skip to Main Content
خطبہ جمعہ فرمودہ سیدنا حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخہ 07؍ جون2019ء بمقام مسجدمبارک،اسلام آباد۔ (ٹلفورڈ، سرے) یوکے

‘‘اے زید! تُو میرا دوست ہے اور مجھ سے ہے اور میری طرف سے ہے اور
تُو مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے’’

‘‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں آپؐ پر کبھی بھی کسی کو ترجیح نہیں دوں گا’’

جو محبت اور اخلاص میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھا ہے اس کی وجہ سے
آپؐ مجھے سب سے زیادہ پیارے ہیں

اخلاص و وفا کے پیکر بدری اصحابِ رسولﷺ حضرت عبداللہ بن طارق، حضرت عاقل بن بُکَیر اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللّٰہ عنھم ورضوا عنہ کی سیرت مبارکہ کا دل نشین تذکرہ

امّ المومنین حضرت خدیجہؓ کے نبی اکرمﷺ سے والہانہ عشق اور آپؐ کے عظیم اخلاق کا تذکرہ 
واقعہ رجیع کا بیان

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ. الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ. مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ.إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ.اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ. صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ.

آج سے دوبارہ بدری صحابہ کا ذکر شروع کروں گا۔ آج جن صحابہ کا ذکر ہے ان میں سے پہلا نام ہے حضرت عبداللہ بن طارقؓ۔ علامہ زُہری کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن طارق ظَفَرِیؓ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ عروہ نے ان کا نام عبداللہ بن طارق بَلَوِی لکھا ہے جو انصار کے حلیف تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ حضرت عبداللہ بن طارق بَلَوِی انصار کے قبیلہ بنو ظَفَر کے حلیف تھے۔ ابنِ ہشام کے مطابق آپ قبیلہ بَلِیّ میں سے تھے اور قبیلہ بنو عبد بن رِزَاحْ کے حلیف تھے۔ حضرت مُعَتِّبْ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عُبَید حضرت عبداللہ بن طارقؓ کے اخیافی بھائی تھے یعنی والدہ کی طرف سے حقیقی بھائی تھے۔ حضرت عبداللہ بن طارقؓ کی والدہ بنو عُذْرَہ کی شاخ بنو کَاھِل سے تھیں۔ حضرت عبداللہ بن طارقؓ اور حضرت مُعَتِّبْ بن عُبَیدؓ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں شامل ہوئے اور واقعہ رجیع کے دن دونوں بھائیوں کو شہادت نصیب ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن طارقؓ ان چھ صحابہ یا بعض روایات کے مطابق جس میں بخاری کی روایت بھی شامل ہے ان کی تعداد دس بتائی جاتی ہے، ان میں شامل تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 3؍ ہجری کے آخر میں قبیلہ عَضَلْ اور قَارَہ کے چند آدمیوں کے پاس بھیجا تھا تا کہ وہ انہیں دین کے بارے میں کچھ سمجھ بوجھ دیں اور انہیں قرآن کریم اور اسلامی شریعت کی تعلیم دیں۔ جب یہ لوگ مقامِ رجیع تک پہنچے، جو حجاز میں ایک چشمہ ہے، جو قبیلہ ھُذَیل کی ملکیت تھا تو اس پر قبیلہ ھُذَیل کے لوگوں نے سرکشی اختیار کرتے ہوئے ان صحابہ کا محاصرہ کیا اور بغاوت کرتے ہوئے ان سے قِتال کیا، جنگ کی ۔ ان میں سے سات صحابہ کے نام یہ ہیں:
حضرت عاصم بن ثابتؓ، حضرت مَرْثَد بن اَبُو مَرْثَدؓ، حضرت خُبَیب بن عَدِیؓ، حضرت خالد بن بُکَیرؓ، حضرت زید بن دَثِنہؓ، حضرت عبداللہ بن طارقؓ اور حضرت مُعَتِّبْ بن عُبَیدؓ۔ ان میں حضرت مرثدؓ، حضرت خالدؓ اور حضرت عاصمؓ اور حضرت مُعَتِّبْ بن عُبَیؓد تو وہیں شہید ہو گئے تھے۔ حضرت خُبیبؓ اور حضرت عبداللہ بن طارقؓ اور حضرت زیدؓ نے ہتھیار ڈال دیے تو کافروں نے انہیں قید کر لیا اور ان کو مکہ کی طرف لے کر چلنے لگے۔ جب وہ مقام ِظَہْرَان (ظہران مکہ سے پانچ میل کے فاصلے پر ایک وادی ہے، وہاں) پہنچے تو حضرت عبداللہ بن طارقؓ نے رسی سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور اپنی تلوار ہاتھ میں لے لی۔ یہ کیفیت دیکھ کر مشرکین ان سے پیچھے ہٹ گئے اور آپؓ کو پتھروں سے مارنا شروع کر دیا یہاں تک کہ آپؓ شہید ہو گئے۔ اور آپؓ کی قبر ظَہْرَان میں ہے۔ واقعۂ رجیع ہجرت کے بعد 36 ویں مہینے میں، جو صفر کا مہینہ ہے اس میں ہوا۔

(سیرت ابنِ ہشام صفحہ 464 دار الکتب العلمیہ بیروت 2001ء)(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 284-285 عبد اللہ بن طارق دار الکتب العلمیہ بیروت 2003ء) (الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 347 عبد اللہ بن طارق و اخوہ لأمہ معتب بن عبید دار الکتب العلمیہ 1990ء) (صحیح البخاری کتاب الجہاد باب ھل یستأسر الرجل …… الخ حدیث 3045) (معجم البلدان جلد 4 صفحہ 247 دار احیاء التراث العربی بیروت)

حضرت حسانؓ اپنے اشعار میں ان اصحاب کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ

