skip to Main Content
خلاصہ اختتامی خطاب سیدناحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ4۔اگست2019ء

تمام انسانی حقوق کیلئےاسلام کی تعلیم ایک بنیادی اور کامل لائحہ عمل پیش کرتی ہے
قرآنِ کریم ایک جامع اور مکمل کتاب ہےجس میں اللہ تعالیٰ نےانسان کےتمام حقوق بیان فرمائےاورآنحضرت ﷺنےجوحقوق قائم کئےوہی دنیاکی ہرسطح پرامن کےضامن ہیں

اللہ تعالیٰ کےفضل سےمورخہ4۔اگست2019ءکوسیدناحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےجلسہ سالانہU.Kکےموقع پرجلسہ گاہ حدیقۃ المہدی میں اختتامی خطاب فرمایا۔اجلاس کی کاروائی کاآغازتلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم فیروزعالم نے سورۃآل عمران کی آیات15تا21کی تلاوت کی اوراردوترجمہ پیش کیا۔ مکرمFaraj Odeh نے حضرت مسیح موعودؑ کاعربی قصیدہ وَفَوَّضَنِیْ رَبِّی اِلٰی خَیْطِ نُوْرِہٖ پیش کیا۔ مکرم مرتضیٰ منان نےحضرت مسیح موعودؑکے منظوم کلام’’جمال وحسن قرآں نورجان ہرمسلماں ہے‘‘ میں سےچند اشعارترنم کےساتھ پیش کئے۔ مکرم رفیق احمد حیات امیربرطانیہ نے Ahmadiyya Peace Prizeکااعلان کیا۔ جس کاآغازسیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی منظوری سے2009ءمیں ہوا۔
احمدیہ مسلمPeace Prize2019ءسوئٹزرلینڈکی ایک خاتونBarbra Hofmannکودیئےجانے کااعلان کیا۔ جنہیں بعدازاںPeace Confrence میں یہPrizeدیا جائےگا۔ باربرا صاحبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد Multinational Businesses کے ساتھ کام کرتے ہوئے Beriaموزمبیق جانے کا اتفاق ہوا۔ جہاں انہوں نے جنگ سے متاثرہ لوگوں کو دیکھ کر یتیم بچوں کے لئے ایک مرکز ASEM بنانے کا فیصلہ کیا۔ پھر مختلف سالوں میں وہ اپنے کام کو پھیلاتی رہیں۔ اور مختلف وقتوں میں موزمبیق کے علاوہ اٹلی،کینیڈا اور پرتگال میںASEMکے مراکز قائم کئے ۔
بعدازاں حضورِانورنےاسلام میں موجودانسانی حقوق پرمشتمل خطاب فرمایا۔
تشہد و سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:آج کل مذہب کے مخلاف طاقتیں کوشش کر رہی ہیں کہ کسی طرح مذاہب کے ماننے والوں کو متنفر کر کے مذہب سے ہٹایا جائے۔ خاص کر مسلمانوں کو۔اور کہا یہ جاتا ہے کہ مذہب کی تعلیم نئے زمانہ سے میل نہیں کھاتی۔ نئے زمانہ کے ساتھ ہم کو بدلنا ہوگا۔ نئی روشنی میں نئی باتوں کوسیکھنا ہو گا اورجس تعلیم کووہ پیش کرتے ہیں وہ حقوق کے حصول اور آزادی کے نام پر بچوں کو لغو باتوں کی تعلیم دینا، غیر فطری جنسی تعلقات کو قانونی تحفظ دینا وغیرہ ہیں۔ بعض مسلمان بھی کہتے ہیں کہ تبدیلیاں کرنی چاہیئں۔ بعض عیسائیوں کے خیال میں بائیبل میں تبدیلی کر لینی چاہئے۔ اصل میں یہ مذہب سے لا علمی اور یقین نہ ہونے کی نشانی ہے۔ اگران لوگوں کویقین ہوکہ خدا بولتا ہے توان کو بدلنے کی باتیں نہ ہوں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ قرآن خداکاکلام ہے۔ اللہ نےخوداس کی حفاظت کاذمہ لیاہے۔ اوربائبل تحریف شدہ ہےجبکہ قرآن کریم 1400 سال سے اپنی اصلی حالت میں ہے اور تا قیامت انشاء اللہ رہے گا۔ اس زمانہ میں بھی اپنے وعدے کے مطابق اپنے فرستادہ کو بھیج کر محفوظ رکھنے کے سامان کئے۔ فرمایا:قرآن کریم نے ہر ضرورت کو بیان فرمایا ہے۔ آنحضرتﷺنے ہمارےجو حقوق قائم کئے ہیں وہی دنیا کی ہر سطح پر امن کے ضامن ہیں۔ مخالف اعتراض کرتے ہیں کہ مذہب کہتا ہے کہ خدا کی عبادت کرو اس سے سستی پیدا ہو رہی ہے۔ اشارہ مسلمانوں کی طرف ہے۔ پھر اعتراض کیا جاتا ہے کہ خدا کہتا ہے میری عبادت کرو۔ اس کو بندوں کی عبادت کی کیا ضرورت ہے۔
