skip to Main Content
خلاصہ خطبہ فرمودہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز   24مئی 2019 ءبمقام اسلام آبادٹلفورڈ یو۔کے

جو خلافت سے وابستہ ، اللہ اور رسولؐ کے حکموں پر عمل ، نمازوں کی حفاظت ، تزکیہ نفس اور تزکیہ اموال ، اطاعت میں اعلیٰ معیار قائم کرتے رہیں گے ،وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے رہیں گے

ہمیشہ اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ خلافت کی طرف سے بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اتباع میں شریعت اور سنت کے مطابق ہی احکام دئیے جاتے ہیں اور دئیے جاتے رہیں گے

     سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح  الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 24مئی 2019ء کو مسجد مبارک اسلام آباد ٹلفورڈ یو ۔کے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے  انٹر نیشنل پر براہ راست  نشر کیا گیا ۔حضور انور نے سورۃ النور کی آیات 52 تا 58 کی تلاوت اور ترجمہ کے بعد فرمایا کہ اس میں آیت استخلاف بھی ہے یعنی وہ آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں میں خلافت کا سلسلہ جاری رکھنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس آیت سے پہلے اور بعد کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور حکموں پر عمل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔اگر یہ ہو گا تو پھر اللہ تعالیٰ خلافت کا انعام دینے کا وعدہ پورا فرمائے گا اللہ تعالیٰ خوف کی حالت کو امن میں بدلے گا اور دشمنوں کو ان کے انجام تک پہنچائے گا۔ فرمایااگر ہم جائزہ لیں تو اکثر موقع پر یہ نظر آئے گا کہ اطاعت کے وہ معیار حاصل نہیں کرتے جو ہونے چاہئیں۔ اگر کسی بات پر عمل کر بھی لیں تو بڑی بے دلی سے عمل ہوتا ہے جو مرضی کے خلاف باتیں ہوں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم  کااتنی بار جو اطاعت کا حکم آیا ہے ، خلافت کے جاری رکھنے کے وعدے کے ساتھ ،گویا اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ خلافت کا نظام بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکامات اور نظام کا ایک حصہ ہے۔ پس خلافت کی باتوں پر عمل کرنا بھی تمہارے لئے ضروری ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے ۔ دلی خوشی کے ساتھ کامل اطاعت کے نمونے ہمیں صحابہ ؓ کی زندگیوں میں کس طرح نظر آتے ہیں ۔ فرمایاایک جنگ میں جنگ کی کمان حضرت خالد بن ولید ؓ کے سپرد کی گئی لیکن حضرت عمر ؓ نے کسی وجہ سے ان کو بدل دیا اور عین جنگ کی حالت میں ان کو بدلا گیا۔ تو بہرحال اس حالت میں خلیفہ وقت کا حکم آیا کہ اب کمان حضرت ابو عبیدةؓ  کریں گے ان کو دے دی جائے۔ تو حضرت ابو عبیدة ؓ نے اس خیال سے کہ حضرت خالد بن ولید ؓ بڑی عمدگی سے کمان کر رہے ہیں ان سے چارج نہیں لیا لیکن حضرت خالد بن ولیدؓ نے کہا کہ آپ فوری طور پر مجھ سے چارج لیں کیونکہ یہ خلیفہ وقت کا حکم ہے اور میں بغیر کسی شکوے کے یا دل میں کسی قسم کا خیال لائے بغیر کامل اطاعت کے ساتھ آپ کے نیچے کام کروں گا جس طرح آپ کہیں گے۔ تو یہ اطاعت کا معیار ہے جو ایک مؤمن کا ہونا چاہئے نہ یہ کہ اگر کوئی فیصلہ خلاف ہو جائے تو شکوہ شروع کر دیں۔ کسی عہدے دارکو ہٹا کر دوسرے کو مقرر کر دیا جائے تو کام کرنا چھوڑ  دیں۔ جو ایسا کرتا ہے نہ تو اس میں اطاعت ہے نہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے نہ تقویٰ ہے۔ مجھے پتا لگا ہے کہ بعض صدران ایسے ہیں جنہوں نے جون میں اپنے ٹرم ختم ہونے سے پہلے نئے قاعدے کے مطابق اس لئے کام چھوڑ دیا ہے کہ اب ہم کیوں کام کریں۔ کیا یہ صرف اس لئے کام کر رہے تھے کہ ہم نے مستقل عہدیدار رہنا ہے جو ذمہ داریاں مئی جون کے مہینے میں نبھانی ہوتی ہیں انہوں نے اس پر توجہ نہیں دے رہے۔ ایک تو ایسی سوچ اپنے دینی کام میں خیانت ہے دوسرے یہ باغیانہ سوچ ہے اور اپنے آپ کو خلافت کے خلافت کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکالنے والی بات ہے کیونکہ اب خلیفہ وقت نے اس قاعدے کو منظور کر لیا ہے کہ صدر کی ٹرم چھ سال ہو گی اس لئے ہم بھی اب پوری طرح دلجمعی سے کام نہیں کریں گے۔ پس ایسے لوگوں کو تقویٰ سے کام لینا چاہئے اور خوف خدا کرنا چاہئے۔ پس بیعت کے بعد اپنی سوچوں کو درست سمت میں رکھنا اور کامل اطاعت کے نمونے دکھانا انتہائی ضروری ہے۔

