skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ16۔ اگست2019ءبمقام مسجد بیت الفتوح لندن

غزوہ بدر میں شامل آنحضرت ﷺ  کے صحابہ حضرت قتادة بن نعمان انصاری ؓاور حضرت عبداللہ بن مظعونؓ کی سیرت و سوانح

غزوہ احد میں جب بھی کوئی تیر رسول اللہ ﷺ کی طرف آتا تو حضرت قتادة ؓاپنا سر اس کے آگے کر دیتےتا کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کے لئے ڈھال بن سکیں۔حضرت عبداللہ بن مظعون ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے دار ارقم میں جانے اور اس میں دعوت اسلام دینے سے قبل اسلام

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مورخہ16۔ اگست 2019ء کو مسجد بیت الفتوح لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں  میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹر نیشنل پر براہ راست نشر کیا گیا ۔حضور انور نے فرمایا: آج میں بدری صحابہ ؓ کا ذکر کروں گا جو کہ گزشتہ کافی عرصہ سے چل رہا ہے ۔ پہلا ذکر ہے حضرت قتادة بن نعمان انصاری ؓ کا۔ آپؓ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنوظفر سے تھا۔ ان کے والد کا نام نعمان بن زید اور والدہ کا نام انیسہ بنت قیس تھا۔ حضرت قتادة ؓ کی کنیت ابو عمر کے علاوہ ابو عمرو اور ابو عبداللہ بھی بیان کی جاتی ہے۔ حضرت قتادة حضرت ابو سعید خدری کے اخیافی یعنی والدہ کی طرف سے بھائی تھے۔ حضرت قتادة ؓ کو ستّر انصاری صحابہؓ کے ہمراہ بیعت عقبہ میں شمولیت کی توفیق ملی۔ البتہ دوسری روایت میں علامہ ابن اسحاق نےعقبہ میں شامل ہونے والے انصاری صحابہ میں ان کا تذکرة نہیں کیا ۔حضرت قتادة ؓ رسول اللہ ﷺکے مقرر کردہ تیر اندازوں میں سے تھے۔غزوہ بدر، احد، خندق اور بعد کے دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شمولیت کی توفیق ملی۔ غزوة احد کے روز حضرت قتادة ؓ کی آنکھ پر تیر لگا جس سے ان کی آنکھ کا ڈیلا باہر آ گیا ۔ حضرت قتادة ؓ خود اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک کمان بطور ہدیہ دی گئی تو وہ غزوہ احد کے روز آپ ﷺ نے مجھے عطا فرمائی۔ میں اس کے ذریعہ رسول اللہﷺ کے سامنے تیر چلاتا رہا یہاں تک کہ اس کا وتر یعنی کمان کی جو ڈور ہوتی ہے وہ ٹوٹ گئی۔ میں اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کے سامنے رہا۔ عموماً حضرت طلحہؓ  کا ذکر ہوتا ہے ،ان کا بھی ذکر ہے۔ کہتے ہیں میں سامنے کھڑا رہا۔ جب بھی کوئی تیر رسول اللہ ﷺ کی طرف آتا تو میں اپنا سر اس کے آگے کر دیتا تا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کے لئے ڈھال بن سکوں۔ اس وقت میرے پاس کوئی تیر نہیں تھا جسے میں چلا سکتا۔ اسی دوران ایک تیر میری آنکھ پر لگا جس سے میری آنکھ کا ڈیلا نکل کر میری گال پر آ گیا اور جتھہ منتشر ہو گیا۔ میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے ڈیلے کو پکڑا ، اپنے ہاتھ پر رکھ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ پس جب رسول اللہ ﷺ نے اسے میرے ہاتھ میں دیکھا تو آپ ؐ      کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا اے اللہ قتادة ؓنے اپنے چہرے کے ذریعہ تیرے نبی کے چہرے کو بچایا ہے پس تو اس کی اس آنکھ کو دونوں آنکھوں میں سے زیادہ خوبصورت اور زیادہ نظر والی بنا دے چنانچہ وہ آنکھ دونوں میں سے زیادہ خوبصورت اور دونوں میں سے نظر کے اعتبار سے زیادہ تیز تھی۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو واپس اس جگہ پر رکھ دیا اور وہ وہیں دوبارہ بحال بھی ہو گئی نظر ان کی اور بڑی اچھی ہو گئی اور اسی وجہ سے بعد میں  پھرحضرت قتادہ ؓذوالعین یعنی آنکھ والے کے لقب سے بھی مشہور ہو گئے ۔

حضور انور نے فرمایا کہ فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ بنو ظفر کا جھنڈا حضرت قتادة ؓکے ہاتھ میں تھا۔ حضرت قتادہ ؓنے 65 سال کی عمر میں 23 ہجری میں وفات پائی۔ حضرت عمر ؓنے مدینہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت قتادة ؓکے ایک پوتے کا نام عاصم بن عمر تھا جو علم الانساب کا ماہر تھا اور اس سے علامہ ابن اسحاق نے بکثرت روایات بیان کی ہیں۔ ایک روایت ہ

image_printپرنٹ کریں