skip to Main Content
جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر  04؍اگست2018ء بروز ہفتہ( بعد دوپہر کے اجلاس میں) حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز  کا حدیقۃالمہدی( آلٹن) میں خطاب

2018-2017ء میں اللہ تعالیٰ کے جماعت احمدیہ پر نازل ہونے والے بے انتہا فضلوں اور نصرت و تائید کے عظیم الشان نشانات میں سے بعض کا ایمان افروز تذکرہ

گزشتہ ایک سال کے دوران جماعت احمدیہ کا دونئے ممالک ایسٹ ٹیمور (East Timor) اور جورجیا (Georgia)میں نفوذ۔

 اس طرح اب تک دنیا کے 212ممالک میں احمدیت کا نفوذ ہوچکا ہے۔

اس عرصہ میں دنیا بھر میں 129 ممالک سے 300؍اقوام سے تعلق رکھنے والے چھ لاکھ سینتالیس ہزار (647,000) افراد کی احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں شمولیت

 دنیا بھر کے مختلف ممالک میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرنے کے ایمان افروز واقعات

899نئی جماعتوں کا قیام،1773 نئے مقامات پر احمدیت کا نفوذ، 411 مساجد کا اضافہ،     دنیا بھر میں 180 مشن ہاؤسز اور تبلیغی مراکز کا اضافہ

 سویڈش زبان میں قرآن کریم کے نظرِ ثانی شدہ ترجمہ کی اشاعت

82 ممالک میں 488 نئی لائبریریز کا قیام، 63 زبانوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد مختلف کتب، پمفلٹ اور فولڈرز وغیرہ کی طباعت ، سوا کروڑ سے زائد لیف لیٹس کے ذریعہ اڑھائی کروڑ سے زائد افراد تک احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پیغام کی تبلیغ

 لندن سے ہفتہ وار ’الحکم‘ (انگریزی) کا اجراء

 دنیا بھر میں اسلام کے پُر امن اور حقیقی پیغام کی اشاعت کے لئے ایم ٹی اے کی بے مثال خدمات کا تذکرہ

جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر  04؍اگست2018ء بروز ہفتہ( بعد دوپہر کے اجلاس میں)

حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز  کا حدیقۃالمہدی( آلٹن) میں خطاب

 (السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ پہلی بات تو یہ نوٹ کر لیں کہ جب نعرے لگانے ہوں گے اگر ضرورت ہوئی تو سٹیج سے لگیں گے ہر کوئی نعرہ نہ بلندکرے۔ جب یہاں سے نعرہ بلند ہو تب جواب دیں۔)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

 اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اس وقت جیسا کہ ہمیشہ سے یہ طریق ہے کہ سال کے دوران اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہوئے ان کا اظہار کیا جاتا ہے اور رپورٹ پیش کی جاتی ہے وہ مختصراً میں پیش کروں گا۔

نئے ممالک میں احمدیت کا نفوذ

 خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک دنیا کے 212 ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ 34 سال میں 1984ء کے بعد 121 نئے ممالک احمدیت کو عطا فرمائے ہیں ۔اور دوران سال دو نئے ممالک ایسٹ تیمور (East Timor) اور جارجیا (Georgia)میں جماعت کا قیام عمل میں آیا ہے۔

East Timor جنوب مشرقی ایشیا میں انڈونیشیا کا ہمسایہ ملک ہے جس کو 20؍مئی 2002ء کو انڈونیشیا سے باقاعدہ آزادی حاصل ہوئی۔ پہلے یہ ملک 1702ء سے لے کر 1975ء تک پرتگال کی کالونی بھی رہا ہے۔ یہاں اس ریجن میں یہ واحد عیسائی ریاست ہے جہاں 97 فیصد کیتھولک عیسائی آباد ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت قائم ہوئی ہے۔ انڈونیشیا کے ذریعہ سے یہاں تبلیغ کی گئی اور چھ افراد پر مشتمل ایک خاندان نے وہاں احمدیت قبول کی۔ یہ پہلا پودا ہے یا چند پودے لگے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ترقی ہوتی جائے گی۔

دوسرا ملک جارجیا ہے یہاں مقامی لوگوں کی آبادی تو نہیں لیکن پاکستانی اوریجن کے ذریعہ سے یہاں جماعت قائم ہوئی ہے۔ مشنری بھی یہاں بھجوا دیا گیا ہے۔ مشن ہاؤس بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ وہاں کے مقامی لوگوں کو بھی احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مشنری کے کاموں میں برکت ڈالے۔

