skip to Main Content
خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ 6 ستمبر2019ءبمقام مسجد مبارک اسلام آباد ٹلفورڈ۔ یو کے

غزوہ بدر میں شامل آنحضرت ﷺ کے صحابی حضرت عبادة بن صامتؓ کی سیرت و سوانح۔
اللہ تعالیٰ ان بدری صحابہؓ کے درجات بلند فرمائے جنہوں نے ہمیں بعض ایسی باتیں پہنچائیں جو ہمارے روحانی علم کے علاوہ عملی زندگی گزارنے کے لئے بھی ضروری تھیں۔
مکرم سعید سوقیا صاحب سیریا، مکرم الطیب العبیدی صاحب تیونس اورمحترمہ صاحبزادی امۃ الشکور صاحبہ دُختر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کی وفات پر مرحومین کا ذکرخیر اور نماز جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مورخہ6ستمبر 2019ء کو مسجد مبارک اسلام آباد ٹلفورڈ یو کے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹر نیشنل پر براہ راست نشر کیا گیا۔ حضور انور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں حضرت عبادة بن صامتؓ کا میں ذکر کر رہا تھا جو مکمل نہیں ہوا تھا۔ ان کے بارے میں مزید واقعات و روایات اب بیان کرتا ہوں۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ جب عبداللہ بن أبی کے کہنے پر اس کے حلیف قبیلہ بنو قینقاع نے مسلمانوں سے جنگ کی تو حضرت عبادة ؓ بھی عبداللہ بن أبی کی طرح ان کے حلیف تھے۔ لیکن اس جنگ کی حالت کی وجہ سے یہ اس قبیلے سے الگ ہو گئے اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی خاطر ان کے حلیف ہونے سے بری ہو گئے۔ بنو قینقاع نے جب جنگ کی تو اس کے بعد بہرحال ان کا گھیراؤ کیا گیا،جنگ ہوئی اور انہوں نے شکست کھائی ۔ سیرة خاتم النبیین میں اس واقعہ کا مختلف تاریخوں سے  لے کر ذکر کیا گیا ہے اس طرح ہے کہ اس جنگ کے بعد جب بنو قینقاع کی شکست ہوئی تو ان کو جلا وطنی کا حکم دیا گیا۔ حضور انور نے بنو قینقاع کے ساتھ ہونے والی جنگ کی تفصیل بیان کی اور فرمایاکہ بنوقینقاع کو جلاوطنی کی سزا ان کے جرم کے مقابل میں اور اس کے علاوہ اس زمانہ کے حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک بہت نرم سزا تھی اور دراصل اس میں صرف خود حفاظتی کاپہلو مدنظر تھا۔ مقصدیہ تھا کہ مدینہ کے مسلمانوں کی حفاظت ہو جائے ورنہ عرب کی خانہ بدوش اقوام کے نزدیک تو نقل مکانی کوئی بڑی بات نہ تھی پھرتے رہتے تھے ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے تھے۔ خصوصاً جب کسی قبیلہ کی جائیدادیں زمینوں اورباغات کی صورت میں نہ ہوں جیسا کہ بنو قینقاع کی نہیں تھیں۔ پھر سارے کے سارے قبیلہ کو بڑے امن وامان کے ساتھ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ جاکر آباد ہونے کا موقع مل جاوے۔ چنانچہ بنوقینقاع بڑے اطمینان کے ساتھ مدینہ چھوڑ کرشام کی طرف چلے گئے۔ ان کی روانگی کے متعلق ضروری اہتمام اورنگرانی وغیرہ کاکام آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابی عبادة بن صامتؓ کے سپرد فرمایا۔ چنانچہ عبادة بن صامت چند منزل تک بنوقینقاع کے ساتھ گئے اور پھر انہیں حفاظت کے ساتھ آگے روانہ کرکے واپس لوٹ آئے۔ مال غنیمت جومسلمانوں کے ہاتھ آیا وہ صرف جنگی آلات تھے یا جوان کا پیشہ تھا اس پہ مشتمل آلات تھے اور اس کے علاوہ کوئی ایسی چیزنہیں تھی جو مسلمانوں نے غنیمت میں لی ہو۔
