skip to Main Content
خطبہ جمعہ سیّدنا حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ مورخہ31؍مئی 2019ء بمطابق 31؍ہجرت 1398 ہجری شمسی

ہم خدا سے خدا کو مانگیں تو وہ ہر ایک کو مل سکتا ہے
جس کو اللہ تعالیٰ مل جائے اس کے قدموں کے نیچے دنیا کی ہر نعمت آ جاتی ہے
جمعے کی نماز کی حاضری اور جامع مسجد میں جا کر جمعہ کی نماز ادا کرنا اور امام کا خطبہ سننا تمہارے لیے تمہاری تجارتوں سے ، کاروباروں سے ، دنیاوی کاموں سے ، ہزاروں ، لاکھوں گنا زیادہ بہتر ہے
دنیاوی کاروبار ہوں یا دوسری نعمتیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہیں
بہت فکر کے ساتھ ہمیں اپنے جمعوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ جس طرح رمضان کے آخری جمعہ کو اہمیت دی جاتی ہے اسی طرح سارا سال کے جمعوں کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے
اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ضروری ہے
سال کے ایک جمعے کو ہی کافی نہ سمجھو بلکہ ہر جمعہ ہی اہم ہے
اگر ہمارا آج ہمارے گذشتہ کل سے بہتر نہیں تو ہم حقیقی مومن نہیں
اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے والے پھر اپنی عبادتوں کو رمضان تک محدود نہیں کرتے بلکہ پھر ان کی عبادتیں سارے سال پر محیط ہو جاتی ہیں یہ لوگ دنیاوی خواہشات کے لیے دعا نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کو مانگنے کی دعا کرتے ہیں
رمضان المبارک کے آخری جمعے کے بابرکت موقع پر نمازِجمعہ کی اہمیت اور قبولیتِ دعا کے فلسفے کا بیان

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوًاانْفَضُّوْٓا اِلَيْهَا وَتَرَكُوْكَ قَآئِمًا قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ وَاللّٰهُ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ۔

(الجمعۃ10 تا 12)

ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ
اے مومنو!جب تم کو جمعہ کے دن نماز کے لیے بلایا جائے (یعنی نماز جمعہ کے لیے) تو اللہ کے ذکر کے لیے جلدی جلدی جایا کرو۔ اور (خرید اور) فروخت کو چھوڑ دیا کرو۔(اور) اگر تم کچھ بھی علم رکھتے ہو تو یہ تمہارے لیے اچھی بات ہے۔ اور جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جایا کرو، اور اللہ کا فضل تلاش کیا کرو،اور اللہ کو بہت یاد کیا کرو،تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ اور جب یہ لوگ تجارت یا کھیل کی بات دیکھتے ہیں تو تجھ سے الگ ہو کر اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھ کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ تو ان سے کہہ دے جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل کی بات بلکہ تجارت سے بھی اچھا ہے اور اللہ بہتر رزق دینے والا ہے۔
آج اس رمضان کا آخری جمعہ ہے اور جیسا کہ عموماً لوگوں کا رجحان ہوتا ہے زیادہ لوگ اور خاص طور پر توجہ سے جمعہ کی نماز پہ حاضر ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اتفاق سے آج کل اکثر سکولوں میں بھی چھٹیاں ہیں، رخصتیں ہیں اس لحاظ سے بھی حاضری بہتر نظر آ رہی ہے اور عموماً نظر آتی بھی ہے۔
سورۂ جمعہ کے یہ آخری رکوع کی آیات ہیں جو میں نے تلاوت کی ہیں ۔ان میں اللہ تعالیٰ نے جمعوں کی اہمیت کے بارے میں کھول کر بیان فرما دیا۔ پس جمعے پر حاضری اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جمعہ کی نماز کی طرف بلایا جائے تو کسی قسم کی سستی نہ دکھاؤ بلکہ فوری توجہ دیتے ہوئے جمعہ کی نماز کے لیے حاضر ہو جاؤ چاہے جتنی بھی مصروفیت ہے،تجارت کا انتہائی وقت ہے اور اس وقت دنیاوی کام اور تجارت سے بے توجہگی جو ہے ایک کاروباری آدمی کے لیے لاکھوں کروڑوں کے نقصان پر منتج ہو سکتی ہے تو پھر بھی پروا نہ کرو اور دنیا کے لاکھوں کروڑوں کے ممکنہ نقصان کی پروا نہ کرتے ہوئے جمعے پر حاضر ہو جاؤ کیونکہ یہ جمعے کی نماز کی حاضری اور جامع مسجد میں جا کر جمعہ کی نماز ادا کرنا اور امام کا خطبہ سننا تمہارے لیے تمہاری تجارتوں سے ، کاروباروں سے، دنیاوی کاموں سے ، ہزاروں ، لاکھوں گنا زیادہ بہتر ہے لیکن اس کا احساس اسے ہی ہو سکتا ہے جو اس کا صحیح فہم اور ادراک رکھتا ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے صحیح فہم و ادراک رکھنے والا یقینا ًان تجارتوں کو،کاروباروں کو ثانوی حیثیت دے گا۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ جمعے کی نماز کے بعد پھر تمہیں آزادی ہے۔ جاؤ اور اپنے دنیاوی کاموں اور کاروباروں میں بے شک مصروف ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دنیاوی کاموں میں بھی برکت عطا فرمائے گا لیکن یہاں پھر واضح فرما دیا کہ اپنی عبادتوں کو صرف جمعے تک ہی محدود نہیں رکھنا بلکہ خدا تعالیٰ تمہیں ہر وقت یاد رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف توجہ رکھو تو پھر تمہیں پہلے سے بڑھ کر کامیابیاں ملیں گی، دینی اورروحانی بھی اور دنیاوی بھی۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے و الے جب اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے ہیں تو اس بات کو بھی یاد رکھتے ہیں کہ جمعہ کی نماز کے بعد ہم نے عصر کی نماز بھی پڑھنی ہے۔کہ یہ بھی فرائض میں داخل ہے۔ مغرب کی نماز بھی پڑھنی ہے،عشاء کی نماز بھی پڑھنی ہے کہ یہ نمازیں فرائض میں داخل ہیں اور دنیاوی کاروبار ہوں یا دوسری نعمتیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہیں۔ پس کامیابی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبادت سے ہی وابستہ ہے۔ یہ جمعہ کی پابندی اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش صرف رمضان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جہاں جیسا کہ ان آیات سے بھی صاف ظاہر ہے کہ تمام جمعوں کے بارے میں یہ ایک عمومی حکم ہے، خاص طور پر حکم ہے۔عمومی بھی ہے اور خاص بھی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ جمعے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جمعہ کا دن تو عید کا دن ہے اور یہ عید دوسری عیدوں سے افضل ہے اور کس طرح افضل ہے ؟ فرمایا کہ اس عید کے لیے سورہ جمعہ ہے یعنی سورة جمعہ میں جمعہ کی خاص طور پر ادائیگی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور پھر آپؑ نے جمعہ کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک یہودی کا ایک مکالمہ بھی بیان فرمایا کہ جب اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ کہ آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا۔ جب یہ آیت اتری تو ایک یہودی نے کہا کہ اس آیت کے نزول کے دن عید کر لیتے یا اگر ہم پر یہ آیت اترتی تو ہم اس دن عید کرتے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ جمعہ عید ہی ہے کیونکہ یہ آیت جمعہ کے دن اتری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ مگر بہت سے لوگ اس عید سے بے خبر ہیں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 399)

