skip to Main Content
خلاصہ خواتین سےخطاب  سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 3۔اگست 2019ء

حیا عورت کا زیور ہےاور ایمان کا حصہ ہے،قرآنی تعلیم کے مطابق پردہ کرنے کی تعلیم پر عمل کی ضرورت ہے
اپنی اولاد کی نیک تربیت کرنے،تقویٰ کی راہوں پر چلنے اورخدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے پر زورکی اہمیت و ضرورت

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ یوکےکے دوسرے روزمورخہ 3۔اگست 2019 کو خواتین سے خطاب فرمایا ۔حضور انور11بجکر 55منٹ پرلجنہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے۔خواتین اور ناصرات نےحضور انورکااستقبال بلند شگاف نعروں سے کیا۔ اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔محترمہ ھبة النورالجابی نے سورۃ الحجرات کی آیات نمبر 12تا14 کی تلاوت کی۔محترمہ قرۃ العین طاہر نے تفسیر صغیر سے ترجمہ پیش کیا۔محترمہ ا مۃ النورباجوہ نےحضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کا کلام

ایمان مجھ کو دے دے عرفان مجھ کو دے دے
قربان جاؤں تیرے قرآن مجھ کو دے دے

خوش الحانی سے پیش کیا ۔ اس کے بعد تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی خوش قسمت طالبات کوحضورانورایدہ اللہ تعالی ٰنے اپنے دست مبارک سے اسناد و انعامات عطا فرمائے اور حضرت سیدہ بیگم صاحبہ مدّ ظلہا العالی نے ان طالبات کو میڈل پہنائے ۔
تشہد، تعوذ،اورسورۃ فاتحہ کے بعد حضور انورایدہ اللہ نے سورۃ الحدیدکی آیت اِعْلَمُوْ اَنَّمَا الْحَیَوۃَ الدُّنْیَا لَعِبً وَلَھْوً ……… اور سورۃ الحشر کی آیت یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اَمَنُوْااِتَّقُوْاللہَ……..کی تلاوت فرمائی اور اردو ترجمہ پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ موضوع شروع کرنے سے پہلےمیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے رپورٹ ملی ہے کہ یہاں بعض عورتیں تقریروں کے دوران بہت زیادہ باتیں کرتی رہتی ہیں خاص طور پر کرسیوں پر بیٹھی ہوئی خواتین ان کو احتیاط کرنی چاہئے۔پھرحضور فرماتے ہیں کہ آج دنیا مادیت میں اس قدر گھرچکی ہے کہ دین کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان ترقی یافتہ ممالک میں20 سے 25فیصد لوگ بھی نہیں ہیں جواپنےآپ کو دین سے منسوب کرتے ہیں نہ صرف دین سے دور جا رہے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے وجود کے بھی انکاری ہیں صرف دنیا ان کا مطمح نظر ہے۔مسلم دنیا کی اکثریت بھی دینی تعلیم سے دور ہے ،بدعات میں پڑی ہوئی ہے کہنے کو تو یہ مسلمان ہیں لیکن عمل نہیں ہیں حضرت مسیح موعودؑکے زمانہ سے اگر آج کے زمانے کا موازنہ کیا جائے تو اور بھی بری حالت ہوچکی ہے اسلامی اخلاق و تعلیمات سے دور جا چکے ہیں۔ مگر احمدیت کی مخالفت میں کٹ مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ان کے لئےفقط احمدیت کی مخالفت کا نام اسلام ہے۔
حضور انورنے فرمایا پس ہمیں اس بات سے غرض ہونی چاہئے کہ دنیا کو آگ میں گرنےسے بچائیں ۔خدا کے قرب کے راستے دکھائیں۔کیا ہم اپنے آپ کو اس کے لئے تیار پاتے ہیں ؟کیا ہم نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں جو خدا کے احکام پر عمل کرنے والا بنا رہی ہیں؟ یا پھر ہم بھی اپنے آپ کو باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ منسوب کرنے کےدنیا کی لہوولعب، کھیل کوداور بدعات کو دین پر ترجیح دے رہے ہیں۔