skip to Main Content
عرفان احمد خان فرینکفرٹ: لجنہ ماء اللہ جرمنی کے زیر اہتمام تیسرے سالانہ  امن سمپوزیم کا انعقاد۔سماجی و سیاسی شخصیات کی شرکت

احمدی خواتین کی تنظیم لجنہ ا ماء اللہ جرمنی نے 2017ء سے سالانہ امن سمپوزیم کے انعقاد کا سلسلہ فرینکفرٹ سے شروع کیا تھا ۔ گزشتہ سال امن سمپوزیم برلن میں منعقد ہوا تھا ۔ امسال اس سمپوزیم کو دوبارہ فرینکفرٹ میں 18 ستمبر بروز بدھ شام 6 بجے سے 8 بجے تک بیت السبوح میں منعقد کیا گیا۔ جس میں شرکت کے لئے خصوصی دیدہ زیب دعوت نامے ارسال کئے گئے تھے ۔ چار صفحات پر مشتمل دعوت نامے میں معاشرہ میں عورت کی اہمیت کے حوالے سے مختصر مندرجات شامل کئے گئے تھے ۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ کسی قوم کی ترقی میں عورت بنیادی کردار ادا کرتی ہے بھی دعوت نامے کا حصہ تھا ۔ علاوہ ازیں سمپوزیم کی اہمیت واضح کرنے کے لئے گزشتہ سال برلن میں جن معزز سماجی و سیاسی حامل کی خواتین نے شرکت کی تھی ان کے اسماء بھی درج تھے ۔معزز مہمانوں کی سہولت کے پیش نظر بیت السبوح آنے کے راستہ کو بھی واضح کردیا گیا تھا ۔
چنانچہ 18 ستمبر کو لجنہ ا ماء اللہ شعبہ تبلیغ کے انٹر ریلیجن ڈاہیلاگ کی کارکنات نے سمپوزیم میں آنے والی مہمانات کو خوش آمدید کہا اور ان کی سمپوزیم کے مقام تک راہنمائی کی ۔ تقریب کی صدارت جرمنی کی نیشنل اسمبلی کی ممبر Christine Buchholz نے کی ۔
آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرمہ عروسہ احمد نے کی ۔ تقریب کے آغاز میں مکرمہ زوباریہ احمد سیکرٹری تبلیغ نے جماعت احمدیہ اور لجنہ اماء اللہ تنظیم کا تعارف پیش کیا ۔ مقررین میں اجلاس کی صدر Christine Buchholz کے علاوہ یہودی مذہبی راہ نما مکرمہLeah Frey یونیورسٹی کی پروفیسر Annette Schmittاور صدر لجنہ ماء اللہ مکرمہ عطیہ نور ہبش شامل تھیں ۔ صدر صاحبہ لجنہ نے اپنی تقریر میں اسلام میں عورت کا مقام ،حدود اور بحیثیت ماں عورت نے جو ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں ان کا تفصیلی ذکر کیا ۔ماں کی طرف سے اولاد کی اچھی تربیت کرنے کے معاشرہ پر جو مثبت اثرات ظاہر ہوتے ہیں ان کی وضاحت کی ۔ تقریب کا اختتام دعا پر ہوا ۔ پروگرام میں 93 مہمانوں سمیت دو سو افراد شامل ہوئے ۔
تقریب کے اختتام پر حاضرین کو کھانا پیش کیا گیا ۔ اس موقعہ پر قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم اور اسلامی لٹریچر بھی رکھا گیا تھا ۔ اسلامی فرمودات پر مشتمل بڑے بڑے بینرز بھی لگائے گئے تھے جن کو حاضرین نے پوری دلچسپی کے ساتھ دیکھا۔ مہمانوں کو جماعت احمدیہ کی عالمگیر اور جرمنی میں جاری سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ 6 بجے شام شروع ہونے والا یہ امن سمپوزیم 9 بجے شب اختتام پزیر ہوا ۔

image_printپرنٹ کریں