skip to Main Content
خلاصہ خطبہ عید الاضحیٰ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ12۔ اگست 2019ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگر کسی کا دل تقویٰ سے خالی ہےتو قربانی کے نام پر لاکھوں جانور بھی ذبح کر دو تو اللہ کی رضا حاصل کرنے والے نہیں بن سکتے ۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ اصل چیز تقویٰ ہے ۔تقویٰ کی روح سے کی گئی قربانی خدا تعالیٰ کو پسند ہے ۔ پس اس سے ہم نے سبق لینا ہے کہ ہر قربانی کے لئے تیا ر رہیں گے اور دین کو دنیا پر مقدم کریں گے ۔ اگر یہ قربانی ہمیں ہمارے عہد ِذمہ داری  کو یاد کروانے والی نہیں تو پھر یہ ظاہری ایک میلہ ہے

بے آب و گیاہ وادی میں کھجوروں کی تھیلی اور معمولی سے پانی کے مشکیزے کے ساتھ وہ عورت زندگی گزارنے کو تیار ہو گئی۔اس لئے کہ اس کو اللہ تعالیٰ پر یقین اور توکل تھا ۔اس عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ اللہ کے حکم پر آپ ہمیں یہاں چھوڑے جا رہے ہیں تو پھر ٹھیک ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مورخہ 12۔ اگست 2019ء کو مسجد بیت الفتوح لندن میں نماز عید الاضحیٰ پڑھائی۔حضور انور GMT 09:35 پر نما ز عید کی ادائیگی کے لئے بیت الفتوح میں تشریف لائے۔نماز عید اور تکبیرات پڑھنے کے بعد حضور انور نے خطبہ عیدالاضحیٰ ارشاد فرمایا۔تشہد، تعوّذ اور سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الحج کی آیت 38 کی تلاوت  فرمائی جس کا ترجمہ اس طرح ہےکہ’’ ہر گز اللہ تک نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون لیکن تمہارا تقویٰ اس تک پہنچے گا اسی طرح اس نے تمہارے لئے انہیں مسخرکر دیا ہے تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو۔اس بنا پر کہ اس نے تمہیں ہدایت عطا کی اور احسان کرنے والوں کو خوشخبری دے دے‘‘۔حضور انور کا یہ خطبہ عید الاضحیٰ  مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر براہ راست  نشر کیا گیا ۔جسے دنیا بھر میں بسنے والے احمدیوں نے ایم ٹی اے پر براہ راست دیکھا اور سنا ۔ خطبہ عید الاضحیٰ  کا خلاصہ استفادہ کی غرض سے قارئین کی خدمت میں پیش ہے ۔

حضور انور نے فرمایاآج ہم عید الاضحیٰ  جسے عید قربان کہا جاتا ہے منا رہے ہیں۔ مکہ میں بھی اور دنیا کے مختلف ممالک  میں مسلمان  لاکھوں جانور آج ذبح کر رہے ہیں اور کریں گےلیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہےگو یہ جانوروں کی قربانی اللہ کے حکم سے ہے اور عبادت ہے۔ جو عمرہ یا حج نہیں کر رہےمگر قربانی کی توفیق رکھتے ہیں تو اچھی بات ہے ۔ لیکن اگر ان قربانیوں میں تقویٰ کی روح نہیں تو پھر یہ بے فائدہ ہیں ۔اللہ تعالیٰ کوئی خون کا بھوکا نہیں، نہ اس کو اس کی کوئی ضرورت ہے۔پس اگر کسی کا دل تقویٰ سے خالی ہےتو قربانی کے نام پر لاکھوں جانور بھی ذبح کر دو تو اللہ کی رضا حاصل کرنے والے نہیں بن سکتے ۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ اصل چیز تقویٰ ہے ۔تقویٰ کی روح سے کی گئی قربانی خدا تعالیٰ کو پسند ہے ۔ پس اس سے ہم نے سبق لینا ہے کہ ہر قربانی کے لئے تیا ر رہیں گے اور دین کو دنیا پر مقدم کریں گے ۔ اگر یہ قربانی ہمیں ہمارے عہد ِذمہ داری  کو یاد کروانے والی نہیں تو پھر یہ ظاہری ایک میلہ ہےاور عید تقویٰ پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بن رہی۔یہ عید ہمیں ہماری ذمہ داریوں سے آگاہ نہیں کر رہی اور عہد کو پورا کرنے کا احساس نہیں دلا رہی ۔ صرف ہم نے قربانی کی اور اور جانور ذبح کر کے گوشت کھایااور عزیزوں کو کھلایا ۔تو چونکہ یہ تقویٰ کی روح کے بغیر ہوا تو یہ بے فائدہ ہے ۔فائدہ تبھی ہے جب ہم اپنے عہد کو پورا کرنے والے بنیں ۔اپنی گردنیں اللہ کے سامنے رکھیں۔  اللہ کی عبادت  اور اس کے بندوں کا حق ادا کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوں کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایااور پھر احمدی مسلمان بنایا ۔جس نے جان، مال ، وقت اور عزت و اولاد کوقربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنے کا عہد کیا اور پھر یہ کہ عہد بیعت کو بھی قائم رکھتے ہوئے خلافت سے عہد بیعت کامل شرح صدر سے نبھاؤں گا۔اگر یہ روح پیدا ہو جاتی ہے تو پھر ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ خوش ہے ۔