وَابْنُ الدَّثِنَةِ وَابْنُ طَارِقٍ مِنْهُمْ
وَافَاهُ ثَمَّ حِمَامُهُ الْمَكْتُوْبُ

پھر یہ جو نظم ہے اس کا پہلا شعر ہے:

صَلَّى الْإِلٰهُ عَلَى الَّذِيْنَ تَتَابَعُوْا
يَوْمَ الرَّجِيْعِ فَأُكْرِمُوْا وَأُثِيْبُوْا

پہلے شعر کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت ابن دَثِنَہؓ اور حضرت ابن طارقؓ ان میں سے تھے وہیں موت ان سے جا ملی جہاں وہ ان کے لیے مقدر تھی۔ اور پھر جو پہلا شعر ان کی نظم کا تھا اس میں وہ کہتے ہیں کہ خدائے معبود نے ان پر رحمت نازل کی جو غزوۂ رجیع کے دن پے در پے شہید ہوئے۔ پس انہیں اعزاز بخشا گیا اور انہیں ثواب دیا گیا۔

(الاستیعاب جلد 3 صفحہ 928-929،عبد اللہ بن طارق،دارالجیل بیروت 1992ء)

واقعۂ رجیع کے بارے میں کچھ صحابہ کے واقعات میں پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں۔ کچھ تو یہاں بھی یہ بیان ہوگیا۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے جوتفصیل لکھی ہے اس کا مزید خلاصہ بیان کرتا ہوں کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چاروں طرف سے کفار کے حملوں کی، ان کے منصوبوں کی بڑی خوفناک خبریں آ رہی تھیں اور جنگِ احد کی وجہ سے کفار جو تھے وہ بڑے دلیر بھی ہو رہے تھے، شوخ بھی ہو رہے تھے اور ان کی طرف سے خطرہ بہت زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ اس بات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چار ہجری میں صفر کا جو اسلامی مہینہ ہے اس میں اپنے دس صحابیوں کی پارٹی تیار کی اور ان پر عاصم بن ثابتؓ کو امیر مقرر فرمایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ خفیہ خفیہ مکہ کے قریب جا کر قریش کے حالات دریافت کریں، دیکھیں کہ ان کے کیا ارادے ہیں اور ان کی کارروائیوں اور ارادوں سے پھر آپؐ کو اطلاع دیں۔ لیکن ابھی یہ پارٹی روانہ نہیں ہوئی تھی کہ قبائل عَضَل اور قَارَہ کے چند لوگ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اسلام کی طرف مائل ہیں۔ اور ہمارے ساتھ آپؐ چند آدمی روانہ کریں جو ہمیں اسلام کے بارے میں بتائیں اور اسلام کی تعلیم دیں تا کہ ہم مسلمان ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ خواہش معلوم کرکے وہی خبر رساں پارٹی جو مکہ کی طرف بھیجنے کے لیے تیار کی گئی تھی وہ وہاں کی بجائے ان کے ساتھ روانہ کر دی۔ لیکن جیسا کہ ثابت ہوا کہ یہ لوگ جھوٹے تھے اور بَنُو لِحْیَان کے بھڑکانے پر مدینہ آئے تھے، ان کے کہنے پر مدینہ آئے تھے جنہوں نے اپنے رئیس سفیان بن خالد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے یہ چال چلی تھی کہ اس بہانے سے کچھ مسلمان مدینہ سے نکلیں تو ان پر حملہ کر دیا جائے اور بَنُو لِحْیَان نے اس خدمت کے معاوضے میں عَضَل اور قَارَہ کے لوگوں کے لیے بہت سے اونٹ انعام کے طور پر مقرر کیے تھے۔ جب عَضَل اور قَارَہ کے یہ غدّار لوگ عُسْفَان اور مکہ کے درمیان پہنچے تو انہوں نے بَنُو لِحْیَان کو خفیہ خفیہ اطلاع بھجوا دی کہ مسلمان ہمارے ساتھ آ رہے ہیں۔ تم بدلہ لینے کے لیے آجاؤ۔ جس پر قبیلہ بَنُو لِحْیَان کے دو سو نوجوان، جن میں سے ایک سو تیر انداز تھے، مسلمانوں کے تعاقب میں نکلے۔ یعنی ان کے بلانے پے وہاں آ گئے اور مقام رجیع میں ان کا آمنے سامنے مقابلہ ہو گیا۔
دس مسلمان آدمی تھے بعض روایات میں سات ہے تو یہ لوگ پوری طرح ہتھیاروں سے لیس لوگوں کا، دو سو سپاہیوں کا، دو سو کفار کا، مقابلہ کیا کر سکتے تھے؟ لیکن مسلمان! اللہ تعالیٰ کے فضل سےان مسلمانوں میں ایمانی جوش تھا اور ہتھیار ڈالنا تو ان کی سرشت میں نہیں تھا۔ انہوں نےفوری طور پر، یہ حکمت ِعملی اختیار کی کہ ایک قریبی ٹیلے پر چڑھ گئے تا کہ مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں۔ کفار نے، جن کے نزدیک دھوکا دینا کوئی ایسی معیوب بات نہیں تھی، ان کو آواز دی کہ تم پہاڑی پر سے نیچے اتر آؤ ہم تم سے بڑا پختہ عہد کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ عاصمؓ نے جواب دیا کہ ہمیں تمہارے یہ جو عہد و پیمان ہیں ان پے کوئی اعتبار نہیں ہے۔ ہم تمہاری اس ذمہ داری پر نہیں اتر سکتے اور پھر حضرت عاصمؓ نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا کہ اے خدا! تُو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے۔ اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔ بہرحال عاصمؓ اور اس کے ساتھیوں نے مقابلہ کیا اور بالآخر لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ جب سات صحابہ مارے گئے اور صرف خُبَیب بن عَدِیؓ اور زید بن دَثِنَہ ؓاور عبداللہ بن طارقؓ باقی رہ گئے تو کفار نے جن کی اصل خواہش یہ تھی کہ ان لوگوں کو زندہ پکڑ لیں، پھر آواز دی کہ اب بھی نیچے اتر آؤ اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں دیں گے۔ اس دفعہ ان لوگوں نے ان کے وعدے پے یقین کر لیا اور ان کے اس جال میں آ کے نیچے اتر آئے مگر نیچے اترتے ہی کفار نے انہیں اپنی تیر کمانوں کی تندیوں سے باندھ دیا۔ اس پر خُبَیبؓ اور زیدؓ اور عبداللہ بن طارقؓ، سے صبر نہ ہوسکا۔ انہوں نے پکار کے کہا یہ تمہاری بدعہدی ہے اور اب دوبارہ تم نے ہمارے ساتھ کی ہے اور آگے چل کے نامعلوم کیا کرو گے، ہمیں نہیں پتا۔ عبداللہ نے ان کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا جس پر کفار تھوڑی دیر تک تو عبداللہ کو گھسیٹتے ہوئے اور زدو کوب کرتے ہوئے لے گئے اور پھر انہیں قتل کر کے وہیں پھینک دیا۔(عبداللہ سے مراد عبداللہ بن طارقؓ ہیں۔) اس روایت میں یہ درج ہے کہ اس طرح ان کو لے گئے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ چھڑا لیے اور لڑائی کے لیے تیار ہو گئے۔ اس پر انہوں نے پتھر مار کے شہید کر دیا۔ لیکن جو بھی تھا ان کو بہرحال یہاں شہید کر دیا گیا اور وہیں پھینک دیا۔ اب چونکہ ان کا انتقام پورا ہو چکا تھا، قریش کو خوش کرنے کے لیے اور روپے کے لالچ سے خبیبؓ اور زیدؓ کو ساتھ لے کر یہ لوگ مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر انہیں قریش کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ چنانچہ خُبیب کو تو حَارِث بن عامِر بن نوفل کے لڑکوں نے خرید لیا کیونکہ خُبَیبؓ نے بدر کی جنگ میں حَارِث کو قتل کیا تھا اور زیدؓ کو صَفْوَان بن امیہ نے خرید لیا۔
یہ حضرت خبیبؓ ہی ہیں جن کے بارے میں یہ بھی روایت ہے کہ جب یہ قید میں تھے تو جس گھر میں یہ تھے ان کافروں کا ایک بچہ کھیلتا ہوا ان کے پاس آ گیا اور خبیبؓ نے اس کو اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس پر اس کی ماں بڑی پریشان تھی تو حضرت خبیبؓ نے اسے کہا کہ پریشان نہ ہو۔ اس کو میں کچھ نہیں کہوں گا حالانکہ اس وقت ان کے ہاتھ میں اُسترا تھا۔ اس استرے کی وجہ سے وہ ڈر گئی تھی وہاں۔ تو بہرحال یہ حضرت عبداللہ بن طارقؓ رجیع کے واقعہ میں اس طرح شہید ہوئے تھے کہ انہوں نے کافروں کے ساتھ آگے جانے سے انکار کر دیا تھا اور وہیں لڑے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے صفحہ513تا515)