ممالک کے حوالے سے یہ مَیں بات کر دوں۔ بعض دفعہ لوگ اعتراض کرتے ہیں۔گو یواین او کی ممبر شپ تو 195 ممالک کی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی 38 ممالک ایسے ہیں جو independent ہیں یا اپنی اپنی حکومتیں وہاں قائم ہیں اور دنیا میں ان ممالک کو باقاعدہ recognize کیا گیا ہے ۔ اس لئے یہ کہنا کہ دنیا میں 195 ممالک ہیں اور جماعت احمدیہ شاید مبالغہ سے کام لیتی ہے، یہ کوئی مبالغہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سےاب چھوٹے چھوٹے ممالک میں بھی جماعت قائم ہو رہی ہے۔

ملک وار جماعتوں کا قیام

اس سال پاکستان کے علاوہ جو دنیا میں نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں ان کی تعداد 899 ہے۔

 اور ایک ہزار سات سو تہتر(1773) مقامات پر پہلی دفعہ احمدیت کا پودا لگا ہے۔ مختلف ممالک میں جو جماعتیں قائم ہوئی ہیں آگے اس کی تفصیل ہے۔ 899 وہ ہیں جہاں باقاعدہ جماعتیں قائم ہو گئی ہیں۔ اور 1773 ایسے مقامات ہیں جہاں کوئی نہ کوئی احمدی اس جگہ ، شہر میں یا قصبہ میں آگیا ہے اور باقاعدہ جماعت قائم نہیں ہوئی۔ اس کو ساتھ کی جماعت کے ساتھ attach کیا گیا ہے ۔

نئے مقامات پر جماعتوں کے نفوذ اور نئی جماعتوں کے قیام میں نائیجر سرفہرست ہے۔ 224 نئی جماعتیں یہاں قائم ہوئیں۔ پھر سیرالیون ہے۔ آئیوری کوسٹ ہے۔ بہت سارے افریقن ممالک ہیں۔

نئی جماعتوں کے قیام کے واقعات

نئی جماعتوں کے قیام کے واقعات میں امیر صاحب گھانا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ دباری(Dabari) گاؤں کے چیف امام اور پانچ دیگر اماموں کو کانفرنس میں مدعو کیا گیا۔ Dabariچیف امام نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ احمدی کافر ہیں لیکن جب آپ کے مبلغ ہمارے گاؤں آئے اور ہم سے تبلیغ کی اجازت مانگی تو ہم نے کہا سننے میں کیا حرج ہے۔ چنانچہ ہم نے اجازت دے دی اور جوں جوں یہ مربی صاحب اسلام کی تبلیغ کرتے جا رہے تھے ہمارے دل صاف ہوتے جا رہے تھے۔ ہم نے اس سے پہلے اتنا پیارا پیغام نہیں سنا تھا۔ پس ہم نے احمدیت قبول کر لی۔ اور اب ہمارا ایمان ہے کہ احمدیت ہی سچا اسلام ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ہمارے گاؤں کا نام احمدیہ ولیج رکھا جائے۔

       پھر بینن کے لوکوسا ریجن کے معلم لکھتے ہیں کہ ہم ایک گاؤں سیگلے ہوئے(Seaglohoue) میں تبلیغ کے لئے گئے۔ وہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ جب گاؤں کے چیف سے ملے اور اس کو آنے کا مقصد بتایا تو کہنے لگا کہ ہم تو پہلے ہی مسلمان ہیں۔ تم لوگ کون سا نیا اسلام بتانے کے لئے آئے ہو۔ اس پر انہیں جماعت احمدیہ کا مکمل تعارف کروایا گیا۔ جماعتی پمفلٹس بھی دئیے گئے۔ چیف نے پمفلٹس اپنے پاس رکھ لئے اور کہا کہ اچھا آپ اگلے ہفتے آ جائیں۔ گاؤں والوں کو اکٹھا کر دوں گا پھر آپ نے جو بات کرنی ہوئی کر لینا۔ چنانچہ وہاں سے واپس آ گئے۔ لیکن اسی دن رات کو نوبجے کے قریب چیف کا فون آیا کہ میں کل ہی آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ اگلے روز جب ہم وہاں پہنچے تو چیف نے سارے گاؤں والوں کو اکٹھا کیا ہوا تھا۔ چیف نے بتایا کہ کل جب آپ لوگ یہاں سے گئے تھے تو ساتھ والے گاؤں کا امام مسجد یہاں آیا تھا اور کہنے لگا کہ احمدیوں کی بات ہرگز نہ سننا یہ لوگ کافر ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ پہلے جب ہم نے تمہیں کہا تھا کہ ہمیں اسلام سکھاؤ تو اس وقت تم آئے نہیں اور اب جبکہ جماعت احمدیہ اس گاؤں میں آ کر تبلیغ کرنے لگی ہے تو تمہیں ہم یاد آ گئے ہیں۔ چنانچہ وہاں موجود لوگوں کو تبلیغ کی گئی۔ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچایا گیا۔ اس پر چیف کے علاوہ گاؤں کے دیگر 63 افراد بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہو گئے۔ اس طرح وہاں نئی جماعت قائم ہوئی۔