حضور انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ اگر ظاہری نماز و روزہ کے ساتھ اخلاق اور صدق نہ ہو تو کوئی خوبی نہیں۔ جوگی بھی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں مگر ان کو کوئی سکون نہیں ملتا ۔روحانیت اور نور جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتاہے وہ نہیں ملتا ۔ فرمایا اندرونی حالت ان کی خراب ہوتی ہے ۔بدنی ریاضت کرتے ہیں جس کو اندر سے کم تعلق ہوتا ہے ۔اسی لئے قرآن کریم میں فرمایا گیا کہ خدا تعالیٰ تک تمہارے قربانیوں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتےبلکہ تمہارے دلوں کا تقویٰ پہنچتا ہے ۔حقیقت میں خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا وہ روح اور مغز چاہتا ہے ۔

 حضور انور نے فرمایا کہ یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ اگر گوشت اور خون نہیں پہنچتا تو پھر قربانی کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟نماز اور روزہ اگر روح کا ہے تو پھر ظاہر کی کیا ضرورت ہے؟فرمایا کہ اس کا جواب یہی ہےکہ یہ بات بالکل پکی ہے کہ جو لوگ جسم سے خدمت لینا چھوڑ دیتے ہیں ان کو روح نہیں مانتی اور نیاز مندی اور عبودیت پیدا نہیں ہو سکتی جو اصل مقصد ہے۔اور جو جسم سے کام لیتے ہیں مگر روح قائم نہیں کرتے تو وہ بھی خطر ناک غلطی میں مبتلا ہیں اور یہ جوگی اسی قسم کے لوگ ہیں ۔ فرمایا روح اور جسم کا باہم ایک تعلق خدا تعالیٰ نے رکھا ہے ۔ جسم کا روح پر اثر پڑتا ہے۔ جسمانی اور روحانی سلسلےدونوں برابر چلتے ہیں۔ روح میں جب عاجزی پیدا ہوتی ہے تو جسم میں بھی عاجزی پیدا ہوتی ہے ۔جب روح میں واقعی عاجزی ہو تو جسم میں بھی آثار پیدا ہو جاتے ہیں ۔

حضور انور نے فرمایا کہ تقویٰ کے معیارکو بلند کرو ۔ اس طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ’’ تم خدا سے اتنا ڈروکہ گویا مر ہی جاؤ۔اور ایسے ذبح ہو جاؤجیسے جانور ذبح ہوتا ہے ‘‘۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت ہاجرہؑ نے وہ قربانی پیش کی تھی۔ اس لئے آج ہر ملک میں لوگ جمع ہوئے ہیں اور اس قربانی کی یاد کو تازہ کر رہے ہیں۔اس خاندان کی قربانی نے کسی بھی عمر اور طبقہ کے مسلمان کو عذر پیش کرنے والا نہیں رہنے دیا ۔ مرد نے بھی قربانی دی اور عورت نے بھی قربانی دی اور بچہ نے بھی قربانی دی ۔اس چھری کے نیچے آنے سے بہت بڑھ کربے آب و گیاہ وادی میں کھجوروں کی تھیلی اور معمولی سے پانی کے مشکیزے کے ساتھ وہ عورت زندگی گزارنے کو تیار ہو گئی ۔ اس لئے کہ اس کو اللہ تعالیٰ پر یقین اور توکل تھا ۔اس عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ اللہ کے حکم پر آپ ہمیں یہاں چھوڑے جا رہے ہیں تو پھر ٹھیک ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا ۔