حضورانورنےفرمایا:اللہ تعالیٰ نے بیشک ہمیں یہ کہا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ میں نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی فرمایاقُلْ مَا يَعْبَؤُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ تمہاری پرواہ کیا ہے اگر تمہاری دعا نہ ہو۔ توعبادت کرنےکاحکم بندوں کو قریب کرنے کیلئے،عباد الرحمان بنانے اور شیطان سےبچانےکیلئےہے۔ 

حضورانورنےفرمایا:اس وقت میں بعض حقوق کا ذکر کروں گا جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں۔ یہ ہر زمانہ کیلئےحقیقی امن کی ضمانت ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوَاعْبُدُوا اللہ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ(النّساء:37)کہ اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین سے اچھا سلوک کرو اورقریبی رشتہ داروں سے یتیموں سے مسکین لوگوں سے بھی رشتہ دار ہمسایوں سے غیر رشتہ دار ہمسایوں سےبھی اور مسافروں سے بھی اور جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئےان سے۔
حضورانورنےفرمایا: یہاں اللہ نے اپنی عبادت کےساتھ بندوں کےحق اداکرنےکا کہاہے۔ رسول کریم ﷺنےفرمایا جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا: ‘‘شریعت کے دو ہی بڑے حصے اور پہلو ہیں جن کی حفاظت ضروری ہے۔ حق اللہ اور حق العباد۔حق العباد یہ ہے کہ بھائیوں سے تکبر خیانت کسی نوع کی نہ کی جاوے۔‘’حدیث میں ہمسایہ کی خبر گیری کا حکم ہے۔ حضورِانورنے شوربا بڑھانے والی نصیحت کا ذکرفرمایا۔
حضورانورنےفرمایا:یہاں ترقی یافتہ ملکوں میں ایک سروے سے پتا چلاCharity کرنے والے زیادہ مذہبی لوگ تھے۔ دنیا دار اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ حدیث میں ہے قیامت کے روز خدا تعالیٰ کہے گا میں بھوکا تھاتونے کھانا نہ کھلایا میں پیاسا تھا تونے پانی نہ دیا میں بیمار تھا تونے عیادت نہ کی جن سے یہ سوال ہوگا وہ کہیں گے اے اللہ تو کب بھوکا پیاسا اور بیمار تھا جو ہم نے خیال نہ کیا۔ خدا فرمائے گا میرا فلاں بندہ ان باتوں کا محتاج تھا مگر تونےان کی ہمدردی نہ کی۔ حضرت مسیح موعودؑنےفرمایا: ہمدردی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ساری مخلوق سے ہمدردی کرو۔ ہندو ہو یا کوئی اورہو۔ اس طرح بلاامتیازہمدردی کاحکم ہے۔
حضورانورنےفرمایا:بعض انفرادی حقوق جن کی ادائیگی کا حکم ہے۔ والدین کے حقوق ا ور سلوک کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا۔وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا(بنی اسرائیل:24۔25)اپنے والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرو۔ ان کو اف تک نہ کہو اور انہیں ڈانٹا نہ کرواور ان سے احسان کی بات کرو۔ اور ان کے لئے رحمت کے پر پھیلاؤ اور دعا کروکہ اے اللہ !میرے والدین پر رحم کر جیسے انہوں نے بچپن پر میرے ساتھ رحم کا سلوک کیا۔
