1984ء آ گیا اور خواجہ سرفراز صاحب کو دربار خلافت سے بلاوا آیا خواجہ صاحب پیغام پہنچنے پر عدالت میں پیش تھے وہاں سے فوری معذرت کر کے ربوہ کے لئے روانہ ہو گئے اور دربار خلافت میں حاضری دی اس وقت کا صدر مملکت اپنےغرور اور انانیت کی انتہا پر پہنج کر خدا بنا بیٹھا تھا کہ میں اس کینسر کو معاذاللہ جڑ سے اکھیڑ دوں گا لیکن یہ خدا کا شیر اپنی جگہ پر ڈٹا اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس کی للکار کا جواب دے رہا تھا کہ میرا خدا میرے ساتھ ہے میرا دنیا کی کوئی طاقت کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی بلکہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے فرمایا کہ میں پاکستان سے کہیں نہیں جاؤں گا میں یہاں رہ کر ان اسلام دشمن عناصر کا مقابلہ کروں گا لیکن خواجہ صاحب نے اس وقت کو سنبھالتے ہوئے دست بستہ عرض کی کہ سیدی! یہ بد بخت لوگ آپ کو خاکم بدہن نعوذباللہ تکلیف دے کر احباب جماعت کو آزمائش میں ڈالنا چاہتے ہیں اس وقت احباب جماعت کی برداشت سے سب باہر ہو جائے گا اور احباب جماعت جذبات سے مغلوب ہو کر کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔خواجہ صاحب کے خیال میں شاید اس وقت اللہ تعالیٰ کا منشا بھی ہجرت میں مضمر ہو اس لئے خاکسار اس کو بڑی سعادت سمجھتا ہے کہ دربار خلافت میں ایک مناسب بروقت مشورہ دینے کا موقعہ ملا ۔بعد ازاں حضور ایدہ اللہ کے خلاف بھی جماعتی مقدمہ میں خواجہ صاحب کو عدالتی خدمت کی توفیق ملتی رہی اور ججز صاحبان سے اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ حضور ؒ کے لئے سہولت ملتی رہی ۔دربار خلافت میں خواجہ صاحب کے اخلاص و وفا کے جواب میں حضور  کے دستی قلمی خطوط ایک درخشاں باب ہیں جن میں حضورؒ نے خواجہ صاحب کی اخلاص سے بھری کار کردگی کو سراہا ہے۔ خاکسار کو حضور ؒ کے آمدہ خطوط دکھاتے اور اپنی آنکھوں میں نمی لئے اس پر شکر گزار ہوتے ۔حضور ؒ کے شفقت و محبت کا سلسلہ ان کے گھر والوں کے ساتھ بھی ویسا تھا حضور ؒ ملاقات کے وقت بچوں اور اہل خانہ کا تفصیل سے پوچھتے ۔

 خواجہ صاحب کی زندگی کا آخری دن بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے جب کہ خاکسار کو حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب نے پیغام بھیجوایا کہ آپ فوری طور پر خواجہ صاحب کے پاس صبح لاہور پہنچ جائیں اور ان کو حضرت صاحبزادہ صاحب کا پیغام دے کر ان سے گزارش کریں کہ وہ علاج کے لئے مان جائیں خاکسار کے علم میں تھا کہ اس دن سپریم کورٹ لاہور بینچ میں خواجہ صاحب کے ذاتی مقدمہ کی تاریخ تھی اس بینچ  میں مسٹر جسٹس ارشاد حسن خان مسٹر جسٹس ریاض احمد شیخ مسٹر جسٹس اعجاز نثار مسٹر جسٹس راشد عزیز خان بینچ میں شامل تھے خواجہ صاحب پہلی دفعہ اس دن اپنی پیپر بک جو مقدمہ میں پیش کرنی تھی بھول آئے اور انہوں نے ججز کو درخواست کی کہ آج میرے ساتھ میرا معاون نہ تھا اور میں پیپر بک گھر بھول آیا ہوں بینچ کے تمام ممبران نے یہ کہا خواجہ صاحب  ہم کو علم ہے کہ آپ وقت کے پابند اور اپنے شعبہ سے وفا رکھتے ہیں اور یہ بھول ہو گئی ہے کوئی بات نہیں بہر حال جو ریلف آپ چاہتے ہیں ہم آپ کو appeal leave to grantدیتے ہیں بعد