skip to Main Content
سعید احمد رفیق۔لندن :میرا سفر سپین اور سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی بعض مصروفیات

سیدنا  حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخہ 2۔اپریل 2018ء بروز سوموار صبح 9بجے سپین کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ یہ دورہ حضورانور کا پرائیویٹ دورہ تھا۔  انہی دنوں میں  خاکسار کوبھی سپین جانے کا موقع ملا۔ خاکسار نے اپنے سپین کے سفر کے جو نوٹس لئے ان کو اس مضمون میں  اللہ  تعالیٰ کی دی ہوئی  توفیق کے مطابق  بیان کروں گا۔

خاکسار نے حضور انور  کی خدمت  میں رخصت کی درخواست کی۔ یہ بھی ایک حیران کن بات ہے کہ اپنے پرائیویٹ دورے میں بھی حضور انور  جماعتی کام  کو بجا لاتے ہیں اور ڈاک بھی باقاعدگی سے چیک فرماتے ہیں۔  سبحان اللہ۔ حضور انور  کی طرف سے منظوری آگئی۔  خاکسار  6۔اپریل کو رات 12بجے  پیدرو آبادمسجد بشارت پہنچ گیا۔

حضور انور کی آمد مسجد بشارت کا معائنہ

مورخہ 7۔اپریل کو حضورانور نے پیدرو آباد تشریف لانا تھا۔ بڑی شدت سے انتطار تھا اور حضور انور  کی آمد کی تیاریاں اپنے زوروں پر تھی۔ حضور انور کو نہ دیکھے تو ابھی صرف پانچ دن گزرے تھے۔ لیکن ایسے محسوس ہورہا تھا کہ   پانچ سال گزر گئے ہیں۔ تقریباً  18:15بجے کے قریب سارے احباب ایک طرف مرد اور دوسری طرف عورتیں صف بنا کر  کھڑے ہوگئے۔ 18:30بجے حضور انور  تشریف لے آئے۔  ایک عجیب بات جو میں نے اس وقت نوٹ کی تھی وہ یہ تھی کہ weather forecast پر پورے دن کے لئے بارش دکھائی دے رہی تھی۔  لیکن حضور انور کی آمد پر موسم صاف تھا۔ سبحان اللہ۔ حضور انور پہلے  رہائش گاہ تشریف لے گئے  اور 10منٹ باہر تشریف لائے۔ سب  لوگوں کی  جو حضور انور کی آمد کے منتظر تھے  حضور انور کو  دیکھ کر  خوشی کی انتہا نہ رہی۔ الحمد للہ۔ لجنات نے ترانے پڑھنے شروع کر دئیے۔

حضور انور نے آتے ہی پوری مسجد کا اور ارد گرد کی عمارتوں کا جائزہ لیا۔ اپنا گھر اور آفس تو پہلے ہی حضور انور نے چیک کر  لیا تھا۔ حضور انور اخویم  محمد انس صاحب مربی سلسلہ و صدر خدام الاحمدیہ  سپین کے گھر  تشریف لے گئے

اس کے بعد حضور انور نے خادم ِمسجد  کی رہائش،  گیسٹ رومز اور دونوں ہالوں کا معائنہ فرمایا۔  حضور انور نے ایک ایک کمرے کا جائزہ لیا۔  اس کے بعد حضور انور  اپنی رہائش گاہ میں تشریف لے گئے۔  9 بجے  حضور انور نےمغرب اور عشاء کی نمازیں  پڑھائیں۔ نماز کے بعد میری رہائش  اخویم انس کے گھر کر دی گئی۔ اخویم  انس نے بہت بڑی قربانی دی اور  اپنے پورے گھر میں مہمانوں  کو ٹھہرایا اور خود باہر ہال میں جا کر سوئے۔ بعد میں انہوں  نے بتایا کہ حضور انور نے پوچھا کہ ’’مون کی رہائش کہاں پر ہے۔‘‘(خاکسار کو پچپن سے پیار سے مون بھی کہا جاتا ہے) جس  پرانہوں نے کہا کہ ہال میں ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ ’’اس کی رہائش کا کچھ ہو سکتا ہے ؟‘‘ جس پر اخویم انس نے فوراً اپنا کمرہ پیش کر دیا ۔ 

 لائبریری کا معائنہ

مورخہ 8۔اپریل کو حضور انور نے لائبریری کا معائنہ فرمایا۔ حضور انور نے کتابیں چیک کی اور دیکھا کہ لائبریری مکمل نہیں ہیں۔ گزشتہ دوسالوں سے حضور  انور اس طرف بہت توجہ دلا رہے ہیں کہ ہر مشن کی  لائبریری مکمل ہونی چاہئے۔ حضور انور نے مربیان اور امراء کی میٹنگ میں جو جلسہ سالانہ یوکے کے بعد  منعقد ہوتی ہے خاص طور پر اس کا ذکر فرمایا تھا۔ حضور انور نےوہاں موجود امیر صاحب سپین کو اور مربیان کو فرمایا  کہ مرکز سے کتابیں منگوائی جائیں اور اگر نہیں بھیجتے تو مجھے لکھیں۔ حضور انور نے اس کے بعد  لجنہ کی طرف  کا بھی معائنہ فرمایا۔ نیز حضور انور نچلی منزل کی طرف بھی گئے جہاں پر ایک تہہ خانے میں ایک  بڑا سا ہال ہے جو بطور لجنہ کی رہائش گاہ اور لنگر کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔جب حضور انوراوپر تشریف لائے تو وہاں ایک سپینش احمدی مکرم یحیی ٰ صاحب کھڑے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں بیعت کی تھی۔ حضور انور نےانہیں شرف مصافحہ بخشا اوراس کے بعد اپنے دفتر میں تشریف لے گئے۔

شام کو حضور انور باہر تشریف لائے۔ حضور انور پھر سے مسجد بشارت کے احاطہ میں ٹہلنے لگے۔ مسجد کی ایک طرف  کچھ خدام و اطفال فٹبال کھیل رہے تھے۔ اس کے بعد حضور انور نے لنگرخانہ کا معائنہ فرمایا اوروہاں کام کرنے والے کارکنان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ حضور انور باہر تشریف لے آئے۔ مسجد بشارت کے سامنے ہی کچھ سولر پینلز نظر آرہے تھے۔ حضور انور نے ان کی تفصیل کے بارہ میں امیر صاحب سے دریافت فرمایا۔ اسی طرح جب حضور انور نے مسجد کی پچھلی طرف جا کر پیدروآباد کی طرف نظر دوڑائی تو حضور انور نے فرمایا کہ’’پیدروآباد کافی پھیل گیا ہوا ہے‘‘ حضور کافی دیر موٹروے کے کنارے کھڑے رہے اور گفتگو فرماتے رہے۔

مورخہ 9۔اپریل کو تقریباً 13:20پر حضور انور اپنے دفتر تشریف لائے۔ حضور انور کی دفتری اور ذاتی مصروفیات رہیں۔

حضور انور پیچھے کھڑے تھے

خاکسار کی ملاقات مکرم  ڈاکٹر اطہر زبیر  صاحب Humanity First جرمنی کے انچارج  سے ہوئی۔ آپ نے مجھے  بتایا کہ

’’ایک دفعہ حضور انور بینن تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ اس دوران میں   بھی وہاں وقفِ عارضی پر گیا ہوا تھا۔ وہاں قیام کے دوران ایک دفعہ رات کو بجلی چلی گئی اور میں نے خود electric کا ڈبہ تلاش کر کے دیکھنا شروع کیا۔  میں نے اپنے گلے اور کندھے کے درمیان ایک ٹارچ رکھی ہوئی تھی تاکہ میرے ہاتھ خالی ہوں اور میں  ڈبہ چیک کر سکوں۔  ابھی میں ڈبہ کھول کر چیک ہی کر رہا تھا کہ میں سمجھا میرے پیچھے مربی صاحب کھڑے ہیں جو میری مدد کے لئے آئے ہیں۔  بغیر پیچھے دیکھے میں نے مربی صاحب کو ٹارچ  دے دی اور کہا آپ پکڑیں میں چیک کرتا ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد  آواز آئی کہ’’ آپ کو اس کا کچھ پتہ بھی ہے یا نہیں؟‘‘  میں نے مڑ کے دیکھا تو وہ جس کو میں نے ٹارچ پکڑائی تھی مربی صاحب نہیں تھے بلکہ حضور انور تھے۔ میرے ہاتھ میں  جو کچھ بھی تھا سارا گر گیا‘‘

