خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ9۔اگست 2019ء

جماعت کے اتحاد اور ایک لیڈر کے ذریعے یکجہتی کی مثال کہیں نہیں دیکھی۔ ہرکوئی اپنے خلیفہ سےاطاعت اور اخلاص کا غیرمعمولی رشتہ رکھتاہے
آنحضرت ﷺکی آخری نصیحت یہی تھی کہ کسی گورے کو کالے پر کالے کو گورے پرعربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں سب انسان برابر ہیں
کارکنان کا شکریہ، غیر از جماعت کے تاثرات،میڈیا رپورٹ اور عالمی کوریج کا ذکر۔مکرم مجیب الرحمان ایڈووکیٹ کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 9۔اگست 2019کو بیت الفتوح میں خطبہ جمعہ ارشادفرمایا جو کہ مختلف جماعتوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے پر براہ راست نشر کیا،حضور انور نے فرمایا :
گزشتہ اتوار کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یوکے کا سہ روزہ سالانہ جلسہ اختتام کو پہنچا تھا۔ اللہ تعالی ٰکی ان گنت برکات ان جلسوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ سب سے پہلے میں کارکنان اور کارکنات کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو کسی بھی شعبہ میں کسی بھی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔عورت، مرد، بچے، جوان بوڑھے ہر ایک بے نفس ہوکر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا۔ غیر مہمانوں کے سامنے اپنے عمل سے یہ لوگ اسلام کی حقیقی تصویر پیش کر رہے تھے۔ خاص طور پر معاونین شکریہ کے مستحق ہیں۔ اصل کام معاونین کا ہی ہوتا ہے۔ ہر شعبہ جلسہ کے دنوں میں اپنا کردار ادا کرتا ہے یہ سب لوگ ایک اہم کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔
حضور انور نے مہمانوں کے جلسہ کے بارے میں تاثرات پیش کرتے ہوئے فرمایا: وائس پریذیڈنٹ مسلم کمیونٹی بینن کہتے ہیں کہ میں نے20 سے زیادہ حج کیے ہیں لیکن جماعت احمدیہ کے جلسہ میں شامل ہوکر مجھے کہیں زیادہ بہتر انتظامات دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ جلسے کا ماحول ایسا تھا کہ میں نے کبھی زندگی میں نہیں دیکھا ایئرپورٹ سے لےکررہائش تک ایسے انتظامات تھے لگتا تھا کہ گھر میں رہ رہے ہیں۔ پھر جلسہ میں ہر قسم کے لوگوں کو دیکھا ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر سب نے بڑے انکسار سے ہماری خدمت کی۔ میری تقریر کے بارے میں کہا کہ ہمیں اس سے صحیح اسلام کا پیغام ملا اور مسلمانوں کو اس پیغام کی ضرورت ہے احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے۔
پھر برکینا فاسو سےایک ممبر آف پارلیمنٹ کہتے ہیں کہ جلسہ بہت اچھا تھا۔ ہر کام منظم تھا پوری دنیا سے آئے ہوئے چھوٹے بڑے مردوزن اسلام کے لئے ہر خدمت کے لئے تیار تھے تھے میں سجھتا ہوں کہ آج اسلام احمدیت کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔ یونان سے ایک دوست کہتے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ حیرت انگیز بین الاقوامی جلسہ میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی جلسہ کا ماحول، منتظمین اور شرکاء کی فراخ دلی کا ہر پہلو جماعت احمدیہ کےنصب العین‘‘محبت سب کے لئے’’ کو اجاگر کرتا ہے۔ ہر لحاظ سے میرا خیال رکھا گیا۔