نائیجر کےمبلغ سلسلہ لکھتے ہیں ایک گاؤں میں ہم تبلیغ کے لئے گئے ۔انہیں امام مہدی اور جماعت کا تعارف کروایا ۔اس پر ایک بوڑھا آدمی اٹھ کر اپنے گھر گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفاء کی تصاویر لے کر آیا۔ کہنے لگا کہ 2006ء میں احمدیوں کے پروگرام میں شامل ہوا تھا اور ہم تو اس وقت سے انتظار کر رہے تھے کہ آپ لوگوں سے رابطہ ہو کیونکہ ہمارے بزرگوں نے ہمیں بتایا تھا کہ امام مہدی کا زمانہ آ چکا ہے۔ اس لئے ہم حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مہدی مانتے ہیں اور ان پرایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ سارا گاؤں بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہو گیا۔

اسی طرح لائبیریا کے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ ہم نے ایک گاؤں فَانجَا (Fahnga) میں تبلیغی پروگرام کیا۔ نماز مغرب کے بعد گاؤں کے لوگوں کو جمع کیا اور احمدیت کا تعارف کروایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے بارے میں بتایا۔ پروگرام کے اختتام پر وفات مسیح کے بارے میں سوا ل ہوا جس کا ان کو قرآن کریم اور احادیث کی رُو سے تفصیلی جواب دیا گیا۔ لیکن اس وقت کسی نے بیعت نہیں کی۔ اتفاق سے اس پروگرام میں ایک دوسرے گاؤں کے امام الحاجی موسی کمارا بھی موجود تھے۔یہ سارے مسلمان تھے۔ فَلَمَّا تَوَفَیْتَنِی کی وضاحت سن کر کہنے لگے کہ میرے تمام شکوک دور ہو گئے اور مجھے یہ سچا پیغام لگتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ہمیں اپنے گاؤں آنے کی دعوت دی اور مقررہ تاریخ پر جب ہم ان کے گاؤں پہنچے تو امام صاحب نے لوگوں کو پہلے ہی اکٹھا کیا ہوا تھا۔ جماعت کا تعارف کروایا گیا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے بارے میں بتایا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 170 افراد نے احمدیت قبول کر لی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ساتھ والے گاؤں میں بھی ہماری آمد کی اطلاع کر دی۔ چنانچہ دوسرے گاؤں میں بھی تبلیغ کی گئی۔ اس کے نتیجہ میں اس گاؤں کے امام صاحب سمیت 140 افراد نے بیعت کر لی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تبلیغی مساعی کو ضائع نہیں کیا بلکہ ایک ہی وقت میں دو جگہ پھل مل گئے۔ اس طرح کے بہت سارے واقعات ہیں۔

نئی مساجد کی تعمیر اور جماعت کو عطا ہونے والی مساجد

اس سال نئی مساجد کی مجموعی تعداد 411 ہے جو نئی مساجد جماعت کو ملی ہیں جن میں سے نئی تعمیر کی گئی 198 ہیں اور جو بنی بنائی مساجد ملی ہیں وہ 213 ہیں۔ اس میں مغربی ممالک کی بھی شامل ہیں، آسٹریلیا بھی شامل ہے۔ یُوکے بھی ہے۔ جرمنی بھی ہے۔ افریقہ کے بہت سارے ممالک ہیں ۔ہندوستان میں اس سال پانچ مسجدوں کا اضافہ ہوا۔ اور بنگلہ دیش ہے۔ غانا ،سیرالیون، لائبیریا، نائیجیریا ،آئیوری کوسٹ ،گیمبیا، گنی بساؤ، تنزانیہ، کینیا، یوگنڈا، برکینا فاسو، کونگو کنساشا ،مالی ،کافی ممالک ہیں جہاں نئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔

مساجد کے تعلق میں واقعات

مساجد کے تعلق میں جو واقعات ہیں ان میں ساؤ تومے میں اس سال جماعت کی پہلی مسجد کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ اس مسجد کی تعمیر ساؤ تومے کے دارالحکومت سے پندرہ کلو میٹر دور ایک علاقے فرننڈیا میں ہوئی اور اس سال 13؍مئی کو اس کا افتتاح ہوا۔ جماعت کا وفد مسجد کی تعمیر کے لئے جب لوکل گورنمنٹ سے اجازت لینے کے لئے گیا تو میئر نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم اپنے ملک میں دہشتگردی نہیں چاہتے۔ یہ عیسائیوں کا ملک ہے اور اس میں مسجد بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے بعد دوسری مرتبہ دوبارہ میئر سے ملاقات کی گئی اور جماعت کا تفصیلی تعارف کروایا تو میئر نے اجازت دے دی۔ مسجد کے سنگ بنیاد میں بھی شرکت کی۔ میئر نے کہا کہ ہمیں جماعت کی تعلیمات کا کچھ علم نہیں تھا بس میڈیا سے سنا تھا کہ اسلام جنگ و قتال کا مذہب ہے۔ لیکن اب جماعت احمدیہ کی بدولت پتہ چلا کہ اسلام ایک نہایت پُر امن اور پیارو محبت کا مذہب ہے۔ ہم جماعت احمدیہ کو پہلی مسجد بنانے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہماری نیک تمنائیں اس مسجد کے ساتھ ہیں۔ مسجد کی تعمیر کے دوران ایک عیسائی عورت جو بہت زیادہ مخالفت کرتی تھیں مسجد میں کام کرنے والے مستریوں مزدوروں اور احمدی بچوں اور خدام سے کہتی تھیں کہ جب تم نے مسجد مکمل کر لی تو مسلمانوں نے تمہیں قتل کر دینا ہے اس لئے مسجد میں کام نہ کریں یہ دہشت گردی کامذہب ہے۔ کچھ دنوں کے بعد وہ بیمار ہو گئی۔ ان دنوں ہمارے میڈیکل کیمپ ہو رہے تھے ۔چنانچہ وہ میڈیکل کیمپ میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے شفا دی۔ اس کے بعد سے اس نے یہ مخالفت ترک کر دی۔

امیر صاحب برکینا فاسو لکھتے ہیں کہ دِوْگُو‘ ریجن کی ایک جماعت میں حال ہی میں ہماری ایک مسجد مکمل ہوئی ہے۔ صرف اس مسجد کو دیکھ کر بیعت کرنے والوں کی تعدادمیں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک غیر احمدی دوست جو ایک سکول کے ڈائریکٹر ہیں وہ مسجد کو دیکھ کر اپنے بچے کے ساتھ مشن ہاؤس آئے اور جماعت کے متعلق کچھ کتب خریدیں۔ کہنے لگے کہ میں روزانہ یہاں سے گزرتا ہوں اور نوجوانوں بچوں اور عورتوں کو بڑے جوش و جذبے سے وقار عمل کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ ایسا جذبہ میں نے کہیں اور نہیں دیکھا۔ یہ ایک زندہ اور سچی جماعت کی نشانی ہے۔ جماعت کے معلم بتاتے ہیں کہ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی بیعت اس مسجد سے متاثر ہو کر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو رہی ہے۔

