skip to Main Content
اداریہ:Love – Where – You – Live

گزشتہ دنوں  جلسہ سالانہ برطانیہ میں شمولیت کے لئے ہم اپنی کار میں  جلسہ گاہ کی طرف بڑھ رہے تھے  کہ ہمیں میکڈونلڈ میں جانے کا اتفاق ہوا۔اس کے باہر جو Binپڑے تھے ان پر لکھا تھا Love where you liveاسے پڑھ کر ایک مضمون ذہن میں ابھرنے لگا ۔اس کے لغوی معنی تو یہ ہیں کہ اس جگہ سے پیار کرو جس جگہ آپ کا رہن سہن ہے “مگر یہ الفاظ جو سبق ہمیں دے رہے ہیں  وہ بہت بڑا اور عظیم ہے  اور اسلام کی ایک ایسی تعلیم کی یاددہانی کروا رہے ہیں جو اسلامی تعلیمات میں ایک بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ ہے نظافت اور صفائی  بالخصوص surrounding area کی صفائی وغیرہ۔

ابھی اس حوالہ سے میری سوچ کا آغاز ہی ہوا تھا  تو پہلا سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر ہر Binپر یہ لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ۔فوراً ذہن اس طرف گیا کہ یورپ میں ایشیئن  اور افریقن لوگوں کی  آمد کی وجہ سے  یورپ بالخصوص برطانیہ میں صفائی کا وہ معیار نہیں رہا جو آج سے 30 سال قبل برطانیہ کاتھا۔جب خاکسار کو پہلی بار 1990ءمیں لندن وزٹ کرنے اور برطانیہ کی سیروسیاحت کرنے کا موقع ملا تو میں نے دیکھا کہ برطانیہ  کے شہری میلوں میل ہاتھ میں Wastageکا شاپر اٹھائے چلے جاتے ہیں اور جب Binآتا  ہے تو اس میں پھینک دیتے ہیں ۔اگر کسی نے کیلا کھایا ہے یا سیب  کیونکہ یورپ میں راستے پر چلتے چلتے کھانے کا بہت رواج ہے اور یہ لوگ چلتے بھی بہت ہیں ۔تو کیلے کے چھلکے  یا سیب کی ڈنڈی  کو ہاتھ میں پکڑے چلے جاتے  تھے  اور  Binدیکھ کر  اس کو پھینکتے تھے ۔ان  wastage کو راستہ میں نہیں  پھینکتے تھے۔حتیٰ کہ چیونگم کھا کر پھینکنے کے لئے پبلک  پلیسز (Public places) پر لوہے، سٹیل یا پتھر کے ستون زمین پر نصب تھے جن پر  کھائی ہوئی چیونگم کے انبار نظر آتے تھے  اور انتظامیہ 15۔20دن بعد ان ستونوں کو صاف کرتی تھی ۔یورپ میں کتے پالنے کا  بہت رواج ہے ۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب  وہ اپنے اپنے پالتو کتوں کو باہر لاتے ہیں تو ہاتھ میں ان کے  شاپر ہوتا ہے ۔جس سے وہ کتے کی پاٹی اٹھا کر متعلقہ Binمیں پھینکتے تھےجن پر لکھا ہوتا ہےdog wastage only اور اب یہ کیفیت ہے کہ انتظامیہ کی روز کی  Baseپر صفائی کے باوجود پارکوں،Public placesاور سڑکوں پر گند پڑا نظر آتا ہے ۔کاغذ اور لفافے اڑتے پھرتے نظر آتے ہیں۔لوگ کچھ کھا پی کر یا ٹن یا بوتل سے مشروب پی کر بینچ کے ایک طرف رکھ کر چلے جاتے ہیں بلکہ کل تو میں نے اپنے سے اگلی گاڑی سے مستعمل ٹشو نیچے سڑک پر پھینکتے دیکھا۔