جو عید اللہ تعالیٰ نے ہر ہفتےمنانے کا حکم دیا ہے،جس میں دین کے مکمل ہونے کی خبر دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو تمام کرنے کی خوشخبری دی اس دن کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی اور سمجھتے ہیں کہ رمضان کے آخری جمعہ پر خاص توجہ سے حاضر ہو کر ہم تمام جمعوں کا ثواب لے لیں گے۔ پس بہت فکر کے ساتھ ہمیں اپنے جمعوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ جس طرح رمضان کے آخری جمعہ کو اہمیت دی جاتی ہے اسی طرح سارا سال کے جمعوں کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر مومن کو اگر وہ حقیقی مومن ہے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ لیکن ہوتا کیا ہے ؟ بہت سے اس بات کی طرف توجہ نہیں دیتے اور دنیاوی کاروباروں اور دنیاوی دلچسپیوں میں اپنے جمعے ضائع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ ان دنیاوی چیزوں اور دولتوں اور دلچسپیوں سے بہت بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو تمہیں رزق دیتا ہے۔ پس یہ بہت اہم اور ہر مومن کے لیے قابلِ توجہ امر ہے اور خاص طور پر ہم جو اس زمانے کے امام کو مانتے ہیں ہمیں اس طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے۔حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ اصل مومن تو احمدی ہی ہیں جنہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے۔

(ماخوذ از حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 122-123)