تنزانیہ کے ریجن شیانگا کے ایک گاؤں میں اس سال جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ امسال وہاں ایک خوبصورت مسجد تعمیر کی گئی اور مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔آغاز میں وہاں 147 بیعتیں ہوئیں۔ جب مخالفین کو پتہ چلا کہ گاؤں کے کافی لوگوں نے احمدیت قبول کر لی ہے تو اس ضلع کا امام وہاں پہنچ گیا اور لوگوں کو جماعت کے خلاف اکسانے اور بہکانے لگا۔ اس کے جھوٹے پروپیگنڈے کے نتیجہ میں کچھ لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ چنانچہ وہاں نئے سرے سے تبلیغ کا آغاز کیا گیا۔ مستقل معلم کا تقرر کیا گیا۔ ہمارے معلم صاحب نے خواب دیکھا کہ اس گاؤں میں کثرت سے لوگ جماعت میں شامل ہو رہے ہیں اور اس گاؤں کے لئے جو مسجد بنائی گئی ہے وہ چھوٹی پڑ گئی ہے۔ پھر ایک اور خواب میں دیکھا کہ گاؤں کے ایک مخالف پر ہم نے غلبہ پا لیا ہے۔ چنانچہ معلم صاحب نے وہاں احباب جماعت کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کیا۔ مخالفین کو تبلیغ بھی شروع کر دی۔ اسی دوران جماعت نے گاؤں میں مسجد کی تعمیر کے لئے پلاٹ بھی خرید لیا۔ جب نومبائعین کو پتہ چلا کہ جماعت نے پلاٹ خریدا ہے تو انہوں نے از خود ہی مسجد کی تعمیر کے لئے پتھر اکٹھے کرنے شروع کر دئیے۔ پانی کے لئے ایک کنواں بھی کھود لیا جس کا پانی غیر احمدی بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے بعد وہاں باقاعدہ مسجد کی تعمیر کی گئی۔ جو لوگ پیچھے ہٹے تھے وہ بھی واپس آنے لگ گئے اور اس کے علاوہ گاؤں کے کئی اور افراد نے بھی احمدیت قبول کر لی۔ اب وہاں جماعت کی تعداد 230 سے زائد ہو چکی ہے اور مسجد بھی افراد جماعت کی کثرت کے باعث چھوٹی معلوم ہوتی ہے۔ جو شروع میں مخالفت تھی گاؤں میں کوئی سلام کا جواب تک نہیں دیتا تھا ان سب نے مخالفت ترک کر دی اور جماعت میں دلچسپی لینی شروع کر دی ہے۔ اس کے بھی بہت سارے واقعات ہیں۔

مسجد کی تعمیر میں مخالفت ، رکاوٹ، نصرت الہٰی

 اسی طرح مسجد کی تعمیر میں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی جو نصرت ہے وہ بھی نظر آتی ہے پھر۔

گنی بساؤ کے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ کسیبی ریجن میں مختلف تربیتی و تبلیغی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ غیر احمدی مولویوں نے ایک میٹنگ کی اور اس میں کہا کہ ہم احمدیہ جماعت کو اپنے ریجن سے ختم کر دیں گے۔ اس کے بعد وہ احمدیوں کے پاس جا کر کہنے لگے کہ ہم اس گاؤں میں مسجد بنائیں گے بشرطیکہ آپ احمدیہ جماعت کو چھوڑ دیں ۔ اس پر ہمارے احمدی احباب نے جواب دیا کہ اگر آپ مسجد اس نیت سے بنانا چاہتے ہیں کہ ہم اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو آپ خوشی سے ہمارے گاؤں آئیں اور اگر آپ کی نیت ہے کہ ہم احمدیت چھوڑ دیں تو ہمیں آپ کی یہ مسجد نہیں چاہئے آپ ہمارے گاؤں سے چلے جائیں۔ چنانچہ مخالفین ناکام ہو کر واپس لوٹے۔

آئیوری کوسٹ کے معلم لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں لوکاحا(Lokaha) میں احمدیت کا نفوذ 2016ء میں ہوا تھا لیکن گاؤں کا چیف احمدی نہیں ہوا تھا۔ امیر صاحب آئیوری کوسٹ نے اس گاؤں کا دورہ کیا۔ چیف نے چار سو مربع میٹر کے چار پلاٹ جماعت کو مسجد کے لئے دینے کا وعدہ کیا۔ اپنے وعدے کے مطابق انہوں نے زمین کی جماعت کے نام پر منتقلی کے لئے کارروائی شروع کر دی۔ ابھی زمین جماعت کے نام منتقل نہیں ہوئی تھی کہ مخالفین نے پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ مسلمانوں کی زمین احمدیوں کو کیوں دی گئی ہے اور اس زمین کو جماعت کے نام پر منتقلی سے روکنے کے لئے سرکاری لوگوں سے رابطے کئے۔ اس مقصد کے لئے وہ قریبی شہر کے ڈپٹی گورنر کے پاس گئے۔ اس نے فریقین کو بلایا۔ اس پر گاؤں کے چیف اور نمبر دار نے احمدیت کے حق میں بیان دیا جس پر ڈپٹی گورنر نے جماعت کے حق میں فیصلہ دیا اور زمین جماعت کے نام پر منتقل کرنے کا حکم دیا اور مخالفین ناکام واپس لوٹے۔ اسی طرح مسجد کی تعمیر میں جو مخالفتیں ہوئیں ان کے بہت سارے واقعات ہیں۔

