skip to Main Content
خلاصہ اختتامی خطاب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ برموقع 44ویں جلسہ سالانہ جرمنی فرمودہ 7جولائی 2019ء

آپ ﷺ نے اپنی ذات، اپنی صفات، اپنے افعال، اپنے اعمال اور روحانی پاک قوی سے کمال تام کا اسوہ عِلْمًا و عملا اور ثباتا دکھایا

دنیا کو اسلام کی خوبصورت اور حقیقی تعلیم سے آگاہ کرنے کیلئے ہر احمدی کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے

وہ سجدے کریں جو ذاتی مقاصد کیلئے نہ ہوں بلکہ اللہ اور رسولؐ کی حکومت اور دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے ہوں

 سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ جرمنی کے تیسرے روز مورخہ 7جولائی 2019ء بروز اتوار اختتامی خطاب فرمایا۔ اختتامی اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ محترم محمد الیاس منیر مربی سلسلہ نے سورۃ ال عمران کی آیات 103تا 108کی تلاوت اور اردو ترجمہ پیش کیا جرمن زبان میں ترجمہ مکرم شعیب احمد عمر نے پیش کیا۔ بعدازاں محترم مرتضیٰ منان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام

ہر طرف فکر کو دوڑا کر تھکایا ہم نے

   کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم نے

 خوش الحانی سے پیش کیا۔ اس کے بعد تعلیمی میدان میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والے خوش قسمت طلباء کو حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے ازراہ شفقت اپنے دست مبارک سے اسناد،  انعامات اور میڈلز پہنائے۔ اس تقریب کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا۔ اختتامی تقریب کی تمام کارروائی ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے ذریعہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ساری دنیا میں نشر کی گئی۔

تشہد، تعوذ، سورۃ فاتحہ اور سورۃ احزاب کی آیت22 کی تلاوت فرمائی اور ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ یقینًا تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ہر اس کیلئے جو اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ غیر مسلم دنیا میں جو مسلمانوں کے متعلق تحفظات پائے جاتے ہیں وہ ان کی اسلامی تعلیم کے بارہ میں کم علمی کی وجہ سے زیادہ ہیں۔ لیکن بعض مسلمانوں کے اسلام کے نام پر شدت پسندی، دہشت گردی اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے عمل نے مزید ان کے دماغ میں راسخ کر دیا ہے کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے۔ یہ تاثر دور کرنا آج ہمارے ذمہ ہے اس کے لئے ہر احمدی کو بھرپور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے لوگ پریس کو سن کر سمجھتے ہیں کہ جو پریس کہتا ہے وہی سچ ہے۔ مذہب سے دلچسپی عمومی طور پر اکثر لوگوں کو نہیں ہوتی۔ پس ان حالات میں بڑی سخت محنت اور مسلسل کوشش سے اسلام کی تعلیم کو دنیا کو بتانا بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ عام غیر مسلم یہی سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کے یہ عمل ان کی تعلیم اور بانی اسلام کے عمل کی وجہ سے ہیں۔ پس اس اثر کو زائل کرنے اور دنیا کو اسلام کی خوبصورت تعلیم سے آگاہ کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی ہر احمدی کو ضرورت ہے۔ قول و عمل سے اسلام کی حقیقی تعلیم بتائیں۔

 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت اور بندوں کے حق ادا کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ اللہ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کیلئے ہمارے پیارے نبی ﷺ کو انسان کے لئے کامل نمونہ بنایا اور پھر فرمایا کہ یہ کامل نمونہ تمہارا راہنما ہے۔ اس کو اپناؤ، اس کے ہر پہلو پر عمل کرنے کی کوشش کرو اور دنیا کو بھی بتاؤ کہ حقیقی اسلام یہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ کے چند پہلو میں پیش کروں گا تا کہ ہم اپنے آپ کو ان نمونوں پر پرکھیں کیونکہ دنیا کی بقا کیلئے اسلامی تعلیم اور آپؐ کے اسوہ حسنہ کی ضرورت ہے۔