دوسرے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت عاقل بن بُکَیرؓ۔ حضرت عاقلؓ کا تعلق قبیلہ بنو سعد بن لیث سے تھا۔

(سیرت ابن ہشام صفحہ 462-463 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2001ء)

حضرت عاقِلؓ کا پہلا نام غَافِل تھا لیکن جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عاقل رکھ دیا۔ آپؓ کے والد کا نام تاریخ و سیرت کی زیادہ تر کتب میں بُکَیر آیا ہے تاہم چند کتابوں میں ابوبُکَیر بھی لکھا ہے۔ آپؓ کے والد بُکَیر زمانہ جاہلیت میں حضرت عمرؓ کے جدّ ِامجد نُفَیل بن عَبْدُالْعُزّٰی کے حلیف تھے۔ اسی طرح بُکَیر اور ان کے سارے بیٹے بنو نُفَیل کے حلیف تھے۔ حضرت عاقلؓ، حضرت عامرؓ، حضرت اِیَاسؓ اور حضرت خالدؓ یہ چاروں بھائی بُکَیر کے بیٹے تھے۔ انہوں نے اکٹھے دارِارقم میں اسلام قبول کیا اور یہ سب دارِ ارقم میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے تھے۔ حضرت عاقلؓ، حضرت خالدؓ، حضرت عامرؓ اور حضرت اِیاسؓ ہجرت کے لیے مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو انہوں نے اپنے تمام مرد و زن کو اکٹھا کر کے ہجرت کی۔ سب عورتیں بچے وغیرہ سب نے اکٹھے ہجرت کی۔ یوں ان کے گھروں میں کوئی مکہ میں پیچھے باقی نہیں رہا، یہاں تک کہ ان کے دروازے بند کر دیے گئے۔ ان سب لوگوں نے حضرت رِفَاعہ بن عَبْدُالْمُنْذِرؓ کے ہاں مدینہ میں قیام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عاقلؓ اور حضرت مُبَشِّرْ بن عَبْدُالْمُنْذِرؓ کے درمیان عقد ِمؤاخات قائم فرمائی، بھائی چارہ قائم فرمایا، بھائی بھائی بنایا۔ آپ دونوں غزوۂ بدر میں شہید ہوئے تھے۔ ایک قَول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عاقلؓ اور حضرت مُجَذَّرْ بن زِیَاد کے درمیان عقدِ مؤاخات قائم فرمایا تھا۔ حضرت عاقل غزوۂ بدر کے روز 34؍سال کی عمر میں شہید ہوئے تھے۔ آپؓ کو مالک بن زُھَیر جُشَمِی نے شہید کیا تھا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 208، عاقل بن ابی البکیر ؓ،داراحیاء التراث العربی 1996ء) (اسد الغابہ جلد3 صفحہ113،عاقل بن البکیر، دارالکتب العلمیہ بیروت2008ء) (الاصابہ جلد 3 صفحہ466، عاقل بن البکیر، دارالکتب العلمیہ بیروت2005ء)