             حضور انور نے فرمایازمانے کے امام نے اپنی بیعت میں آنے والوں کے معیار کے بارے میں فرمایا کہ ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پر عمل کرتا ہے لیکن جو محض نام لکھ کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا تو یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیا ہے اور کوئی آدمی جو دراصل جماعت میں نہیں محض نام لکھوانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔ یعنی عملی حالت اگر اس تعلیم کے مطابق نہیں تو صرف نام لکھوا کر جماعت میں شامل ہونے والی بات ہے اور اصل میں حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ میری نظر میں تو وہ جماعت میں نہیں ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کرو جو دی جاتی ہے اور وہ تعلیم یہ ہے کہ فتنہ کی بات نہ کرو ،شر نہ کرو ،گالی پر صبر کرو ،کسی کا مقابلہ نہ کرو۔ یعنی لغو اور بیہودہ باتوں میں مقابلہ نہ کرو ان باتوں میں مقابلہ نہ کرو کہ اب فلاں عہدیدار بن گیا تو میں نے اطاعت نہیں کرنی یا مجھے ہٹایا گیا تو میں نے اطاعت نہیں کرنی۔ فرمایا اور جو مقابلہ کرے اس سے سلوک اور نیکی سے پیش آؤ عام معاملات میں بھی روزمرہ معاملات میں بھی لڑائی جھگڑوں میں بھی۔ اگر کوئی مقابلہ ہوتا بھی ہے فضولیات پہ،لغویات پہ تب بھی صرف نظر کرو بلکہ نیکی سے پیش آؤ۔ فرمایا کہ شیریں بیانی کا عمدہ نمونہ دکھاؤ، خوش اخلاقی سے بات کرو ،نرم زبان استعمال کرو ،اچھا نمونہ دکھاؤ اس کا۔ سچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا تعالیٰ راضی ہو اور دشمن بھی جان لے کہ بیعت کر کے اب وہ نہیں رہا جو کہ پہلے تھا۔ مقدمات میں سچی گواہی دو۔ اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جاوے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تو حکم دے تو ہم یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے۔ جب حکم دو تو اس پر پورے نہیں اترتے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم زیادہ قسمیں نہ کھاؤ بڑے بڑے وعدے نہ کرو۔ اگر معروف اطاعت کر لو۔ ایسی اطاعت جو عرف عام میں اطاعت سمجھی جاتی ہے تو ہم سمجھیں گے کہ تم نے حکم مان لیا ورنہ صرف منہ کے دعوے ہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے عمل سے بھی باخبر ہے اور تمہارے دلوں کی حالت سے بھی باخبر ہے۔ پس عام اطاعت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرو اس کی عبادت بھی سنوار کر کرو۔ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے اس کے بندوں کے حق بھی ادا کرو اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود ؑنے فرمایا ہے جو میں نے ابھی بیان کی ہے کہ ہر قسم کے فتنہ سے بچو ہر قسم کے شر اور لڑائی اور جھگڑے سے بچو۔ اپنے اخلاق عمدہ کرو۔ ایسے اعلیٰ اخلاق ہوں کہ احمدی اور غیر احمدی میں فرق صاف نظر آنے لگ جائے۔ سچائی پر ہمیشہ قائم رہو غرض کہ تمام قسم کی نیکیاں کرنا ضروری ہے اور یہی معروف اطاعت ہے اسی کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اسی بات کا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا اور حکم دیا ہے اپنی جماعت کے افراد کے لئے۔ اور خلافت احمدیہ بھی ان باتوں کے کرنے کی طرف ہی توجہ دلاتی رہتی ہے۔ اور اسی طرح یہ بھی ہے کہ انتظامی معاملات میں بھی کامل اطاعت کا نمونہ دکھاؤ۔ صرف دینی یا روحانی معاملات نہیں۔اور اس جھگڑے میں نہ پڑو کہ یہ معروف کے زمرے میں بات آتی ہے یا نہیں۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکموں کے خلاف کوئی بات ہے تو وہ یقینا غیر معروف ہے۔ پس یہ جو ہم عہد میں دوہراتے ہیں کہ خلیفہ وقت جو بھی معروف فیصلہ کریں گے اس کی پابندی کرنی ضروری سمجھوں گا اس سے ہر ایک اپنی خود ساختہ تشریح معروف فیصلہ کی نہ نکالنے لگ جائے کہ یہ فیصلہ معروف ہے اور یہ نہیں ہے۔ پس ہمیشہ اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ خلافت کی طرف سے بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اتباع میں شریعت اور سنت کے مطابق ہی احکام دئیے جاتے ہیں اور دئیے جاتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ اگر اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے ورنہ اس سے ہٹ کر کوئی نجات کا راستہ     نہیں ہے۔