پس یہ ماننا ایک ذمہ داری ڈالتا ہے کہ اپنے عمل بھی اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق کریں اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی کوشش کریں۔ دنیاوی خواہشات ہماری ترجیح نہ ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا اور رضا کو حاصل کرنا ہماری ترجیح ہو لیکن ہم میں سے بہت سے ہیں جو اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مانا تو کس لیے مانا تھا۔ آپؑ تو ہمیں خدا تعالیٰ سے تعلق میں مضبوط کرنے کے لیے آئے تھے۔ آپؑ تو اس لیے آئے تھے کہ سب ترجیحات سے زیادہ اور بڑی ترجیح اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول اور اس کا پیار حاصل کرنا ہے یہ نہ ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور بھی اس وقت جائیں یعنی نماز اس وقت پڑھیں، دعاؤں کی طرف اس وقت توجہ ہو جب ہماری دنیاوی خواہشات پوری نہ ہو رہی ہوں اور ہم اللہ تعالیٰ کے حضور ان خواہشات کو پورا کرنے کے لیے جھکیں۔ ہمیں یہی نہ پتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اسے حاصل کرنے کی اہمیت کیا ہے اور ہم اپنی خواہشات اور دنیاوی ضروریات کو ہی اہمیت دینے والے ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ‘‘میں سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک تقریب ہے جو اللہ تعالیٰ نے سعا دت مندوں کے لیے پیدا کردی ہے۔ مبارک وہی ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تم لوگ ، جنہوں نے میرے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے، اس بات پر ہر گز ہر گز مغرور نہ ہو جاؤ کہ جو کچھ تم نے پانا تھا پا چکے (ہو)۔ یہ سچ ہے کہ تم ان منکروں کی نسبت قریب تربہ سعادت ہو ۔’’ سعادت پانے کے قریب ہو گئے ہو۔ ‘‘جنہوں نے اپنے شدید انکار اور توہین سے خدا کو ناراض کیا۔’’ جو منکرین ہیں۔ حضورؑ فرماتے ہیں کہ ‘‘اور یہ بھی سچ ہے کہ تم نے حسنِ ظن سے کام لے کر خدا تعالیٰ کے غضب سے اپنے آپ کو بچا نے کی فکر کی۔لیکن ’’فرمایا کہ ‘‘سچی بات یہی ہے کہ تم اس چشمہ کے قریب آپہنچے ہو جو اس وقت خدا تعالیٰ نے ابدی زندگی کے لیے پیدا کیا ہے، ہاں پانی پینا ابھی باقی ہے۔ پس خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے توفیق چاہوکہ وہ تمہیں سیراب کرے۔’’ پانی پلائے اور اتنا پلائے کہ سیراب ہو جاؤ ‘‘کیونکہ خدا تعالیٰ کے بَدُوں چھ بھی نہیں ہو سکتا۔’’ فرمایا کہ ‘‘یہ میں یقینا ًجانتا ہوں کہ جو اس چشمہ سے پیے گا وہ ہلاک نہ ہوگا کیونکہ یہ پانی زندگی بخشتا ہے اور ہلاکت سے بچاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ کرتا ہے۔ اس چشمہ سے سیراب ہونے کا کیا طریق ہے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ نے جو دو حق تم پر قائم کیے ہیں اُن کو بحال کرو اور پورے طور پر ادا کرو۔ ان میں سے ایک خدا کا حق ہے، دوسرا مخلوق کا۔’’

(ملفوظات جلد 3 صفحہ 184-185)

پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے واضح فرما دیا کہ اپنے عمل خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق کریں اور مجھے ماننے کے بعد اپنی عبادتوں کے معیار بھی بلند کریں اور حقوق العباد کے معیار بھی بلند کریں اور اگر یہ نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اس طرح حاصل کرنے والے نہیں بن سکتے جو اس کا حق ہے۔ چشمے سے پانی پینے کے لیے اپنی ترجیحات ہمیں بدلنی ہوں گی۔ حضرت خلیفة المسیح الاولؓ نے ایک موقعے پر فرمایا کہ حضرت صاحبؑ نے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ اس چشمے سے پانی پینا ابھی باقی ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ مجھے خیال ہوتا ہے کہ اس کا مخاطب میں تو نہیں۔

(ماخوذ از حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 126)

تو حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کا جو مقام ہے وہ ہم سب پر واضح ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپؓ کو بہت عزت کا مقام دیا ہے۔ اگر آپؓ اس فکر میں ہیں تو ہمیں کس حد تک اور کس شدت سے اس کی فکر ہونی چاہیے کہ کس طرح ہم اس چشمہ سے پانی پینے کی کوشش کریں اور ہم کس طرح بیعت کا حق ادا کرنے والے بنیں۔
پس اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس بات کو سامنے رکھنا ضروری ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حق ادا کر دیے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے تو ہماری پیدائش کا مقصد ہی عبادت مقرر فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۔ اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں ہمارے مقصد کو واضح فرما دیا۔ یہ نہیں فرمایا کہ رمضان کا آخری جمعہ پڑھ کر تم نے میرے حکم کی تعمیل کر دی اور میری عبادت کا حق ادا کر دیا بلکہ یہ فرمایا کہ یہ ایک مستقل عمل ہے جو تم نے اپنی ہوش میں آنے سے لے کر اس دنیا سے رخصت ہونے تک ادا کرنا ہے۔ پس سال کے ایک جمعے کو ہی کافی نہ سمجھو بلکہ ہر جمعہ ہی اہم ہے اور پھر جمعوں کی ادائیگی پر توجہ دلا کر اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا کہ تم جمعہ ادا کر کے میرا حق ادا کرنے والے بن گئے اور یا نمازیں پڑھ کے میرا حق ادا کرنے والے بن گئے اور اس کا کوئی اللہ تعالیٰ کو فائدہ پہنچا ہے یا اللہ تعالیٰ کو ہماری نمازوں اور ہمارے جمعوں کی ، ہمارے ذکر الٰہی کی ضرورت تھی بلکہ فرمایا کہ جب تم جمعوں پر آتے ہو، نماز پڑھتے ہو، خطبہ سنتے ہو اور اس دوران ذکر الٰہی کرتے ہو تو اس میں، ایسے وقت میں ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جو دعا مانگ رہا ہو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے حرام کے علاوہ جو بھی مانگے انسان ، اللہ تعالیٰ اگر اس انسان کو وہ گھڑی میسر کر دے تو وہ دعا قبول کر لیتا ہے۔