جاپان سے بدھ مت معابدکے چیف کہتے ہیں کہ جلسہ کا ماحول دیکھ کر دل کو حقیقی سکون ملتا ہے۔ سب کی حفاظت کے لیے چیکنگ تو ہوتی ہے لیکن کوئی جھگڑا نہیں دیکھا کسی کو تلخ ہوتے نہیں دیکھا کھانے سے لے کر سب پروگرام نہایت منظم تھے۔ پھر میرے خطاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ بہت بروقت محسوس ہوا، کہتے ہیں کہ جاپانی معاشرہ بھی والدین اور بچوں میں دوری کے مسئلہ سے دوچار ہے، آپ کی نصائح ہم اپنے معاشرہ میں استعمال کرکے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا۔کہتے ہیں کہ اسلام کے بارے میں پہلے بھی میرا برا تصور نہیں تھا لیکن جلسہ کا ماحول دیکھ کر جب بیعت کی تقریب کا وقت ہوا تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے فیصلہ کیا کہ دنیا میں محبت و اخوت پر مبنی معاشرے کی تکمیل کے لئے مجھے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے دینا چاہئے۔ میں آپ کی لیڈرشپ کو تسلیم کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ دنیا کے امن کے لئے کی جانے والی کاوشوں میں آپ کا مددگار ہوں گا۔
حضور انور نے فرمایا: ارجنٹائن سے ایک خاتون تھیں ان کے خاوند نے 10 ماہ پہلے احمدیت قبول کرلی تھی یہ خود عیسائی ہیں کہتی ہیں کہ پیشے کے اعتبار سے میں وکیل ہوں جلسہ کی تقاریرمیں سے میری پسندیدہ تقریر امام جماعت کا اختتامی خطاب تھا جلسے میں شامل ہونے سے قبل کل کچھ پریشان تھی میرا خیال تھا کہ اس قدر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوں گے تو یقیناً بدمزگی اور جھگڑے ہوں گے۔ لیکن آپ لوگوں کا جمع ہونا ہمارے لوگوں کے جمع ہونے سے بالکل مختلف تھا ۔پھر یہ بھی فکر تھی کہ جلسہ میں شامل ہونے کے لیے اسلامی پردہ کا حکم نہ دیا جائے لیکن شروع سے لے کر آخر تک میں نے اپنے آپ کو آپ کے درمیان اسلامی پردہ کے بغیر بہت ہی comfortableمحسوس کیا۔لائبیریا کے منسٹر برائے پوسٹ اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کہتے ہیں کہ جلسہ کے پروگرام کا انعقاد ایسے خوبصورت طریق سے کیا گیا کہ مجھے اس میں کسی قسم کی کمی دیکھنے کو نہیں ملی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ تمام انتظامات رضاکاروں کی ٹیم انجام دے رہی تھی 39 ہزار سے زیادہ لوگوں کے لئے اتنے وسیع پیمانے پر انتظامی بدمزگی کے بغیر سارے پروگرام ترتیب دینا کم از کم میرے لیے حیران کن ہے۔
یورو گائے (Uruguay) سے مہمان خاتون تھیں۔ کہتی ہیں کہ میں تیس سال سے زائد عرصہ سے اسلامی ممالک اور تنظیموں کا مطالعہ کر رہی ہوں آپ کے جلسہ میں شامل ہو کر دو امتیازی باتیں دیکھی ہیں جو کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملیں، پہلی یہ کہ جماعت کے اتحاد اور ایک لیڈر کے ذریعے یکجہتی کی مثال کہیں نہیں دیکھی۔ ہرکوئی اپنے خلیفہ سےاطاعت اور اخلاص کا غیرمعمولی رشتہ رکھتاہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ یہ وہ معیار ہے جو ہمارے دوستوں اور حاسدوں کو نظر آتا ہے اس وجہ سے حاسد پھر فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کی آج ہم نے حفاظت کرنی ہے عمل سے بھی اور دعا سے بھی۔ پھر کہتی ہیں کہ دوسری بات یہ کہ جماعت میں کسی قسم کا ریس ازم Race ism نہیں پایا جاتا۔ آپ کی جماعت کا نظام ہر قسم کے ریس ازم اور قومی تعصب سے پاک معلوم ہوتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں بس یہ وہ خوبی ہے۔ یہ نہیں کہ ظاہری طور پر چند دن کے لئے ہم دکھائیں بلکہ ہمیشہ ہمارے اندر رہنی چاہئے یہی وہ آخری پیغام تھا حضرت محمدﷺنے ہمیں دیا تھا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔ انسان کی حیثیت سے سب برابر ہیں۔