ابن ِاسحاق کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت اِیاسؓ اور ان کے بھائیوں حضرت عاقِلؓ، حضرت خالدؓ اور حضرت عامرؓ کے علاوہ کوئی بھی چار ایسے بھائی معلوم نہیں جو غزوۂ بدر میں اکٹھے شریک ہوئے ہوں۔

(الاصابہ جلد1، صفحہ 310،ایاس بن البکیر ؓ،دارالکتب العلمیہ بیروت 2005ء)

زید بن اسلم سے مروی ہے کہ ابوبُکَیر کے لڑکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ! ہماری بہن کا فلاں شخص کے ساتھ نکاح کر دیجیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلالؓ کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ یعنی یہ جو چاروں بھائی تھے ان میں سے کچھ بھائی یا چاروں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی بہن کے رشتے کے لیے حاضر ہوئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلالؓ سے رشتہ کے متعلق ان سے پوچھا۔ تسلی نہیں تھی تو چلے گئے۔ وہ لوگ دوسری مرتبہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بہن کا فلاں شخص کے ساتھ نکاح کر دیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ بلالؓ کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ اس بات پر وہ پھر چلے گئے۔ پھر وہ لوگ تیسری مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہماری بہن کا فلاں شخص کے ساتھ نکاح کر دیجیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال ؓکے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟پھر مزید فرمایا کہ ایسے شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو اہلِ جنت میں سے ہے؟ اس پر ان لوگوں نے حضرت بلالؓ سے اپنی بہن کا نکاح کر دیا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 126 ،بلال بن رباح، داراحیاء التراث العربی بیروت1996ء)

اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام حضرت زید بن حارثہؓ ہے۔ حضرت زیدؓ کے والد کا نام حارثہ بن شَراحِیل کے علاوہ حَارِثہ بن شُرَحْبِیْل بھی بیان کیا جاتا ہے۔ آپؓ کی والدہ کا نام سُعْدٰی بنت ثَعْلَبَہ تھا۔ حضرت زیدؓ قبیلہ بنو قُضَاعَة سے تعلق رکھتے تھے جو یمن کا ایک نہایت معزز قبیلہ تھا۔ حضرت زید چھوٹی عمر کے تھے کہ ان کی والدہ انہیں لے کر میکے گئیں۔ وہاں سے بنو قَین کے سوار گزر رہے تھے۔ سفر کے دوران پڑاؤ ڈالا تو انہوں نے خیمے کے سامنے سے حضرت زید کو جو ابھی بچے تھے اٹھا لیا اور غلام بنا کر عُکَاظْ کے بازار میں حکیم بن حزام کو چار سو درہم میں فروخت کر دیا۔ حکیم بن حزام نے پھر اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ کی خدمت میں حضرت زید ؓکو پیش کیا اور بعد میں حضرت خدیجہؓ نے اپنے تمام غلاموں کے ساتھ حضرت زیدؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا۔

(السیرۃ النبویہ لابن ہشام صفحہ188 ذکر الاسلام زیدا ثانیا ، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001)( ماخوذ از سیر الصحابہ جلد دوم صفحہ 165 حضرت زید بن حارثہؓ مطبوعہ دار اشاعت کراچی)

ایک روایت کے مطابق جب حضرت زید کو خرید کر مکہ لایا گیا تو اس وقت آپ کی عمر محض آٹھ سال کی تھی۔

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الجنائز باب من جلس عند المصیبۃ یعرف فیہ الحزن جلد 8 صفحہ 94 ۔مطبوعہ دارالفکر بیروت )

حضرت زیدؓ کی گمشدگی پر آپؓ کے والد حارثہ کو بہت صدمہ ہوا۔ کچھ عرصہ کے بعد بنو کَلْب کے چند آدمی حج کرنے کے لیے مکہ آئے تو انہوں نے حضرت زیدؓ کو پہچان لیا۔ حضرت زیدؓ نے انہیں کہا کہ میرے خاندان کو میرے بارے میں بتانا کہ میں خانہ کعبہ کے قریب بنو مَعَدْ کے ایک معزز خاندان میں رہتا ہوں اس لیے آپ لوگ کچھ غم نہ کریں۔ بنو کَلْب کے لوگوں نے جا کر ان کے والد کو اطلاع دی تو وہ بولے کہ رب کعبہ کی قسم! کیا وہ میرا بیٹا ہی تھا؟ لوگوں نے حلیہ اور تفصیل بتائی تو آپؓ کے والد حَارِثہ اور چچا کعب مکہ کی طرف چل پڑے۔ مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فدیہ کے بدلہ اپنے لڑکے حضرت زید کی آزادی کی درخواست کی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زیدؓ کو بلا کر ان کی رائے طلب کی تو حضرت زید نے اپنے والد اور چچا کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔

( ماخوذ از سیر الصحابہ جلد دوم صفحہ 165 تا 168 زید بن حارثہ مطبوعہ دار اشاعت کراچی )