(صحیح مسلم کتاب الجمعۃ باب فی الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ حدیث (852)

اب یہ گھڑی،یہ وقت، یہ لمحہ کسی خاص جمعہ کے لیے نہیں ہے بلکہ ہر جمعہ کے لیے ہے۔ پھر ایک موقعے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کی اہمیت پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہر وہ شخص جو اللہ اور یوم ِآخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر جمعے کے دن جمعہ پڑھنا فرض کیا گیا ہے سوائے مریض کے، مسافر کے، عورت کے، بچے کے اور غلام کے کیونکہ یہ سب مجبور ہیں،ان کی بعض مجبوریاں ہوتی ہیں۔ پھر فرمایا کہ جس نے لہو و لعب اور تجارت کی وجہ سے جمعہ سے لاپرواہی برتی۔ اللہ تعالیٰ بھی اس سے بے پرواہی کا سلوک کرے گا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بے نیاز اور حمد والا ہے۔

(کنز العمال جلد 7 صفحہ 726 کتاب الصلوٰۃ حدیث 21120 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ 1985ء)

اللہ تعالیٰ کو تمہاری کسی چیز کی ضرورت نہیں بلکہ وہ تو نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نوازنا ایک مومن سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کی حمد کی جائے۔ پھر آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ جمعے کے دن نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

(کنز العمال جلد 7 صفحہ 712 کتاب الصلوٰۃ حدیث 21057 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ 1985ء)

اللہ تعالیٰ کے حکموں سے بڑھ کر اور حکموں پر عمل سے بڑھ کر کون سی نیکی ہے؟ پس جب ایک مومن اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اس کے حکموں پر عمل کرے جن میں سے ایک حکم جمعہ کے لیے آنا بھی ہے، نمازوں اور عبادتوں کی طرف توجہ بھی ہے تو ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ اور پھر کس قدر ثواب اللہ تعالیٰ ایک مومن کو دے رہا ہو گا، اس مومن کو جو نیکیاں اور عبادتیں اور جمعوں میں شمولیت صرف اور صرف اس لیے کر رہا ہو گا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے۔ کوئی دنیاوی خواہش ترجیح نہیں ہو گی۔ اور بلا وجہ جمعہ چھوڑنے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انذاری ارشاد بھی ہے کہ جس کسی نے بلا وجہ جمعہ چھوڑا وہ اعمال نامے میں منافق لکھا جائے گا۔

(کنز العمال جلد 7 صفحہ 730 کتاب الصلوٰۃ حدیث 21144 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ 1985ء)

پھر فرمایا جو سستی کرتے ہوئے تین جمعے لگاتار چھوڑے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

(سنن ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ باب التشدید فی ترک الجمعۃ حدیث 1052)

پس بڑے خوف کا مقام ہے کیونکہ جب مہر لگ جائے تو پھر نیکیوں کی توفیق بھی کم ہوتی چلی جاتی ہے اور پھر بے دلی سے نمازوں پر آنا جمعوں پر آنا نفاق پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔ پس بڑے خوف کا مقام ہے اور بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ ایک موقعے پر آپؐ نے فرمایا کہ جمعہ پڑھنے آیا کرو۔ ایک شخص جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے حالانکہ وہ جنت کا اہل ہوتا ہے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 752 مسند سمرۃ بن جندبؓ حدیث 20373 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1998ء)