پھرفرماتاہےوَاِنْ جَاھَدٰکَ عَلٰی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا (لقمٰن:16)اوراگروہ دونوں(بھی)تجھ سےجھگڑاکریں کہ تومیرا شریک ٹھہراجس کاتجھےکوئی علم نہیں توان دونوں کی اطاعت نہ کر۔اوران دونوں کے ساتھ دنیا میں دستور کے مطابق رفاقت جاری رکھ ۔ یعنی ان کی دی ہوئی جھوٹی تعلیم کوقبول نہ کرولیکن اس تعلیم دینے کےباوجودان سےحسنِ سلوک جاری رکھو۔یہ رواداری کی تعلیم اسلام کےسواکسی مذہب میں نہیں ہے۔
حضورانورنےفرمایا:اللہ تعالیٰ نےفرمادیاکہ شرک نہیں کرنااس کےمتعلق والدین کاحکم نہیں ماننااس کےباوجودان کےحقوق ادا کرنا۔حضرت ابوہریرہؓ سےروایت ہے ایک بندے نے کہا یا رسول اللہ سب سے زیادہ کس کا حق ہے اس کے ساتھ اچھا سلوک کروں۔ فرمایا تیری ماں۔ تین بار پوچھا تو فرمایا تیری ماں کا۔پھر باپ کا۔ تیری ماں کمزوری میں پیدائش کے عرصہ سے گزری اس کا حق زیادہ ہے۔ نبی کریم ؐسے پوچھا گیا کون سا عمل اللہ کو پیارا ہے۔ فرمایا نماز پڑھنا۔ پھر والدین سے اچھا سلوک کرنا۔ پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ایک مرتبہ نبی کریمﷺکے پاس ایک بندہ آیااور جہاد کے بارہ میں اجازت مانگی۔ آپﷺنےاس سے پوچھا کہ کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔ فرمایا! تم ان کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو۔ یعنی ان کی خدمت کرو۔حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا :جو شخص اپنے والدین سے بدسلوکی کرتا ہے۔ وہ میری جماعت میں سے نہیں۔ اویس قرنی ؓ کے لئے رسول کریمﷺ یمن کی طرف منہ کر کے کہتے  تھے مجھے یہاں سےجنت کی خوشبو آتی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ رسول کریمﷺنے دو ہی آدمیوں کو السلام علیکم فرمایا۔یا اویسؓ کو یا مسیح کو۔
حضورانورنےفرمایا:اللہ تعالیٰ نے بچوں کےمتعلق فرمایاوَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ (بنی اسرائیل:32)تم اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔اولاد کا قتل کیا ہے ؟ ان کی صحیح پرورش نہ کرنااور دیکھ بھال نہ کرنا۔ان کی جائز ضروریات کو پورا نہ کرنا۔ پھر فرمایاوَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِاِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ(الطّور:22)اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان کی بدولت ان کی پیروی کی ان کے ساتھ ہم ان کی اولاد کو بھی ملا دیں گے۔ یعنی اولاد کی صحیح تربیت اللہ کی رضا حاصل کرنےوالابناتا ہے۔ رسول کریمﷺنے فرمایا کہ اپنی اولاد کی عزت کرو اور ان کی اچھی تربیت کرو۔ پھر فرمایا: والد کا اولاد کیلئے حسن تربیت سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔
حضرت مسیح موعودؑنےفرمایا: اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے۔ مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ ان کی تربیت اور عمدہ اور نیک چلن بنانے اور فرمانبردار بنانے کی صحیح فکر کریں۔ نہ ان کےلئے دعا کرتے ہیں۔ میری اپنی حالت یہ ہے کہ میری کوئی ایسی نماز نہیں جس میں مَیں اپنےدوستوں اور اولاد اور بیوی کیلئے دعانہ کرتاہوں۔
