skip to Main Content
خلاصہ افتتاحی خطاب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ 2اگست 2019ء

ایمان کے حصول کے ذرائع، اس کی شرائط، ایمان کو مضبوط کرنے کے طریق اور ترک شر کے متعلق روح پرور نصائح
حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیم کو پیش کرتے ہوئے تمام احمدیوں کو تقویٰ ،نیکی اور اخلاقیات میں اپنے معیار بڑھانے کی تلقین

اللہ تعالیٰ کے فضل سے مورخہ 2۔اگست 2019ء کو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس 53ویں جلسہ سالانہ یو کے کے افتتاحی خطاب کے لئے جلسہ گاہ حدیقۃ المہدی ہمپشائر تشریف لے گئے۔ حضور انور نے سہ پہر 3 بج کر 35 منٹ پر لوائے احمدیت کو فضاء میں بلند فرمایا جبکہ مکرم رفیق احمد حیات امیرجماعت یو کے نے برطانیہ کا پرچم فضا ء میں بلند کیا۔ پھر حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے دعا کروائی۔ ازاں بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جلسہ گاہ میں سٹیج پر رونق افروز ہوئے۔ تو نعرہ ہائے تکبیر سے فضا گونج اٹھی، افتتاحی تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم راشد خطاب نے سورۃ آل عمران کی آیات191تا196 کی تلاوت کی۔ محترم نصیر احمد قمر نے ان آیات کا اردو ترجمہ تفسیر صغیر سے پیش کیا۔ پھر مکرم سید عاشق حسین نے حضرت مسیح موعودؑ کا فارسی کلام پیش کیا۔ بعد ازاں مکرم مصور احمد نے حضرت مسیح موعودؑ کے منظوم کلام ‘‘فسبحان الذی اخزی الاعادی’’میں سے چند منتخب اشعار ترنم سے پیش کئے۔ ازاں بعد حضور انور نے خطاب فرمایا۔
تشہد و سورۃ فاتحہ اور آیات کریمہ رَّبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِکی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ اے ہمارے رب! یقیناً ہم نے ایک منادی کرنے والے کو سنا جو ایمان کی منادی کر رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ پس ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! تو ہمارے قصور معاف کر اور ہم سے ہماری برائیاں دور کردے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ موت دے۔
حضور انور نے فرمایا:آج ہمارا یہاں جمع ہونا اس لئے ہے کہ ہم اعلان کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و احسان سے ہمیں آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق آپ ﷺ کے غلام صادق کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے ۔جس نے اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کے احکامات کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ آ پؑ نے بیعت کے بعد اپنی حالتوں کو بدلنے اور اپنی حالت اچھی کرنے کی نصائح فرمائیں ۔ یقیناً اگر ہمارے عمل قرآنی تعلیم کے مطابق نہیں تو ہمارا یہ اعلان کھوکھلا ہے۔ پس حقیقی ایمان کے لئے ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے ایمان کے معیار اللہ اور رسول کے بیان کردہ معیار کے مطابق ہیں یا نہیں؟ اگر ایمان درست نہیں تو پھر ہم اس ارشاد کے نیچے آجائیں گے کہ بادیہ نشین کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے انہیں کہو کہ تم ایمان نہیں لائے ایمان نے تو تمہارے دلوں میں جھانکا تک نہیں۔
حضور انور نے فرمایا: پس یہ غور اور فکر کا مقام ہے اگر ہمارے عمل اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ معیار کے مطابق نہیں ہیں تو پھر ہماری حالت اُن اَن پڑھ جاہلوں والی ہے جن کے بارے میں اللہ کہتا ہے کہ ایمان نہیں لائے۔ پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہم نے اپنے اندر وہ حالت پیدا کر لی ہے جو ایک مومن کے لئے ضروری ہے؟ کیا ہم مسیح موعودؑ کو ماننے کے بعد آپؑ کی بیعت کا حق ادا کرنےوالے ہیں؟ وہ کیا معیار ہیں، جو ایمان کی حالت پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں۔جو آپ ﷺ نے بیان فرمائے اوراپنے ماننے والوں میں قائم فرمائے۔ جن کی تجدید اور دوبارہ قائم کرنے کے لئے آپؑ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور انہوں نے کھول کر معیار ہمارے سامنے رکھے۔ تاکہ ہم اپنی ایمان کی حالت کا اندازہ کر سکیں۔ پس ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئےکہ ہمارے زمانے میں امام وقت کا انتظام فرمایا اور خاص تائیدات اور نشانات سے یہ انتظام بھی فرما دیا کہ جن میں ہم تین دن کےلئے اپنے ایمان کی حالت کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ پس حقیقی فائدہ ان تین دن کے جلسوں کا تبھی ہے جب ہمارا ایمان بہتر ہو اور جب ہم اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے آپ ؑ کی رہنمائی کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں اور ان توقعات پر پورا اتریں جو آپ ؑ نے ہم سے کی ہیں۔
حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا :تم نے مان لیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات واحد ہے اور محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اور آپؐ کے بعد اب کوئی شریعت والا نبی نہیں آئے گا۔ پھرحضرت مسیح موعود ؑ اور آپؐ کی غلامی میں تجدید دین کیلئے بھیجے گئے ہیں۔ اگر ہمارے عمل اس شریعت کے مطابق نہیں تو پھر ایمان کی حالت کیوں کرپیدا ہوسکتی ہے؟
حضور انور نے فرمایا: حقیقی ایمان کیلئے تقویٰ ضروری ہے۔ اس کے بغیر ایمان کامل ہو ہی نہیں سکتا۔ ایمان کی جڑ کوتقوی سے مضبوطی ملتی ہے ۔ اس کو پانی اور خوراک تقویٰ سے ہی ملتا ہے۔ آہستہ آہستہ انسان ایمان میں بڑھتا ہے اور پرانی بیماریوں سے دھویا جاتا ہے۔ ‘‘اَسْلَمْنَا’’ کی حالت سے نکل کر ‘‘اٰمَنَّا ’’میں داخل ہوجاتا ہے۔ اصل تقویٰ جس سے انسان دھویا جاتا ہے، وہ دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ پاکیزگی اور طہارت عمدہ شئے ہے۔ انسان پاک ہو تو فرشتے اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔ اگر چور چوری اور زانی زنا سے باز آکر صبر اور توکل علی اللہ سے کام لے تو اللہ تعالیٰ ان کی یہ ضروریا ت جائز راہ سے پوری کر دیتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ چور چوری اور زانی زنا کی حالت میں ایمان سے خالی ہو جاتے ہیں۔یعنی اگر ایمان ہو تو یہ حرکات ہو ہی نہیں سکتیں۔ جیسے بکری کے سر پر شیر کھڑا ہو تووہ گھاس بھی نہیں کھا سکتی۔کیا ایک بکری جتنا ایمان بھی نہیں ؟
حضور انور نے فرمایا : دنیاوی حکام گناہوں سے مکمل طور پر روک نہیں سکتے۔ کیونکہ حکام ساتھ ساتھ تو نہیں پھرتے کہ ان کا خوف ہر وقت غالب رہے۔ جب انسان خود کو اکیلا سمجھ کر گناہ کرتا ہے اورنہیں سوچتا کہ خدا میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے دیکھتا ہے تو وہ اس وقت دہریہ ہوتا ہے۔ اگر وہ یہ سمجھتا ہے تو کبھی گناہ نہ کرتا۔ قرآن نے ابتداء تقویٰ سے ہی کی ہے۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ سے مراد تقویٰ ہی ہے۔ اسی سے آئندہ کےلئے مدد طلب کرتا ہے ۔تقویٰ ہو تو سب کچھ ملتا ہے اور ایسے مقام سے ملتا ہے کہ اسے خبر نہیں ہوتی۔
حضور انور نے فرمایا: وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب خدا ہے اور پھر اس پر استقامت اختیار کی۔اس سے بھی مراد متقی ہیں ان پر زلزلے آئے ابتلاء آئے مگر دین پر قائم رہے۔ پھر استقامت کے بعد ان کو انعام ملا کہ فرشتے ا ترے اور ان کو بشارات دیں کہ تم خوش ہوجاؤ اُس دنیا کی جنت سےبھی اور اِس دنیا کی جنت سےبھی، یعنی جنت دنیا کی بھی ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے دو جنتوں کا ذکر کیا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّاتَانِ۔ پس یہ ہے وہ معیار جو حضرت مسیح موعودؑ ہم سے چاہتے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا : حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ہمیں جس بات پر مامور کیا ہے وہ یہی ہے کہ تقویٰ کا میدان خالی ہے۔