حضور انور نے فرمایاحضرت عبادة بن صامتؓ سے حدیثوں کی بہت ساری دوسری روایات بھی مروی ہیں۔ ایک روایت ان سے یہ ملتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مصروفیات بہت زیادہ تھیں اس لئے مہاجرین میں سے کوئی آدمی جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اسے قرآن سکھانے کے لئے ہم میں سے کسی کے حوالے کر دیتے تھے کہ ان کو لے جاؤ اور قرآن سکھاؤ دینی تعلیم بھی سکھاؤ۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو میرے سپرد کیا وہ میرے ساتھ گھر میں رہتا تھا اور میں اسے اپنے گھر والوں کے کھانے میں شریک کرتا تھا اسے قرآن پڑھاتا تھا جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے لگا تو اس نے خیال کیا کہ اس پر میرا حق بنتا ہے یعنی اس رہنے کی وجہ سے اور اتنی خدمت کی وجہ سے اور قرآن سکھانے کی وجہ سے میرا اس کے اوپر کچھ حق بن جاتا ہے۔ چنانچہ اس وجہ سے اس نے مجھے ایک کمان ہدیۃً پیش کی، تیر کمان کی کمان تحفۃً پیش کی اور کہتے ہیں کہ وہ ایسی اعلیٰ قسم کی کمان تھی کہ اس سے عمدہ لکڑی اور نرمی میں اس سے بہترین کمان میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے متعلق پوچھا کہ یا رسول اللہ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ اس طرح وہ مجھے کمان کا تحفہ دے کر گیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تمہارے کندھوں کے درمیان ایک انگارہ ہے جو تم نے لٹکایا ہے۔ یعنی یہ تحفہ تم جو لے رہے ہو یہ اس لئے دے کر گیا ہے کہ تم نے اسے قرآن پڑھایا ہے اور یہ اس طرح تم نے آگ لی ہے جو اپنے کندھوں میں لٹکا رہے ہو۔ شارحین نے اس روایت سے یہ استدلال کیا ہے کہ گویا قرآن پڑھانے کی اجرت کے طور پر کمان تھی جسے حضور ﷺ نے ناپسند فرمایا پس وہ لوگ جو انفرادی طور پر قرآن کریم پڑھانے کو ذریعہ آمد بنا لیتے ہیں ان کے لئے بھی اس میں رہنمائی ہے۔
حضرت راشد بن ہویش سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ حضرت عبادة بن صامتؓ کی عیادت کے لئے ان کے ہاں تشریف لائے، جب کہ وہ بیمار تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون لوگ ہیں؟ تو لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ حضرت عبادة ؓنے ان سے کہا کہ مجھے سہارا دے کر بٹھا دو چنانچہ لوگوں نے آپ کو بٹھایا تو حضرت عبادة ؓنے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ نے سوال کیا ہے کہ شہید کون لوگ ہیں، جو بہادری اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرنے والا اور ثواب کی نیت رکھنے والا ہو وہ شہید ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر صرف اتنا ہی ہے تو اس طرح تو پھر میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ عز و جلّ کے راستے میں قتل ہو جانا شہادت ہے، طاعون کی وجہ سے مر جانا بھی شہادت ہے جو ایک وبا پھیلی ہے اگر اس میں مؤمن بھی کسی وجہ سے لپیٹ میں آ جاتے ہیں اور وہ اچھے مؤمن ہیں تو وہ ایسی صورت میں شہادت ہے۔ پھر پانی میں غرق ہو جانا بھی شہادت ہے اور پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مرنا بھی شہادت ہے اور آپ نےفرمایا کہ نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت کو اس کا بچہ اپنے ہاتھ سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا یعنی ایسی عورت جو بچے کی پیدائش کے وقت خون بہنے کی وجہ سے مر جاتی ہے تو فرمایا کہ اسے بھی اس کا بچہ کھینچ کر جنت میں لے جائے گا یعنی بچہ اس کو جنت میں لے جانے کا باعث بن جائے گا۔ حضور انور نے فرمایاصحیح بخاری میں ایک روایت درج ہے جو اس سے ملتی جلتی ہے۔ حضرت ابوہریرةؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شہید پانچ ہیں طاعون سے مرنے والا ، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔ اب یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو طاعون ایک نشان کی صورت میں بتایا گیا تھا اب اس کے لئے یہ نشانی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لوگ جو ماننے والے ہیں صحیح ایمان لانے والے ہیں ان کے اوپر اس کا حملہ نہیں ہو گا اس لئے یہاں ایک بالکل اور صورت بن جاتی ہے لیکن عمومی طور پر اگر ایک وبا پھیلی ہوئی ہے اور ایک مؤمن ہے اور کامل مؤمن ہے وہ اس وجہ سے اگر مرتا ہے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ شہید ہے۔اسماعیل بن عبید انصاری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبادةؓ نے حضرت ابوہریرة ؓسے فرمایا کہ اے ابوہریرة ! آپ اس وقت ہمارے ساتھ نہ تھے جب ہم لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی ہم نے آپ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے اور خوشحالی اور تنگی میں خرچ کرنے پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے متعلق صحیح بات کہنے اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے پر اور نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر ان کی مدد کرنے اور اپنی جانوں اور اپنے بیوی بچوں کی خاطر آپ کی حفاظت کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی یہ تمام ساری باتیں ایسی تھیں جن پر ہم نے بیعت کی تھی جس کے عوض ہمارے لئے جنت کا وعدہ ہے۔ پس یہ ہے رسول اللہ ﷺ کی بیعت جس پر ہم نے بیعت کی جو اسے توڑتا ہے وہ اپنا نقصان کرتا ہے۔ جو ان شرائط کو جس پر ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی پورا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس بیعت کی وجہ سے نبی ﷺ کے ذریعہ کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا۔
حضور انور نے فرمایاحضرت معاویہ نے ایک دفعہ حضرت عثمان غنی ؓ کو خط لکھا کہ حضرت عبادة بن صامتؓ کی وجہ سے شام اور اہل شام میرے خلاف شورش برپا کر رہے ہیں۔ اب یا تو آپ عبادة کو پاس بلا لیں یا پھر ان کے اور شام کے درمیان سے میں ہٹ جاتا ہوں یعنی میں یہاں سے چلا جاتا ہوں۔ حضرت عثمانؓ نے لکھا کہ آپ حضرت عبادةؓ کو سوار کروا کے مدینہ منورہ میں ان کے گھر کی طرف روانہ کر دیں چنانچہ حضرت معاویہ نے انہیں روانہ کر دیا اور مدینہ منورہ وہ پہنچ گئے۔ حضرت عثمانؓ کے پاس ان کے گھر چلے گئے حضرت عبادة ؓجہاں سوائے ایک آدمی کے اگلے پچھلوں میں سے کوئی نہ تھا یعنی کہ جس نے صحابہؓ کو پایا تھا انہوں نے حضرت عثمانؓ کو مکان کے کونے میں بیٹھے ہوئے پایا پھر آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ اے عبادة بن صامت! آپ کا اور ہمارا کیا معاملہ ہے۔ تو حضرت عبادة ؓ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد ایسے لوگ تمہارے حکمران ہوں گے جو تمہیں ایسے کاموں کی پہچان کرائیں گے جنہیں تم ناپسند کرتے ہو گے اور ایسے کاموں کو ناپسند کروائیں گے جنہیں تم اچھا سمجھتے ہو گے۔ سو جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت نہیں پس تم اپنے رب کی حدود سے تجاوز نہ کرنا۔ حضور انور نے فرمایا بنیادی چیز جو ضروری ہے وہ یہ ہے اس میں یاد رکھنے والی کہ اللہ تعالیٰ کی حدود جو ہیں ان سے تجاوز نہیں کرنا ان کے اندر رہنا ہے۔ بس یہی ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور پھر اطاعت کے دائرے کے اندر رہنا چاہئے۔