 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کا اصل مقصد عبادت کو قرار دیا ہے۔ آپؐ نے اپنی عبادت کے عملی نمونے اور معیار قائم کر کے ہمارے سامنے پیش فرمائے۔ جن کی قبولیت کی سند اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ شعراء کی آیات 219اور220 میں فرماتا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہوتا ہے جب تو کھڑا ہوتا ہے اور سجدہ کرنے والوں میں تیرا بیقراری سے پھرنا بھی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ پس یہ آپؐ کے سجدوں اور عبادت کی حالت ہے۔ یہ بیقراری اللہ کے بندوں کیلئے تھی کہ وہ کیوں اللہ سے دور ہیں۔ اس بیقراری کو دیکھ کر فرمایا لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُوْمِنِیْنَ۔ (الشعراء:4) کہ کیا تو ان کیلئے اپنے نفس کو ہلاک کر دے گا کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔؟ پس اس سے آپؐ کی عبادت کا اور پاکیزہ دل کی کیفیت کا بھی پتا چلتا ہے جو انسانیت کو تباہی سے بچانے کیلئے جو درد آپؐ کے دل میں تھا۔پس جس کے دل میں انسانیت کیلئے درد کی یہ کیفیت ہو کیا وہ کبھی ظلم کر سکتا ہے؟ یقینًا نہیں۔

