skip to Main Content

   حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی فرماتے ہیں۔’’ایک دفعہ خاکسار اور مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کو قادیان دار الامان میں اکٹھا رہنے کا موقع ملا۔ ایک دن دوران گفتگو میں نے عرض کیا کہ آپ سیدنا حضرت مسیح موعود ؑ  کا کوئی خاص واقعہ بتائیں۔ حضرت مولوی صاحب نے حضرت اقدس کی خاص برکات کا ایک واقعہ سنایا۔ آپ نے بیان کیا کہ میں ایک عرصہ تک مالی مشکلات میں مبتلا رہا اور کئی ہزار روپے کا مقروض ہو گیا۔ میں نے مالی مشکلات سے گھبرا کر بے چینی کی حالت میں حضرت اقدس علیہ السلام کے حضور نہایت عاجزی سے اپنی مالی مشکلات کے ازالہ کیلئے درخواست دعا کی۔ اس پر حضور اقدس نے فرمایا میاں عبد اللہ ہم بھی انشاءاللہ آپکے لئے دعا کریں گے لیکن آپ اس طرح کریں کہ فرضوں کی نماز کے بعد گیارہ دفعہ لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم کا وظیفہ جاری رکھیں۔

چنانچہ حضور اقدس کے ارشاد کے مطابق میں نے کچھ عرصہ اس وظیفہ کو جاری رکھا اور خود حضور نے بھی دعا فرمائی خداکے فضل سے تھوڑے ہی عرصہ میں میرا سب قرض اتر گیا اس کے بعد جب کبھی بھی مجھے مالی پریشانی ہوتی ہے تو میں یہی وظیفہ کرتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے لئے کشائش کے سامان پیدا فرما دیتا ۔ یہ وظیفہ میں نے بار بار پڑھا ہے۔ اور اس سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔

حضرت مولوی صاحب کی یہ بات سن کر میں نے عرض کیا کہ سیدنا حضرت اقدس علیہ السلام تو اب وصال فرما چکے ہیں  اگر حضور اس دنیا میں ہوتے تو آپ کی طرح حضور سے اس وظیفہ کی اجازت لے کر اس سے فائدہ اٹھاتے۔کیا اب یہ ممکن ہے کہ ہم بھی اس وظیفہ سے کسی صورت میں آپ سے اجازت حاصل کر کے فائدہ اٹھا سکیں۔اس پر حضرت مولوی صاحب نے تبسم فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اب تک اور کسی شخص کو اس کی  اجازت نہیں دی تھی۔ لیکن آپ کی خواہش پر آپ کو اس کی اجازت دیتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے اس بابرکت وظیفہ کی مجھے اجازت فرمائی ۔ خاکسار بھی اب اپنی زندگی کے آخری ایام میں ہے۔لہذا میں ہر اس احمدی کو جو میری اس  تحریر سے آگاہ ہوسکے اور اس وظیفہ سے فائدہ اٹھانا چاہئے اپنی طرف سے اس وظیفہ کی اجازت دیتا ہوں۔

(حیات قدسی حصہ سوم:ص80-81)

image_printپرنٹ کریں