حضور انور کی غریب پروری

حضور انور کے اعلیٰ اخلاق اور غریب پروری  کا ایک واقعہ انہوں نے مجھے بتایا کہ

’’جب حضور انور بینن تشریف لائے تھے تو وہاں کے صدرمملکت نے حضور انور کو اپنی گاڑی دی جس کا ڈرائیور بھی صدر کا ہی  تھا۔ پہلے دن جب ڈرائیور آیا تو حضور  انور نے ڈرائیور سے دریافت فرمایا کہ کھانا کھایا ہے کہ نہیں؟ اس نے جواب دیا نہیں۔ اس پر حضور انور نے اس سے فرمایا کہ پہلے کھانا کھا  کرآؤ۔ ڈرائیور کھانا کھانے چلا گیا لیکن  ضرورت سے زیادہ  ہی وقت لگانے لگا۔ حضور انور انتظار میں ادھر اُدھر ٹہلنے لگے۔  ہم کافی گھبرا گئے کہ وہ کہاں چلا گیا ہے۔ ہم اس کو ڈھونڈنے لگے لیکن حضور انور نے فرمایا کہ اسے آرام سے کھانا کھانے دو۔  جب حضور انور کی بینن سے روانگی ہوئی اور ڈرائیور نائیجیریا کی سرحد تک چھوڑنے آیا تو وہ رونے لگا۔ اس سے رونے کی وجہ پوچھی گئی تو وہ کہنے لگا کہ 35 سال سے میں یہ کام کر رہا ہوں۔ لیکن کبھی میرے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا‘‘

سائیکلنگ میں حکمت

ایک واقعہ جو ڈاکٹر صاحب نے ہالینڈ کا  سنایا کہ ’’ ہم تقریباً روز حضور انور کے ساتھ cycling پر جاتے تھے۔ آخری دن تھا اور حضور انور نے جرمنی کے لئے روانہ ہونا تھا۔ شام کووہاں ایک مسجد کی سنگِ بنیاد تھی۔  اس لئے ہم  سمجھےکہ آج cycling نہیں ہوگی۔ لیکن پورے وقت پر آ کر حضور انور نے فرمایا کہ آج بھی cycling پر جائیں گے۔ پھر شام کو سنگِ بنیاد  کے بعد مجھے ایک سیاستدان ملا جس کے پاس Ministry of Youth and Sport کی ذمہ داری تھی۔  اس نے کہا ٹھیک ہے تقریر تو سن لی لیکن مجھے یہ بتائیں کہ آپ کے خلیفہ Sports  کیا کرتے ہیں؟ اس پر ڈاکٹر صاحب نے ان کو بتایا کہ یہ تو آج صبح ہی cycling  کر کے آئے ہیں۔  اس پر وہ کہنے لگا پھر تو میں ہر بات ماننے کے لئے تیار ہوں۔ بہت ہی دلچسپ اور ایمان افروز  واقعات تھے۔ اب کسی کو کیا پتہ  تھا کہ اس دن صبح کی Cycling کی ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے۔

ہمسایوں کا خیال

مورخہ 10۔اپریل کی شام حضور انور نے   دفتر میں آکر کچھ ملاقاتیں کیں جن میں دو کینیڈین مربیان بھی شامل تھے۔کسی احمدی  نے  Drone  اڑایا جو ہمسایہ کی چھت پر گر گیا اور وہ ہمسایہ ناراض ہوا تھا۔ حضور انور کو یہ بات بالکل بھی پسند نہیں آئی۔ حضور انور نے مکرم  انس صاحب  کے ذریعہ پیغام بھیجوایا کہ جب تک میں ادھر ہوں کوئی Drone نہیں اڑائے گا۔

عورتوں سے مشابہت نہ کرو

مورخہ 11۔اپریل کو حضور انورتقریباً 1:30 پر دفتر تشریف لائے۔  خاکسار کی ملاقات ہوئی اس دوران خاکسار نے سوال کیا کہ لڑکے Ear-ring کیوں نہیں پہن سکتے؟ شریعت میں تو نہیں لکھا کہ منع ہے۔

حضورانورنے فرمایا۔  ضروری نہیں ہے کہ شریعت میں ہر بات لکھی ہو۔ اسلام کہتا ہے کہ عورتوں کی شکلیں نہ اختیار کرو۔ یہ اس کا آسان جواب ہے۔ نیز حضور انور نے بالوں کی بھی مثال دی۔ جیسے مردوں کو صرف کان کی لوؤں تک بال رکھنے کی اجازت ہے  جبکہ عورتیں اس سے لمبے بھی رکھ سکتی ہیں۔

شام کو حضور انور نے پوری مسجد کے ارد گرد کا جائزہ لیا۔  حضور انور کو ان خدام کی رہائش کے بارہ میں بتایا گیا جو دوسرے شہروں سے خدمت کے لئے آئے ہوئے تھے۔ ان کی رہائش گاہ میں جانے کے لئے  ایک  پتلی سی سیڑھی لگائی گئی تھی۔ حضور انور نے سیڑھی کو چیک کیا جو کہ بہت کمزور نظر آئی۔ حضور انور نے فرمایا کہ پکی سیڑھی بنانی تھی۔  اس کے بعد حضور انور مسجد کی دوسرے کونے پر تشریف لے گئے جہاں پر زیتون کے کچھ درخت لگے ہوئے ہیں۔ حضور انور نے امیر صاحب سے ان کی تفصیلات دریافت فرمائیں۔

خطبہ جمعہ کی تیاری اور اہمیت

مورخہ 12۔اپریل کو میں 12:30پر آفس پہنچا۔ جمعرات کےدن حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز خطبہ تیار فرماتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے حضور انور سے پوچھا کہ آپ  خطبہ کے topic کا کیسے انتخاب فرماتے ہیں؟ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ ’’بس آج کل کے حالات کےبارہ میں سوچتا رہتا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی بات دل میں ڈال دیتا ہے۔‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السّلام اپنے ہاتھوں سے تحریر کا کام فرماتے تھے۔ آپ علیہ السّلام کی اس صفت کو ہم اپنے پیارے امام میں بھی نمایاں طور پر دیکھتے ہیں کہ بیشمار مصروفیات کے باوجود اپنے ہاتھوں سےخطبہ کے نوٹس تیار فرماتے ہیں۔ ہم اس احسان کا شکریہ تو ادا نہیں کر سکتے لیکن خلافت کی اطاعت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو امام وقت کے خطبات کے ساتھ جوڑیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔

’’یہ باتیں دہرانے کی مجھے اس وجہ سے بھی توجہ پیدا ہوئی کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے کی سہولت سے نوازا ہوا ہے جس میں میرے خطبات باقاعدہ آتے ہیں اور دوسرے ایسے پروگرام بھی جاری رہتے ہیں۔ جو ہماری روحانی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ پھر بھی سو فیصد افرادِ جماعت اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور ایک خاصی تعداد مردوں، عورتوں اور نوجوانوں میں ایسے افراد کی ہے جو باقاعدگی سے خطبہ بھی نہیں سنتے۔ یا سن لیں تو یہ خیال کرتے ہیں شاید جس جگہ خطبہ دیا جارہا ہے۔ وہاں کے لوگوں کے لئے ہے۔ حالانکہ ہر خطبہ کا مخاطب ہر احمدی ہوتا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں رہتا ہو۔ خاص طور پر جو پُرانے احمدی ہیں۔ اس میں یہ بڑی غلط رو پیدا ہو گئی ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 23 ۔اپریل 2010ء)

حضور انور کی ایک دن کی مصروفیت

اکثر لوگ حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے شب و روزکے بارہ میں سوال کرتے ہیں۔ ایک دفعہ کسی بچی کے استفسار پر آپ نے فرمایا کہ

’’صبح  نفل پڑھنے کے لئے اٹھتا ہوں۔ پھر  نماز اور نفل کے درمیان میں وقت ہوتا ہے تو میں تھوڑا سا  قرآن شریف پڑھ لیتا ہوں۔ پھر اس کے بعد سنتیں پڑھتا ہوں اور نماز پڑھانے چلا جاتا ہوں۔  پھر آتا ہوں تو تھوڑی سی exercise کرتا ہوں۔ exercise cycle پر اور مشین پر۔  پھر قرآن شریف دوبارہ پڑھتا ہوں۔ پھر حضرت مسیح موعود ؑ کی کتاب کا تھوڑا سا حصہ پڑھتا ہوں تفسیر کا۔ پھر تھوڑی دیر سو جاتا ہوں۔ پھر جاگتا ہوں تو ناشتہ کرتاہوں۔ پھر  اپنےدفتر چلا جاتا ہوں جب میں لندن میں ہوتا ہوں۔ پھر وہاں جا کر 500-600خط ہوتے ہیںsign کر کے لوگوں کو بھیجنے کے لئے وہ sign بھی کرتا ہوں۔ پھرہمارے مرکز کے دفتر کے مختلف لوگ ہوتے ہیں، ان کے لوگ آتے ہیں یا پھر بعض کمیٹیاں بنی ہوتی ہیں ان کے لوگ آتے ہیں یا بعض ملکوں کے امراء میٹنگ کرنے کے لئے آتے ہیں ان سے میٹنگ کر تا ہوں۔ دو  تین گھنٹے وہاں گزر جاتے ہیں۔ پھر ظہر کی نماز کا وقت ہو جاتا ہے، وہ پڑھتا ہوں۔ پھر گھر آ کر کھانا کھاتا ہوں  تھوڑا سا اور تھوڑا آرام کرتا ہوں۔ پھر اٹھ کر دفتر چلا جاتا ہوں۔  پھر وہاں جا کر  پھر اپنی دفتر کی ڈاک جو ہوتی ہے وہ دیکھتا ہوں۔ خط آئے ہوتے ہیں مختلف مشنوں سے، مختلف جگہوں سے۔ پھر چائے پی کر شام کی عصر کی نماز پڑھ کر واپس دفتر آجاتا ہوں۔ پھر لوگ ملاقات کرنے کے لئے آ جاتے ہیں۔ایک دو گھنٹے پھر گزر جاتے ہیں۔ کچھ وقت بچ جائے تو دوبارہ  باہر سے آئے ہوئے خط ہوتے ہیں وہ دیکھتا ہوں۔ پھر کھانا کھایا اور نماز پڑھائی۔ پھر کوئی رشتہ دار ملنے آگیا تو اس سے پانچ سات منٹ کے لئے مل لیا۔ پھر دفتر میں چلا جاتا ہوں۔ پھر جا کر رات کو ڈاک دیکھتا رہتا ہوں۔ پھر رات ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد آکرکچھ تھوڑی سی کتاب پڑھ لی، اخبار پڑھی یا ٹی وی دیکھ لیا۔ پھر تھوڑی دیر سویا اور اٹھ گیا۔ اسی طرح وقت گزر جاتا ہے‘‘