بہت ساری نیکیاں کرتا ہے وہ جو اس کو جنت میں لے جا سکتی ہیں لیکن پیچھے رہتا رہتا جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ پس بے شمار مواقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ میں شمولیت کی تلقین فرمائی بلکہ بلا وجہ نہ شامل ہونے والوں کو انذار بھی فرمایا۔ کہیں ایک موقع پر بھی یہ نہیں فرمایا آپؐ نے کہ رمضان کا آخری جمعہ پڑھو تو اس لیے تم بخشے جاؤ گے۔ ہاں یہ ہم ضرور دیکھتے ہیں کہ جیسا کہ ہم نے ابھی آپؐ کے ایک ارشاد میں دیکھا کہ آپؐ نے یہ فرمایا ہے کہ تجارت اور لہو و لعب دنیاوی مشاغل کی وجہ سے جمعہ چھوڑنے والے سے، جمعوں کی ادائیگی میں لاپرواہی کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ بھی لاپرواہی کا سلوک کرتا ہے اور صرف جمعوں ہی پر اکتفا نہیں ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عبادتوں کا حق ادا کرنا ایک مومن کی نشانی بتائی ہے،عبادتوں کا حق ادا کرنے والا اسے بتایا ہے جو ایک نماز سے دوسری نماز کی فکر میں رہتا ہے اور اس کے انتظار میں رہتا ہے اور ایک جمعے سے دوسرے جمعے کی فکر میں رہتا ہے اور انتظار کرتا ہے اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان کی فکر میں رہتا ہے اور انتظار کرتا ہے نہ کہ دنیاوی خواہشات اور کاموں کے لیے اپنے جمعوں اور نمازوں کو ضائع کر دے۔ پس اپنی عبادتوں کی ہمیں فکر کرنے کی ضرورت ہے۔اپنی ترجیحات کو صحیح راستے پر لگانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کو حاصل کرنے کے لیے ایک کوشش کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کو حاصل کرنے کے لیے اس مقام کا ادراک ضروری ہے، صرف منہ سے کہہ دینے سے یہ حاصل نہیں ہو جاتا۔
لیکن اگر ہم غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے اصل مقام اور اس کی قدر و قیمت کا ہمارے عمل جو ہیں وہ صحیح پہچان نہیں رکھتے۔ ہماری عملی حالتیں ایسی نہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ ہمیں بڑی پہچان ہے بلکہ ہماری دعائیں بھی ہماری ذاتی اغراض کے لیے ہوتی ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کو پانے کے لیے ہوں تو پھر ان میں ایک مستقل مزاجی ہو۔ ہمارے دل صرف جمعوں کے لیے نہیں بلکہ پانچ نمازوں کے لیے بھی مسجدوں میں اٹکے ہوں لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہمیں حقیقت میں اس کا ادراک نہیں ہے۔ ہم عارضی اور فوری ضرورت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور مستقل اور بڑی اور ہمیشہ رہنے والی ضرورت کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ نمازوں اور جمعوں کو ہم چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے عارضی دنیاوی مفادات کے لیے کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے تو بعد میں معافی مانگ لیں گے تو اللہ تعالیٰ تو بخش دے گا ، کیا فرق پڑتا ہے ، یہ دنیوی کام تو کر لو۔ یہ گاہک ہاتھ سے نہ نکل جائے کہیں۔ ایک کاروباری شخص کہتا ہے ۔ پھر پتا نہیں ایسا گاہک دوبارہ ملے گا کہ نہیں ملے گا۔ اگر اپنے کام کے لیے کسی افسر کے پاس گئے ہیں، اگر اس افسر کو اس وقت خوش نہ کیا جبکہ اس کا موڈ اچھا ہے اور اس کو یہ کہہ دیا کہ اوہو میری نماز کا وقت ہو گیا،جمعے کا وقت ہو گیا، میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں یا جمعہ پڑھنے جا رہا ہوں تو کہیں وہ افسر ناراض نہ ہو جائے اور میں اس کے فائدے سے محروم نہ ہو جاؤں۔ اگر یہ خیال آتا ہے تو ترجیحات بالکل مختلف ہیں۔ دنیا کی ترجیح اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی ترجیح پر فوقیت حاصل کر رہی ہے اور اسی طرح کی بہت ساری خواہشات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر پھر ثانوی حیثیت رکھنے کی بجائے اول ترجیح بن جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ پیچھے چلا جاتا ہے اور دنیاوی خواہشات اوپر آ جاتی ہیں۔ اس وقت ہم بھول جاتے ہیں کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کو بھلا دیں اور اس کے حکموںکو دنیاوی خواہشات کے پیچھے کر دیں تو پھر جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پھر ایسے لاپرواہوں سے بھی لاپرواہی برتے گا اور باوجود جنت کا اہل ہونے کے اس لاپرواہی کی وجہ سے ایسا انسان جنت سے محروم ہو جائے گا۔ پس ایک مومن کا کام ہے کہ یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھے کہ میرے کاروبار بھی اور میرے کام بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی بابرکت ہو سکتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی برکت ہے تو پھر میں پہلے اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کی کوشش کیوں نہ کروں۔ پس اس اصول کو ہر ایک کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم یہ سمجھ لیں گے تو ہماری مسجدیں رمضان کے علاوہ بھی پانچ نمازوں کے وقت بھی آباد رہیں گی اور جمعوں پر بھی بھری رہیں گی بلکہ چھوٹی پڑ جائیں گی اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بعثت کا مقصد ہے کہ آپؑ بندے کو خدا کے قریب کرنے کے لیے مبعوث ہوئے تھے اور یہی ہماری بیعت کا مقصد ہے کہ ہم اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے قریب کریں، اس سے تعلق جوڑیں اور اس کے صحیح عبد بن جائیں۔ ہماری نمازیں، ہمارے جمعے، ہمارے روزے، ہماری عیدیں بھی خدا تعالیٰ کا قرب پانے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ہوں۔ ہر سال رمضان کے روزے بھی اللہ تعالیٰ نے اسی لیے مقرر فرمائے ہیں کہ ایک مہینے میں خاص توجہ سے مومن اپنی نیکی اور عبادت کے معیار اونچے کرے اور پھر ان پر قائم رہے اور پھر اگلے رمضان میں اس سے اگلے قدم اور منازل ہوں۔ یہ نہیں کہ واپس دوبارہ وہیں آ جائے۔ یہ نہ ہو کہ رمضان کے بعد پھر پہلے والی حالت ہم پر طاری ہو جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے تو یہی ہمیں بتایا ہے کہ اگر ہمارا آج ہمارے گذشتہ کل سے بہتر نہیں تو ہم حقیقی مومن نہیں۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 10 صفحہ 138)