اس واقعہ کی تفصیل حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کی تو آپؓ سمجھ گئیں کہ میں مالدار ہوں اور یہ غریب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ضرورت ہو گی مجھ سے مانگنا پڑے گا اور یہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم برداشت نہ کر سکیں تو پھر زندگی کیسے گزرے گی۔ حضرت خدیجہؓ میں بڑی ذہانت تھی ۔ آپؓ بڑی ہوشیار اور سمجھدار خاتون تھیں۔ آپؓ نے خیال کیا کہ اگر ساری دولت آپؐ کی نذر کر دوں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی احساس نہیں ہو گا کہ یہ چیز بیوی نے مجھے دی ہے، بلکہ آپؐ جس طرح چاہیں گے خرچ کر سکیں گے۔ چنانچہ شادی کو ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ حضرت خدیجہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں ایک تجویز پیش کرنا چاہتی ہوں۔ اگر آپؐ اجازت دیں تو پیش کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کیا تجویز ہے؟ حضرت خدیجہؓ نے کہا کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اپنی ساری دولت اور اپنے سارے غلام آپؐ کی خدمت میں پیش کر دوں اور یہ سب آپؐ کا مال ہو جائے۔ آپؐ قبول فرما لیں تو میری خوشی ہو گی اور خوش قسمتی ہو گی۔ آپؐ نے جب یہ تجویز سنی تو آپؐ نے فرمایا خدیجہ !کیا تم نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے؟ اگر تو تم سارا مال مجھے دے دو گی تو مال میرا ہو جائے گا اور پھر تمہارا نہیں رہے گا۔ حضرت خدیجہؓ نے عرض کیا کہ میں نے سوچ کر ہی یہ بات کی ہے اور میں نے سمجھ لیا ہے کہ آرام سے زندگی گزارنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سوچ لو۔ حضرت خدیجہؓ نے عرض کیا ہاں ہاں میں نے خوب سوچ لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم نے سوچ لیا ہے اور سارا مال اور سارے غلام مجھے دے دیے ہیں تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے جیسا کوئی دوسرا انسان میرا غلام کہلائے۔ میں سب سے پہلے غلاموں کو آزاد کر دوں گا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ اب یہ آپؐ کا مال ہے، جس طرح آپؐ چاہیں کریں۔ آپؐ یہ سن کر بے انتہا خوش ہوئے۔ آپؐ باہر نکلے، خانہ کعبہ میں آئے اور آپؐ نے اعلان فرمایا کہ خدیجہؓ نے اپنا سارا مال اور اپنے سارے غلام مجھے دے دیئے ہیں۔ میں ان سب غلاموں کو آزاد کرتا ہوں۔ حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ آج کل اگر کسی کو مال مل جائے تو وہ کہے گا کہ چلو موٹر خرید لیں، کوٹھی بنا لیں، یورپ کی سیر کر لیں اور یا پھر یہ بھی آج کل میں نے دیکھا ہے اوربعض معاملات آتے ہیں کہ اگر بیوی اپنے خاوند کو مال دے بھی دے تو یہ جو اپنی خواہشات ہیں ان کو پورا کرنے کے علاوہ بیوی کے حقوق ادا کرنے سے بھی انکاری ہو جاتے ہیں اور پھر کوشش یہ ہوتی ہے کہ مال تو ہمارے پاس آ گیا، اب تم ہماری لونڈی باندی ہو اور بیویاں پھر مجبور ہوتی ہیں۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام تھا، جو سوچ تھی وہ یہ تھی کہ دین کی خاطر مال خرچ ہو، اللہ تعالیٰ کی خاطر مال خرچ ہو اور انسانوں کو جو غلام بنایا جاتا ہے اس غلامی کا خاتمہ ہو۔ بہرحال آپؐ کے اندر جو خواہش پیدا ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ جو میری طرح خدا تعالیٰ کے بندے ہیں اور عقل اور دماغ رکھتے ہیں وہ غلام ہو کر کیوں رہیں۔ عرب کے لحاظ سے ہی نہیں ساری دنیا کے لحاظ سے یہ ایک عجیب بات تھی مگر اس عجیب بات کا آپؐ نے اعلان فرمایا اور اس طرح آپؐ نے مال ملنے پر غیر معمولی سخا کا ثبوت دیا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ اعلان فرمایا کہ میں تمام غلاموں کو آزاد کرتا ہوں تو اس پر اَور تو سب غلام چلے گئے صرف زید بن حارثہؓ جو بعد میں آپؐ کے بیٹے مشہور ہو گئے تھے وہ آپؐ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ آپؐ نے تو مجھے آزاد کر دیا مگر میں آزاد نہیں ہونا چاہتا۔ میں آپؐ کے پاس ہی رہوں گا۔ آپؐ نے اصرار کیا کہ وطن جاؤ اور اپنے رشتہ داروں سے ملو اب تم آزاد ہو۔ مگر حضرت زیدؓ نے عرض کیا کہ جو محبت اور اخلاص میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھا ہے اس کی وجہ سے آپؐ مجھے سب سے زیادہ پیارے ہیں۔ زیدؓ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن چھوٹی عمر میں ان کو ڈاکو اٹھا لائے تھے اور انہوں نے آپؓ کو آگے بیچ دیا تھا۔ اس طرح یہ پھرتے پھراتے حضرت خدیجہؓ کے پاس آگئے۔ آپؓ کے باپ اور چچا کو بہت فکر ہوا، آپؓ کی تلاش میں نکلے۔ انہیں پتا لگا کہ زیدؓ روما میں ہیں۔ وہاں گئے تو پتا لگا کہ آپؓ عرب میں ہیں۔ عرب آئے تو پتا لگا کہ آپؓ مکہ میں ہیں۔ مکہ میں آئے تو پتا لگا کہ آپؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں۔ وہ آپؐ کے پاس آئے اور کہا ہم آپؐ کے پاس آپؐ کی شرافت اور سخاوت سن کر آئے ہیں۔ آپؐ کے پاس ہمارا بیٹا غلام ہے۔ اس کی جو قیمت آپؐ مانگیں ہم دینے کے لیے تیار ہیں۔ آپؐ اسے آزاد کر دیں۔ اس کی ماں بڑھیا ہے اور وہ جدائی کے صدمے کی وجہ سے رو رو کر اندھی ہوگئی ہے۔ آپؐ کا بڑا احسان ہو گا اگر آپؐ منہ مانگی قیمت لے کر اسے آزاد کر دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کا بیٹا میرا غلام نہیں ہے۔ میں اُسے آزاد کر چکا ہوں۔ پھر آپؐ نے زیدؓ کو بلایا اور فرمایا تمہارے ابا اور چچا تمہیں لینے آئے ہیں۔ تمہاری ماں بڑھیا ہے اور رو رو کر اندھی ہو گئی ہے۔ میں تمہیں آزاد کر چکا ہوں۔ تم میرے غلام نہیں ہو۔ تم ان کے ساتھ جا سکتے ہو۔ حضرت زیدؓ نے جواب دیا آپؐ نے تو مجھے آزاد کر دیا ہے مگر میں تو آزاد ہونا نہیں چاہتا۔ میں تو اپنے آپ کو آپؐ کا غلام ہی سمجھتا ہوں۔ آپؐ نے پھر فرمایا کہ تمہاری والدہ کو بہت تکلیف ہے اور دیکھو تمہارے ابا اور چچا کتنی دور سے اور کتنی تکلیف اٹھا کر تمہیں لینے آئے ہیں تم ان کے ساتھ چلے جاؤ۔ زیدؓ کے والد اور چچا نے بھی بہت سمجھایا مگر حضرت زیدؓ نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ آپ بے شک میرے باپ اور چچا ہیں اور آپ کو مجھ سے محبت ہے مگر جو رشتہ میرا ان سے قائم ہو چکا ہے وہ اب ٹوٹ نہیں سکتا۔حضرت زیدؓ نے کہا، مجھے یہ سن کر کہ میری والدہ سخت تکلیف میں ہیں بہت دکھ ہوا ہے، مگر ان سے جدا ہو کر میں زندہ نہیں رہ سکوں گا۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہو کے میں زندہ نہیں رہ سکوں گا۔ ماں کا دکھ بھی ایک طرف لیکن یہ دکھ مجھے اس سے بڑھ کر ہو گا۔ جب زیدؓ نے یہ باتیں کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانۂ خدا میں تشریف لے گئے اور اعلان کیا کہ زیدؓ نے جس محبت کا ثبوت دیا ہے اس کی وجہ سے وہ آج سے میرا بیٹا ہے۔ اس پر زیدؓ کا باپ اور چچا دونوں خوش ہو ئے اور خوش خوش واپس چلے گئے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ وہ نہایت آرام اور سکھ کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال اخلاق کا یہ ثبوت ہے کہ جب زیدؓ نے وفاداری کا مظاہرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر معمولی احسان مندی کا ثبوت دیا۔