پرائیویٹ سیکرٹری کی مصروفیات

خاکسار نے دیکھا ہے کہ حضور انور کے  دفتر کا عملہ اور بالخصوص پرائیویٹ سیکرٹری منیر احمد جاوید صاحب کو بھی بفضل اللہ تعالیٰ بہت خدمت کا موقع ملتا رہتاہے۔ آج کافی دیر مکرم منیر جاوید صاحب سے گفتگو ہوتی رہی۔ عام طور پر لندن میں ان کاکافی سخت معمول ہوتا ہے۔ آپ صبح 9:30بجے آفس پہنچ جاتے ہیں اور رات کو عشاء کی نماز کے بعد گھر جاتے ہیں۔ گرمیوں میں تو عشاء کی نماز کا وقت بھی 9بجے کے بعد ہوتا ہے۔ مکرم منیر جاوید صاحب نے بتایا کہ گھر پہنچنے کے بعد بھی کسی نہ کسی رپورٹ، خطاب یا خطبہ کے سلسلہ سے کام کرنا ہوتا ہے۔ خاکسار نے دیکھا ہے کہ مکرم منیر جاوید صاحب عید کے روز بھی آفس آتے ہیں اور اس سے اگلے دن پھر چھٹی کرتے ہیں۔ دراصل آپ بجائے اشد ضرورت کے رخصت لیتے ہی نہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے صرف اپنے والدین کے بیمار ہونے پر یا پھر وفات پر انہیں چھٹی لینی پڑی۔ کئی دفعہ تو منیر صاحب  بیمار ہوتے ہیں اور پھر بھی دفتر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور انور کو کسی چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے، کسی حوالہ کو تلاش کرنے کی ضرورت نہ پڑ جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسے قربانی کرنے والوں کو پیدا کرتا رہے۔ آمین

خلیفہ وقت کی دعاؤں کو جذب کرنے  اور ان کا وارث بننے کا ذریعہ خدمت دین ہی ہے، جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السّلام نے فرمایا ہے کہ

’’جو حالت میری توجہ کو جذب کرتی ہے اور جسے دیکھ کر میں اپنے اندر دعا کی تحریک پاتا ہوں۔وہ ایک ہی بات ہے کہ میں کسی شخص کی نسبت معلوم کر لوں کہ یہ خدمت دین کے سزاوار ہے اس کا وجود خدا تعالیٰ کے لئے ،خدا کے رسول کے لئے،خدا کی کتاب کے لئے اور خدا کے بندوں کے لئے نافع ہے۔ ایسے شخص کو جو درد و الم پہنچے وہ درحقیقت مجھے پہنچتا ہے‘‘

 (ملفوظات جلد 1صفحہ215)

پھر فرمایا: ’’ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دلوں میں خدمت دین کی نیت باندھ لیں۔ جس طرز اور جس رنگ کی خدمت جس سے بن پڑے کرے۔۔۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کی قدرو منزلت ہے، جو دین کا خادم اور نافع الناس ہے۔ ورنہ وہ کچھ پرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کتوں اور بھیڑوں کی موت مر جائیں‘‘                                        

 (ملفوظات جلد 1صفحہ215)

خطبہ جمعہ

مورخہ 13۔اپریل جمعہ کا روز تھا۔ کل رات سے ہی لوگوں کی کثیر تعداد آنا شروع ہو گئی تھی۔ رونق تو حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی تشریف آوری سے پہلے ہی تھی۔ لیکن اب مزید بڑھتی گئی۔ حضور انور نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ حضور انور نے قرآن کریم پر غور کرنے، کتب حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا مطالعہ کرے، دینی علم بڑھانے اور اسی طرح خلافت کے ساتھ تعلق جوڑنے کی طرف توجہ دلائی۔  اور خاص طور پر کشتی نوح  کے  پڑھنے اور سنانے کا انتظام جماعتوں میں کرنے کا ارشاد فرمایا۔ اس دن خطبہ سے قبل مواصلاتی سگنلز موسم کی خرابی کی وجہ سے نہیں آرہے تھے۔ اس صورت حال میں حضور انور نے خطبہ جمعہ کا آغاز فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد دریافت فرمایا کہ سگنلز کیسے تھے تو انتظامیہ نے بتایا کہ خطبہ شروع ہوتے ہی سگنل بحال ہوگئے تھے اور خطبہ براہ راست نشر ہوگیا تھا۔

ملاقات عاملہ مجلس خدام الاحمدیہ سپین

 مورخہ 14۔اپریل کو حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز تقریباً 12 بجے دفتر میں تشریف لائے۔ آج  پروگرام میں سب سے پہلے مجلس خدام الاحمدیہ سپین کی عاملہ کی حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ دوران ملاقات سب سے پہلے بجٹ کے حوالہ سے بات ہوئی۔ اور بتایا گیا کہ کچھ خدام ایسے  ہیں  جوکہ اپنا بجٹ ٹھیک نہیں لکھواتے۔ اس سلسلہ میں حضور انور نے فرمایا کہ

’’یہ تربیت کا کام ہے۔ صدر خدام الاحمدیہ! ان سے کہو کہ اپنے چندہ بےشک نہ دیں۔  نہیں دے سکتے، حالات ایسے ہیں نہیں دے سکتے، خرچ اپنے زیادہ ہوتے ہیں نہ دو۔ لیکن اپنا بجٹ یا صحیح لکھواؤ یا یہ کہہ دو کہ  جو بھی میری آمد ہے وہ میں نے نہیں بتانی لیکن میں بجٹ اتنا دوں گا۔ اپنی خوشی سے جو دے دیں‘‘۔ نیز حضور انور نے فرمایا کہ ’’اس سلسلہ میں زبردستی نہ کی جائے کہ بجٹ ضرور بنانا ہے۔ عادت سچ بولنے کی ڈالنی ہے‘‘۔حضور انور نے یہ ہدایت بھی فرمائی کہ  ’’عادت یہ ڈالو کہ جو کرنا ہے حقیقت بیان کرنی ہے۔  اور لوگوں سے پوچھ کےبجٹ بنایا کرو ۔ یہ نہیں کہ  گھر بیٹھے بیٹھے بنا لیا۔‘‘

حضور انور نے اور بھی بہت سی نصائح سے نوازا۔ حضور انور نے فرمایا کہ

’’چاہے وہ مرکزی نیشنل عاملہ ہے، چاہے وہ مقامی عاملہ ہے۔ اگر خود با جماعت نماز پڑھنے والے ہو جائیں گے تو آگے خود ٹھیک ہو جائیں گے۔ پہلے اپنے آپ کو عادت ڈالو‘‘

حضور انور نےصدر صاحب خدام الاحمدیہ کو اس بات کی تلقین کی کہ  پورے سال کا پروگرام بنا کر قائدین کو بھجوایا جائے۔ حضور انور نے فرمایا کہ

’’workers نےتو سارے کام نہیں کرنے۔ جب تک شعبوں کو کام نہیں دو گے۔ مجالس کو کام نہیں دو گے کام ہو ہی نہیں سکتا۔  یہ جو ہر چیز میں possessiveness کی عادت ہے، یہ چھوڑو۔اب کاموں کو تقسیم کرو۔  یہ کوئی کمال نہیں ہوتا کہ انسان خود کام کر لے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں۔ بہت سارے لوگ ہیں جو کام خود کر سکتے ہیں اور کر لیتے ہیں اور بڑے اچھے کام کر لیتے ہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ لوگوں سے کام کروایا جائے۔ اور ان کو train کیا جائے، ان کو آگے لایا جائے۔ کام کرنا کمال نہیں کام کروانا کمال ہے۔ ‘‘