پس جمعہ کو وداع کہنے کے لیے ہم آج جمع نہیں ہوئے بلکہ اپنی نیکیوں میں، اپنی عبادتوں میں، اپنی اللہ تعالیٰ سے محبت میں بڑھے ہوئے قدم کو مضبوط کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کے لیے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں اور یہ عہد ہمیں آج کرنا چاہیے کہ ہم نے اب آئندہ خدا تعالیٰ سے اپنے تعلق میں بڑھنا ہے۔ ان شاء اللہ۔ اور یہ عہد اور دعا تبھی ہو سکتی ہے جب اللہ تعالیٰ کے قرب کی اہمیت کا بھی احساس ہو۔ اگر اس چیز کی قدر کا علم ہو، اگر اللہ تعالیٰ کو حقیقت میں سب طاقتوں کا مالک اور سرچشمہ اور سب کاموں کے بہترین انجام تک پہنچانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہو لیکن اگر کھیل کود اور دنیاوی تجارتوں کی قدر اللہ تعالیٰ کی قدر سے زیادہ ہے تو ان بچوں والا حال ہے جو ہیروں کی قدر نہیں کرتے اور اگر انہیں کہیں ہیرے مل جائیں تو اسے شیشے کی گولیاں سمجھتے ہیں اور بچوں کی جو بنٹوں کی کھیل ہوتی ہے، ایک دوسرے کے بنٹے پہ بنٹہ مارتے ہیں، ہاتھ سے گولی مارتے ہیں اور پھر یہ جس کے پاس زیادہ آ جائیں وہ جیتتا ہے۔ تو ان ہیروں سے بھی وہ کھیلنا شروع کر دیں۔
حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک واقعہ بیان کیا ۔ فرماتے ہیں کہ غالباًحج کے سفر میں جبکہ میں بمبئی میں جہاز کے انتظار میں تھا، اس زمانے میں سمندری سفر ہوا کرتے تھے، سمندری جہازوں پر سفر کیا جاتا تھا۔آپؓ فرماتے ہیں کہ ایک دوست نے وہاں اس وقت مجھ سے ذکر کیا کہ چند روز ہوئے کوئی جوہری بازار میں سے جا رہا تھا کہ اس کے ہیرے گر پڑے۔ غالباً ایک سو پانچ ہیرے تھے اس میں جن میں سے بعض چھوٹے اور بعض بڑے تھے۔ اس نے پولیس کے مرکزی دفتر میں اطلاع دے دی جنہوں نے آگے تمام تھانوں کو، پولیس سٹیشنوں کو اطلاع دے دی کہ اس پر نظر بھی رکھی جائے اور تلاش کیا جائے۔ تو کچھ دنوں کے بعد ایک شخص ہیرے لے کر پولیس سٹیشن میں آیا اور کہا کہ میں نے بعض بچوں کو ان سے کھیلتے دیکھا ہے۔ تو ایک بچے سے جب پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے تو سمجھا وہ شیشے کی گولیاں ہیں بنٹے ہیں، کاغذ میں لپٹی ہوئی پائی تھیں تو بہرحال اس نے انہیں پڑے دیکھا تو اسے گولیاں سمجھ لیں اور کھیلنے لگا جیسے بچے کھیلتے ہیں۔ جب اس سے پوچھا کہ باقی گولیاں کہاں ہیں تو اس نے کہا کہ میں نے وہ محلے والوں میں، باقی بچوں میںتقسیم کر دیں حالانکہ وہ کئی لاکھ کے ہیرے تھے مگر اس بچے کو اس کی کیا قدر ہو سکتی تھی۔ وہ شیشے کی گولیوں کی طرح ان سے کھیلنے لگا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے آگے لکھا اگر اس کے باپ کو وہ ملتے تو شاید وہ ان کو چھپاتا پھرتا ، شاید شہر چھوڑ کر بھی چلا جاتا اور کسی دوسرے شہر میں جا کر وہ فروخت کر دیتا مگر بچے کی نظر میں اس کی کوئی قدر نہیں تھی۔ وہ اسے شیشے کی گولیاں سمجھتا تھا اور دوسرے بچوں میں تقسیم کرتا پھرتا تھا۔ اگر اسے مٹھائی کی گولیاں مل جاتیں تو وہ اس خوشی سے ان کو تقسیم نہ کرتا جس طرح اس نے یہ تقسیم کیں۔ جب دوسرے بچے یہ ہیرے مانگتے ہوں گے تو وہ کہتا ہو گا کہ میرے پاس یہ گولیاں ایک سو پانچ ہیں میں نے ان سب کو کیا کرنا ہے تو کچھ تم بھی لے لو اور بانٹ دیتا ہو گا لیکن اگر اسے میٹھی گولیاں ملتیں تو وہ کبھی دوسروں کو اس طرح نہ دیتا اور کہتا کہ میں خود کھاؤں گا۔ تو اس کے نزدیک مٹھائی کی گولیوں کی زیادہ قیمت تھی اور زیادہ کام کی چیز تھی وہ اور شیشے کی گولیوں کی اس کے نزدیک اتنی اہمیت اور قدر نہیں تھی۔
اسی طرح ایک اَور کہانی آپؓ نے بیان فرمائی کہ کوئی شخص جنگل میں جا رہا تھا۔ اس کا کھانا بالکل ختم ہو گیا حتٰی کہ وہ بھوک سے بے تاب ہو گیا، زندگی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ اسے راستے میں ایک تھیلی پڑی ہوئی ملی۔ اس نے بڑے شوق سے یہ سمجھ کر اٹھا لیا کہ شاید اس میں بھنے ہوئے دانے ہوں یا کوئی کھانے کی چیز ہو۔ وہ بے تاب ہو کر اس پر جھپٹا اور چاقو سے اسے کھولا تو معلوم ہوا کہ وہ موتی ہیں۔ اس نے نہایت حقارت سےانہیں پھینک دیا ۔ اس وقت اس کے نزدیک مٹھی بھر دانے یا روٹی کا ٹکڑہ زیادہ قیمتی تھا بہ نسبت ان موتیوں کے۔ تو چیز کی قدر اس کی ضرورت اور علم کے مطابق ہوتی ہے۔پس بعض لوگ اپنے خیال اور ضرورت کے مطابق اہمیت کو دیکھتے ہیں چھوٹی چیزوں کی تلاش میں نکلتے ہیں اور نہایت اہم باتوں اور چیزوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