 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ آپؐ نے خدا کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں زندگی کا ہر لمحہ قربان کیا ہے۔ آپؐ کی کیفیت عبادت کے متعلق ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا اس وقت شدت گریہ و زاری کے باعث سینہ سے ایسی آوازیں نکل رہی تھیں جیسے چکی کے چلنے کی آواز ہوتی ہے۔ یہ دعائیں کیا تھیں؟ اللہ کی پناہ میں رہنے کی امت کیلئے دعائیں تھیں انسانیت کو تباہی سے بچانے کیلئے دعائیں تھیں۔ یہ دعائیں ہی تھیں جنہوں نے اس وقت بھی انقلاب پیدا کیا اور انہی دعاؤں کے نتیجے میں اس زمانہ میں حضرت مسیح موعودؑ کو اس زمانہ میں اسلام کی احیاء نو کیلئے بھیجا گیا۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی عبادتوں کے معیار بلند کریں اور وہ سجدے کریں جو ذاتی مقاصد کیلئے نہ ہوں بلکہ اللہ کی حکومت کیلئے ہوں، رسول کریم ﷺ کا جھنڈا دنیا میں لہرانے کیلئے ہوں اور دنیا کو تباہی سے بچانے کیلئے ہوں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ آنحضرت ﷺ کو غزوہ احد میں شدید زخم بھی آئے اور ستر صحابہ کی شہادت کا غم اس کے علاوہ تھا لیکن اس کے باوجود آپٌ فجر کی نماز پر تشریف لائے اور اسی طرح آپؐ کے صحابہ نے بھی عبادتوں کے معیار قائم کئے۔ پس آج ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہماری عبادتوں اور با جماعت نمازوں کے معیار اس کے قریب بھی ہیں؟ ذرا سی تکلیف پر مسجد نہ آنے کے بہانے ہوتے ہیں۔ سستیاں تو کوشش کرنے سے دور ہوتی ہیں۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم بھی اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی کوشش کریں۔ اگر دنیا کو حقیقی اسلام سیکھانا ہے تو پہلے خدا سے تعلق جوڑنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ حضرت مسیح موعود ؑ صحابہ کی عبادتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان میں ایسی تبدیلی پیدا ہوئی کہ وہ راتوں کو اپنے رب کے حضور قیام اور سجدہ میں گزارنے لگے۔ آپؐ کی آخری نصیحت یہی تھی کہ نماز اور غلام کے حقوق کا خیال رکھنا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ آپ ﷺ نے توکل کے بھی اعلیٰ نمونے دکھائے۔ مرض الموت میں بھی توکل کا معیار قائم تھا۔ آپؐ نے سات یا آٹھ دینار رکھوائے تھے اس بیماری میں حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ وہ سونا کہاں ہے؟ آپؐ نے ان کو لانے کے لئے فرمایا آپؓ دوسری جگہ مصروف ہو گئیں۔ تو آپؐ نے دوبارہ پوچھا کہ کیا ان دیناروں کو صدقہ کر دیا۔ جواب نہ میں ملنے پر فرمایا کہ ابھی جاؤ اور میرے پاس لے کر آؤ اور دینار منگوا کر ہاتھ پر رکھ کر گنے اور فرمایا محمد ﷺ کا اپنے رب پر کیا توکل ہوا اگر خدا سے ملاقات اور دنیا سے جاتے وقت یہ دینار اس کے پاس ہوں۔ پھر آپؐ نے وہ دینار صدقہ کر دئیے۔دوسروں کو اولاد کو فقر سے بچانے کیلئے 1/3 سے زیادہ کی وصیت کی اجازت نہ دی۔ اور فرمایا کہ جس کا دل دنیا کے پیچھے لگا رہتا اللہ تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتالیکن جو اللہ پر توکل کرنے والے ہیں وہ بچا لیئے جاتے ہیں۔ اسلام دنیا کے کاموں کی اجازت دیتا ہے۔ مگر رات دن اس میں مبتلا ہونے سے منع کرتا ہے۔ اور بنیادی چیز اللہ کی عبادت اور توکل علی اللہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا اگر تم اللہ پر توکل کرو جس طرح اس پر توکل کا حق ہے تو وہ تمہیں ضرور اس طرح رزق دے گا جس طرح پرندے کو رزق دیتا ہے جو صبح خالی پیٹ جاتا ہے اور شام کو پیٹ بھر کر آتا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے واقعات پر نظر کرنے سے یہ بات روشن تر ہوتی ہے کہ آپؐ اعلی درجہ کے یک رنگ اور خدا کیلئے جانباز اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے۔ جنہوں نے خدا کی مرضی میں محو اور فنا ہو کر اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ توحید کی وجہ سے کیا کیا بلا آئے گی بلکہ تمام شدتوں اور مشکلوں کو نفس پر گوارہ کر کے مولی کا حکم بجا لائے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اعلی اخلاق کا ایک وصف شکر گزاری ہے۔ اس کے اعلی معیار میں بھی آپؐ ایک اسوہ تھے۔ آپؐ  شکر بجا لانے کیلئے دعا کرتے کہ اے اللہ! مجھے اپنا شکر بجا لانے والا بنا دے کہ میں تیرا سب سے زیادہ شکر کرنے والا ہوں۔ ایک بار روٹی پر کھجور رکھ  کر کھا رہے تھے اور اس پر شکر فرما رہے تھے اکثر سرکہ اور پانی سے روٹی کھاتے اس پر شکر کرتے تھے۔ فتح مکہ پر عاجزی اور شکر گزاری کی مثال انتہاء پر تھی۔ آپؐ نے سر اس قدر جھکایا کہ ریش مبارک سواری کے کجاوے سے چھو رہی تھی۔ احسان مندی کی مثال یہ ہے کہ شاہ حبشہ نجاشی کے اس احسان کو ہمیشہ یاد رکھا۔ اس کی طرف سے ایک وفد ایک دفعہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ خود ان کےاستقبال کیلئے کھڑے ہوگئے۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل عقائد صحیحہ کی راہ ہم کو نبی کریم ﷺ کے ذریعہ بدوں مشقت اور محنت کے دکھائی ہے۔ پس خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت کا شکر کرو اور یہ شکر یہی ہے کہ سچے د ل سے اعمال صالحہ کو بجا لاؤ۔ پس یہی ایک احمدی کے حقیقی شکر گزار ہونے کا طریق ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ایک خلق عہد کی پابندی ہے۔وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح ہم پورے کر رہے ہیں۔ اس کے اعلی ترین معیار آپ ﷺ نے قائم فرمائے۔ خیبر کا ایک چرواہا مسلمان ہو گیا اور اس کے پاس ایک یہودی کا ریوڑ تھا۔ وہ خود واپس نہیں جانا چاہتا تھا اس پر آپؐ نے فرمایا ان بکریوں کو قلعہ کی طرف ہانک دو۔ جنگ کی حالت ہے دشمن کا مال ہاتھ آیا ہے لیکن یہی سبق دیا کہ مسلمان کی دیانت اور امانت کا معیار بہت بلند ہونا چاہئے اور اس کسی کے مال پر نظر نہیں ہونی چاہئے۔ آج کل کے اس ترقی یافتہ معاشرہ میں جنگ کی صورت میں یہ معیار نظر نہیں آئیں گے۔ عہد کی پابندی کا یہ حال ہے کہ ہرقل کے دربار میں ابو سفیان کو یہ اقرار کرنا پڑا کہ آج تک اس نے ہمارے ساتھ بد عہدی نہیں کی۔ پھر صلح حدیبیہ میں جب معاہدہ لکھا جا رہا تھا اس وقت بھی عہد کی پاسداری کا نمونہ سکھایا۔ ہمیں بھی اپنے جائزے لینے چاہیں کہ ہمارے معیار کیا ہیں؟ کیا ہم اپنے عہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ بعض لوگ تو اپنی بیویوں کا ذکر بڑے گھٹیا انداز میں کرتے ہیں۔ یہ بھی عہد کی خلاف ورزی ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں اور ہر ایک آلودگی سے پاک کر کے خدا سے وفاد داری کا عہد باندھتے ہیں۔ ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کیونکہ وہ خدا کے ہیں اور خدا ان کا ہے۔ وہ ہر ایک بلا سے بچائے جائیں گے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ عاجزی بھی ایک بہت بڑا خلق ہے۔ جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عباد الرحمن زمین پر فروتنی سے چلتے ہیں اور جب کوئی جاہل ان سے مخاطب ہو تو وہ اس کو سلام کہہ کر ایک طرف ہو جاتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میری بہت زیادہ تعریف نہ کرو مجھے اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہو۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی کریمؐ سے بڑھ کر کسی کا کوئی اسوہ نہیں۔ معجزات ہمیشہ آپ کے شامل حال رہے مگر پھر بھی آپ کی حالت عبودیت کی ہی رہی اور فرمایا کہ میں تمہاری طرح کا ہی انسان ہوں۔ سوچو اور پھر سوچو کہ آپؐ کی طرز زندگی یہ سبق دے رہی ہے کہ آپ نے عبودیت کو نہیں جانے دیا تو پھر کسی اور کا ایسی باتوں کا دل میں لانا فضول ہے۔ آپؐ نے فرمایا تم لوگ جھگڑے لیکر میرے پاس آتے ہو اور بعض لسان ہوتے ہیں اور دلیل دے کر اپنے حق کے بغیر قائل کر لیتے ہیں۔ سنو کسی کی دلیل پر ایسا فیصلہ کر دوں جو اس کا حق نہیں تو یاد رکھو کہ کہ ایسی صورت میں میں اس کو آگ کا ٹکڑا دے رہا ہوںگا۔ پس جو غلط فیصلہ کروانے کی کوشش کرتے ہیں بہت خوف کا مقام ہے۔