حضورانورنےفرمایا:قرآن مجید میں آیا ہے وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ(البقرۃ:234)اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ عورتوں کا نان نفقہ اور اوڑھنا بچھونا معروف کے مطابق ہے۔ ماں کو اس کے بچے کے تعلق میں تکلیف نہ دی جائے اور نہ ہی باپ کو اس کے بچے کے تعلق میں تکلیف دی جائے۔ اور وارث پربھی ایسے ہی حکم کا اطلاق ہو گا۔ اسلام نےمعاشرے کی ہر ایک کی ضرورت کا خیال رکھاہے۔اس تعلیم میں عورت کے جذبات، ضروریات کا اوربچہ کی ضروریات کابھی خیال رکھا۔ اور اس بات سے روکا کہ بچے کی ماں یا باپ بچے کو ایک دوسرے کیلئے تکلیف کا ذریعہ بنایا جائے۔ کس خوبصورتی سے سب باتوں کا خیال رکھا ہے۔ علیحدگی ہوئی تونوکروں کی طرح نہیں رکھنابلکہ حسن سلوک کرناہے۔
حضورانورنےفرمایا:پھر بچوں اور خاص طور پر یتیم بچوں کے حق قائم کئے۔
فرمایا وَابْتَلُوا الْيَتَامٰى ۔۔۔۔(النساء:7)یتیموں کو آزماتے رہویعنی تربیت کرتے رہو اور یہاں تک کہ نکاح کی عمرتک پہنچ جائیں جب عقل محسوس کرو تو ان کے مال واپس کرو اور امیر یتیم کا مال کھانے سے بچے اور غریب مناسب طریق پر کچھ کھا لے۔ یعنی یتیم کی صحیح رنگ میں پرورش کرو۔ اپنےبچوں پر ہی شفقت کی تعلیم نہیں بلکہ دشمن کے بچوں پر بھی شفقت کی تعلیم دی۔غزوہ ٔحنین کے موقع پر ایک دستہ روانہ کیا جنہوں نےمشرکین سے قتال کیا اور دائرہ وسیع ہوتے ہوتے ان کےبچوں تک جا پہنچا۔ آپؐ نے پوچھا تمہیں کس چیز نے بچوں کے قتل پر اکسایا۔ انہوں نے کہا وہ مشرکین کے بچے تھے۔ فرمایا کیا تم بھی مشرکین کی اولاد نہ تھے۔ جو جان بھی پیدا ہوتی ہے وہ فطرت پر ہوتی ہے ۔بچوں پر کیوں ظلم ہوا۔فرمایا: اب حکومتیں ماں اور بچوں کو علیحدہ کر رہی ہیں۔ تمام زندگی ملنے کی صورت پیدا نہیں ہو تی۔لیکن پھر بھی ان کے نزدیک اسلام کی تعلیم ظالمانہ ہے۔ آنحضرتؐ نےفرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے بچوں سے رحم کا سلوک نہیں کرتا اور بڑوں کے حق کا پاس نہیں کرتا۔ پھربچوں سے مساویانہ سلوک کی تعلیم دی۔ ایک دفعہ رسول کریمﷺکے پاس ایک صحابی آئے اور کہا میں نے ایک بیٹے کو غلام دیا ہے۔ رسول کریمﷺنے فرمایا کیا تم نے سارے بیٹوں کو اسی طرح دیا ہے؟اس نےکہا نہیں۔ تو فرمایا تو پھر واپس لے لو۔ یہ ہے وہ انصاف جو بچوں کیلئے بھی اسلام نے قائم کیا ۔
حضورانورنےفرمایا: پھر بچیوں کی محبت کی تلقین فرمائی۔ رسول کریمﷺنے فرمایابیٹیوں کو ناپسند نہ کرو۔ وہ تو بہت زیادہ محبت کرنے والی ہوتی ہیں۔ حضور انور نےفرمایا:پھرحق وارثت ہے۔ جس سال حجۃ الوداع ہوا۔ بیمار پرسی کیلئے رسول کریم ﷺایک صحابی کے گھر گئے۔ اس نے پوچھا میری بیماری بہت بڑھ گئی ہے میری لڑکی کے کوئی وارث نہیں۔ کیا دو تہائی صدقہ کر دوں۔ فرمایا نہیں۔ اس نے کہا آدھا۔ تو فرمایا نہیں۔ اس نےکہا تہائی مال۔ آپؐ نے فرمایا تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔ فرمایا تم اپنے وارث کو مالدار چھوڑویہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو محتاج چھوڑ جاؤ۔