از سماعت خواجہ صاحب نے خاکسار سے کہا کہ آج آپ ساتھ نہیں تھے اور میری طبیعت بھی ناساز تھی اور میں پیپر بک گھر بھول آیا یہ خدا کا فضل ہے کہ فل بینچ نے مجھے وہ ریلیف دے دیا جو میں چاہتا تھا  دوران سماعت کورٹ روم میں خواتین وکلاء کا گروپ سپریم کورٹ کی کارروائی دیکھنے آیا ہوا تھا خواتین کا وہ گروپ خواجہ صاحب سے ملنے سپریم کورٹ کے کیفے ٹیریا میں آ گیا اور خواجہ صاحب سے کہنے لگیں کہ تمام ججز آ پ کا بہت ہی احترام کرتے ہیں کیا وجہ ہے خواجہ صاحب نے جواب دیا کہ میں قانون کا احترام کرتا ہوں وہ میرا احترام کرتے ہیں پھر انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر والے ہمیں وکالت کی پریکٹس کی اجازت دینے پرآمادہ نہ ہیں اس پر خواجہ صاحب نے کہا آپ مجھے اپنے والدین کا فون نمبر دیں میں خود ان سے بات کروں گا خواجہ صاحب نے کہا کہ میری عمر آج ستر برس ہو گئی ہے شاید میں آپ کو جج بنتا نہ دیکھ سکوں خواجہ صاحب کی  ستر سال کی عمرسن کر خاکسار چونک سا گیا سپریم کورٹ کی واپسی پر ہم لاہور ہائیکورٹ بار کے بار روم میں سے گزر رہے تھے کہ وہاں پر مکرم مبشر لطیف صاحب ایڈووکیٹ اور مرزا نصیر احمد صاحب ایڈووکیٹ موجود تھے انہوں نے ایک اخبار ہاتھ میں پکڑ رکھی تھی کہ اس اخبار میں آیا ہے کہ ایک دہشت گرد سے ہٹ لسٹ ملی ہے جس میں دوسرے لوگوں کے علاوہ خواجہ سرفراز احمد قادیانی کا نام بھی شامل ہے خواجہ صاحب نے جواباً کہا کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے مجھے کوئی خطرہ نہیں مجھ پر تو مولوی محمد اسلم قریشی کا حملہ بھی کار گر نہ ہو سکا اس لئے میں بالکل محفوظ ہوں وہاں سے روانگی کے وقت خاکسار نے عرض کیا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کا پیغام ہے کہ آپ آج ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لئے ضرور جائیں خواجہ  صاحب یہ سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے اچھا چوہدری رشید احمد صاحب امور عامہ والوں نے یہ بات بتائی ہوگی چلو میں تیری بات مان لیتا ہوں اور گھر جا کر اپنی بیٹی کوکہا کہ اپنے چچا مختار احمد بٹ کو کہہ دے کہ وہ چار بجے آجائیں میں ان کے ساتھ ہسپتال چیک اپ کرانے چلا جاؤں گا خاکسار نے چوہدری رشید احمد صاحب کو اطلاع دے دی کہ آپ حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں یہ عرض کر دیں کہ آپ کے حکم کی تعمیل ہو گئی ہے خواجہ صاحب اپنے بھائی کے ساتھ آج ہسپتال جائیں گے ہسپتال پہنچے پر ڈاکٹر صاحبان نے جب معائنہ کیا کہ دل کے تین والو بند ہیں اس لئے آپریشن فوری ہونا چاہئے اس پر خواجہ صاحب سے رضا مندی حاصل کر کے آپریشن کی تیاری شروع کر دی خواجہ صاحب کو آپریشن تھیڑ میں لے جایا گیا اور ابھی ابتدائی ادویات دی جا رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا آ گیا اور مکرم خواجہ صاحب آپریشن تھیڑ میں اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گئے اناللہ وانا الیہ راجعون ۔بہشتی مقبرہ میں تدفین کے لئے خواجہ صاحب کا جسد خاکی دارالضیافت ربوہ لایا گیاخواجہ صاحب کی وفات کے موقعہ پر خاکسار جب ربوہ ایمبولینس پر پہنچا تو حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب دارالضیافت میں انتظار میں کھڑے تھے۔ اس ایمبولینس میں خاکسار کے ساتھ محمد زکریا نصراللہ ابن چوہدری اعجاز نصراللہ خان تھے ۔تابوت کو دارالضیافت کے کمرہ میں رکھنے کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب تشریف لائے ۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے خواجہ سرفرازاحمد صاحب کی پیشانی پر بوسہ دے کر ان کی عظمت اور خدمت ِ احمدیت کو سلام پیش کیا جو ایک خواجہ صاحب کے لئے منفرد اعزاز تھا ۔ یہ خواجہ صاحب کی ان خدمات اور اطاعت کا اعتراف تھا جو انہوں نے للہی اخلاص کے ساتھ جماعت کے لئے سرانجام دیں تھیں اللہ تعالیٰ ان کےدرجات بلند فرمائے اور رضا کی جنتوں میں جگہ عطا فرمائے آمین۔

خواجہ سرفراز احمد صاحب متوکل قسم کے انسان تھے اتنی قابلیت اور تجربہ کے باوجود وہ شرک سے بالکل مبرا تھے۔تمام معاملات کو خدا تعالیٰ کی خوشنودی سے گردانتے تھے۔کسی دوستی تعلق کو جماعتی تعلق میں نہ لاتے تھے۔تمام عدالتی معاملات کی سماعت کے موقعہ پر جانے پہچانے جج صاحبان کے باوجود خداتعالیٰ کے تصرف پر یقین رکھتے تھے۔ہر معاملہ کو خداتعالیٰ سے مقرر کردہ سمجھتے تھے۔اپنے آپ کو ایک ناچیز سمجھتے اور خدمت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور دنیاوی وجاہت اور وقار کے باوجود سادگی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی برجستہ اور موثر جواب میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا مکرم خواجہ صاحب مدبرانہ اور دانشمندانہ طریق پر اپنے معاملہ کو پیش کرتے اور اپنے دلائل کو ایک مضبوط وزن دے کر ججز کو اپنے مؤقف کی تائید پر قائل کرتے عدالتی تاریخ احمدیت میں مکرم خواجہ صاحب کا نام ہمیشہ روشن رہے گا کیونکہ انہوں نے بلا معاوضہ اور بے لوث ہو کر جماعتی مقدمات میں اپنی ذاتی پریکٹس کو پسِ پشت ڈال کر اہمیت دی یہاں تک کہ ان کی کینیڈا کی امیگریشن کے آغاز پر ہی حضرت صاحبزادہ مرزا مسروراحمدصاحب کا مقدمہ شروع ہو گیا وہ صرف  امیگریشن کی پہلی انٹری کیلئے تاریخ سماعت کے اگلے دن کینیڈا روانہ ہوئے اور اگلی تاریخ سماعت سے قبل پاکستان واپس پہنچ گئے دونوں تاریخوں کے درمیان شاید ایک ہفتہ کا وقفہ تھا تاکہ حضرت صاحبزادہ کے معاملہ کو اپنی ذاتی نگرانی میں طے کریں جماعتی کیسسز میں اپنے مدلل دلائل کے ساتھ ایک بارعب  طرز تخاطب بھی رکھتے تھے بعض اوقات خاکسار ان کو گزارش کرتا کہ احتیاط سے اپنا مؤقف پیش کریں کیونکہ اس معاملہ میں فیور بھی لینی ہے لیکن خواجہ صاحب کا کہنا تھا ہمارا قادر مطلق خدا ہے جو دلوں کو پھیر کر ہمارے لئے ہمدریاں ججز کے دلوں میں پیدا کرتا ہے جس میں میرا کوئی کمال نا ہے نہ میرا طرز تکلم نہ تحریری نہ زبانی درخواست صرف اللہ تعالیٰ منشاء کے مطابق ہی بات ہوتی ہے اور اس کی منشاء کے ساتھ ہی بات مکمل ہوتی ہے اور نتیجہ کا حق خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیتا ہوں اس کے تمام فیصلہ پر ہم ہر طرح سے راضی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا سلوک بھی خواجہ صاحب سے اس طرح ہوتا تھاکہ واضح تائید و نصرت جماعتی مقدمات میں دکھائی دیتی تھی اور ناممکن معاملہ کو ممکن بنتے ہوئے ہم دیکھ رہے ہوتے تھے بعض متعصب اور