skip to Main Content
حافظ محمد مبرور:خلافت

دل سے دل ملنے لگے اور فاصلے کم ہو گئے
قرب کی راہیں کھلیں جب دور سب غم ہو گئے
قریہ قریہ بسنے والے ایک عالم ہو گئے
یہ خلافت کی ہے برکت کیا تھےکیا ہم ہو گئے

اب خلافت ہی جہانِ نو کی اک تقدیر ہے
کذب کے ہر وار پر یہ برہنہ شمشیر ہے
سارے عالم میں حقیقی دین کی تصویر ہے
اب خلافت کا ہی رہبر کل جہاں کا پیر ہے

مشرق ومغرب میں پھیلی جا رہی ہےیہ صدا
آئو لوگو کہ یہیں پائو گے تم نورِ خدا
پھر زمانِ مصطفیؐ کی چل پڑی بادِ صبا
ہے خلافت کی یہ برکت پا رہے ہیں یہ ہوا

فرق مٹتے جا رہے ہیں رنگوں نسلوں کے یہاں
فیض کے دریا سے اپنا کاسہ بھرتا اک جہاں
جو تھے مردہ پھر سے زندہ ہوتے جاتے ہیں یہاں
ہاں خلافت سے ملی ہے زندگی اک جاوداں

ایک پرچم کےتلےسب پرچموں کی ہےاماں
ورنہ جاہ و حشمتیں سب ہوتی جائیں گی دھواں
در بدر ٹھوکر زدہ کا ہے خلافت آشیاں
اب خلافت عالمِ کل کے لئے ہے سائباں

image_printپرنٹ کریں