دنیا داروں کا تقویٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ سچے خدا کی ہتک کی جاتی ہے۔مگر اب خدا چاہتا ہے کہ وہ آپ ہی مانا جاوے دنیا کو اس کی معرفت ہو۔ جو لوگ دنیا کو خدا سمجھتے ہیں وہ متوکل نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ کو بے شک مانتے ہیں مگر ایمانی حالت کمزور ہے۔ اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایمان اور تقویٰ مفقود ہے ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ اپنے فرستادوں کو بھیجتا ہے۔ اسی لئے اس نے اپنے اس زمانہ میں آپؑ کو بھیجا ہے۔ اُس کے حصول ہی کی طرف بار بار آپ ؑ نے ہمیں توجہ دلائی۔ ایک بار تقویٰ کے بارے میں فرمایا کہ جب تک انسان تقویٰ میں ایسا کامل نہ ہو جیسا کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے نکل جائے اس وقت تک کچھ نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ نےآپ ؑ کو فرمایا ہے کہ میں اپنے رسول کے ساتھ ہوں اس کو ملامت کرونگا جو ملامت کرتا اور میں روزہ کھولوں گا بھی اور روزہ رکھوں گا بھی۔ ملامت ایک دل سے ہوتی ہے اور ایک زبان سے۔ زبان کے ساتھ ملامت گالیاں دینا ہے۔دل کی ملامت یہ ہے کہ ان باتوں کی طرف توجہ نہ کرے اور ان پر عمل کےلئے تیار نہ ہو ۔ عمل نہ کرنا بھی ایک طرح کی ملامت ہے۔ فرمایا:جو لوگ نری بیعت کر کے چاہتے ہیں کہ خدا کی گرفت سے بچ جائیں وہ غلطی کرتے ہیں ان کو نفس نے دھوکہ دیا ہے۔ طبیب کی مقرر کردہ مقدار سے کم دوائی باعث شفاء ثابت نہیں ہوتی ۔تقویٰ خدا کے غضب سے بچانے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ رجوع کرنے والے پر رحم کرتا ہے اور اس کو تنگی سے نجات دیتا ہے بلکہ اس کو رزق بھی دیتا ہے۔ پس یاد رکھو تقوی ہی اکرام کا باعث ہے خواہ کتنا ہی پڑھا لکھا ہو تقویٰ کےبغیر عزت نہیں ملتی۔ لیکن اگر ادنیٰ درجہ کا آدمی متقی ہو تووہ خد اکی نظر میں معزز ہوگا۔
حضور انور نے فرمایا: متقی کیلئے ضروری ہے کہ موٹی باتوں زنا چوری وغیرہ چھوڑ کر اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔ خدا سے سچی وفا دکھائے۔ لوگوں سےخوش خلقی سے پیش آئے۔ جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوں وہی اصل متقی ہیں۔ اگر ایک ایک خلق فردا فردا ہو وہ متقی نہیں ہوگا جب تک مجموعی طور پر اخلاق فاضلہ نہ ہوں۔ اسی لئے فرمایا ہے کہ وہ خوفزدہ اور پریشان نہ ہونگے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا متولی ہوجاتا ہے ۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالی اُن کےہاتھ اور آنکھ اور کان اور پاؤں ہو جاتا ہے اور فرمایا: جو میرے ولی کی دشمنی کرتا ہے میں ان کو کہتا ہوں میرے مقابلہ کیلئے تیار ہوجاؤ۔
حضور انور نے فرمایا: جب دعا مانگو تو ایسے یقین سے کہ اگر خدا چاہےتو اسی ساعت قبول کر لے۔ اگر اسے یقین ہو کہ سمیع اور قادر ہستی کے سامنے کھڑا ہوں۔ اگر وہ مہربان ہو جائے تو اسی وقت بخش دے۔اگر اسی طرح کرے تو راحت و فضل الہٰی بھی ہوں گے اور خدا بھی مل جائےگا۔ حقیقی ایمان یہی ہے کہ خواہشیں خداتعالیٰ کی تعلیم کے مطابق ہو جائیں۔ جس طرح رات دن اکٹھے نہیں ہو سکتے اسی طرح گناہ اور ایمان اکٹھے نہیں ہو سکتے۔
حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعودؑ کو ماننے کےلئے یہ ضرور ی ہے کے بار بار قرآ ن کریم اور کشتی نوح کو پڑھیں۔ امام وقت کو قبول کر کےجو قوم کی طرف سے لعنت لینی تھی وہ لے چکے اور اگر اس لعنت کے بعد بھی خدا سے معاملہ صاف نہ ہو تو پھر کس قدر مصیبت ہے۔ مخالفین ہماری مخالفت میں ہر پہلو سے زور لگاتے۔ سوشل میڈیا پر بے انتہا ء غلاظت اور دریدہ دہنی کی جاتی ہے۔ اس لئے اپنے ایمانوں اور اعمال کا محاسبہ کریں، پاکیزگی پیدا کریں کہ تمہارا دل خدا کا عرش ہو جائے ۔ تم نری بیعت پر بھروسہ نہ کرو۔ قشر پر صبر کرنے والا مغز سے محروم ہوتا ہے۔ اگر عمل کرنے والے نہیں تو نری بیعت کوئی فائدہ نہ دے گی جب تک عمل صالح نہ ہوں۔ نیک بنو، بدی سے بچو، متقی بنو، رات دن تضرع کرو، ابتلاء کے وقت میں دعا، صدقہ، استغفار سے کام لو۔ منتیں کرتا کوئی نہیں مرتا۔