حضور انور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی خاطر کی گئی قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی اور خوشخبریاں ملتی ہیں۔یہ نمونے انہوں نے بھی دیکھے اور ہزاروں لوگوں نے بھی دیکھے۔ ہر شخص جو اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی کے لئے تیار رہتا ہے تو اس کے غم و فکر اور دکھ خوشیوں میں بدل جاتے ہیں ۔ فرمایا اپنی اوربچے کی قربانی کے لئے وہ عظیم عورت تیار ہو گئی تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والی بن گئی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اس قربانی کو ایسا نوازا کہ تا قیامت زندہ کر دیا ۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نسل سے ایسا عظیم نبی پیدا ہواکہ جس کی روحانی قوت قدسی سےایسی جماعت پیدا ہوئی کہ ہر کوئی تقویٰ کے اعلیٰ معیار کو چھوتے ہوئے ایسی قربانی دینے والا بنا کہ مثال ملنا مشکل ہے ۔فرمایا کہ آج کل میں بدری صحابہ ؓ کے حالات پر خطبات جمعہ دے رہا ہوں۔جن میں بچوں اور عورتوں کا بھی ضمناً ذکر آجاتا ہےکہ وہ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں ۔ آنحضرتﷺ کے ارشاد کے مطابق ان کے عمل ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہیں ۔اس زمانہ میں جب حضرت مسیح موعودؑ کو ہم نے مانا ہے تو اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارا ہر قسم کی نیکی کو بجا لانا  اور اس کا معیار ان لوگوں کے برابر ہےیا کم از کم اس معیار کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو آپ ﷺ  کے صحابہ ؓنے قائم فرمایا تھا ۔ فرمایا ہم میں سے بھی ایک طبقہ ہے جو ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو دین کودنیا پر مقدم کرنےوالوں کی حالت ہے ۔ لیکن دنیا داری نے ہم میں سے ایک طبقہ میں وہ حالت پیدا کی ہوئی ہے جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کرتے ہیں لیکن تقویٰ کی حالت وہ نہیں  جو ایک حقیقی تقویٰ پر چلنے والے کی ہونی چاہئے۔ اس بارے میں حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ’’انسان کو دقائقِ تقویٰ کی رعایت رکھنی چاہئے ۔سلامتی اسی میں ہے ‘‘۔ ان باریکیوں کو سامنے رکھو ۔اگر انسان ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی پرواہ نہ کرے تو پھر ایک دن وہی باتیں کبائر کا مرتکب بنا دیں گی۔تم اپنے زیر نظر تقویٰ کے اعلیٰ معیارکو حاصل کرنا رکھواور اس کے لئے دقائقِ تقویٰ کی رعایت ضروری ہے۔ایک آدھ نماز کو چھوڑنے والے کہتے ہیں کہ چھوٹ جاتی ہے ۔فرمایا ایک آدھ  کو چھوڑنا نمازوں سے لا پرواہ کردیتا ہے ۔ چھوٹی چھوٹی لغویات میں مبتلا  ہونا دین سے ہٹا دیتا ہے ۔

حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں اول سے آخر تک اوامر و نوا ہی کی تفصیل موجود ہے اور مختلف احکامات ہیں ۔خلاصتاً یہ کہتا ہوں کہ خدا کو ہر گز منظور نہیں کہ انسان زمین پر فساد کرے۔ اللہ تعالیٰ دنیا پر وحدت پھیلانا چاہتا ہے ۔ لیکن جو شخص اپنے بھائی کو رنج پہنچاتا ہے وہ وحدت کا دشمن ہے ۔جب تک یہ بد خیال دور نہ ہوں کبھی ممکن نہیں  کہ سچی وحدت پھیلے ۔فرمایا کہ ہر قسم کی بدی سے اپنے آپ کو بچانا تقوی ٰہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم سچے تقویٰ پر چلنے والے ہوں اور قربانی   کی عید ہمیں صحیح قربانی کا فہم دینے والی ہو ۔تقویٰ کی باریک راہوں کو سمجھتے ہوئےخدا کی رضا حاصل کرنے والے ہوں ۔ فرمایا آج اس عید میں ان لوگوں کو بھی یاد رکھیں جنہوں نے اپنی جان کی قربانی دی، ان کی نسلوں کو خلافت کے ساتھ مضبوطی سے جوڑے رکھے۔ ان کی نسلوں کے حق میں شہداء کی دعاؤں کو قبول فرمائے۔پھر ان مبلغین کے درجات کے لئے بھی دعا کریں جو قربانی کر کے دور دراز   ممالک میں گئے اور اسلام کا پیغام پہنچایا۔اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں میں بھی ایمان قائم رکھے۔ پھر ان کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں جو اس وقت دین کی خاطر قربانی دے رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کو تقویٰ پر چلتے ہوئےاسلام کا پیغام پہنچانے کی توفیق دے۔ اور ہر ایک نفس کی ملونی سے پاک ہو کر خدمت دین کرنے والے ہوں اور قربانی کو بھی قبول فرمائے۔اسیران راہ مولیٰ کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جلد ان کی رہائی کے سامان پیدا فرمائے۔جو لوگ ظالمانہ قانون کی وجہ سے ایک لمبے عرصہ سے قربانی سے گزر رہے ہیں جلد اللہ تعالیٰ ان کو اس ظلم سے نجات دلائے۔اللہ تعالیٰ ہماری بھی پردہ پوشی فرمائے اور ہمیں ایمان میں بڑھائے ۔ پہلے سے بڑھ کر ترقی کے نظارے دیکھنے والے ہوں تاکہ حقیقی عید کی خوشیاں دیکھ سکیں۔۔ اپنے ایمان میں بڑھیں۔ اپنے بھائیوں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ یہی سبق ہےجو عید ہم کو دیتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس پر عمل کرنے  کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نےدعا کروائی۔ دعا کے بعد فرمایایہاں اور ساری دنیا کے احمدیوں کو عید مبارک ہو۔

image_printپرنٹ کریں