حضور انور نے فرمایا مراکش کے ایک دوست جو فلسفہ کے پروفیسر ہیں کہتے ہیں کہ جلسہ سے بہت اچھا تاثر ہم نے لیا ہے۔ یہ جماعت کو قریب سے دیکھنے کا بڑا اچھا موقع تھا۔ ہمیں جماعت کے اعلی اخلاق کا پتہ لگا جو اسلام اورحضرت محمد ﷺ کی تعلیم کا عکس ہیں یہ جلسہ کے ذریعے مخالفین کے پروپیگنڈا کا جھوٹ بھی ہم پر کھل گیا۔ پھر ایک دوست جو مذہبی امور کے ڈائریکٹر جنرل ہیں کہتے ہیں کہ جلسے کے تین دنوں میں جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ یہ تھی کہ احمدی احباب کی تربیت خالص اسلامی تعلیمات کے مطابق کی گئی ہے ۔تمام احمدی جو اس جگہ جمع ہوئے یوں لگتا تھا کہ اسلامی بھائی چارہ کی اعلیٰ مثال ہیں۔ ایک ہی ماں کی اولاد اور ایک ہی گھر سے آرہے ہیں۔ غیر معمولی رضاکاروں کے مسکراتے چہرے ہیں یوں لگتا تھا کہ کوئی آسمانی مخلوق ہیں۔ بینن کی کونسل جنرل ہیں کہتی ہیں کہ 50ویں جلسہ سالانہ میں شامل ہوئی تھی وہی روحانی ماحول اور سب کے لئے جذبات آج بھی ہیں۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہے کہ جماعت احمدیہ کے رضاکاروں کا جو انتظام ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ہر چیز اعلی معیار کی تھی۔
حضور انور نے فرمایا:گیبون کے سابق وزیراعظم جلسے میں شامل ہوئے تھے کہتے ہیں کہ سو سے زائد ممالک سے لوگوں کا ہزاروں کی تعداد میں جلسے میں شامل ہونا میرے لئے ایک منفرد تجربہ تھا۔ رضاکاروں نے دن رات کام کیا کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔ جلسہ کے دوران پیش کی جانے والی تقاریر سے مجھے اسلام بالخصوص احمدیت کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا ۔سینٹرل افریقن ریپبلیکن کے صدر کے مشیر کہتے ہیں کہ انتظامات بہت اعلی تھے۔ جلسہ کے دوران جماعت احمدیہ کے رضاکار جن میں بچے جوان بوڑھے شامل تھے ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے تھے ان لوگوں نے ایک خلیفہ کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے بہترین انتظامات کا ثبوت دیا۔ پھر کہتے ہیں کہ اعلیٰ پائے کی تعلیمات جو آپ پیش کرتے ہیں دل پر اثر کرنے والی تھیں۔ میں اپنے اور اپنے ملک کی طرف سے اس کامیاب جلسے کے انعقاد کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور جماعت احمدیہ کو دعوت دیتا ہوں کہ میرے ملک میں بھی ان تعلیمات کو عام کریں۔ پیراگوئے کے وائس منسٹر آف ریلیجن کہتے ہیں کہ مجھے احمد یہ جماعت کو جان کر بڑی خوشی ہوئی مجھے لگتا ہے کہ پیراگوئے بحثیت ملک آپ سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ ان کو خاص کر عورتوں اور بچوں کے بارے میں اسلامی تعلیم کی روشنی میں جو بیان کیا گیا تھا وہ بہت پسند آیا تھا۔ ماسکو سے آنے والے ایک صاحب نے جلسے میں شرکت کے بعد کہا کہا کہ ہم ایک فیملی ہیں جو پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ میں میں شرکت کے لئےآئے ہیں۔ ہمیں جلسہ بہت پسند آیا۔
حضور انور نے فرمایا: برازیل سے آئے ہوئے ایک مہمان کہتے ہیں کہ مجھے اپنے ملک برازیل کی نمائندگی میں اس عظیم اسلامی جلسہ میں شمولیت اختیار کرنے کی بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ خلیفہ وقت کی تقاریر حقیقی اسلام کا گہوارہ ہے۔ آپ کی باتیں از خود دل میں اتر جاتی ہیں۔ جلسے میں نماز کا منظر میرے لئے غیرمعمولی اور حیران کن بات تھی کہ ایک آواز پر سب کا اٹھنا اور بیٹھنا۔ ایک اور بات جس نے مجھ پر غیر معمولی اثر چھوڑا ہے جس کو بیان کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جیسے ہی خلیفہ کہیں بھی آتے ہیں تو ہزاروں افراد کا مجمع ایک دم خاموش ہوجاتا ہے۔ کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔پھر ایک دوست کہتے ہیں کہ جلسے کے انتظامات بہت عمدہ تھے ۔جلسے کا ماحول ایک بڑی فیملی کی دعوت کی طرح تھا۔ جس میں اجنبیت نہ تھی خلیفہ کی تقاریر میں وہ تمام لوازمات موجود تھے جو ہمارے مطمح نظر کو بدلنے کے لئے ضروری ہیں ۔تقریر کی سب سے اچھی بات یہ لگی کہ انہوں نے کسی قوم کی منفی بات نہیں کی بلکہ ان کا سارا زور اسلام کی حقیقی اور مثبت تعلیمات پر تھا۔ گھر سے نکلنے سے پہلے اسلام میرے لئے صرف ایک مذہب تھا لیکن یہاں آکر دیکھا کہ اسلام صرف ایک مذہبی نہیں بلکہ ایک برادری ہے، ایک فیملی ہے، ایک کنبہ ہے۔ عالمی بیعت کے حوالے سے کہتے ہیں مجھے پہلے صرف اتنا محسوس ہوا کہ یہ تقریب سب شاملین کے لئے خاص اہمیت کی حامل ہے۔ مگر جیسے ہی بیعت شروع ہوئی کسی نے میرے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ پھر میں نے بھی اپنے آگے والے شخص کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، میں نے محسوس کیا کہ ایک برقی رو ہے جو تمام شاملین جلسہ میں سے گزر رہی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ احمدی بیعت کے بعد اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کرتے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا: سلووینیا سے ایک پروفیسر کہتی ہیں کہ میں نے کہیں ایسا اسلام نہیں دیکھا جو جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے۔جلسے کا انتظام بہت اچھا اور عمدہ ہے نہ کوئی مسئلہ ،نہ کوئی لڑائی، نہ کوئی گند، میں اس بات سے بہت متاثر ہوں۔ کہتی ہیں کہ جماعت احمدیہ کا موقف حضرت عیسیٰ کے متعلق یعنی صلیب کاواقعہ آپ کی ہجرت اور وفات سب سے زیادہ قابل یقین اور حقائق کے مطابق معلوم ہوتی ہے۔ سلوینیا سے ایک مصنف اور پیدائشی مسلمان ہیں۔ لیکن کبھی ان کی اسلام میں دلچسپی نہیں رہی بس نام کے مسلمان تھے۔ پچھلے دو سال سے کہتے ہیں کہ میں نے اسلام کے بارے میں پڑھنا شروع کیا اور پھر اپنی نماز بھی پڑھنی شروع کی لیکن کسی امام کے پیچھے کبھی نماز نہیں پڑھی جماعت احمدیہ کے ساتھ نماز پڑھنے کا ایک الگ مزہ ہے۔ ایک اور بات جو انہیں پسند آئی وہ یہ تھی کہ احمدی وہی کرتے ہیں جو کہتے ہیں حضور فرماتے ہیں یہ ہمارے لیے چیلنج بھی ہے کہ ہمارا قول اور عمل ایک ہونا چاہئے۔ پھر ہالینڈ سے گروپ آیا ہوا تھا ان میں سے ایک سابق ممبر پارلیمنٹ ہیں کہتے ہیں کہ جماعت کو میں اچھی طرح جانتا ہوں پہلے بھی میں جلسے میں شامل ہو چکا ہوں۔ پھر اٹلی سے واسکو صاحب جواسلامی فقہ اور شریعت کے پروفیسر ہیں کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ میرے لئے بہت کامیاب رہا۔ میں نے امام جماعت کا اختتامی خطاب سنا اور مجھے بہت پسند آیا۔ میں نے عالمی بیعت میں بھی شرکت کی اور میں اس تقریب میں بہت جذباتی ہو گیا تھا۔