مخالف ججز بھی خواجہ صاحب کے طرز کلام اور مدبرانہ گفتگو سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے تھے اس معاملہ میں وہ ججز یا تو موافق ہو جاتے یا پھر اس معاملہ کو کسی اور کے پا س بھجوا کراس مقدمہ سے علیحدہ ہو جاتے خواجہ سرفراز صاحب کا پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایسا نام ہے جس کے بغیر جماعتی اور عدالتی تاریخ شاید مکمل نہ ہو ان کی اپنی پریکٹس کے آغاز سے لے کر تاوفات تمام ججز حضرات ان کا احترام خاص کرتے اور اکثر اوقات قانونی منہ شگافیوں کے حل کے لئے کورٹ روم میں موجود خواجہ صاحب سے فریقین کے وکلاء کی موجودگی میں ان  سےرائے لیتے اور ان کی رائے فریقین اور ججز کو مطمئن کرنے والی ہوتی جماعتی عدالتی تاریخ میں ان کا مقام حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ  نے ان کی وفات پر ان کو خراج تحسین اس طرح پیش کیا کہ ان کے کارنامے تاریخ احمدیت میں آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں یہ تحریر ان کے کتبہ پر بھی کنندہ ہے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی طرف سے آمدہ خطوط جو جماعتی مقدمہ کے حق میں فیصلہ کے بعد خواجہ صاحب کو موصول ہوتے ان میں پر ستائش  رنگ میں ان کی خدمات کا اعتراف بھی ہوتا اور مستقبل میں ان کی راہنمائی کے لئے اصول بھی  ۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی مکرم خواجہ صاحب کی عدالتی کار کردگی سے مطمئن تھے اور ان کو عدالتی امور میں مزید آگاہی کیلئے اپنے تجربات سے آگاہ کیا کرتے تھے اور ہر ملاقات میں زیادہ گفتگو عدالتی امور پر ہی ان کے ساتھ ہوتی۔

حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب جماعتی مقدمہ میں جب رہا ہو کر ربوہ آئے تو خواجہ صاحب بھی ملاقات کیلئے حاضر ہوئے خاکسار بھی اس موقعہ پر حاضر تھا حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ آپ نے باسط کو آدھا وکیل بنا دیا ہے خواجہ صاحب نے جواباً کہا کہ نہیں صاحبزادہ صاحب میں نے اس کو پورا وکیل بنا دیا ہے میں اس سے مشورہ بھی کرتا ہوں اس کی بات بھی مان لیتا ہوںیہ اخدا تعالیٰ کا فضل حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کی نظر شفقت کی ہی عنائیت ہے کہ اس قسم کی عدالتی معلومات لکھنے کی توفیق مل رہی ہے خواجہ سرفراز احمد صاحب کو بجا طور پر عدالتی دنیا میں احمدی شاہسوار کہا جا سکتا ہے ان کی عدالتی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے جو اطاعت خلافت کے ساتھ اخلاص و وفا سے جڑا ہوا ہے۔ ان کی ہم رکابی میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جج صاحبان کے ساتھ گزرے لمحات واقعات کی صورت میں لکھ رہا ہوں  اللہ تعالیٰ ان تاریخی عدالتی یادداشتوں کو جماعت کے حق میں بہتر فرمائے اور اس کے نیک نتائج جماعت احمدیہ کی ترقی میں ممد و معاون ہوں اللہ تعالیٰ مکرم خواجہ صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اپنی رضا کی جنتوں میں داخل فرمائے اعلیٰ علین میں جگہ عطا فرمائے اور مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے لواحقین کو ان کی جاری کردہ نیکیوں کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