  • حضور انور نے صدر صاحب خدام الاحمدیہ کو House Visits کی طرف بھی توجہ دلائی اور فرمایا کہ’’ایک پروگرام ایسا بناؤ یہ جو لوگ ہیں جہاں مجلس قائم نہیں اِکے دُکے بیٹھے ہوئے ہیں ان گھروں میں Visit کرو۔ بحیثیت خدام بھی بحیثیت مشنری بھی اس علاقہ کےگھروں میں جاؤ تاکہ ان کو احساس ہو کہ ہمیں پوچھنے والا کوئی آیا ہوا ہے۔  ہمارا جماعت سے رابطہ ہے۔ رابطے نہیں رکھتے اس لئے لوگ یہاں سے پیچھے ہٹے ہوئے ہیں۔ ‘‘ پھر حضور انور نے فرمایا کہ’’فَصُرْھُنَّ إِلَیْكَ جو قرآن شریف میں ہے کہ پہلے ان کوسکھاؤ پھر بلاؤ تو وہ تمہاری طرف دوڑے آئیں گے اس طرح آنے چاہئے۔  یہ نہیں کہ کسی کا منہ کسی طرف ہے اور کسی کا کسی طرف ہے‘‘
  • مہتمم صاحب تعلیم کو حضور انور نے حضرت مسیح موعود ؑ کی کوئی کتاب  جس کا سپینش میں ترجمہ ہو چکا ہے یا کوئی اور مفید لٹریچر مقرر کرنے کی ہدایت فرمائی۔ حضور انور نے کشتی نوح یا اس کے ہماری تعلیم والے حصہ کی مثال دی کہ یہ ہو سکتی ہیں اور فرمایا کہ بعد میں اس کا ٹیسٹ بھی  لیا جائے۔
  • مہتمم صاحب صحتِ جسمانی نے اس بات کا اظہار کیا کہ جب فیملیز کو nationality مل جاتی ہے تو وہ یہاں سے چلے جاتے ہیں۔ان کو کیا دلائل دینے چاہئے کہ وہ نہ جائیں؟ حضور انور نے فرمایا کہ

’’میں تو جب پہلی دفعہ آیا تھا تب بھی لوگوں کو یہی کہا تھا کہ تم لوگوں کو  نیشنیلٹی مل جائے گی تو تم لوگ دوڑ جاؤ گے تو دوڑنا نہیں ہے۔  تو میں نے بعضوں کو بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر تم نے جانا ہے  تو پہلے کم ازکم تین چار پانچ بیعتیں کروا کر جاؤ۔ پھر بھی لوگ نہیں مانتے تو ہم  force تو نہیں کر سکتے لیکن کہا ہی جا سکتا ہے‘‘۔

ملاقات مجلس عاملہ انصار اللہ سپین

خدام کی عاملہ کی ملاقات کے بعد مجلس انصار اللہ سپین کی عاملہ کی ملاقات ہوئی۔

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے انصار  اللہ کو  بھی انتہائی قیمتی نصائح سے نوازا۔ حضور انور نے فرمایا کہ’’اپنے  بیوی بچوں کو اور خود اپنےآپ کو  میں  نے کل کہا تھا ایم ٹی اے کے ساتھ جوڑیں۔ کم از کم خطبہ ہی سن لیا کریں اور جو میرے پروگرم آتے ہیں ان کو دیکھ لیا کریں تو اس سے ایک تعلق تو پیدا ہوگا، عادت پیدا ہوگی۔ انصار کا مطلب کیا ہے؟ مددگار ہیں نہ؟ تو پھر مددگار بنیں دین کو پھیلانے کے لئے اور اپنے گھروں کی تربیت کے لئے۔ اگر انصار اپنےآپ کو سنبھالنے میں نمونہ بن جائیں، اگر سینٹر آپ کے زیادہ دور ہیں اور اخراجات  متحمّل نہیں ہو سکتے، وہاں تک پہنچ نہیں سکتے تو دیکھیں اور نئے سینٹر بنا لیں۔ جماعتی طور پر بھی ہونا چاہئے۔ انصار اور خدام دونوں کی طرف سے تجویز پیش ہو کہ نمازوں کے لئے سینٹر بنا لیں تاکہ ایک دو نمازیں  باجماعت پڑھیں۔ باجماعت نمازوں کا نمونہ انصار دکھائیں۔ اور ہر لیول پر عاملہ کے ممبر جو ہیں آپ کے نیشنل لیول پر بھی ان کے اپنے عملی نمونے ہوں گے تو دوسرے خودٹھیک ہو جائیں گے۔ سب سے بڑی بات یہی ہے کہ انصار کو نمازوں کے نمونے دکھانے چاہئیں اور گھروں میں تلقین بھی کریں۔  بچوں کو عادت پڑے۔ یہاں کے معاشرے میں اور بہت ساری دلچسپیاں ہیں ان سے بچنے کے لئے، غلط کاموں سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ بچوں پر نظر رکھی جائے۔ بعضوں کے بچے بڑے ہوگئے۔ لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ Influence  رہتا ہے۔ انصار اپنےنمونے بھی دکھائیں اور ان کو کہیں۔ اپنے نمونے اگر دکھاتے رہیں گے تو فیملیاں بچتی رہیں گیں‘‘

  • اس کے بعد حضور انور نے تبلیغ کے حوالہ سے فرمایا کہ

’’میں نے جامعہ کے Students ہر سال بھیجنےشروع کئے ہوئے ہیں وہ تعارف تو کروا جاتے ہیں۔ اس تعارف کو پھر سنبھالنا آپ لوگوں کا کام ہے۔ ایک سال کے بعد وہ تو دوبارہ آجاتے ہیں۔ یا سال میں دو کلاسیں آرہی ہیں دو دفعہ موقع مل گیا ہے۔ لیکن باقی دن مہینے جو ہیں یا گیارہ مہینے جو ہیں اس میں آپ لوگوں کو continue کرنا چاہئے۔  ایک تو لٹریچر کی تقسیم ہے، ایک اپنے رابطے ذاتی ہیں ، One to One تبلیغ ہے، سیمینار ہیں، مختلف طریقے ہیں اپنے طور پر جسے شوق ہو جائے۔ خلیفۃ المسیح الرابع نے جس طرح وہاں سے لٹریچرلے کر بھیجنے  شروع کئے تھے۔ زبان نہیں بھی آتی تو پھر وہ دو۔ کوئی Weekend پہ یا مہینہ میں دو دفعہ کم از کم پروگرم بنائیں تو ہر علاقہ میں ، چھوٹے علاقوں میں خاص طور پر مواقع زیادہ ہو سکتے ہیں۔ پھر یہاں اب مختلف علاقوں کے لوگ بھی آ چکے ہیں۔ عربوں کے لئے عربوں کا لٹریچر ہونا چاہئے اس کے لئے پروگرم بنائیں اور سپینش قوم کے لئے علیحدہ۔ یہ دیکھیں کہاں کہاں کس طرح کام کرنا ہے۔ یہ تو محنت کرنی پڑے گی۔ جتنی آپ محنت کر سکتے ہیں۔ ایک پلان بنا کر چلیں، ساروں کو involve کریں‘‘

ملاقات نیشنل عاملہ سپین

مورخہ15۔اپریل کو حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز  12 بجے دفتر تشریف لائے اور اس کے فوراً بعد حضور انور مسجد میں تشریف لے گئے جہاں پر نیشنل عاملہ سپین کی میٹنگ تھی۔ یہ عاملہ کی میٹنگ تقریباً 2 بجے تک چلی۔

  • حضور انور نے نیشنل عاملہ کے ماہانہ اجلاسات کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ اور فرمایا کہ ہر ماہ نیشنل عاملہ کی میٹنگ ہونی چاہئے جیسا کہ کوائف میں بھی لکھا ہے۔حضور انورنے فرمایا کہ Rules and Regulation کی کتاب سب عاملہ ممبران کو پڑھنی چاہئے۔ رپورٹس کے حوالہ سے حضور انور نے یہ ہدایت دی کہ سال کی بارہ رپورٹیں آنی چاہئیں۔

ایک ہدایت جو حضور انور نے فرمائی وہ مالی قربانی کے سلسلہ میں تھی۔ حضور انور نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ  یہ احساس دلایا جائے کہ لازمی چندے ہیں یا تحریکات کہ چندے ہیں  یہ کوئی ٹیکس نہیں۔ بلکہ اللہ اور رسول کا حکم ہے۔ جتنی بھی کسی کی توفیق ہو۔ خواہ کم شرح کے لحاظ سے  دیں۔ لیکن چندہ دینا ضرور چاہئے۔

  • حضور انور نے میٹنگ کے آخر میں مربیان کو ہدایت دی کہ

’’ہر ایک فرد جماعت کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ جہاں بھی مربی مبلغ ہے وہ ہمارا باپ ہے۔ عہدیداروں سے جو تکلیفیں پہنچتی ہیں ساروں کو، ان کو دور کرنا مربیان کا کام ہے۔‘‘میٹنگ کے بعد حضور انور دفتر تشریف لے گئے۔

 ملاقات عاملہ  لجنہ اماء اللہ سپین

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے  لجنہ کی نیشنل عاملہ کے ساتھ میٹنگ کی۔ حضور انور نے سیکرٹری تربیت سے ان کے  plan کے بارہ میں دریافت فرمایا  کہ انہوں نے بچوں کی تربیت کے لئے کیا پروگرم بنایا ہوا ہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ

’’اصل چیز تو اپنے گھر کی تربیت ہے۔ وہ پلان بنا کر ماؤں کودیں۔‘‘

پھر جب حضور انور سیکرٹری تبلیغ سے مخاطب ہوئے تو حضور انور نے پوچھا کہ قرطبہ کی لجنات یہ شکایت کرتی ہیں کہ ان کو تبلیغ نہیں کرنے دیتے اس کی وجہ کیا ہے؟ سیکرٹری تبلیغ نے بتایا کہ ان کو صرف flyer تقسیم کرنا منع ہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ لجنہ بھی اپنے پلان بنا سکتی ہیں۔ اپنی مرضی سے کوئی پلان بنانا چاہیں تو بنا سکتی ہیں۔ کوئی روک نہیں۔ لجنہ نے جو پلان کرنا ہے مجھے بھیجیں اور اجازت لے لیں۔