آج ہم ہر سال کی طرح اپنی روحانی، علمی اور اخلاقی حالت کو درست کرنے کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں کیاہم جلسہ کے نام پر social gatheringکے لئے جمع ہوئے ہیں یا پھر اپنے کپڑےاور زیور دکھانے کے لئے یہاں موجود ہے یا مرد صرف مجلیس جمانے کے لئے یہاں موجود ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اس کو مقصود بالذات نہ بناؤ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دنیا کی زندگی محض کھیل کود ہے اور دل بہلانے کا سامان ہے ۔کیا ایک عقل مند انسان اس بات کو پسند کرسکتا کہ سارا دن لہو و لعب ،کھیل کود میں مشغول رہے ۔ ایک دنیا دار بھی ہر وقت کھیل کود میں مشغول نہیں رہے گا۔ اگر رہے گا تو اپنی زندگی برباد کرے گا، گھر میں فساد ہوگا، بھوکا مرے گا ۔کئی عورتیں مجھے لکھتی ہیں کہ ہمارے خاوند وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ اگر وقت ہے تو بجائے اس کے کہ دین کو دیں گپیں مارنے میں گزار دیتے ہیں۔ یا فضول قسم کی تفریح اور مصروفیات ہیں اور نماز ،قرآن کی طرف توجہ نہیں دیتے ۔کہنے کو تو یہ احمدی کہلاتے ہیں ضرورت پڑنے پرڈیوٹیاں بھی دے دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے تعلق کا خانہ خالی ہے یا وہ توجہ نہیں ہے جو ایک احمدی کو ہونی چاہئے۔کھیل کود، ٹی وی، انٹرنیٹ میں پڑے رہنا ہی لہو و لعب نہیں ہے بلکہ تمہارا صرف اور صرف دنیا کی فکر کرنا اور دین کی طرف توجہ نہ دینا بھی لھو و لعب ہے۔
حضور انور نے فرمایا پس ہم احمدیوں کو مردہوں یا عورتیں ہوش کرنی چاہئے خدا تعالیٰ کے حق کو ادا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر میرے ساتھ بیعت کا اقرار ہے تو اپنے عمل اس تعلیم کے مطابق بناؤ جو خدا تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے بیان فرمائی ہے ورنہ بیعت کا دعوی صرف دعویٰ ہے۔پس مردوں اور عورتوں کو اپنی حالت میں تبدیلیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض مردوں کو میں نے پوچھا کہ تم اتنے پڑھے ہوئے ہو اور دین کو بھول رہے ہوتو ان کے یہ جواب ہوتے ہیں کہ ہماری بیوی کے مطالبات بہت زیادہ ہیں اس وجہ سے گھر میں جھگڑا رہتا ہے اس لئے ہمیں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے ۔اس مصروفیت کی وجہ سے ہم خدا کی عبادت کی طرف توجہ نہیں دے سکتے فرمایاکہ اول تو یہ عذر ہی لغو اورفضول ہے خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو میری طرف آئے گا میں اسے رزق دوں گا۔اس کو فرمایا کہ خدا تعالیٰ کو اس لئے بھول جائیں کہ ہماری بیوی کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔ گویا خدا تعالیٰ کے مقابلہ پر بیوی کو لارہے ہیں ایسے مردوں کو خدا تعالیٰ کا خوف کرنا چاہئے کہ یہ شرک کے برابر ہے۔حضور انور نے فرمایا عورت اپنے خاوند کو کہے کہ جو دنیا دین کو چھوڑ کر تم مجھے دینا چاہتے ہو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے واضح کرے کہ یہ دنیا داروں کا کام ہے کہ ایسی باتیں کرے کہ فلاں رشتہ دار کا گھر ایسا ہے تم بھی ایسا ہی بناؤ یا ہمارے پاس اعلیٰ قسم کی کار ہونی چاہئے یا فلاں کے پاس اچھا زیور ہے فلاں کی بیوی ڈیزائنر کے کپڑے پہنتی ہے یہ سب کچھ کرنے والوں میں خدا کا خوف نہیں ہوتا، ان کو غریب کا درد نہیں ہوتا۔احمدی عورت واضح کرے کہ میں ایسی خود غرض نہیں ہو ں۔ہمیں خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر یہ سب کچھ نہیں چاہئے۔