(ماخوذ از خطباتِ محمودؓ جلد 20 صفحہ 494-495 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 3 نومبر 1939ء)

یہ چیز دنیاوی خواہشات کے پورا ہونے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کے مقابلے میں بھی ہمیں نظر آتی ہے۔ دنیا کے بہت سے لوگ ہیں جو اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں اور اپنی دعاؤں کے مانگنے کی ترجیحات میں بھی اکثر لوگوں میں یہ بات نظر آتی ہے اور انسان صحیح ادراک نہ ہونے یا عدمِ علم کی وجہ سے اہم چیزوں کو پیچھے کر دیتا ہے اور کم اہمیت والی چیزوں کو انسان اپنے لیے بہت اہم سمجھتا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے دعائیں مانگنے کی ترجیح کے حوالے سے بہت عمدہ نکتہ بیان فرمایا ہے ۔ ان کا نکتہ بیان کرنے سے پہلے، میں بھی بیان کر دوں کہ مجھ سے بھی لوگ دعا کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ ہم دعا کرتے ہیں اور بڑی تڑپ سے دعا کرتے ہیں لیکن قبول نہیں ہوتی۔ میں بہرحال ان کو جواب دیتا رہتا ہوں اور اس آیت کے مطابق دیتا ہوں جس کی وضاحت میں نے اپنے رمضان کے پہلے خطبہ میں بھی کی تھی جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندوں کے قریب ہوں اور ان کی دعائیں سنتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ ۔ تو حضرت مصلح موعودؓ نے اس آیت کے حوالے سے اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ یہاں دَعْوَةَ الدَّاعِ میں ہر پکارنے والا مراد نہیں ہے بلکہ وہ خاص پکارنے والے مراد ہیں جو دن کو اللہ تعالیٰ کی خاطر روزے رکھتے ہیں، فرض نمازیں ادا کرتے ہیں، ذکرِ الٰہی کرتے ہیں ، اپنی نمازوں اور جمعوں کی حفاظت کرتے ہیں اور رات کو اضطراب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں۔ بے شک الدَّاعِ کے معنے ہر پکارنے والے کے بھی ہو سکتے ہیں لیکن یہاں کیونکہ رمضان کے حوالے سے بات ہو رہی ہے اس لیے یہاں ان لوگوں سے مراد ہے جو اپنی عبادتوں کو خاص اللہ تعالیٰ کے لیے کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنے والے پھر اپنی عبادتوں کو رمضان تک محدود نہیں کرتے بلکہ پھر ان کی عبادتیں سارے سال پر محیط ہو جاتی ہیں ۔یہ لوگ دنیاوی خواہشات کے لیے دعا نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کو مانگنے کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب کچھ بھول کر صرف میرے قرب کے حصول کی دعا کرتے ہیں تو میں ان کی دعائیں ضرور سنتا ہوں۔ یہی الدَّاعِ کی تعریف حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمائی۔ اس کے معنے یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ ۔ کہ یعنی میرے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ مَیں کہاں ہوں، مجھے پانا چاہتے ہیں۔ روٹی کا سوال نہیں کرتے۔ نوکری کا سوال نہیں کرتے۔ کسی اَور دنیاوی خواہش کا سوال نہیں کرتے۔ سوال کرتے ہیں کہ اللہ کہاں ہے، ہم اللہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ وہ مجھ سے ملنے کے لیے بے چین ہیں ، ان کو میں ضرور ملتا ہوں۔ یہ نہیں فرمایا کہ جو نوکری یا روٹی یا دولت یا رشتہ مانگے میں اس کی ضرور سنتا ہوں۔ اور عموماً دیکھا بھی یہی گیا ہے کہ یہ چیزیں مانگنے والے بھی جو ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم نے بڑی تڑپ کے دعائیں کیں ، ہماری دعائیں نہیں سنی گئیں۔ یہ چیزیں مانگنے والے بھی عارضی عبادت کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس وقت تک ہی توجہ دیتے ہیں اپنی عبادتوں میں اور نمازوں میں اور دعاؤں میں جب تک ان کو ایک کام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے اضطراب کی حالت عارضی ہوتی ہے۔ بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم نے اس طرح اضطراب کے ساتھ دعائیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے نہیں سنیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تو نہیں کہا کہ میں تمام تمہاری دنیاوی خواہشات کو پورا کروں گا اور دعائیں سنوں گا۔ ہاں اگر پاک تبدیلیاں لا کر اللہ تعالیٰ کو پانے اور ملنے کی اضطراب سے ہم دعا کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ضرور سنوں گا اوراپنے ولی کا پھر دوست بن کر اس کے ساتھ مَیں کھڑا ہو جاؤں گا۔ اس کی خواہشات کو پورا کروں گا۔اس کے دشمن سے لڑوں گا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بعض مضامین الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتے بلکہ عبارت میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں اور یہی حالت یہاں ہے۔ یہاں الدَّاعِ کے معنے ہر پکارنے والا نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کو پکارنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرے بندے میری طرف دوڑتے ہیں، ان کے اندر ایک اضطراب اور عشق پیدا ہوتا ہے اور وہ چِلّاتے ہیں کہ میرا خدا کہاں ہے تو ان سے کہہ دو کہ میں پکارنے والے کی پکار کو ردّ نہیں کرتا اور ضرور اس کی دعا سنتا ہوں۔