  • حضور انور سے پوچھا گیا کہ کیا ہم mixed gathering میں پمفلٹ تقسیم کر سکتی ہیں؟ حضور انور نے ایک یونیورسٹی کانفرنس کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ

’’اگرکوئی لڑکی یونیورسٹی میں کانفرنس  organize کر رہی ہے  تو وہاں جا کےاگر کسی سے بولنا ہے اور جماعت کا، اسلام کا نقطہ نظر پیش کرنا ہے تو پھر proper پردہ ہو۔ ‘‘ نیز حضور انور نے فرمایا کہ’’ پلاننگ کریں ایسی جو صحیح ہو۔ حکمت سے اور عقل سے چلیں تو ٹھیک ہے تبلیغ کریں۔ صرف جوش ہی نہ ہو۔‘‘

  • ایک خاتون نے اس بات کا اظہار کیا کہ مسجد میں اعلان کیا گیا تھا کہ کھانا کھاتے وقت اگر صدر صاحبہ لجنہ موجود ہیں تو ان سے پہلے کوئی شروع نہیں کر سکتا۔ جواباً حضور انور نے فرمایا کہ’’غلط اعلان ہے۔ جو اخلاق ہیں وہ یہی تقاضا کرتے ہیں کہ اگر کسی نے آنا ہے، باقاعدہ فنکشن ہو رہا ہے تو Head ٹیبل پر جس نے بیٹھنا ہے وہ آکر بیٹھ جائے تو کھانا شروع کیا جائے۔ اگر کوئی شوگر کا مریض ہے اور بےہوش ہونے لگا ہے یا بچے ہیں چیخیں مار رہے ہیں ان کو کھانا دینا ہے تو دیا جا سکتا ہے۔ نہ یہ ضروری ہے کہ اجتماع ہو رہا ہے تو صدر لجنہ کے آنے پر سب کھڑے ہوں اور نہ یہ ضروری ہے کہ  امیر جماعت کے آنے پر کھڑے ہوں‘‘۔ مزید حضور انور نے فرمایا کہ’’ اگر کوئی ذاتی تعلق کی بنا پر ایسا کر لیتا ہے تو وہ اس کا اپنا فعل ہے۔ ہاں اگر اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھانا ہے میز پر تو سب آرہے ہیں تو بڑی اچھی بات ہے کیونکہ ادب و احترام کا تقاضا تو یہی ہے کہ چلو سارے اکٹھے ہو جائیں تو  کھانا کھا لیا جائے جس طرح کہ فیملی میں ہوتا ہے‘‘۔
  • جماعت میں جو مختلف تنظیمیں ہیں ان کے بارہ میں حضور انور نے فرمایا کہ

’’حضرت مصلح موعود ؓ نے یہ تنظیمیں کیوں بنائی تھی؟ لجنہ کی، خدام کی یا انصار کی۔ اس لئے بنائی تھی کہ جماعتی لوگ جہاں کام نہیں کرتے وہاں یہ تنظیمیں کام کر لیں تو  Pace of progress  ہوتا رہے گا۔ اور اگر چاروں تنظیمیں جماعت کی، لجنہ بھی، خدام کی اور انصار بھی کام کر رہے ہوں تو کام کی رفتار کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔  اس لئے بنائی تھیں‘‘

کلاس واقفِین نو

شام کو  پہلے واقفین نو کے ساتھ کلاس منعقد ہوئی۔ حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے کلاسوں کے بارہ میں دریافت فرمایا  کہ کتنی دفعہ ہوجاتی ہیں۔ اس پر حضور انور  کو بتایا گیا کہ Valencia میں مہینہ میں  دو دفعہ کلاس منعقد کی جاتی ہے۔ نیز پیدرو آباد میں ہفتہ اتوار کو کلاسیں ہوتی ہیں۔ حضور انور نے لڑکوں  سے ان کی تعلیم کے بارہ میں بھی پوچھا۔ کچھ لڑکوں نے بتایا کہ  پاکستان میں پڑھائی کر رہے تھے لیکن ادھر آکر آگے نہیں کی۔ اس پر حضور انور نے فرمایاکہ  ’’تم وقف نو میں ہو۔ ادھر کسی چیز میں ڈپلومہ کر لینا تھا‘‘

کلاس میں کچھ لڑکے ایسے بیٹھے ہو ئے تھے جو کہ اب سپین کے رہائشی نہیں رہے تھے۔ ان میں سے دو جرمنی ہجرت کر چکے تھے اور ایک امریکہ۔ تب حضور انور نے فرمایا کہ

’’کلاس کی تعداد بڑھانے کے لئے بٹھا لیا ہے۔ لیکن پھر بھی نہیں بڑھ سکی۔ جرمنی سے ہی کلاس منگوا لینی تھی‘‘۔ جس پر سب ہنسنے لگے۔ اکثر لڑکوں نے یہ کہا کہ وہ مربی بننا چاہتے ہیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ ’’پھر تو ہماری سپین میں کمی پوری ہوجائے گی اگر تم لوگ سارے آجاؤ گے۔‘‘

ملک شام سے جنگ کا آغاز

مکرم قیصر ملک صاحب  نے سوال کیا کہ جو حال میں ملکِ شام پر حملے ہوئے ہیں جبکہ حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی ہے کہ تیسری جنگِ عظیم شام سے شروع ہوگی، تو اس وقت سپین کا کیا ہوگا؟

حضور انور نے فرمایا کہ’’سپین تو ایک کونے میں لگا ہوا ہے۔ اس کو تو خاموشی سے بیٹھے رہنا چاہئے۔ نہ اس کے پاس پیسے ہیں نہ طاقت، نہ کوئی اور چیز۔ ہاں یورپ کا حصہ ہے اس لئے مجبوری ہے۔ کوئی فوج ہے ان کی؟۔ یوروپین فوج میں شامل ہواتو چلے جائیں گے۔ نہیں تو ایک کونے میں لگے ہیں  بیٹھے رہیں آرام سے۔‘‘

واقفین نو سے توقعات

ایک لڑکے نے پوچھا کہ  آپ کی وقف نو بچوں سے کیا توقعات ہیں؟

حضور انور نے فرمایا کہ’’2016ءمیں  میں نے کینیڈا میں خطبہ دے کر تمہیں 31پوائنٹ بتا دیئے تھے۔  وہ سامنے رکھو ۔ وہی توقعات ہیں‘‘۔

پھر ایک لڑکے نے پوچھا کہ آپ کو سپین میں کونسی جگہ اچھی لگیں ہیں؟

حضور انور نے فرمایا کہ

’’سپین سارا ہی اچھا ہے۔ کھلی کھلی جگہ ہے۔ مسلمانوں نے یہ علاقے آباد کئے تھے۔ اور بُری چیز یہ لگی کہ مسلمان اسلام بھول گئے۔ دنیا داری میں پڑ گئے اور عیسائیوں نے قبضہ کر لیا۔ لیکن یہ ان کی شرافت ہے یہ جو پُرانی چیزیں Preserve کی ہوئی ہیں۔ اللہ کا نام ہر جگہ ٹائلوں پر، غرناطہ میں، الحمراء میں، قرطبہ میں اور جگہوں میں جہاں پر لکھا ہوا ہے  وہاں لکھا ہوا ہے۔  تو یہ اِ ن لوگوں کی اچھائی ہے۔ ویسے عمومی طور پر ملک بہت اچھا ہے۔ انگلستان میں رہنے والوں کو تو ویسے  ہی آکر اچھا لگتا ہے کھلی جگہ ہے وہاں تو بند بند جگہیں ہوتی ہیں ساری‘‘

صدقہ کہاں خرچ کیا جائے

اسی طرح ایک لڑکے نے پو چھا کہ جو صدقہ ہم روز اپنے گھروں میں اکٹھا کرتے ہیں اور پھر ہم جماعت میں رسید کٹواتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی کونسی جگہوں پر صدقہ استعمال کیا جاتا ہے، کن لوگوں کو دیا جا سکتا ہے؟

حضور انور نے فرمایا۔’’جو غریب ہے، جس کو آپ ذاتی طور پر جانتے ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ عیسائی ہو، مسلمان ہو، یہودی ہو، ہندو ہو، سکھ ہو۔ غریب ہے بھوکا مر رہا ہے تو وہ صدقہ کا حق دار ہے اس کو صدقہ دینا چاہئے۔ یا کسی کو دیکھ کر  اگر دل میں خیال آتا ہے کہ غریب کی مدد کی جائے تو دینا چاہئے۔‘‘اس پر اس لڑکے نے سوال کیا کہ کیا اس کو بتانا چاہئے کہ یہ صدقہ کے پیسے ہیں یا ویسے ہی اس کی مدد کر دینی چاہئے؟ حضور انور نے فرمایا کہ’’نیت پر depend کرتا ہے کہ کسی کو تم دیتے ہو تو تحفہ سمجھ کر دیتے ہو یا صدقہ کر کے دیتے ہو۔ اس کو بتاؤ یا نہ بتاؤ اگر آپ نیت کر کے دے رہے ہیں تو جو نیت آپ کی ہے وہی  وہ چیزبن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ تو ہر  چیز جانتا ہے۔  ہاں اگر کوئی کہے کہ میں سید زادہ ہوں صدقہ نہیں کھاتا تو کہو میں تحفہ میں دے رہا ہوں۔ بھوکے مر رہے ہو تم کھا لو۔ سیدوں پر حرام ہے اگر کوئی خالص سید ہو‘‘