حضور انور نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑی خوبصورت مثال سے سمجھایا ہے۔ فرمایا کہ مال اور اولاد کو فخر کا باعث نہ سمجھو یہ تو صرف ظاہری زینت ہےاس کی مثال خوبصورت لہلہاتی فصل کی طرح ہے پھر یہ فصل ایک موقع پر زرد ہو جاتی ہے۔ جب فائدے کا وقت آتا ہے تو اس پر گرم ہوا چلتی ہے اور اسے چورا چورا کرکے بکھیر دیتی ہےاور انسان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا۔ پس تم جو اس زندگی کے سامان کو خوبصورت گھروں ،کاروں ،جائیدادوں، اوراولادوں کو بڑائی کا ذریعہ سمجھتے ہو ان چیزوں میں سے آخر میں تمہارے پاس کچھ بھی نہیں رہے گا۔ خدا تعالیٰ مرنے کے بعد جائیداد، مال اوراولاد کی بجائےیہ پوچھے گا کہ تمہارے اعمال کیا تھے۔ کیا خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کیا؟ کیا اپنے خاوندوں کو کہا کہ مجھے تمہارے پیسے سے زیادہ خدا کی عبادت کا حق ادا کرنا پسند ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو یہ عورتیں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر کےدین و دنیا کی جنت کی وارث بن گئیں۔ اگر نہیں تو پھر ان گرم ہواؤں سے خوفزدہ ہونے کامقام ہے جو اس طرح جھلسا کرریزہ ریزہ کردیتی ہیں جس طرح فصلوں کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہیں۔
حضور انور نے فرمایاکہ مردوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ سب کچھ صرف عورتوں کے ساتھ ہوگا اللہ تعالیٰ نے یہاں مومنوں کے لئے کہا ہے ،انسانوں کے لئے کہا ہے، دنیا والوں کے لئے کہا ہے۔پس مردوں کے لئے بھی خوف کا مقام ہے ہم نے حضرت مسیح موعودؑکی بیعت میں آ کران لوگوں میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے جو آخرین کو پہلوں سے ملانے والے ہیں اس لئے ہمیں ہر نیکی کی بات میں ان پہلو ں کی تقلید کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ان کے نمونے پر چلنے کی کوشش کریں گے تو یہ سوال نہیں ہوگا کہ بیوی نے مطالبہ کیا اور اس کے مطالبات پورے کرنے کے لئے مجھے زیادہ کام کرنا پڑا اور میں اپنی نمازوں کی حفاظت نہیں کر سکا یا بیوی کا جواب یہ نہیں ہوگا کہ میرا خاوند میری بات نہیں مانتا وقت ضائع کرتا ہے۔حضورانور نے فرمایا کہ اُس زمانہ میں اگر شکایت تھی تو یہ شکایت حضور ﷺکے پاس آتی تھی کہ خاوند کہتا ہے کہ یہ دن رات عبادت میں لگی رہتی ہے اور میرے حقوق ادا نہیں کرتی جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو خاوند کی ذمہ داری ادا کرنے کہ نصیحت فرمائی اور عورت کی طرف سے حضور کو یہ شکایت پہنچتی کہ میں تیار ہو کر اس لئے نہیں رہتی کہ میرے خاوند کو میرے سے کوئی غرض نہیں وہ میری طرف دیکھتا ہی نہیں ہے تو کس کے لئے میں تیار ہوں رسول اللہﷺنےاس مرد کو بلا کر کہا کہ میرے اسوہ پر چلو ۔چنانچہ چند دن بعد وہ عورت رسول اللہ ﷺکی ازواج کو ملی تو بڑی تیار ہوئی تھی جب انہوں نے پوچھا کہ یہ تبدیلی کیسی ہے تو اس نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بعد میرا خاوند میری طرف توجہ کرتا ہے۔
حضورانور نے فرمایا کہ وہ عورتیں فیشن کے لئے نہیں دنیا کو دکھانے کے لئے نہیں بلکہ اپنے گھروں میں پاکیزہ ماحول بنانے کے لئے بنتی سنورتی تھیں ۔پس احمدی عورت کو میک اپ کرکے بغیر پردے کے بازاروں میں نہیں پھرنا۔یہ نہیں ہونا چاہئےکہ اس گھر سے ہماری فیملی کے تعلقات ہیں اس لئے ان کے مردوں سے بھی پردے اور حجاب ختم ہوجائیں۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ حیا عورت کا زیور ہے جس پر عورت کو فخر ہونا چاہئے نہ کہ دنیا کے کھیل کود کے سامان اور غیر گھروں میں جاکر لڑکیوں کاراتوں کو رہنا کہ ہماری پرانی دوستی ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ جب بھی حجاب کھلتے ہیں تو بے حیائیاں پیدا ہوتی ہے اور یہی کچھ ہم اس نام نہاد ترقی یافتہ اقوا م میں دیکھتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ مجھے پتہ ہےکہ یہاں پریس والے بھی ہوں گے۔ کہیں گےکہ عورتوں کے حقوق کی باتیں کرتے ہیں اور اپنی عورتوں پر پابندی لگاتے ہیں تو یہ جو چاہے کہیں ہم نے وہی کرنا ہے جو ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے۔فرمایا کہ چھوٹی عمر کے لڑکوں کا بھی راتوں کو باہر رہنا اسی طرح غلط ہے جس طرح لڑکیوں کا رہنا ہے۔ان قدروں کی حفاظت اگر مرداور عورت کریں گے تو اپنی تعلیم اور اقدار پربھی قائم رہیں گے۔ ہاں جہاں اللہ اور اس کے رسول نے یہ اجازت دی ہے کہ کچھ وقت کے لئے حجاب اتار دو یا غیر مرد کو چہرہ دکھا دو تو وہاں پر جائز ہے مثلاًڈاکٹر کے پاس یا رشتہ طے کرتے وقت یا بعض اورمجبوریوں کی وجہ سے اتارنا پڑتا ہے لیکن مجبوریاں جائز ہونی چاہئیں۔
حضورانورنے فرمایا کہ آنحضرتﷺنے فرمایا ہے کہ رشتہ کرتے وقت اصل چیز تمہیں یہ دیکھنی چاہئےکہ اس میں نیکی اور تقویٰ ہے؟ تم اس کا دین دیکھو۔ اگر اس بات کا خیال ہمارے لڑکے اور لڑکیاں رکھیں تو پھر دنیاوی خواہشات کی بجائے دیندار لڑکوں کو ہی لڑکیاں پسند کریں گی اور لڑکے بھی دیندار لڑکیاں ہی پسند کریں گے۔ ایسے معاشرے میں دو ڑدنیا کی زینت کے لیے نہیں ہوگی بلکہ دین میں بڑھنے کے لئے دوڑہوگی کہ کون سا گھر دین میں سب سے اعلیٰ ہے ۔ہمارے لڑکے دیندار لڑکی تلاش کریں گے نہ یہ کہ جب تک واقفیت نہ ہو دوستی نہ ہو ہم کس طرح رشتے کر سکتے ہیں اورپھر لڑکیوں میں بھی احساس ہو رہا ہے کہ لڑکے باہر رشتے کرتے ہیں جو ایسا کرتے ہیں ان کے گھروں میں ان کی ماؤں کی تربیت ٹھیک نہیں ۔بچپن سے لڑکوں کے ذہن میں یہ نہیں ڈالا جاتا کہ تم نے دیندار لڑکی سے رشتہ کرنا ہے۔ اگر مائیں اپنے بچوں کی تربیت خاص کر لڑکوں کی تربیت اس نہج پر کریں کہ تمہیں دیندار لڑکی سے شادی کرنی چاہئے تو لڑکے بھی پھر دین پر قائم ہوں گے یہ نہیں ہو سکتا کہ لڑکے کہیں کہ ہماری بیویاں تو دین دیندار ہو اور ہم جو چاہے کرتے پھریں ۔ دیندار لڑکی پھر دین دار خاوند کوہی تلاش کرے گی۔ایک موقع پر رسول اللہﷺ نے عورتوں کو بڑا انذار فرمایا ہے کہ عورتیں لوگوں کے سامنے دنیاوی چیزوں کا اظہار کرتی ہیں جو عورت سونے کے زیور بناتی ہے اور اس پر فخر کا اظہار کرتی ہے اور عورتوں یا مردوں کو دکھاتی ہے تو فرمایا اس عورت کو عذاب دیا جائے گا۔ بننا سنورنا زیور پہنا منع نہیں ہے مگر اس پر فخر کرنا اور غیر ضروری اور نامناسب اظہار کرنا غلط ہے ۔آنحضرتﷺ کا یہ ارشاد ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں کہ حیا ایمان کا حصہ ہے پس جو خدا کی رضا کے لئے یہ عمل کریں گے تو خدا کی رحمت کی چادر کے نیچے آجائیں گے جو ہر گرم ہوا سے انسان کو محفوظ رکھتی ہے
حضور انور نےفرمایا ایک احمدی کومرد ہو یا عورت اس طرح اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہئےکہ کیا میں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آکر، آخرین میں شامل ہو کر پہلو ں سے ملنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہا ہوں یا کر رہی ہوں؟حضور فرماتے ہیں کہ جو دوسری آیت میں نے تلاوت کی ہے وہ نکاح کے خطبہ میں بھی پڑھی جاتی ہے اس میں اللہ تعالی ٰنے ایمان لانے کے بعد تقویٰ کی طرف توجہ دلائی کہ ایمان تقویٰ کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقویٰ پر چلنے والی ہر جان کا کام ہے کہ وہ کل پر نظر رکھے یہ دیکھےکہ اس نے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے۔ یہ دنیا کے سامان تو آج کی چیزیں ہیں کل نہیں ہوں گی کل کو کام آنے والی چیزیں تقویٰ ہےوہ نیکیاں ہیں جو تم نے کی ہیں ۔اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی ہے جس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ دو لت ،دنیاوی عظمت، دنیاوی علم، فیشن ،اس قسم کی چیزوں کے بارے میں خدا تعالیٰ سوال نہیں کرے گا۔ اسی طرح تمہارا کل تمہاری اگلی زندگی کے علاوہ تمہاری اولاد اور تمہاری نسل بھی ہے ۔اس کی تربیت تقویٰ کی بنیادوں پر کرو۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے والی اولاد تمہارے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنے گی۔ اگر مائیں بچوں کی تربیت بچپن سے کریں تو نیک اولاد پروان چڑھے گی اللہ تعالی ٰ فرماتا ہےکہ وہ تمہارے ہرعمل سے خوب باخبرہے وہ ہماری مخفی سوچوں،مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے۔پس اسے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا اسے یہ علم ہے کہ ہم جب اپنے آپ کو زمانے کے امام سے منسوب کرتے ہیں تو کس حد تک اس کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ اپنی اولادں کو ہم کس حد تک احمدی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔حضورﷺ نے آپ کو اس کا نگران بنایا ہے۔آج کی مائیں بھی اور وہ لڑکیاں بھی جو کل انشاء اللہ تعالیٰ مائیں بننے والی ہیں اس کو سمجھیں، غورکریں، منصوبہ بندی کریں اپنی حالتوں کے جائزے لیں اپنے دینی علم کو بڑھائیں۔اپنی نسلوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کریں کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت میں شامل ہونے کے بعد اپنے اندرہم نے پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں ۔ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے ۔پس ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اگر آپ کے عمل اس تعلیم کے مطابق نہیں جو اللہ تعالی ٰنے ہمیں دی ہے۔ اگر ہماری عبادتوں، اخلاق اور حیا کے وہ معیار نہیں جو خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے ۔اگر ہم بغیر دینی علم کے اضافےکے صرف اس لئے احمدی ہیں کہ ہمارے باپ دادا احمدی تھے تو پھر اللہ تعالی ٰکے حکم کے مطابق اس بات پر نظر نہیں رکھ رہے کہ ہم نے کل کے لئے آگے کیا بھیجاہے بلکہ ہم اس دنیا کےعارضی سامان کے دھوکے میں ہی پڑے ہوئے ہیں ۔ پھر آپ کے بچوں کے دین پر قائم رہنے کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ پس اگر اپنی اور اپنی نسلوں کی دنیا اور آخرت سنوارنی ہے تو بڑی کوشش ، بڑے مجاہدے سے ہمیں دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی۔اللہ تعالیٰ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کسی کے ماں باپ کتنے نیک تھے یا انہوں نے کتنی قربانیاں دیں ۔ ان کے عمل کا صلہ انہیں ملے گا اور ہمارے عمل کا صلہ ہمیں ملنا ہے۔آنحضرتﷺنے بھی حضرت فاطمہ ؓکے بارے میں فرمایا تھا جو کہ آپﷺ کو سب سے زیادہ پیاری تھیں کہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ہونے کی وجہ سے نہیں بخشی جائے گی بلکہ فرمایا کہ تمہارے عمل ہی تمہارے کام آئیں گے تو باقیوں کو کس قدر کوشش کرنی چاہئے۔ ہمارے لئے کس قدر خوف کا مقام ہے۔
اللہ تعالی ٰہر احمدی عورت اور مرد کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلتے ہوئے اپنے عملوں کو اس طرح ڈھالیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن جائیں۔آمین۔
اس کے بعد حضور انور نے دعا کروائی ۔دعا کے بعد حضور کچھ دیر لجنہ مارکی میں تشریف فرما رہے اور لجنہ کی طرف سے نظمیں اور ترانے پیش کئے گئے۔بعد ازاں حضور انورالسلام و علیکم کہہ کر جلسہ گاہ سےتشریف لے گئے۔

(مرتبہ:باسل احمد طاہر)

image_printپرنٹ کریں