حضورِانور نے فرمایا۔ بچوں کی تربیت کی بھی تعلیم دی ہے۔ ایک دفعہ ایک دوست نے اپنے بچے کو مارا تو حضرت مسیح موعودؑ نے بُلا کر درد انگیز تقریر فرمائی۔ فرمایا میرے نزدیک بچوں کا یوں مارنا شرک ہے۔ اگر کوئی باوقار ہو تو کسی وقت مناسب وقت پر کسی حد تک بچے کو سزا دے۔ جس قدر سزا کی کوشش ہوتی ہے کاش دعا میں لگ جائیں۔ آپؑ فرماتےہیں۔ تنبیہ کر دینا بھی ضروری ہے۔ اگر شرارت سے نہ منع کیا جائے تو بڑے ہو کر انجام اچھا نہیں ہوتا۔ لیکن مغربی معاشرہ باپ کوتربیت کابھی حق نہیں دیتے بلکہ بچوں کو بدتمیز بنایا جا رہا ہے۔
حضورانورنےفرمایا: پھر بیوی کے حقوق ہیں۔دعا بھی سکھائی رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان:75)اے ہمارے رب ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور متقیوں کا امام بنا۔ پھر طلاق کے بعد بیوی کے حقوق بھی قائم فرمائے۔ فرمایالَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ(النساء:20) تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم زبردستی کرتے ہوئے عورتوں کا ور ثہ لو۔ اور انہیں اس غرض سے تنگ نہ کرو کہ تم جو کچھ انہیں دے بیٹھے ہو اس میں سے کچھ (پھر) لے بھاگو۔یعنی ان سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔فرمایا: عورت کا مقام قائم کرکےاس کو حق دیا ہے۔ رسول کریمﷺنے فرمایا۔ دنیا ایک دولت ہے اور دنیا کی بہترین دولت نیک عورت ہے۔ پھر فرمایا : تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ اچھا ہےاور میں تم میں سے سب سےزیادہ اپنے اہل خانہ کیلئے بہتر ہوں۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں۔آپﷺگھروالوں کےکام کاج میں مدد کیا کرتےتھے۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو آپؐ نماز کیلئے تشریف لے جاتے۔ رسول کریمﷺنے فرمایا مومن مرد مومن عورت سے نفرت نہ کرے اگر ایک عادت نا پسند ہے تو دوسری عادت سے خوش ہوگا۔ حضرت مسیح موعودؑکاایک الہام خُذُواالرِّفْقَ الرِّفْقَ فَاِنَّ الرِّفْقَ رَاْسُ الْخَیْرَاتِ ہے۔ فرمایاکہ اس میں تمام جماعت کیلئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سےرفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔ یہ جو شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں اس کی وجہ یہی ہےحقوق ادانہیں کئےجاتے۔ اگر صحیح حق ادا کئے جائیں تو اس حد تک نوبت نہ آئے۔
حضورانورنےفرمایا پھربہن بھائیوں کے حقوق ہیں۔ فرمایا رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ (الاعراف:152) اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے بھائی کو بھی اورہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔ اپنے لئے دعاکی ہے تواپنے بھائی کیلئے بھی دعا کرنی چاہئے۔ بہن بھائی کے حق کی ادائیگی کیلئے حسن ظن کی تعلیم دی۔ بھائی کی غیبت کرنے والے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے والے کی طرح ہے۔آنحضرتؐ نے فرمایا۔تم میں سے کوئی مومن نہیں جب تک وہ اپنے بھائی کیلئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ کوئی بھی بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام نہ دے۔ اور کوئی بہن اپنی بہن کے لئے طلاق نہ دلوائے۔ رسول کریمﷺنے فرمایا آپس میں بغض نہ رکھو نہ حسد کرو نہ غیبت کرو۔ آپس میں بھائی بھائی ہو جاؤ تین دن سے زیادہ قطع تعلق نہ رکھو ۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو۔ شریر ہے جو اپنے بھائی کو معاف نہیں کرتا۔