گھریلو زندگی بھی عاجزانہ تھی حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ کپڑے دھو لیتے، جھاڑو دے لیتے، بکری خود دھوتے، خادم سے کام لیتے تو اس کی مدد کرتے، بازارسے سامان لے آتے۔ آج کل گھروں میں مرد بڑا تکبر دکھاتے ہیں جس کی وجہ سے گھروں میں فساد ہو رہا ہے ہوتا ہے۔ احمدی ہو کر اپنے نمونے دکھانے چاہئیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ متکبر خدا کے تخت پر بیٹھنا چاہتا ہے تم تکبر سے پناہ مانگو۔ جو فروتنی کرتا ہے وہی محبوب خدا ہے۔ دیکھو نبی کریم ﷺ کی کامیابیاں ایسی تھیں کے انبیاء میں کوئی نظیر نہ تھی۔ مگر جیسے جیسے کامیابی ملتی اتنا ہی آپؐ نے فروتنی کو اختیار کیا۔ ایک آدمی پہلی دفعہ آیا وہ بہت کانپتا تھا اور خوف کھاتا تھا آپؐ نے نرمی فرمایا کہ ڈرتے کیوں ہو میں بھی انسان ہوں۔ صرف شیخی کرنے سے پرہیز نہیں کرنا بلکہ عاجزی اختیار کرنی چاہئے۔اصل بات یہی ہے کہ جن کے دل میں عظمت الٰہی ہو وہ زیادہ عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں۔ جو زیادہ جانتے ہیں وہ زیادہ ڈرتے ہیں کیونکہ خدا اگر نوازتا ہے تو پکڑتا بھی ہے۔ کسی حرکت سے ناراض ہو جائے تو ایک دم میں سب کارخانہ ختم ہو جائے۔ پس چاہئے کہ ان باتوں پر غور کرو، ان کو یاد رکھو اور ان پر عمل کرو۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ پس ان نصائح پر عمل کریں، صبح و شام عبادت کریں، میانہ روی اختیار کریں، دنیا داری میں نہ پڑ جایں، اللہ کا حق ادا کریں، دین کو دنیا پر ہمیشہ مقدم کریں اور کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ کا رحم مل جائے۔ حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں آپ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اور خو ش اخلاق تھے۔ آپ دعا کرتے تھے اے خدا جس طرح خوش شکل بنایا ہے اسی طرح خوب سیرت بھی بنا دے۔ ایک اور صحابی گواہی دیتے ہیں کہ میں نے آپؐ سے زیادہ کسی کا چہرہ متبسم نہیں دیکھا۔ ایک صحابیہ بیان کرتی ہیں آپ ﷺ دور سے دیکھنے میں لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اور قریب سے دیکھنے میں انتہائی شیریں زبان تھے۔ آپؐ کے اسوہ حسنہ کی بیشمار مثالیں ہیں۔ قرآن کریم میں ہے کہ اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔ کہ آپؐ  خلق عظیم پر ہیں۔ عظیم کے لفظ کے ساتھ جس کی تعریف ہو وہ عرب کے محاورہ میں اس چیز کے انتہائی کمال کی طرف اشارہ  ہوتا ہے۔ جہاں تک اخلاق فاضلہ اور شمائل حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام نفس محمدی ﷺ میں موجود ہیں۔ آپ ﷺ کے اخلاق کے کسی پہلو کو لے لیں وہ آپؐ میں کامل نظر آتا ہے یہی اسوہ ہم کو اپنانا ہے۔ پس ہم نے دنیا کو اسلام اور رسول کریم ﷺ کا حقیقی چہرہ دکھانا ہے تبھی بیعت کا بھی حق ادا ہوگا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنی افعال سے اپنے اعمال سے اور روحانی پاک قوی سے کمال تام کا علما عملا اور ثباتا دکھایا انسان کامل کہلایا۔ وہ سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا کامل نبی تھا۔ کامل برکتوں کے ساتھ آیا اور جس سے روحانی حشر کی قیامت ظاہر ہوئی اور عالم سے عالم زندہ ہوا۔۔۔ وہ جناب محمد ﷺ ہیں۔ اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر رحمت اور درود  بھیج  جو ابتداء سے کسی پر نہ بھیجا ہو۔اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد وبارک و سلم انک حمید مجید

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اس کامل نبی کی امت میں آنے کا حق ادا کرنے والے ہوں اور دنیا کے اندھیروں کو دور کرنے والے بنیں۔ آمین

image_printپرنٹ کریں