(ماخوذ از خطباتِ محمودؓ جلد 20 صفحہ 500-501 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 3 نومبر 1939ء)

دنیاوی باتوں میں لوگ دعا کرتے ہیں جو قبول نہیں ہوتیں تو اللہ تعالیٰ سے مایوس ہو جاتے ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا۔ مثلاً نوکری کی تلاش والا ہے ، بہت سی درخواست دینے والے ہوتے ہیں۔ ایک شخص سے دوسرا شخص زیادہ لائق ہو سکتا ہے۔ اسے نوکری ملے گی۔ اگر کوئی کہے کہ میں نے بہت اضطراب سے دعا کی تو ہو سکتا ہے کہ دوسرے نے اس سے بھی زیادہ اضطراب سے دعائیں کی ہوں اور اس وجہ سے اسے نوکری مل گئی ہو اور اسی طرح دوسرے دنیاوی معاملات ہیں۔ تو جہاں دنیاوی چیزیں محدود ہیں اور نوکری اگر ایک ہے، دو ہیں، چند ایک ہی ہوں گی ناں۔ اسی طرح دنیا کی باقی چیزیں ہیں وہ محدود ہیں، ایک یا دو یا چند ہو سکتی ہیں لیکن خدا تعالیٰ تو لامحدود ہے۔ اس کی تو کوئی حد نہیں ہے۔ جب ہم خدا سے خدا کو مانگیں تو وہ ہر ایک کو مل سکتا ہے بشرطیکہ اضطراب بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل بھی ہو۔ یہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم بھی میری مانو۔ اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ اور ارفع شان کی قدر بھی ہو۔ ہیرے کی پہچان ہو، اسے شیشے کے بنٹے نہ سمجھیں۔ جب یہ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ ملتا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ مل جائے اس کے قدموں کے نیچے دنیا کی ہر نعمت آ جاتی ہے۔ پس بندے کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر بات مانے۔ سال کے ایک مہینے کو ہی عبادتوں کے لیے کافی نہ سمجھے، رمضان کے آخری جمعہ کو ہی صرف قبولیت کا ذریعہ نہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ پر کامل توکّل ہم رکھیں اور کبھی اللہ تعالیٰ سے غدّاری نہ کریں تو ہم حقیقت میں ہدایت پانے والوں میں شمار ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، جن کا دوست اور ولی اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور ان کی تمام ضروریات پوری فرماتا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔
پس جب ہم ، جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مانا ہے ، ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی عبادتوں کے معیار اونچے کریں ۔ جن معیاروں تک اس رمضان میں پہنچے ہیں یا پہنچنے کی کوشش کی ہے اس سے نیچے اپنے آپ کو نہ گرنے دیں۔ اپنی نمازوں کے معیاروں کو بھی اونچا کرتے چلے جائیں، اپنے جمعوں کی حاضری کو بھی قائم رکھیں، اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننے والے ہوں اور خاص ان لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش ہمیشہ جاری رکھیں جو اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کو مانگنے والے ہوں۔ یعنی اس دعا کی کوشش ہو، ہمیشہ یہ دعا ہم کرتے رہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ ملے۔ ہماری نمازیں، ہماری عبادتیں اللہ تعالیٰ کا لقا حاصل کرنے والی نمازیں اور عبادتیں ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان معیاروں کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔

(بشکریہ الفضل انٹر نیشنل31مئی 2019ء)

image_printپرنٹ کریں