کلاس واقفاتِ نو اور ایک لطیفہ

واقفین نو لڑکوں کی کلاس کے بعد فوراً واقفاتِ نو کی کلاس تھی۔ ایک واقفہ نو بچی نے ایک لطیفہ سنایا۔ اس نے کہا کہ ایک استاد تھا وہ بچوں کو پڑھا رہا تھا کہ ہمیشہ دائیں ہاتھ سے کھانا چاہئے۔ اگر بائیں ہاتھ سے کھائیں تو شیطان بھی ساتھ کھاتا ہے۔ اگلا مضمون سائنس کا تھا۔ اس میں ٹیچر نے کہا  کہ اگر زیادہ شوگر کھائیں تو شوگر ہو جاتی ہے۔ ایک بچہ تھا جو زیادہ غور سے سن رہا تھا۔ وہ گھر گیا اس کی ماں نے کسٹرڈ بنایا ہوا تھا، جسے اس نے بائیں ہاتھ سے کھانا شروع کیا۔  اس کے ابو نے پوچھا کہ بائیں ہاتھ سے کیوں کھا رہے ہو؟ بچہ نے کہا کیوں کہ آج ٹیچر نے کہا تھا کہ  زیادہ میٹھا کھانے سے شوگر ہو جاتی ہے تو شیطان کو شوگر ہو جائے گی۔

یہ لطیفہ سن کر حضور انور فرمانے لگے کہ’’چلو اچھا علاج کیا تم نے شیطا ن کا۔‘‘

اللہ سے پختہ تعلق

اس کے بعد ایک لڑکی نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ  ایک پختہ تعلق قائم کرنے کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں؟

حضور انور نے فرمایا کہ’’جو اللہ تعالیٰ نے باتیں بتائیں ہیں وہ کرو۔  اللہ تعالیٰ نے کہا ہے میری عبادت کرو، تمہاری پیدائش کا مقصد ہے میری عبادت کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے میرے رسولوں کی عزت کرو، احترام کرو۔ میرے کلام کو پڑھو۔ ہم مسلمانوں کے لئے قرآن کریم کا حکم ہے۔ ان پر عمل کرو۔ ایک دوسرے کے حق ادا کرو۔ ایک دوسرے کے حق نہ مارو۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں اپنے تو بعض گناہ معاف کر دوں گا سوائے شرک کے۔  لیکن جو بندوں کی تم غلطیاں کرتے ہو، گناہ کرتے ہو وہ معاف نہیں کروں گا۔ یہ چیزیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے جو حکم ہیں ان پر عمل کرو۔ تو اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔تم لجنہ میں رہنی والی ہو اور میں نے پرسوں بھی بتایا ہے جمعہ پر کہ کشتی نوح پڑھو۔ اس میں جو ہماری تعلیم کا حصہ ہے خاص طور پر وہ پڑھو۔  تو پتہ لگ جائے گا حضرت مسیح موعود ؑ اس زمانہ میں ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ نیکیوں سے ہی اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔‘‘

کیا سفر میں جوتے پہن کر نماز ہوسکتی ہے؟

پھر ایک لڑکی نے پوچھا کہ کیا  سفر میں جوتے پہن کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟

حضور انور نے فرمایا کہ’’ہو سکتی ہے۔ کس نے کہا نہیں ہو سکتی۔ جہاں سفر پر جا رہے ہو۔ کوئی جائے نماز نہیں کوئی جگہ نہیں ہے۔ گھاس پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنی ہے تو پڑھ لو۔ سوائے اس کے کہ جوتوں پر انتہائی گند لگا ہو۔ التّحیّات پر بیٹھو گی۔ دو سجدوں کے درمیان بیٹھو گی توجوتوں سے اپنے کپڑے گندے کرو گی تو یہ اور بات ہے۔ نہیں تو اگر کوئی جگہ نہیں ہے کھلے میں تم نماز پڑھ سکتے ہو۔  کوئی حرج نہیں ہے۔  جنازہ بھی تو نماز ہے نا۔  نمازجنازہ جوتے پہن کر ہی سب باہر کھلے میدان میں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔  ہاں اگر کپڑا بچھایا ہوا ہے، صف بچھائی ہوئی ہےاس کے اُوپر جوتے اتار کر کھڑے ہو جاؤ تاکہ وہ صفیں گندی نہ ہوں۔ جائے نماز گندی نہ ہو۔‘‘

نیز حضور انور نے فرمایا کہ

’’آنحضرت ﷺ تو پڑھ لیا کرتے تھے۔ تم نے دیکھا ہوگا حضرت خلیفۃ المسیح ثانیؓ جب یورپ آئے ہیں، گھاس پر پارک میں نماز پڑھ رہے ہیں وہ جوتوں سمیٹ ہی نماز پڑھ رہے ہیں۔  جوتے گندے تو ہوتے ہی ہیں اور جہاں پاؤں کھڑے کرو گے زمین پر تو پاؤں گندے ہو جائیں گیں۔۔۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ساری زمین میرے لئے مسجد بنائی گئی ہے۔ تو تم جوتے لے کر آتے ہو مسجد میں؟ ساری زمین مسجد بنا دی ہے جہاں مرضی نماز پڑھو تو پھر سڑکوں پر چلتے ہوئے جوتے بھی نہ پہنا کرو۔ اتار لیا کرو جوتے ساری زمین ہی مسجد ہے۔ مسجد ایک مخصوص جگہ ہے جہاں نماز کے لئے اکٹھے ہوتے ہو، صفیں بھچی ہو تی ہیں صاف جگہ ہے ٹھیک ہے۔ لیکن اگر کہیں مسجد نہیں ہے تو نماز کہیں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ ‘‘

  • ایک چھوٹی سی بچی نے پوچھا کہ حضور انور جب آپ کام کرتے ہیں تو تھک نہیں جاتے؟

حضور انور نے فرمایا۔

’’تم تھک جاتی ہو؟ انسان جب زیادہ کام  کرتا ہے تو تھک جاتا ہے۔ میں بھی تھک جاتا ہوں۔‘‘

  • پھر ایک اور چھوٹی سی بچی نے سوال کیا کہ حضور انور آپ Valencia میں زیادہ دیر کیوں نہیں رہے؟

حضور انور نے فرمایا کہ’’اس لئے کہ یہاں زیادہ کھلی جگہ ہے۔ یہاں زیادہ مزہ آتا ہے مجھے‘‘

  • پھر ایک لڑکی سوال کرنے لگی کہ جب آپ سپین آتے ہیں تو Personal طور پر آتے ہیں۔ ابھی سوال مکمل نہیں ہوا تھا کہ حضور انور نے فرمایا۔ ’’نہیں کون کہتا ہے Personal۔ ایک آدھ دفعہ آیا ہوں Personal طور پر۔ Personal دورے پر اس دفعہ آیا ہوں۔ اور Personal کونسا ہے؟ ملاقاتیں بھی تم سے ہو گئی ہیں، وقفِ نو کلاس بھی تم سے ہو گئی، جمعہ بھی پڑھا دیا، تمہاری ساری تنظیموں سے میٹنگ بھی ہوگئی۔ اور  کیا کرنا ہے۔ جتنے لوگ تھے ہر ایک سے تو مل لیا۔ تو Personal کیا ہوتا ہے؟‘‘مزید حضور انور نے فرمایا کہ  تمہارے لجنہ اور خدام کا  اجتماع ہوا  ہے پچھلے دنوں میں ، میں نے ان کو پہلے  بتا دیا تھا  اگر تم اجتماع آگے کر سکتے ہو تو کر لو میں آرہا ہوں۔ تم لوگوں نے نہیں کیا تم لوگوں کی غلطی ہے۔‘‘
  • پھر آخر میں ایک چھوٹی سی لڑکی نے پوچھا کہ آپ کو کونسا ملک سب سے اچھا لگاہے؟

حضور انور نے فرمایاکہ

’’سارے ملک اچھے ہیں۔ ہر جگہ اپنی اپنی خوبصورتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے۔اللہ تعالیٰ کا حسن ہر جگہ نظر آتا ہے۔ ‘‘

  • اس سوال کے بعد کلاس کا اختتام ہو گیا اور حضور انور اپنے دفتر تشریف لے گئے جہاں پر مکرم  قیصر ملک صاحب اپنے چھوٹے بیٹے کو پکڑے ہوئے کھڑے تھے۔حضور انور نے فرمایا کہ ’’اس کو  Asthma ہے؟‘‘