            حضور انور نے فرمایااللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور نیک عمل کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ کا خلافت جاری رہنے کا وعدہ ہے۔ نیک اعمال ان کے ہی نہیں ہیں جو اپنی صرف عبادتوں کی طرف توجہ دیتے ہیں اور اپنی عبادتیں اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرتے ہیں ا ور ہر قسم کے شرک سے بچتے ہیں صرف ظاہری شرک نہیں بلکہ دنیاوی خواہشات اور ان کے پیچھے پڑ کر دین کو ثانوی حیثیت دینے کی حالت بھی شرک کی حالت ہے۔ بیشک یہ بہت بڑی نیکیاں ہیں لیکن ساتھ ہی اطاعت جو ہے وہ بہت ضروری ہے۔پس اگر خلافت کے وقت کا جو وعدہ ہے اس کے فیض سے صحیح فائدہ اٹھانا ہے تو پھر نہ صرف اپنی عبادتوں کی حفاظت کرنی ضروری ہے دنیاوی خواہشات کے شرک سے بچنے کی ضرورت ہے ،کامل اطاعت خلیفہ وقت کی کرنی بھی ضروری ہے ورنہ پھر نافرمانوں میں شمار ہو گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مؤمنوں کی جماعت خلافت سے وابستہ رہنے والوں کی جماعت، نمازوں کو قائم رکھنے والی جماعت ہے، نمازوں پر قیام کی طرف توجہ دینے والی ہے ،مسجدوں کو آباد کرنے والی ہے اور زکوة دینے والی ہے۔ اپنے اموال کا تزکیہ کرنے والی ہے۔ خدا اور اس کے رسول اور اس کے دین کی خاطر مالی قربانیاں دینے والی ہے اور رسول ﷺ کے احکامات اور آپ ؐ  کی سنت پر حتیٰ الوسع عمل کرنے والی ہے اور جب یہ حالت ہوتی ہے پھر اللہ تعالیٰ ایسے بندوں پر رحم فرماتا ہے۔ پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک ہم میں اطاعت کا مادہ ہے کس حد تک ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں کس حد تک ہم اپنی عبادتوں کو سنوار رہے ہیں کس حد تک سنت پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کس حد تک ہماری اطاعت کے معیار ہیں یہ جائزے خود ہمیں اپنے آپ سے لینے چاہئیں۔ حضور انور نے حضرت مصلح موعود ؓ کے حوالے سے بعض باتیں ، چند تاریخی حوالے پیش فرمائے کہ کس طرح جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جو ہر ایک کو بے چین کر رہے تھے اور پھر خلافت نے سکون بخشا۔ وہ لوگ جو بعد میں پیغامی یا غیر مبائع خلافت کی بیعت سے ہٹ گئے اور پیغامی یا غیر مبائع کہلائے ان کا پہلے کیا رویہ تھا اور پھر خلافت ثانیہ کے انتخاب کے بعد کیا رویہ تھا۔ کس قسم کے ان کے خیالات تھے پہلے اور پھر بعد میں۔ پھر دشمن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد کس طرح خوش تھا لیکن حضرت خلیفہ اول کے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد کس طرح کھسیاہٹ کا اظہار کیا اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے بعد مخالفین احمدیت کو ایک اور امید پیدا ہوئی کہ اب جماعت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کی جماعت کو کس طرح سنبھالا اور پھر کس طرح خوف کی حالت کو امن کی حالت میں بدلا۔ اور جو خلافت کے زیر سایہ جماعت ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب دنیا کے 212 ممالک میں قائم ہو چکی ہے۔