(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 334-335)

اس واقعہ کا ذکر سیرت خاتم النبیین میں یوں ملتا ہے۔ جب ان کے والد اور چچا انہیں لینے آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زیدؓ سے فرمایا تمہیں میری طرف سے بخوشی اجازت ہے۔ زیدؓ نے جواب دیا کہ میں آپؐ کو چھوڑ کر ہر گز نہیں جاؤں گا۔ آپؐ میرے لیے میرے چچا اور باپ سے بڑھ کر ہیں۔ یہاں یہ ایک نئی بات لکھی ہے کہ اس پر زیدؓ کا باپ غصے میں بولا کہ ہیں! تُو غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتا ہے؟ ہم تجھے آزاد کرانے آئے ہیں، لینے آئے ہیں اور تم کہتے ہو میں غلام بن کر رہوں گا۔ زیدؓ نے کہا۔ ہاں کیونکہ میں نے ان میں ایسی خوبیاں دیکھی ہیں کہ اب میں کسی کو ان پر ترجیح نہیں دے سکتا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب زیدؓ کا یہ جواب سنا تو فورا ًاٹھ کھڑے ہوئے اور زید کو خانہ کعبہ لے جاکر بلند آواز سے کہا کہ لوگو !گواہ رہو کہ آج سے میں زید کو آزاد کرتا ہوں اور اسے اپنا بیٹا بناتا ہوں۔ گو کہ یہ پہلے ہی آزاد تھے لیکن وہاں لوگوں کے سامنے بھی اعلان کیا۔ یہ میرا وارث ہو گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ میرا وارث ہو گا اور میں اس کا وارث ہوں گا۔ اس دن سے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کیا تو زیدؓ بجائے زید بن حارثہ کے زید بن محمد کہلانے لگے لیکن ہجرت کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم اترا کہ منہ بولا بیٹا بنانا جائز نہیں ہے تو زیدؓ کو پھر زید بن حارثہ کہا جانے لگا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک اور پیار اس وفادار خادم کے ساتھ وہی رہا جو پہلے دن تھا بلکہ دن بدن ترقی کرتا گیا اور زیدؓ کی وفات کے بعد زیدؓ کے لڑکے اسامہ بن زیدؓ سے بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ امِّ ایمن ؓکے بطن سے تھے آپؐ کا وہی سلوک اور وہی پیار تھا۔
زیدؓ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ تمام صحابہؓ میں سے صرف ان ہی کا نام قرآن شریف میں صراحت کے ساتھ مذکور ہوا ہے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین ؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 110-111)

ایک اَور روایت میں یہ بھی ہے ۔ حضرت زیدؓ کے بڑے بھائی حضرت جَبَلہؓ یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ میرے بھائی کو میرے ساتھ بھیج دیں۔ یہ شاید بعد میں دوبارہ پھر واقعہ ہوا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارا بھائی تمہارے سامنے ہے۔ اگر یہ جانا چاہے تو میں اسے نہیں روکوں گا۔ اس پر حضرت زیدؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں آپؐ پر کبھی بھی کسی کو ترجیح نہیں دوں گا۔ حضرت جبلہؓ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے بہتر تھی۔