ویسے بھی دنیا میں صفائی ستھرائی کے حوالہ  سے مختلف ایجنسیوں اور اداروں کی طرف سے جو جائزہ لیا گیا  اس کے مطابق مسلمانوں کے علاقے بہت گندے پائے گئے  ہیں ۔برطانیہ میں بھی ایسے علاقے جن میں مسلمان بودوباش رکھتے ہیں  دوسرے علاقوں سے گندے ہیں  جبکہ سب سے زیادہ صفائی پر زور دوسرے مذاہب کی نسبت  اسلام نے دیا ہے  اور خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ میں مطہر کو پسند کرتا ہوں ۔اور دنیا میں سب سے زیادہ مطہرسیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ  تعالیٰ نے وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّر(المدثر:4)کے الفاظ میں اپنے کپڑے صاف ستھرے رکھنے کی ہدایت فرمائی ۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا ترجمہ یہ فرمایا  کہ اپنے پاس رہنے والے لوگوں کو پاک کر  اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے سورہ المدثر کی آیت 4 کے ساتھ 5 کو ملاکر ترجمہ یوں فرمایا ہے “جہاں تک تیرے کپڑوں (قریبی ساتھیوں )کا تعلق ہے تو انہیں بہت پاک کر اور جہاں تک ناپاکی کا تعلق ہے  تو اس سے کلیتاًالگ رہ”

آنحضور ﷺ نے بھی صفائی پر نہ صرف بہت زور دیا  بلکہ فرمادیاالطہور شطر الایمان

پھر فرمایا النظافۃ من الایمان بلکہ ایک حدیث میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا  ہے ۔آپ نے ایسے شخص کے لئے بڑی وعید فرمائی ہے جو سڑک پر پاخانہ پھیرتا ہے.

(صحیح مسلم کتاب الطہارۃ )

اسی طرح  فرمایا کہ اگر کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب کردیتا ہے تو وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ۔(جامع ترمذی ابواب الطہارۃ)ایک دفعہ کسی نے مسجد میں تھوک دیا ۔آپ نے اس سے صاف کروایا بلکہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے منع فرمایا کیونکہ اس طرح گندگی کے چھینٹے  جسم پر پڑتے ہیں ۔

اسی طرح حدیث کے الفاظ اِنَّ اللّٰہَ جَمِیل یُحِبُّ الجِمَالَ سے مراد بھی زیبائش ہے ۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  کہ اللہ تعالیٰ کا وجود بڑا دیدہ زیب ہے  اور وہ زیبائش کو ہی پسند کرتا ہے ۔سوتم اپنے اندر زیبائش پیدا کرو۔اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا  اور تمہاری مدد کرے گا ۔

(الفضل 14دسمبر1955ء)

گویا ماحول اور جسم کو صاف ستھرا  رکھنے کی بہت تلقین ملتی ہے ۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یورپ کے دورہ سے واپسی پرمورخہ 2دسمبر1955ءکو ربوہ میں ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا تھا ۔جس میں حضور نے واضح الفاظ میں فرمایا  کہ میں یورپ میں صفائی سے بہت متاثر ہواہوں ۔انہی لائنوں اور خطوط پر ہمیں  پاکستان بالخصوص ربوہ میں صفائی کرنی چاہئے۔کیونکہ گندگی سے بیماری پھیلتی ہے اور انسان بیمار ہوجائے تو کام میں بھی فرق پڑتا ہے ۔

حضور فرماتے ہیں ۔

پس تم شہر کو خوبصورت بناؤ تا تمہارے دل بھی خوبصورت ہوجائیں ۔دیکھو رسول کریم ﷺ کو اس کا کس قدر خیال تھا ۔آپ نے فرمایا لوگو! نماز میں تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو۔اگر تم صفیں سیدھی نہیں کرو گے تو تمہارے دل ٹیڑھے ہوجائیں گے۔اب صفیں سیدھی رکھنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ دور سے دیکھنے والے کو صفیں خوبصورت معلوم ہوں۔

(خطبات محمود جلد36صفحہ266)