حضور انور نے فرمایا: جواد صاحب ہیں جو فرانس میں منسٹری آف جسٹس کے لئے کام کرتے ہیں کہتے ہیں کہ پہلی بار جلسہ میں شامل ہونا خوشی کا باعث تھا کہ مجھے آپ کی جماعت کو اتنے قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ آپ کی جماعت کے فلاحی کام کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اسپین کے وفد میں ایک مہمان شامل تھیں ۔ ’’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘‘ کا ذکر کرکے کہتی ہیں کہ میرے خیال میں یہ جملہ کا مل رنگ میں اس شاندار اجتماع کی عکاسی کر رہا ہے۔ یہ ایسا مذہب ہے جسے دنیا میں امن کی مساعی اور ناانصافی کے خلاف جنگ کے لئے جانا چاہئے۔ بلاشبہ یہ چند ایام میرے دل میں نقش رہیں گے۔ برازیل سے ایک دوست ڈان فرانسسکو صاحب جو اخبار اور ریڈیو کے مالک ہیں شاہی خاندان سے بھی تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں کہ جلسہ کا انتظام متاثر کن تھا بہت سی باتیں سیکھنے کا موقع ملا۔ میں انڈیا کی ایک مسجد میں اپنی بیوی کے ساتھ گیا تو وہاں مسلمانوں کی طرف سے غیر مناسب رویہ پایا۔ لیکن یہاں جلسہ سالانہ کے دوران اور بعد میں بھی اُس کے مقابل بہت عزت ملی۔ بنگلہ دیش کے ایک ریٹائرڈ جسٹس نظام الدین صاحب کہتے ہیں کہ میں احمدی نہیں ہوں لیکن احمدی مسلمان ہیں۔ میں احمدیوں کی حمایت کرتا ہوں ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے عقیدے کا پرچار کرے۔
حضورانور نے فرمایا: کیمرج یونیورسٹی کےپروفیسر کہتے ہیں کہ میرا پہلا جلسہ ہے مجھے افسوس ہےکہ میں اس سے پہلے شامل نہ ہو سکا ۔ ایک دوست کہتے ہیں کہ میں بہت خوش ہوں کہ اتنے بڑے جلسے سے خطاب کا موقع دیا گیا میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا تھا کہ اسلام کتنا پُر امن اور مخلوق خدا سے محبت کرنے کا درس دینے والا مذہب ہے۔ امریکہ سے حکومتی طور پر کانگریس کا اور اس کے علاوہ یوایس کمیشن برائے مذہبی آزادی کے نمائندے بھی آئے ہوئے تھے۔یوکراین سے ایک دوست تھے۔مذہبی علوم کے ماہر ہیں۔ دو کتابیں تصنیف کر چکے ہیں جماعت کے لٹریچر کا وسیع مطالعہ کیا ہے انہوں نے جلسہ میں شرکت کی اور پھر بیعت بھی کر لی۔کہتے ہیں کہ عربی زبان کا ایک لفظ نور ہے۔ جس کا مطلب روشنی ہے اور جلسہ سالانہ بھی روشنی ہے جو ایمان سے منور کرتی ہے۔ پھر خطابات سے معلوم ہوا اس دنیا میں میری موجودگی کا اصل مقصد کیا ہے۔ میکسیکوکی ماریہ صاحبہ کہتی ہیں کہ اسلام قبول کئے دو ماہ ہوئے ہیں میرے اسلام کے بارے میں کافی سوالات تھے۔ جلسہ میں شمولیت کی وجہ سےاسلام کے بارے مین معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔ شکوک ختم ہو گئے ہیں۔
حضور انور نےفرمایا: پریس اور میڈیا کی رپورٹ ہے۔اس وقت 183 میڈیا رپوٹ نشر ہو چکی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق 173ملین سے زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچا ہے۔بہت سے چینلز نے کوریج دی ہے۔ ایم ٹی اے افریقہ کے ذریعہ 19 چینلز پر کورج ہوئی۔ غیروں کے تاثرات بھی ہیں جو بہت متاثر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ جلسہ میں شامل ہونے والے احمدیوں کے لئےجلسہ سالانہ ان کے ایمان کی ترقی کا باعث بنائے۔ ان باتوں پر عمل کرنے والے ہوں جو لوگوں کے دلوں پر اثر کرنے والی ہوں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعا لیٰ نے نمازوں کے بعد محترم مجیب الرحمن صاحب ایڈووکیٹ سابق امیرضلع راولپنڈی کی نماز جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان فرمایا اور ان کا ذکر خیراور جماعتی خدمات کا تذکرہ بھی فرمایا۔یہ 30جالائی 2019 کو طاہر ہارٹ انسیٹیوٹ میں 85 سال کی عمر میں وفات پاگئے تھے۔ بے شمار جماعتی مقدمات میں انہوں نے پیروی کی اور حق ادا کیا۔ فقہ کمیٹی کے رکن تھے۔ جلسہ سالانہ پر میں تقاریراور ایم ٹی اے کے پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا۔

(مرتبہ: باسل احمد)