حضور انور نے فرمایا: عمل صالح کیا ہے؟ عمل صالح وہ ہے جس میں ایک ذرہ بھی فساد نہ ہو۔ انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں وہ چورہر قسم کی بدکاری، عجب، ظلم اور ریاکاری ہیں، ان سب سے اعمال باطل ہو جاتے ہیں۔ اگر ایک آدمی بھی گھر بھر میں عمل صالح والا ہو تو گھر بچا رہتا ہے۔ تم نے توبہ کی ہے اب آئندہ خدا تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ توبہ کے بعد تم نے کتنا اپنے آپ کو پاک کیا ہے۔
حضور انور نے فرمایا: گناہوں کی پاداش سے بچنے کے لئے استغفار کا وردہے۔ آج کل حضرت آدمؑ کی دعا پڑھنی چاہئے رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ جو خدا کےخوف سے زندگی گزارتا ہے اس پر بلائیں نہیں نازل ہوں گی۔ پھر یہ دعا آپ ؑ کوالہام ہوئی رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ۔ دعائیں کریں اور نیک اعمال کریں جن میں پھر سستی، کسل اور غفلت نہ ہو۔ اس پر آشوب زمانہ میں جب ہر طرف غفلت اور گمراہی ہے۔ حقوق العباد کی پراوہ نہیں ہے۔ دنیا میں حد سے زیادہ انہماک ہے۔ دنیا کا نقصان ہوتا دیکھ کر دین کے حصہ کو ترک کر دیتے ہیں۔ لالچ کی نیت سے ایک دوسرے سے پیش آتے ہیں نفسانی جذبات کے مقابلہ میں بہت کمزور ہیں۔ جب کمزوری ہوتی ہے گناہ سے بچتے ہیں اور جب طاقت ہو گناہ کرتے ہیں۔ اس زمانہ میں ہر جگہ یہی ملے گا سچا ایمان کم ہے اور اٹھ گیا ہے اس لئے آپ تقویٰ کے میدان میں آگے بڑھیں اور دنیا کو بچائیں۔

حضور انور نے فرمایا: ترک شر ہی نیکی نہیں بلکہ کسب خیر بھی ضروری ہے۔ اس طرح تو جانور بھی کر سکتے ہیں۔ اطاعت کے متعلق بلی اور کتے کی مثال دی۔ پھر تقویٰ میں بڑھنے کیلئے فرمایاکہ قرآن شریف کو پڑھو خدا سے کبھی مایوس نہ ہو۔ ہمارا خدا ہر چیز پر قادر خدا ہے۔ قرآن شریف کا ترجمہ پڑھو، نماز کو سنوار کر پڑھو اور دعا اپنی زبان میں بھی کرو۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر کھولا ہے کہ قرآن شریف زندہ کتاب ہے ۔ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو کشف ہدایت کیلئے قائم کیا ہے۔ قرآن شریف کواللہ تعالیٰ کا کلام سمجھ کر پڑھو حقیقی تقویٰ کیلئے پڑھو۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی میرے ساتھ تعلق رکھ کر بھی اپنی اصلاح نہیں کرتا اور عملی قوتوں کو ترقی نہیں دیتا وہ گویا اپنے عمل سے میرا آنا بے سود قرار دیتا ہے۔ یاد رکھو وہ جماعت جو خدا تعالیٰ قائم کرنا چاہتا ہے وہ عمل کے بدوں زندہ نہیں رہ سکتی۔
حضور انور نے فرمایا: خدا جس کا دوست اور مددگار ہو تو تمام دنیا بھی دشمن ہو تو کچھ پرواہ نہیں۔ خدا کے فرشتے ماں کی طرح اس کو گود میں لے لیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ ہماری زندگی میں وہ انقلاب پیدا کرنے کی توفیق دے جو ہم کو اعلیٰ مدارج طے کرنے والا بنائے۔ ان دنوں میں خاص طور پر دنیا کیلئے بھی دعا کریں، مسلم امت کیلئے دعا کرے کہ ان کا صحیح راستہ ملے۔ اللہ تعالیٰ انہیں آپس میں جنگ اور لڑائی سے بھی محفوظ رکھے۔ دنیا جنگ کے شعلوں کی طرف بڑھ رہی ہے اس کو بھی بچائے۔ یہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچاننے والے ہوں اور اسلام کا جھنڈا ہم دنیا میں لہرانےوالے بنیں۔ آمین
اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی اور جلسہ گاہ سے تشریف لےگئے۔افتتاحی تقریب سے قبل اور بعد نماز جمعہ و عصر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے MTAکے لئے نئی ٹی وی ایپ کو لانچ کیا۔

(مرتبہ: ذیشان احمد باجوہ)

image_printپرنٹ کریں