(کنز العمال جلد 13صفحہ 397باب فضائل الصحابہ حرف الزای زید بن حارثہؓ حدیث 37065 مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت 1985ء)

آپؓ کے بھائی کے حوالے سے ایک یہ روایت بھی ملتی ہے۔ حضرت جَبَلہؓ جو عمر میں حضرت زیدؓ سے بڑے تھے، ان سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ آپ دونوں میں سے کون بڑا ہے۔ آپؓ یا زیدؓ؟ تو انہوں نے کہا زیدؓ مجھ سے بڑے ہیں۔ مَیں بس ان سے پہلے پیدا ہو گیا تھا۔ آپؓ کی مراد یہ تھی کہ حضرت زیدؓ اسلام لانے میں سبقت لے جانے کی وجہ سے آپؓ سے افضل ہیں۔

(الروض الانف فی شرح السیرة النبویة لابن ہشام جلد3 صفحہ19 اسلام زید،دارالکتب الحدیثہ)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ ؓکو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی کہ اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَائِهِمْۗ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ۔(الاحزاب:6) کہ چاہیے کہ ان لَے پالکوں کو ان کے باپوں کا بیٹا کہہ کر پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ فعل ہے۔

(صحیح البخاری کتاب التفسیر باب ادعوھم لابائھم ھو اقسط عند اللہ حدیث 4782)

حضرت براءؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ سے فرمایا۔ اَنْتَ اَخُوْنَا وَ مَوْلَانَاتم ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو۔

(صحیح البخاری جلد7 صفحہ 224 کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ باب مناقب زید بن حارثہ مولی النبی ﷺ شائع کردہ نظارت اشاعت)

ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ یَا زَیْدُ اَنْتَ مَوْلَایَ وَمِنِّیْ وَاِلَیَّ وَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ کہ اے زید! تو میرا دوست ہے اور مجھ سے ہے اور میری طرف سے ہے اور تو مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابہ جلد 2صفحہ 497 دارالکتب العلمیۃ بیروت 1995ء )

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کے لیے میرے سے زیادہ وظیفہ مقرر کیا۔ حضرت عمرؓ کے یہ بیٹے تھے۔ بیان کر رہے ہیں کہ اسامہؓ جو زیدؓ کے بیٹے تھے ان کا وظیفہ جب مقرر ہوا تو میرے سے زیادہ تھا۔ اس پر میں نے پوچھا کہ زیادہ کیوں ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ اسامہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیارا تھا۔ اسامہؓ جو زیدؓ کا بیٹا تھا یہ تمہارے سے زیادہ پیارا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا اور اس کا باپ یعنی حضرت زیدؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے باپ سے زیادہ پیارا تھا۔ حضرت عمرؓ اپنے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ حضرت زیدؓ میرے سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیارے تھے۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابہ جلد 2صفحہ 497زید بن حارثہ، دارالکتب العلمیۃ بیروت 1995ء )

حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ حضرت زید بن حارثہؓ جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے مردوں میں سب سے پہلے ایمان لائے اور نماز ادا کی۔

(کنز العمال جلد 13 صفحہ 397 باب فضائل الصحابہ زید بن حارثہ ؓ حدیث 37063 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت 1985ء)

اس بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ہے کہ ‘‘ہر طبقے کے لوگ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو عطا فرما دیے۔ عثمانؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ مکہ کے چوٹی کے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اگر کوئی کہتا کہ ادنیٰ ادنیٰ لوگ اس کے ساتھ ہیں، اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص نے اس کو قبول نہیں کیا تو عثمانؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ اس کا جواب دینے کے لیے موجود تھے’’ (کہ ہم اعلیٰ خاندان کے ہیں) ‘‘اور اگر کوئی کہتا کہ چند امراء کو اپنے ارد گرد اکٹھا کر لیا گیا ہے، غرباء جن کی دنیا میں اکثریت ہے انہوں نے اس مذہب کو قبول نہیں کیا تو زیدؓ اور بلالؓ وغیرہ اس اعتراض کا جواب دینے کے لیے موجود تھے اور اگر بعض لوگ کہتے کہ یہ نوجوانوں کا کھیل ہے’’ (نوجوان اکٹھے ہو گئے ہیں) ‘‘تو لوگ ان کو یہ جواب دے سکتے تھے کہ ابوبکرؓ تو نوجوان اور ناتجربہ کار نہیں۔ انہوں نے کس بناء پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کر لیا ہے؟ غرض وہ کسی رنگ میں دلیل پیدا کرنے کی کوشش کرتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ہر شخص ان دلائل کو ردّ کرنے کے لیے ایک زندہ ثبوت کے طور پر کھڑا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شامل حال تھا۔ اسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِیْ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ۔ اے محمد رسول اللہ! کیا دنیا کو نظر نہیں آتا کہ جن سامانوں سے دنیا جیتا کرتی ہے وہ سارے سامان ہم نے تیرے لیے مہیا کر دیے ہیں۔ اگر دنیا قربانی کرنے والے نوجوانوں سے جیتا کرتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں۔ اگر دنیا تجربہ کار بڈھوں کی عقل سے ہاراکرتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں۔’’ (بڑی عمر کے لوگ)۔ ‘‘اگر دنیا مالدار اور بارسوخ خاندانوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے شکست کھاتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں اور اگر عوام الناس کی قربانی اور فدائیت کی وجہ سے دنیا جیتا کرتی ہے تو یہ سارے غلام تیرے پیچھے بھاگے پھرتے ہیں ۔ پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تُو ہار جائے اور یہ مکہ والے تیرے مقابلہ میں جیت جائیں۔ پس وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِیْ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ کے معنی یہ ہیں کہ وہ بوجھ جس نے تیری کمر کو توڑ دیا تھا وہ ہم نے خود اٹھا لیا۔ تُو نے اس کام کی طرف نگاہ کی اور حیران ہو کر کہا کہ میں یہ کام کیوں کر کروں گا۔ خدا نے ایک دن میں ہی تجھے پانچ وزیر دے دیے۔ ابو بکرؓ کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لیے کھڑا کر دیا۔ خدیجہؓ کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لیے کھڑا کر دیا۔ علیؓ کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لیے کھڑا کر دیا۔ زیدؓ کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لیے کھڑا کر دیا۔ ورقہ بن نوفل کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لیے کھڑا کر دیا۔ اور اس طرح وہ بوجھ جو تجھ اکیلے پر تھا وہ ان سب لوگوں نے اٹھا لیا۔’’

(تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 140)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ‘‘چار آدمی جن کو آپؐ سے بہت زیادہ تعلق کا موقع ملا تھا وہ آپؐ پر ایمان لائے یعنی خدیجہؓ آپ کی بیوی، علیؓ آپ کے چچازاد بھائی اور زیدؓ آپ کے آزاد کردہ غلام اور ابوبکرؓ آپ کے دوست اور ان سب کے ایمان کی دلیل اس وقت یہی تھی کہ آپؐ جھوٹ نہیں بول سکتے۔’’ آپؐ کے سب قریبی یہ کہا کرتے تھے۔

(دورہ یورپ، انوار العلوم جلد 8 صفحہ 543)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے حضرت زید بن حارثہؓ کے اسلام لانے کے بارے میں لکھا ہے کہ
‘‘آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے مشن کی تبلیغ شروع کی تو سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہؓ تھیں جنہوں نے ایک لمحہ کے لیے بھی تردد نہیں کیا۔ حضرت خدیجہؓ کے بعد مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے کے متعلق مؤرخین میں اختلاف ہے۔ بعض حضرت ابوبکرؓ عبداللہ بن ابی قحافہ کا نام لیتے ہیں۔ بعض حضرت علیؓ کا جن کی عمر اس وقت صرف دس سال کی تھی اور بعض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت زیدؓ بن حارثہ کا، مگر ہمارے نزدیک یہ جھگڑا فضول ہے۔ حضرت علیؓ اور زیدؓ بن حارثہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے آدمی تھے اور آپؐ کے بچوں کی طرح آپؐ کے ساتھ رہتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا تھا اور ان کا ایمان لانا بلکہ ان کی طرف سے تو شاید کسی قولی اقرار کی بھی ضرورت نہ تھی۔ پس ان کا نام بیچ میں لانے کی ضرورت نہیں اور جو باقی رہے ان سب میں سے حضرت ابوبکرؓ مسلمہ طور پر مقدم اور سابق بالایمان تھے۔’’

(سیرت خاتم النبیین ؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 121)

یعنی عمر کے لحاظ سے صاحبِ عقل لوگوں میں سے، باشعور لوگوں میں سے تھے۔ صاحب ِعقل تو ماشاء اللہ بچے بھی اس زمانے میں ہوا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے دنیا جس کو باشعور اور تجربہ کار کہتی ہے حضرت ابوبکرؓ تھے جو مردوں میں سے ایمان لائے لیکن بہرحال یہ چار تھے، تین مرد اور ایک عورت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور ان کا ایک بڑا مقام ہے جس طرح حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا۔
سفر ِطائف میں بھی حضرت زیدؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھے۔ طائف مکہ سے جنوب مشرق کی جانب تقریباً 36؍میل کے فاصلہ پر واقع ایک جگہ ہے۔ نہایت ہی سرسبز و شاداب علاقہ ہے جہاں بہت اعلیٰ قسم کے میوے پیدا ہوتے ہیں۔ وہاں قبیلہ ثقیف کے لوگ آباد تھے۔

(معجم البلدان جلد 3 صفحہ 241، لغات الحدیث جلد3 صفحہ 46 کتاب ‘‘ف’’)

حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دوبارہ مظالم شروع کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن حارثہؓ کے ہمراہ طائف کی طرف تشریف لے گئے۔ یہ واقعہ 10؍ نبوی کا ہے اور ماہ شوال کے کچھ دن ابھی باقی تھے۔ آپؐ دس دن تک طائف میں رہے۔ اس دوران آپؐ طائف کے تمام رؤسا کے پاس گئے مگر کسی نے بھی آپ کی دعوت قبول نہیں کی۔ جب ان کو اندیشہ ہوا کہ ان کے نوجوان آپؐ کی دعوت قبول کر لیں گے، یہ فکر ضرور پیدا ہو گئی کہ کہیں نوجوان جو ہیں، جو عام لوگ ہیں وہ اسلام کی دعوت قبول نہ کر لیں تو انہوں نے کہا کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے شہر سے نکل جاؤ اور وہاں جا کر رہو جہاں آپؐ کی دعوت قبول کی گئی ہے۔ پھر انہوں نے آوارہ لوگوں کو آپؐ کے خلاف بھڑکایا تو وہ آپؐ کو پتھر مارنے لگے یہاں تک کہ آپؐ کے دونوں قدموں سے خون بہنے لگا۔ حضرت زید بن حارثہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھینکے جانے والے پتھروں کو اپنے اوپر لینے کی کوشش کرتے تھے حتٰی کہ حضرت زیدؓ کے سر پر بھی متعدد زخم آئے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد اوّل صفحہ 165 ذکر سبب خروج رسول اللہﷺ الیٰ الطائف مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت زیدؓ کے جو حالات دیے گئے ہیں ان کی مزید تفصیل ابھی باقی ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ خطبہ میں بیان ہو گی۔

(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل 28؍جون 2019ء)

image_printپرنٹ کریں