حضورانورنےفرمایا: پھر رشتہ داروں کے حقوق بھی قائم فرمائے۔ فرمایاوَبِذِي الْقُرْبٰى۔وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ(النساء:37)اورقریبی رشتہ داروں سے،رشتہ دار ہمسایوں سے غیر رشتہ دار ہمسایوں سےبھی احسان کا سلوک کرو۔ رشتہ داروں کے حقوق قائم کروگےتو یہی اللہ کی خوشنودی کا باعث بنے گا۔ حدیث میں ہے کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ جو رشتہ داروں کا خیال نہیں رکھتا جنت میں نہیں جائے گا۔
حضورانورنےفرمایا۔ پھر ہمسایوں کے حقوق اسلام نے قائم فرمائے۔ آپﷺ نے فرمایا جبرائیل نے مجھے ہمسایہ کے بارے میں اتنی تاکید کی کہ مجھے گمان ہوا کہ وراثت میں شریک نہ کرے۔آپﷺنے فرمایا اللہ کی قسم وہ مومن نہیں۔ تین باریہ فرمایا۔ پوچھا گیا کون؟ فرمایا وہ شخص جس کا ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں۔ جو شخص اپنے ہمسایہ کو ادنیٰ ادنیٰ خیرات سے محروم رکھتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔
حضورانورنےفرمایا:پھراسلام نےبیواؤں کے حقوق قائم فرمائے۔وَأَنكِحُوا الْأَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ(النور:33)کہ ان کے نکاح کرواؤ۔لونڈیوں کے نکاح کرواؤ۔فرمایا:پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ (البقرۃ:235) اور وہ جو فوت ہو جاتے ہیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کو ان کے گھر سے ایک سال نہ نکالو۔ اگر وہ خود جائیں تو کوئی گناہ نہیں۔ اس طرح بیوہ کوبھی حق دیا گیا ہے۔ آپﷺنے فرمایا۔بیواؤں اور مسکینوں کی خاطر محنت کرنے والےکااجر جہاد کرنے والے کے برابرہے۔ یا رات کو عبادت اور دن کو روزہ رکھنے کے برابر ثواب ہے۔
حضورانورنےفرمایا:پھربوڑھوں کے حقوق قائم فرمائے۔فرمایا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا(بنی اسرائیل:24)اگر بڑھاپے میں تمہارے پاس دونوں میں سے کوئی ہو تواس سےنیکی کاسلوک کرو۔اس میں والدین بھی آگئے اور بوڑھوں کیلئے بھی حق قائم ہو گئے۔آنحضرتﷺنے نمازوں تک میں بوڑھوں کے حقوق قائم کئے۔ ایک شخص آیا اور کہا عشاء کی نماز میں فلاں شخص کی نماز لمبی پڑھانے کی وجہ سے شامل نہیں ہوتا۔ اس پر آپﷺنےفرمایاتم میں سے جو شخص نماز پڑھائے مختصر پڑھائے۔ مختصر کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ٹکریں مار مار کر چلے جائیں۔ دس منٹ میں آٹھ رکعتیں پڑھا دیں۔یہ بھی نہیں ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ چھوٹی سورۃ پڑھیں۔
حضورانورنےفرمایاکہ پھراسلام نےدشمن کا حق بھی قائم فرمایا ہے ۔فرمایا وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ(البقرۃ:191)اوراللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑوجوتم سےلڑتےہیں۔ پھرفرمایا:وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوْا۔۔۔۔ (المائدۃ:9) یعنی کسی کی دشمنی بھی تم کو انصاف سے دور نہ لے جائے۔ آنحضرت ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا۔ فتح مکہ کے وقت اعلان فرمایا کہ آج میں تمہیں وہی کہوں گا جو یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَآج کے دن تم پرکوئی گرفت نہیں۔ گویاجان کےدشمنوں کومعاف فرمادیا۔ حضرت مسیح موعودؑفرماتے ہیں۔ دشمن کے ساتھ انصاف کرنا کس قدر مشکل ہے۔ مگر اسلام نے پھر بھی انصاف کی وصیت کی ہے۔
