skip to Main Content
مہمان نوازی کے متعلق کارکنان کو نصائح

پس ہر کارکن کو اس سوچ کے ساتھ ہر مہمان کا خیال رکھنا چاہئے کہ اُس کی مہمان نوازی کا حق ادا ہو، اُس کی ضرورت کا خیال رکھا جائے، اس کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا جائے، اپنی تکلیفوں کی کچھ پرواہ نہ کی جائے، کیونکہ حق ادا کرنے کے لئے تکلیفیں تو بہرحال برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ایک دفعہ لنگر کے انچارج کو بلا کر کہا تھاکہ‘‘ دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو’’، سب مہمان تمہاری نظر میں ایک ہونے چاہئیں۔ ہر ایک کی اس طرح خدمت کرو، مہمان نوازی کرو، ‘‘سردی کا موسم ہے تو چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو’’۔ فرمایا کہ‘‘ تم پر میرا حسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو’’، جماعت اتنی پھیل گئی ہے کہ جو عہدیداران اور کارکنان ہیں ان پر ہی حسن ظن ہے کہ وہ نیک نیتی سے اپنے سارے کام بجا لانے والے ہوں۔ ‘‘ان سب کی خوب خدمت کرو، اور اگر کسی کے گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلے کا انتظام کر دو’’۔

(ملفوظات جلد سوم صفحہ492۔ جدید ایڈیشن)
(خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍ جولائی 2007ء)

image_printپرنٹ کریں