skip to Main Content
خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ30۔اگست2019بمقام بیت الفتوح یوکے

غزوہ بدر میں شامل انحضرت ﷺ کے صحابہ حضرت عتبہ بن مسعودؓ اور حضرت عبادہ بن صامت ؓ کا ذکر خیر
تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے،نہ ہی چوری کرو گے، نہ ہی اولاد کو قتل کرو گےاور دیدہ و دانستہ بہتان نہیں باندھو گےاور نہ معروف بات پر نافرمانی کرو گے
مکرم طاہر عارف صاحب آف یوکے کا ذکر خیر کیا اور ان کی نماز جنازہ پڑھائی

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ30۔اگست 2019ء کو بیت الفتوح یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست نشر کیا گیا۔ حضور انور نے فرمایا کہ بدری صحابہ کے ذکر میں آج میں جن صحابہ کا ذکر کروں گا ان میں سے پہلا نام حضرت عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہے۔ ان کی کنیت ابو عبداللہ تھی ۔آپ قبیلہ بنو مخزوم سے تھے۔ حضرت عتبہ بن مسعود قبیلہ بنو زہرہ کے حلیف تھے۔ آپ کے والد کا نام مسعودبن غافل تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ کے حقیقی بھائی تھے ۔آپ مکہ میں ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ آپ اصحاب صفّہ میں سے تھے۔ صفہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ مسجد کے ایک گوشہ میں ایک چھت دار چبوترا بنایا گیا تھا جسے صفحہ کہتے تھے۔ یہ ان غریب مہاجرین کے لیے تھا جو بے گھر تھے ۔یہ لوگ یہیں رہتے تھے اور اصحاب صفہ کہلاتے تھے۔ ان کا کام آنحضرتﷺ کی صحبت میں رہنا، عبادت کرنا اور تلاوت قرآن کریم کرنا تھا۔ ان کا کوئی ذریعہ معاش نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ہدیہ وغیرہ آتا تو آپؐ ان کا حصہ ضرور نکالتے۔ بعض اوقات آپؐ خود فاقہ کرتے اور جو کچھ گھر میں ہوتا اصحاب صفّہ کو بھجوا دیتے تھے۔
حضور انور نے فرمایا۔ یہ لوگ دن کو بارگاہ نبوت میں حاضر رہتے اور حدیث سنتے رات کو ایک چبوترے پر پڑے رہتے۔ عربی زبان میں چبوترے کو صفّہ کہتے ہیں ۔ اسی بنا پر ان بزرگوں کو اصحاب صفّہ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کسی کے پاس چادر اور تہبند دونوں چیزیں کبھی ایک ساتھ نہ ہوسکیں۔ چادر کو گلے سے اس طرح باندھ لیتے تھے کہ رانوں تک لٹکتی تھی ۔ کپڑے پورے نہیں ہوتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی انہیں بزرگوں میں سے تھے ۔ان کا بیان ہے کہ میں نے اہل صفہ میں سے 70 اشخاص کو دیکھا کہ ان کے کپڑے ان کی رانوں تک بھی نہیں پہنچتے تھے ۔
حضور انور نے فرمایا۔اکثر ایسا ہوتا کہ راتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مہاجرین و انصار پر تقسیم کردیتے ۔یعنی ہر شخص ایک ایک دو دو کو اپنے ساتھ لے جائے اور ان کو رات کا کھانا کھلائے۔ حضرت سعد بن عبادہ ایک صحابی تھے جو نہایت فیاض اور دولت مند تھے۔ وہ کبھی کبھی 80 مہمانوں کو اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے اور رات کو کھانا کھلاتے تھے۔ بعض راویوں کے مطابق اہل صفہ کی تعداد مختلف وقتوں میں مختلف رہی تھی۔ کم سے کم 12افراد اور زیادہ سے زیادہ 300 افراد ایک وقت مقام صفّہ میں مقیم رہے تھے۔ ایک روایت میں ان کی تعداد 600 صحابہ کرام بتائی گئی ہے۔ آپؐ کو ان لوگوں کے ساتھ خاص انس تھا ایک بار اہل صفّہ کی ایک جماعت نے بارگاہ نبوی میں شکایت کی کہ کھجوروں نے ہمارے پیٹ کو جلا دیا ہے ۔ صرف کھجوریں ہی کھانے کو ملتی ہیں اور تو کچھ ملتا نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی شکایت سنی تو ایک تقریر کی جس میں فرمایا کہ یہ کیا ہے کہ تم لوگ کہتے ہو کہ ہمارے پیٹوں کو کھجوروں نے جلا دیا ہے، کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ کھجور ہی اہل مدینہ کی غذا ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا‘‘ خدا کی قسم ایک یا دو مہینے سے اللہ کے رسول کے گھر دھواں نہیں اٹھا ۔
حضور انور نے فرمایا کہ بہرحال یہ ا صحاب صفّہ عجیب فدائی لوگ تھے۔ کھجور کے کھانے کا شکوہ تو کیا لیکن جگہ نہیں چھوڑی ۔کامل وفا کے ساتھ وہیں بیٹھے رہتے تھے۔ ان کے لئے ایک معّلم مقرر تھا جس کے پاس رات کو جا کر یہ پڑھتے تھے۔ اس بنا پر ان میں سے اکثر قاری کہلاتے تھے اور اشاعت اسلام کے لئے کہیں بھیجنا ہوتا تو یہی لوگ بھیجے جاتے تھے ۔بعد میں انہی اصحاب میں سے بہت سے بڑے بڑے عہدوں پر بھی فائز ہوئے۔ چنانچہ حضرت ابوھریرہ ؓ بحرین کے گورنر رہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص بصرہ کے گورنر رہے۔ حضرت سلیمان فارسی مدینہ کے گورنر رہے ۔حضرت عمار بن یاسر کوفہ کے گورنر رہے۔ یہ سب اصحاب صفّہ میں شامل تھے۔
حضور انور نے فرمایا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی الہام ہوا تھا جس میں اصحاب صفّہ کا ذکر ہے۔ عربی الہام تھا۔ اَصْحَابُ الصُّفہ وَمَا اَدْرَاْک َ مَا اَصْحَابُ الْصُّفَہ تَرٰی اَعْیُنُھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّ مْعِ یُصَلُوْنَ عَلَیْکَ۔ جو صفّہ کے رہنے والے ہیں اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صفّہ کے رہنے والے۔تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوٍں گے۔وہ تیرے پر درود بھیجیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لوگ بڑی شان والے تھے بڑے مضبوط ایمان والے تھے اور انہوں نے جو اخلاص و وفا کا نمونہ دکھایا ہے وہ ایک مثال ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی فرمایا ہے کہ تمہیں بھی بعض ایسے لوگ میں عطا کروں گا۔
حضور انور نے فرمایا۔ صحیح بخاری میں حضرت عتبہ بن مسعود کا ذکر ان صحابہ کرام کی فہرست میں کیا گیا ہے جو غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے ۔ آپ کی حضرت عمر بن خطاب ؓکے دور خلافت میں 23ہجری میں مدینہ میں وفات ہوئی۔ اور حضرت عمر نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔
حضور انور نے فرمایا۔ جن اگلے صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہے۔ یہ انصاری صحابی تھے۔ آپ کے والد کا نام صامت بن قیس اور والدہ کا نام قرۃالعین بنت عبادہ تھا۔ بیعت عقبہ اولیٰ و ثانیہ میں یہ شریک تھے ۔ انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو عوف بن خزرج کے سردار تھے۔ حضرت عبادہ کے ایک بیٹے کا نام ولید تھاجن کی والدہ کا نام جمیلہ تھا۔ دوسرے بیٹے کا نام محمد تھاجس کی والدہ کا نام ام حرام تھا۔ حضرت اوس بن ثابتؓ حضرت عبادہ کے بھائی تھے ۔ اوس بھی بدری صحابی تھے۔ حضرت عبادہ غزوہ بدر، احد، خندق، اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔ حضرت عبادہ 34ہجری میں رملہ فلسطین میں فوت ہوئے۔ بعض کے مطابق بیت المقدس میں فوت ہوئے۔ایک روایت کے مطابق آپ کی وفات قبرص میں ہوئی۔ وفات کے وقت ان کی عمر 72 سال تھی۔ ان کا قد لمبا اور جسم بہت خوبصورت تھا۔ حضرت عبادہ بن صامت کی روایات کی تعداد ر181 تک پہنچتی ہے۔ بیعت عقبہ کے متعلق حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، نہ ہی چوری کرو گے، اور نہ ہی اولاد کو قتل کرو گے اور نہ دیدہ دانستہ بہتان باندھو گے۔ اور نہ معروف بات میں تم نافرمانی کرو گے۔ جس نے بھی تم میں سے اس عہد کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور جس نے ان بدیوںمیں سے کوئی بھی بدی کی اور پھر دنیا میں اسے سزا مل گئی تو یہ اس کےلئے کفارہ ہوگی ۔اور جس نے ان بدیوں میں سے کوئی بدی کی اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اللہ چاہے تو اس سے درگزر کرے اور چاہے تو اسے سزا دے ۔سو ہم نے ان باتوں پر آنحضرت ﷺ سے بیعت کی تھی۔
حضور انور نے فرمایا۔ ایک دفعہ نبی کریم ﷺنے حضرت عبادہ کو بعض صدقات کا عامل بنایا تھا اور انہیں نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم اونٹ کو اپنے اوپر لادے ہوئے ہواور وہ بلبلا تا ہو یا گائے کو لادے ہوئے ہواور اس کی آواز نکل رہی ہو یعنی کہیں خیانت نہ ہو جائے ایسا نہ ہو کہیں صدقات کی صحیح حفاظت نہ کر سکو۔حضرت عبادہ بن ثابت نے یہ سن کر کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں تو دو آدمیوں پر بھی عامل نہ بنوں گا ۔ میری تو یہ حالت ہے کہ میں کسی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا ۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں انصار میں سے پانچ آدمیوں نے قرآن کو جمع کیا تھا ۔جن کے نام یہ ہیں ۔حضرت معاذ بن جبل ،حضرت عبادہ بن ثابت،حضرت ابی بن کعب ، حضرت ابو ایوب انصاری اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہم۔ حضرت یزید بن سفیان نے فتح شام کے بعد حضرت عمر کو لکھا کہ شام کو ایسے معلم کی ضرورت ہے جو انہیں قرآن سکھائے۔ حضرت عمرؓ نے حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہما کو بھیجا ۔جنادا سے مروی ہے کہ میں جب حضرت عبادہ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے انہیں اس حال میں پایا کہ انہیں اللہ کے دین کی بڑی سمجھ تھی۔یعنی بڑے صاحب علم تھے۔ حضرت عبادہ کے حوالے سے مزید باتیں اور روایتیں بھی ہیں جو انشاء اللہ اگلے خطبہ میں بیان ہوں گی۔
حضور نے اس کے بعد فرمایا کہ اب میں ایک مرحوم کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کا جنازہ بھی میں پڑھاؤںگا جنازہ حاضر ہے ۔ مکرم طاہر عارف صاحب جو کہ 26 اگست کو کینسر کی وجہ سے یوکے میں وفات پاگئے تھے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پاکستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے سے بڑے اونچے درجہ پر فائز رہے ۔ آج کل صدر فضل عمر فاؤنڈیشن تھے۔آپ کے والد مبلغ سلسلہ تھے۔ آپ بڑے علمی ذوق رکھنے والے آدمی تھے ،شاعر بھی تھے، کئی کتابیں بھی انھوں نے تصنیف کی ہیں ۔ آپ میں بڑی عاجزی اور انکساری تھی اللہ تعالی ٰان کے ساتھ مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ان کے درجات بلند کرے اور ان کے بچوں کو بھی کامل وفا کے ساتھ جماعت اور خلافت سے وابستہ رکھے آمین

(باسل احمد طاہر)

image_printپرنٹ کریں