skip to Main Content
مظفر منصور۔ کینیڈا اے خدا شکر ترا کیسے ہو

اے خدا شکر ترا کیسے ہو
تجھ میں ہو جاؤں فنا کیسے ہو
نطق میرا مجھے آزار ہوا
جب بھی اس نے ہے کہا کیسے ہو
تم مرے دل میں دھڑکتے ہو مگر
تم مگر مجھ سے خفا کیسے ہو
جان کی نذر بہت کم ہے وہاں
نذر کو ان کی ہو کیا کیسے ہو
میرا احوال کھلا ہے تم پر
ہو کے تم مجھ سے جدا کیسے ہو
میں مگر اپنا قبیلہ خود ہوں
تم کو ہے رسم روا کیسے ہو
سوچتا ہوں یہ مسیحا سے کہوں
میرے دکھ کی اے دوا کیسے ہو
راہ پر خار مسافت میں تری
اب کوئی آبلہ پا کیسے ہو

غزل

تمہارے نام سے میرے عذابِ جان ٹلتے ہیں
کھڑا ہوں ہر نفس تمرے دوارے میرزا صاحب
بھٹک رہتا ہوں جب بھی ساتھ تم سے چھوٹ جاتا ہے
مجھے رستہ دکھاتے ہیں ستارے میرزا صاحب
وگرنہ تھی مجھے فرعون سے ہامان سے نسبت:
مرے ہے پاس جو کچھ بھی ہے بارے میرزا صاحب
وہ نظارہ تھا جو تھا آنکھ جھپکے میں نظر آیا
مری نظارگی کو ہیں نظارے میرزا صاحب
یہ میری زندگی ورنہ گناہوں سے سوا کیا ہے
میں جیتا ہوں تمہارے ہی سہارے میرزا صاحب
گماں کرتا ہوں جیسے آپ نے مجھ کو پکارا ہو
میرا جب نام کوئی بھی پکارے میرزا صاحب

image_printپرنٹ کریں