              حضور انور نے فرمایاانتخاب خلافت خامسہ کے وقت ایک مولوی صاحب کہنے لگے کہ سارا کچھ میں نے دیکھا ہے نظارہ۔ لگتا تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت تم لوگوں کے ساتھ ہے لیکن یہ نشان دیکھ کر بھی ماننے کے بجائے حسد اور مخالفت اور بغض میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ تو خلافت سے وابستہ جماعت کو ترقی دے رہا ہے جماعتیں پھیل رہی ہیں دنیا میں اور دور دراز ملکوں میں بیٹھے ہوئے بھی خلافت سے وفا کا تعلق رکھے ہوئے ہیں اور اس میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خلافت اور جماعت سے جڑنے والوں کی رہنمائی بھی فرماتا ہے ۔حضور انور نے اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت کے ساتھ ہونے  کے بعض واقعات بیان فرمائے جس میں وہ اظہار کرتے ہیں کہ واقعی احمدیوں کا خلیفہ خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا ہے۔ یہ خلافت جو جاری ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے  اور بتاتےہیں  کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے خود ان کی رہنمائی کی۔اور اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ کس طرح ان کو احمدیت قبول کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خلافت سے تعلق پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور کس طرح ان کی ایسی حالتوں کو جہاں وہ انتہائی پریشانی کی حالت میں تھے امن بھی عطا فرمایا۔  حضور انور نے فرمایاپس جو خلافت سے وابستہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں پر عمل کرتے رہیں گے۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کریں گے، تزکیہ نفس اور تزکیہ اموال کرتے رہیں گے، اطاعت میں اعلیٰ معیار قائم کرتے رہیں گے ،وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے رہیں گے۔ پس خلافت احمدیہ کے ذریعہ ہی دنیا اب امت واحدہ بننے کا نظارہ بھی دیکھ سکتی ہے اور اس کے بغیر نہیں۔ پس ہم میں سے ہر ایک کو ہمیشہ دعائیں کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس فیض کو ہم میں ہمیشہ جاری رکھے۔ دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم تمام دنیا کو مسلمان بنانے والے ہوں امت واحدہ بنانے والے ہوں اور آنحضرت ﷺکے جھنڈے تلے لانے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

            حضور انور نے فرمایاگزشتہ خطبہ میں جو یہاں مسجد کےافتتاح کا خطبہ تھا اس میں ایک ذکر کرنا میں بھول گیا تھا کہ اس مسجد کی جب بنیاد رکھی گئی تھی ، میں کینیڈا کے سفر پہ تھا ، تو بہرحال اینٹ پہ دعا کروا کے انہوں نے مجھ سے لے لی تھی اور اس مسجد کی بنیاد 10اکتوبر 2016ء کو دعاؤں کے ساتھ مکرم عثمان چینی صاحب مرحوم نے رکھی تھی اور اس مسجد کی بنیاد کے ساتھ ہی اس سارے پراجیکٹ کی بھی تعمیر بھی شروع ہوئی تھی اور اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے چینی قوم کا بھی اس میں حصہ ہے اور اس لئے ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ چین میں بھی ہمیں اسلام کو جلد پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ہمیں جہاں ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کرنی چاہئے وہاں چین میں بھی اور دنیا کے ہر ملک میں بھی احمدیت اور حقیقی اسلام کے پھیلنے کے لئے بھی بہت دعائیں کرنی چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔

image_printپرنٹ کریں