فرمایاعطاء بیان کرتے ہیں کہ میں ولید سے ملا جو حضرت عبادة بن صامتؓ صحابی رسول ﷺ کے بیٹے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے والد یعنی حضرت عبادةؓ کی موت کے وقت وصیت کیا تھی تو انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے یعنی حضرت عبادة نے مجھے بلایا اور کہا کہ اے میرے بیٹے اللہ تعالیٰ سے ڈر اور جان لے کہ تو ہرگز اللہ کا تقویٰ اختیار کر نہیں سکتا جب تک کہ تو اللہ پر ایمان نہ لائے ایمان کامل ہونا چاہئے۔ اور ہر قسم کے خیر و شر کی تقدیر پر بھی ایمان نہ لائے۔ پس اگر تو اس کے علاوہ کسی اعتقاد پر مرا تو تو آگ میں داخل ہو گا۔
جنادة بن ابو امیہ سے مروی ہے کہ جب ہم حضرت عبادةؓ کے پاس گئے وہ بیمار تھے ہم لوگوں نے کہا کہ اللہ آپ کو صحت دے آپ کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو تا کہ اللہ آپ کو نفع پہنچائے آپ نے کہا کہ نبی ﷺ نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ کی بیعت کی۔ آپ نے جن باتوں کی بیعت ہم سے لی وہ باتیں یہ تھیں کہ ہم بیعت کرتے ہیں اس بات پر کہ ہم اپنے خوشی اور اپنے غم اور اپنی تنگدستی اور خوشحالی اور اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی صورت میں سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور حکومت کے لئے حاکموں سے جھگڑا نہیں کریں گے۔ حکومت کے لئے حاکموں سے جھگڑا نہیں کریں گے لیکن اعلانیہ کفر پر جس پر اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔ سوائے اس کے کہ اعلانیہ کفر پر مجبور کیا جائے واضح ہو باتیں وہاں اور بات ہے۔ اور وہ بھی اگر اختیارات ملتے ہیں تب۔ سنابی روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عبادة بن صامت کے پاس گیا جبکہ وہ موت کے قریب تھے میں رو پڑا تو انہوں نے کہا ٹھہرو کیوں رو رہے ہو خدا کی قسم اگر مجھ سے گواہی طلب کی جائے تو میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا اور اگر مجھے شفاعت کا حق دیا گیا تو میں تمہاری شفاعت کروں گا اور اگر مجھے طاقت ہوئی تو میں تجھے فائدہ پہنچاؤں گا پھر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ہر حدیث جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی جس میں تمہارے لئے بھلائی تھی وہ میں نے تمہارے سامنے بیان کر دی ہے سوائے ایک حدیث کے جو میں آج تمہیں بتاؤں گا جبکہ میں موت کی گرفت میں ہوں کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے اس پر آگ حرام کر دی یعنی وہ مسلمان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان صحابہؓ کے درجات بلند فرمائے جنہوں نے ہمیں بعض ایسی باتیں پہنچائیں جو ہمارے روحانی علم کے علاوہ عملی زندگی گزارنے کے لئے بھی ضروری تھیں۔
حضور انور نے آخر پر مکرم سعید سوقیا صاحب سیریا، مکرم الطیب العبیدی صاحب تیونس اورمحترمہ صاحبزادی امۃ الشکور صاحبہ جو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کی سب سے بڑی بیٹی اور حضرت مصلح موعود ؓ کی پوتی تھیں اور ننھیال کی طرف سے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ اور حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کی نواسی تھیں، کی وفات پر ان تمام مرحومین کا ذکر خیر کیااور نماز جمعہ کے بعد ان مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھانے کا بھی اعلان فرمایا ۔حضور انور نے فرمایا ایک اور بات کہ آج چونکہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع شروع ہو رہا ہے اس لئے جمعہ اور عصر کی نمازیں جمع ہوں گی۔

(منیر احمد رشید)

image_printپرنٹ کریں