قیصر صاحب نے کہا ’’جی‘‘

حضور انور نے فرمایا کہ’’اس کو Hayfever کی دوائی دو۔‘‘

ایمان افروز واقعات

  • ایک محفل میں مکرم عمیر علیم صاحب نے بعض ایمان افروز واقعات سناتے ہوئے بتایا کہ ہم نے فجی کے ہی ایک جزیرے پر جانا تھا۔  جہاز کافی چھوٹا تھا۔ ہر ایک کاوزن کیاجا رہا تھا اور اس کے مطابق اس کو جہاز میں سیٹ ملی تاکہ جہاز میں توازن  قائم رہے۔ واپسی کے سفر میں ایک تیز طوفان جاری تھا۔ جب بھی بجلی گرتی تو جہاز بھی ساتھ کچھ نیچے کو گرجاتا ۔ سب صرف دعاؤں میں مصروف تھے۔ میری پچھلی سیٹ پر حضور انور اور بیگم صاحبہ تشریف فرما تھے۔ ہم سب سخت گھبرائے ہوئے تھے۔ میں نے  پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضور ِ انور اپنے کیمرے سے ویڈیو بنا رہے تھے۔ تب مجھے  تسلی ہوئی اور میں نے منیر کو کہا کچھ نہیں ہوگا۔ الحمدللہ ہم خیریت سے واپس پہنچ گئے۔
  • ایک اور واقعہ جو انہوں نے سنایا وہ  بھی فجی کاہی تھا۔ وہ کہتے ہیں ہم سوئے ہوئے تھے کہ رات کو ہی ربوہ سے فون آنے شروع ہوگئے اور ہم سے پوچھا جا رہا تھا  کہ سب خیریت ہے کیونکہ ٹی وی پر خبریں نشر ہو رہی ہیں کہ  فجی کی طرف ایک بہت طاقتور سونامی آرہا ہے۔ سب بہت گھبرائے ہوئے تھے۔ اسی دوران فجر کا وقت ہوگیا اور حضور انور فجر کی نماز پڑھانے کے لئے تشریف لائے۔حضور انور کو  سارے حالات کی اطلاع دی گئی۔ حضور انور نے فجر کی نماز پڑھانا شروع فرما دی اور اتنے لمبے سجدے کئے کہ پہلے کبھی ایسا نہ دیکھا تھا۔ جب نماز ختم ہوئی تو حضور انور نے فرمایا کہ جاؤ اپنے اپنے کمرے میں جا کر سو جاؤ۔ ہم بہت حیران ہوئے۔ ہم نے جب جا کر ٹی وی آن کیا تو معلوم ہوا کہ سونامی نے اپنا رخ بدل لیا تھااور کچھ وقت بعد ختم ہوگیا۔
  • ماریشس میں حضور انور نے باہر تشریف لے جانا تھا۔ قافلہ بالکل تیار کھڑا تھا۔ لیکن باہر جانے کا راستہ مین گیٹ ریموٹ کے ذریعہ کھلتا تھا۔ لیکن اب کھل نہیں رہا تھا۔ بہت دفعہ کوشش کی سب اپنی کوششوں میں ناکام رہے۔ حضور انور بھی گاڑی سے باہر تشریف لے آئے۔ حضور انور نے فرمایا کہ لاؤ مجھے ریموٹ دو۔ چنانچہ حضور انور کو ریموٹ دیا گیا اور جیسے ہی حضور انور نے بٹن کو دبایا گیٹ کھل گیا۔ سبحان اللہ 

مورخہ16۔اپریل کو حضور انور 13:40 پر دفتر تشریف لائے۔ آج کے دن صبح کو ہی کافی دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ آج شام کو حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز دفتر تشریف لائے۔ اس کے بعد حضور انور سیر پر تشریف لے گئے۔ سپین کے صوبہ قرطبہ میں واقع Adamuz، Algallarín  اور Montoro کے قصبہ جات کی سیر کی۔

مکرم کرم الہٰی ظفر صاحب

نمازوں کے بعد میں مکرم فضل الدین قمر صاحب سے ملا۔ باتوں باتوں میں ان کے والد محترم کرم الٰہی ظفر صاحب کے بارہ میں بات شروع ہو گئی۔ وہ سپین کے پہلے مربی تھے اور انہوں نے بہت سی قربانیاں دے کر دینی خدمات سر انجام دیں۔ ایک ایسے زمانہ میں جبکہ حکومت کی طرف سے تبلیغ کرنا منع تھی اور جماعت کے مالی حالات بھی کافی تنگ تھے۔ تب بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور پورے جوش سے کام کرتے گئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے ان کو کہلا بھیجا تھا کہ آپ اب واپس آجائیں کیونکہ مالی حالات میں تنگی ہے۔ اس پرمکرم  کرم الہٰی ظفر صاحب نے وہاں رہنے کی اجازت مانگی تھی اور کہا تھا کہ میں خود ہی کوئی ذریعہ معاش تلاش کر نے کی کوشش کروں گا۔ تب مربی صاحب نےعطر بنانا شروع کئے اور Madrid کی سڑکوں میں ایک چھوٹی سی ریڑھی پر انہیں بیچنا شروع کر دیا۔ چنانچہ جو بھی گاہک آتا اس کو تبلیغ ضرور کرتے۔ عطر سے جو کمائی ہوتی تھی اس رقم سے اپنا گزارا بھی کرتے اور مشن کے کام بھی چلاتے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطبہ میں مکرم  کرم الہٰی ظفر صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ

’’عطر کے ساتھ انہوں نے ایک چھوٹا سا سپرے پمپ رکھا ہوا تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ دیکھو! اس طرح تبلیغ کرتا ہوں۔ پمپ سے سپرے کرتے تھے اور کچھ لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے شوق اور تعجب میں۔ مشرقی قسم کی خوشبو سے ویسے بھی ایک خاص دلچسپی پیدا ہو جاتی تھی۔ اور سپرے کرتے ہوئے اس وقت جو ہم نے نظارہ دیکھا وہ یہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ دیکھو!یہ کتنی اچھی خوشبو ہے۔ لیکن یہ خوشبو تو زیادہ دیر تمہارے ساتھ نہیں رہے گی۔ یہ تو کپڑوں میں رچ بس کے بھی آخر دھل کر ضائع ہو جائے گی۔ ایک دو دن، چار دن کی بات ہے۔ میرے پاس ایک اور عطر بھی ہے۔ ایک ایسا عطر جس کی خوشبو لا فانی ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوگی۔ اِس دنیا میں بھی تمہارا ساتھ دے گی اور اُس دنیا میں بھی تمہارا ساتھ دے گی۔ اگر چاہتے ہو کہ اس خوشبو سے متعلق مجھ سے کچھ معلومات حاصل کروتو یہ میرا کارڈ ہے۔ جب چاہو آؤ۔ مجھے ملو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ وہ خوشبو کیا ہے اور کیسے حاصل کی جاتی ہے؟ بہت سے لوگ وہ کارڈ لیتے تھے۔ کچھ عطر خرید کر الگ ہو جاتے تھے۔ اس طرح تبلیغ کے رستے نکلتے تھے۔‘‘                            

   ( خطبہ جمعہ فرمودہ 10ستمبر1982ء)

آج بھی جماعت احمدیہ سپین مکرم مولوی صاحب کی قربانیوں کے پھل کھا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان قربانیوں کی قدر کرنے، انہیں سنبھالنے اور ان میں ترقی کرتے چلے جانے کی توفیق دے۔ آمّین۔

حضور انور کے مبارک قدم پیدرو آباد کی گلیوں میں

مورخہ17۔اپریل کو حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز تقریباً 13:20 پر دفتر تشریف لائے۔ حضور انور  نےمسجد کے پچھلے کونے کی طرف جہاں پر نئے گیسٹ ہاؤسز اور گھر بن رہے ہیں کے معائنہ کے لئے تشریف لے گئے۔ راستہslippery تھا اور ساتھ ڈھلوان بھی تھی۔ حضور انور آہستہ آہستہ نیچے اتر گئے۔ حضور انور سب سے پہلے اوپر والے حصہ میں تشریف لے گئے۔ برادرم فائز ساتھ ساتھ حضور انور کو ساری construction کی تفصیل بتاتے گئے اور حضور انور ان سے مختلف سوالات پوچھتے گئے۔ یہ نئے گھر جو بن رہے ہیں نہایت خوبصورت بن رہے ہیں۔ وسیع کمرے  ہیں اور باہر بڑا صحن ہے۔ اگر ایسے گھر لندن میں بنائے جائیں تو ان کی قیمت بہت زیادہ ہو گی۔  اوپر والا حصہ دیکھ کر حضور انور سیڑھیوں سے نیچے والے حصہ میں تشریف لے آئے۔ ادھر دو گھر بن رہے تھے۔ یہ دونوں  گھر دیکھنے کے بعد حضور انور گھروں کی اگلی طرف سے باہر تشریف لے آئے۔ آج پیدرو آباد کی گلیوں میں اپنے بابرکت قدم رکھے۔ حضور انور ایک سڑک پر چلتے گئے یہاں مکرم مولانا قیصر ملک  صاحب کے گھر تشریف  لے گئے اور چند لمحات وہاں گزارے۔ حضور انور نے تقریباً 40 منٹ کی سیر کی اور اس کے بعد پھر اپنے دفتر تشریف لے آئے۔