حضورانورنےفرمایا:غلاموں اور لونڈیوں کا بھی اسلام نے حق قائم کیا ہے۔ فرمایا وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۔۔۔۔(النور:34)اور تمہارے جو غلام تمہیں معاوضہ دے کر اپنی آزادی کا تحریری معاہدہ کرنا چاہیں تواگر تم ان کے اندر صلاحیت پاؤ تو ان کو تحریری معاہدہ کے ساتھ آزاد کر دو۔ اور وہ مال جو اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ ان کو بھی دو۔ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ شادی کرنا چاہیں تو روک کر بدکاری پر مجبور نہ کرو تاکہ تم دنیوی زندگی کا فائدہ چاہو۔ تواس طرح غلاموں کے بھی حقوق قائم فرمائے۔ رسول اللہﷺنےغلاموں سےحسنِ سلوک کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایاکہ اپنےماتحت کووہی کھلاؤجوخودکھاتے ہو۔وہی پہناؤجوخودپہنتے ہو۔
حضورانورنےفرمایا:اسلام نےغیر مسلموں کے بھی حق قائم فرمائے لَا إِکْراهَ فِی الدِّینِ(البقرۃ:257)کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔حضورانورنےمذہبی رواداری کے متعلق فرمایااللہ تعالیٰ فرماتاہے وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ (الانعام:109)باطل معبودان کو بھی گالی نہ دو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے غیر مسلموں سے بھی حسن سلوک کرو۔ روایت ہے کہ رسول کریمﷺ یہودی کے جنازہ کے لئے بھی کھڑے ہوئے۔ فرمایا۔ جب جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں عام خلق اللہ کی ہمدردی کرو۔ اورکسی کو تکلیف مت دو۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔
حضورانورنےفرمایا: یہ ہے اسلامی تعلیم جس پر ہم کو عمل کرنا ہے اور کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے بے شمار حقوق بیان فرمائے۔ ہر ایک طبقہ کے حق کو محفوظ کیاہے۔ اس کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ اسلام کی تعلیم نئے زمانہ سے میل نہیں کھاتی۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کو عقل دے اور ہم اللہ کے نافذ کردہ دائرہ میں رہ کر ایک خوبصورت معاشرہ بنا سکیں۔
حضورانورنےفرمایا:اب دعا کریں گے۔ دعا میں مختلف ممالک میں جہاں جہاں سختی ہے، افراد جماعت کو یاد رکھیں ۔ مسلمان ملکوں کیلئے دعا کریں ۔ دنیا بڑی تیزی سے جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اللہ اس سے محفوظ رکھے اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے قانو ن کے مطابق ان کو چلنے کی توفیق دے ۔
بعدازاں حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےدعاکروائی۔
الحمدللہ جلسہ کی کل حاضری39,829رہی۔115ممالک کی شمولیت ہوئی۔ مردوں کی تعداد 21,332 رہی۔عورتوں کی تعداد 18,497 رہی۔ 38,510 گزشتہ سال کی حاضری تھی۔گزشتہ سال سے1300حاضری زیادہ رہی۔
دعاکےبعد کچھ دیرحضورانورتشریف فرمارہے۔اورنظمیں اورترانےپیش کئے گئے۔

(مرتبہ: اویس احمدتنویر)

image_printپرنٹ کریں