اس خطبہ میں حضور نے یورپ کی مثال گلدستہ سے دے کر  فرمایا  کہ سارا شہر ایک گلدستہ کی طرح نظر آتا ہے ۔اور حضور نے گھروں میں خربوزے،ککڑی اور دوسری چیزیں اگانے کی  طرف توجہ دلائی ۔اس طرف تو ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بھی بارہا توجہ دلاچکے ہیں اور فرمایا کہ گھروں میں Organic vegetablesاگائیں۔جس سے صفائی بھی رہے گی اور صحت بھی ٹھیک ہو گی ۔

اس سے تو انکار نہیں کہ باطنی صفائی اندرونی صفائی پر اثر انداز ہوتی ہے  اور سیدنا حضرت مسیح موعود ؑ نے تو اپنی معرکہ آراء کتاب “اسلامی اصول کی فلاسفی”میں اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے۔

ہمارے  موجودہ امام حضرت مرزا  مسرور احمد نے خلافت پر متمکن ہونے کے بعد 23اپریل2004ءکو ظاہری اور باطنی صفائی  پر خطبہ ارشاد فرمایا تھا ۔جس میں حضور نے فرمایا کہ ہر احمدی کا فرض بنتا ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنے کے بعد ظاہری وباطنی صفائی کی طرف توجہ دے اور جماعتی عمارات اور مساجد کے ماحول کو صاف رکھنے کا باقاعدہ انتظام ہو۔پھولوں اور سبزے سے خوبصورت بنایا جائے اس کے لئے خدام الاحمدیہ اور لجنہ وقار عمل کرے ۔

(خطبات مسرور جلد 2صفحہ 259)

یہ خطبہ بار بار پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔میں نے گلدستہ کی انتظامیہ کو اس  کی دوبارہ اشاعت کی ہدایت کردی ہے ۔حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ

وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ۔وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ(المدثر:6۔5)اپنے کپڑے صاف رکھو،بدن کو،گھر کو اور کوچہ کو اور ہر ایک جگہ کو جہاں تمہاری نشست ہو پلیدی ،میل کچیل  اور کثافت سے بچاؤ یعنی غسل کرتے رہو اور گھروں کو صاف رکھنے کی عادت پکڑو۔

(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 32)

مسلمان پبلک پلیسز پر گندگی کا بہت نقصان اٹھا چکے ہیں ۔تاریخ میں لکھا ہے کہ عراق کے شہر بغداد کی ایک مسجد کے سامنے ایک گدھا مرا ہوا پڑا تھا ۔جس کی بدبو کے بھبھکے دور دور تک جارہے تھے ۔ہر نمازی ناک پر ہاتھ یا کپڑا رکھ کر گزر جاتا  مگر کسی کو اس گدھے کا وہاں سے ہٹانے کی زحمت نہ ہوئی  اور نہ سوچ پیدا ہوئی ۔انہی دنوں مخالف دشمن جنگ کے ارادہ کے لئے افواج کے ساتھ عراق کے بارڈر پر کھڑا تھا ۔بادشاہ نے اپنے کارندے/ایمبیسیڈرز بغداد میں جائزہ لینے کے لئے بھجوارکھے تھے ۔ان میں نے ایک نے یہ اطلاع دی کہ بغداد  کی بڑی جامع مسجد کے ساتھ گدھا مرا پڑا ہے جس کی بدبو دور دور تک جارہی ہے  مگر کسی نمازی کو اسے اس جگہ سے ہٹانے کی توفیق نہیں مل رہی ۔یہ خبر سن کر بادشاہ نے یہ کہتے ہوئے حملہ کا فیصلہ کرلیا کہ اگر پبلک پلیس پر گدھا مرا پڑا ہے اور قوم کو اٹھانے کی توفیق نہیں تو گویا یہ قوم سورہی ہے اس پر حملہ کر کے فتح حاصل کی جاسکتی ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مخالف بادشاہ نے  حملہ کر کے  قوم عراق کو مفتوح بنادیا۔

image_printپرنٹ کریں