آج پھر حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز گاڑی پر سیر کے لئے تشریف لے گئے۔ Morente اور Bujalance کے شہر دیکھے اس کھلی اراضی میں دونوں طرف زیتون کے درخت نظر آئے۔ یہ شہر دیکھ کر قافلہ نے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔ الحمد للہ قافلہ اپنے وقت پر واپس پہنچ گیا اور پھر حضور انورنے مغرب و عشاء کی نمازیں پڑھائیں۔ ایک دلچسپ بات جو میں نے آج اور کل کی سیر میں نوٹ کی وہ ان مواضع اور شہروں کے باشندے تھے۔ قافلہ جب ان کے پاس سے گزرتا تو وہ رک کر دیکھنا شروع ہو جاتے اور خوش ہوتے۔

 مورخہ 18۔اپریل کو حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز تقریباً 12:20 پر دفتر تشریف لائے۔ سب سے پہلے آپ نے اخویم قاصد ورائچ اور برادرم مصور احمد کے ساتھ ملاقات کی۔ بعد میں مصور سے بات ہوئی تو انہوں نے اپنی ملاقات کے بارہ میں بتایا کہ ایک بات سب مربیان کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ اگر کوئی  مسئلہ پیش آتا ہے توحضور انور کی خدمت میں پیش کر دینا کافی ہے۔ یہ نہ ہو کہ خود لڑائی کرنے لگ جاؤ۔ اگر خلیفہ وقت نے کوئی کارروائی کرنی ہو تو کروا دیں گے۔ نہیں تو آپ کاکام محض اطلاع کر دینا ہے۔

ملاقات مکرم امیر صاحب سپین و مربیان کرام

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مربیان اور مکرم امیر صاحب سپین کو بلا کر میٹنگ کی۔ حضور انور نے ان کو ہدایت فرمائی کہ مشنری انچارچ ہر مہینہ مربیان کے ساتھ میٹنگ کریں۔ کیونکہ مربیان مختلف شہروں میں مقیم ہیں اس لئے کبھی کسی شہر میں ہوسکتی ہے اور کبھی کسی شہر میں۔ مربیان اکٹھے ہوں گے تو جماعت کے افراد بھی مل لیں گے اور اس سے فائدہ بھی ہو جاتا ہے۔ اور میٹنگ کے بعد رپورٹ بھیجنے کو بھی فرمایا کہ ایک رپورٹ تبشیر کو  جائے اور ایک امیر جماعت کو۔ بعد میں پھر امیر جماعت بھی وہ رپورٹ دستخط کر کےاور اگر کوئی تبصرہ کرنا ہو وہ کر کے تبشیر بھجوا دے گا۔ حضور انور نے سمجھایا کہ یہی نظام ہے جماعت کا جو ڈبل چیک ہوتا ہے۔ اسی طرح مربیان کی انفرادی رپورٹ کی بھی یہی کارروائی ہے۔

مربیان و امراء میں باہمی تعاون

حضور انور نے فرمایا کہ’’انتظامی کام سنبھالنا امیر جماعت کا کام ہے باقی جماعت کی تربیت کاکام اور تبلیغ کا کام  وہ مربیان کا ہے۔اس میں آپ نے جماعت کی مدد بھی کرنی ہے۔ دونوں اگر اکٹھے ہو کر چلیں گیں تو smooth چلتا رہے گا کام۔ ‘‘

حضور انور نے مکرم عبد المالک  خان صاحب مرحوم کا واقعہ بیان فرمایاکہ

’’وہ کہتے ہیں کہ میں کراچی ضلع کا مربی تھا۔ اس وقت چوہدری  عبد اللہ خان صاحب  جو کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے  بھائی تھے امیر جماعت کراچی تھے۔ خلیفۃ المسیح الثانی نے میٹنگ کی تو کہنے لگے  مجھے سمجھ نہیں آتی عبد اللہ خان  اور  عبد المالک خان  جس طرح اکٹھے  ہو کر کام کر لیتے ہیں تعاون سے باقی امراء کیوں نہیں کر سکتے، ۔۔۔ شکایتیں کرتے رہتے ہیں ایک دوسرے کی؟ اس لئے امیر جماعت اور مشنری کا کام ہے کہ آپس میںCoordinate کر کے کام کریں۔ تب ہی کام ٹھیک ہوں گے۔‘‘

حضور انور کو بتایا گیا کہ یہ قانون بنایا گیا ہے کہ رات کو عشاءکی نمازکےبعد کوئی مسجد نہیں آسکتا۔ اس پر ایک مثال دی گئی کہ اگر کوئی نئے سال کو اپنا کاروبار بند کر کے مسجد آکر ٹھہرنا چاہتا ہے تاکہ آرام سے نمازِ تہجد میں حصہ لے سکے تو کیا اس کو اجازت ہے؟ حضور انور نے فرمایاکہ’’بالکل اجازت ہے۔ آپ کے AimsCard کے اوپر اسکی رجسٹریشن ہے، وہ احمدی ہے، آپ کی تجنید میں شامل ہے اور وہ یہاں آکر رہنا چاہتا ہے کہ صبح تہجد میں شامل ہو جائےتو اس سے بڑی اچھی کیا بات ہے۔ نیکی  کے لئے آرہا ہے۔ آپ نیکی کے راستے تو نہیں بند کر سکتے۔ سوائے مشرک کے مسجد میں آنے سے کسی کو نہیں روکا گیا۔ اور ہم نے سہولت پیدا کرنی ہے۔ یہی ارشاد ہے ہمیں بھی کہ تم لوگوں کے لئے سہولتیں پیدا کرو، ان کے لئے تنگیاں پیدا نہ کرو۔

مزید حضور انور نے فرمایا کہ’’ایک بات یاد رکھنا کسی کو جماعت میں شامل کرنا، اسکو جماعت میں لانا ، اسکی بیعت کروانا بہت مشکل کام ہے۔ اور کسی اچھے بھلےاحمدی کو جماعت سے دوڑانا بہت آسان کام ہے۔ اس لئے تم دوڑانے والے نہ بنو ، سہولت پیدا کرنےوالے بنو، تنگیاں پیدا کرنے والا نہ بنو۔‘‘

میٹنگ دربارہ تبلیغی اُمور

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مکرم قمر الہٰی ظفر صاحب، نیز امیر صاحب جماعت سپین اور مکرمہ صدر صاحبہ لجنہ سپین کے ساتھ تبلیغ کے حوالہ سے ایک میٹنگ کی۔ حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ جو ذیلی تنظیمیں  ہیں انہوں نے  مجھے رپورٹ کرنی ہیں۔ حضور انور نے فرمایا کہ

’’حضرت مصلح موعود ؓ نے جب تنظیم بنائی تھی میں نے بتایا تھا چار پہیے بنائے تھے۔ four wheels۔جماعت، انصار، خدام ، لجنہ۔ا نہوں نے کہا تھا اگر ایک کم سے کم slow ہو جائے گی orgnisation تو دوسری چلتی رہے گی کچھ نہ کچھ آگے گھومتا رہے گا۔ اس سے دو طرح کے concept ابھرتے ہیں۔ ایک یہ کہ چار پہیے میں ایک پنکچر ہو گیا تو گاڑی وہی گھومتی رہے گی۔  ایک یہ ہے کہ ہر ایک علیحدہ علیحدہ Cart ہے۔ جو ایک ہی مقصد کے لئے آگے چل رہا ہے۔ اگر ایک فیل ہوگیا تو دوسرا چل رہا ہے تیسرا چل رہا ہے چوتھا چل رہا ہے۔ دو فیل ہوگئے تو پہلا دوسرا چل رہا ہے۔ ‘‘حضور انور نے یہ بات سمجھائی کہ پلاننگ اکٹھے بیٹھ کر کرنی ہےاور  ایک پلان بنا لینا ہے۔ نیز اسکا ایک کیلنڈر بھی بنا لینا ہے اور  ذیلی تنظیموں کو دے دینا ہے تاکہ وہ اس کلینڈر کے حساب سے اپنے پروگرم اور دنوں میں رکھ لیں۔‘‘

مورخہ 19۔اپریل بروز جمعرات حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز خطبہ تیار کرنے میں مصروف رہے۔

مورخہ 20۔اپریل حضور انور بھی جمعہ پڑھانے کے لئے تشریف لے آئے۔ اس دفعہ ایم ٹی اے والوں کا سیٹ اپ الحمدللہ ٹھیک ہو گیا تھا  اور خطبہ اپنے وقت پر شروع ہو گیا۔

خطبہ جمعہ

آج کے خطبہ میں حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے آیت وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔(حٰم السجدۃ: 34)

کی تلاوت  فرمائی۔حضور انور نے مومن کی تین خصوصیات دعوت الی اللہ کرنا، عمل صالح کرنا اور اطاعت و فرمانبرداری کا نمونہ دکھانا کا ذکر فرمایا۔

نماز جمعہ اور کھانے کے فوراً بعد میں نے سامان لیااور لندن واپسی کے لئے روانہ ہوگیا۔ موٹر وے پر چڑھتے ہی پیدرو آباد کی طرف آخری دفعہ دیکھا اور پھر وہ پیچھے ہی رہ گیا۔ اور اس کے ساتھ ہی میرا سپین کا سفر ختم ہوگیا اور ایسے لگا جیسے ایک خواب تھا جس سے آنکھیں کھل گئیں۔

image_printپرنٹ کریں