مشن ہاؤسز اور تبلیغی مراکز میں اضافہ

اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوران سال 180 مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا ہے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے مشن ہاؤسز کی تعداد 2826 ہو گئی ہے اور 127ممالک میں باقاعدہ مشن ہاؤسز قائم ہیں ۔مشن ہاؤسز کے قیام کے حوالے سے پہلے نمبر پر انڈونیشیا ہے۔ اس کے بعد گھانا ہے۔ پھر بنگلہ دیش ہے۔ اسی طرح تنزانیہ اور دوسرے بعض افریقن ممالک ہیں۔

ارجنٹائن میں پہلی دفعہ باقاعدہ مشن ہاؤس کا قیام عمل میں آیا اور باقاعدہ مبلغ کا تقرر ہوا تو وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ پہلے ایک جگہ مشن ہاؤس کے لئے بات چلی تھی لیکن مکمل نہ ہو سکی ۔لینڈ لیڈی نے وہ جگہ دینے سے انکار کر دیا اس کے بعد ہم نے مشن ہاؤس کے لئے بہت سی جگہیں دیکھیں لیکن مناسب جگہ نہیں مل رہی تھی ۔وہاں چونکہ پہلی مرتبہ مشن کا آغاز ہو رہا تھا اس لئے لوگ انکار کر دیتے تھے ۔اس کی وجہ سے پریشانی بھی تھی اور دعائیں بھی ہو رہی تھیں۔ مجھے بھی لکھتے رہتے تھے۔ رمضان کے پہلے عشرہ میں اسی خاتون مالکہ نے جس نے پہلے انکار کر دیا تھا اس نے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ شدید بیمار ہو گئی ہے اس لئے وہ جلد از جلد اس جگہ کو کرائے پر دینا چاہتی ہے۔ کہنے لگی کہ میں نے آپ سے رابطہ اس لئے کیا ہے کہ میرا دل کہتا ہے کہ آپ نیک اور شریف لوگ ہیں۔ چنانچہ جتنی قیمت پہلے طے ہوئی تھی اس سے بہت سستی قیمت پر جگہ دینے کے لئے تیار ہو گئی۔ اس کے بعد بہت ساری قانونی روکیں بھی تھیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے دور ہوتی چلی گئیں اور اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید و نصرت ہوئی اور وہاں باقاعدہ مشن ہاؤس چاہے کرائے پہ ہی ہے لیکن باقاعدہ جماعت کے نام ہو گیا ہے۔

جماعت احمدیہ کا ایک خصوصی امتیاز ۔ وقار عمل 

جماعت احمدیہ کا ایک خصوصی امتیاز وقار عمل ہے۔ افریقہ کے ممالک میں جماعتی مساجد اور مشن ہاؤسز کی تعمیر میں وقار عمل کے ذریعہ جماعت حصہ لیتی ہے۔ اسی طرح دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی جماعتیں اپنی مساجد، سینٹرز اور تبلیغی مراکز کے بعض بہت سارے کام وقار عمل کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔ چنانچہ اس سال 96 ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق کل ساٹھ ہزار تین سو چھتیس وقار عمل کئے گئے جن کے ذریعہ ستائیس لاکھ انتیس ہزار یُو ایس ڈالرز سے زائد کی بچت ہوئی۔

وکالت تصنیف یُوکےتراجم قرآن کریم

 وکالت تصنیف یُوکے کے ذریعہ قرآن کریم کے تراجم شائع ہوئے ۔قرآن کریم کا سویڈش ترجمہ 1988ء میں پہلی بار شائع ہوا تھا۔ اس کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن تیار کر کے طبع کروایا گیا ہے جس میں ترجمہ کی زبان بہتر کی گئی ہے۔ کچھ فُٹ نوٹس کا بھی اضافہ کیا گیا ہے ۔اسی طرح ہر سورۃ کے ابتدا میں سورۃ کا تعارف بھی دیا گیا ہے اور کمپیوٹر پر از سر نو ٹائپ کیا گیا ہے۔ مکرمہ ڈاکٹر قانتہ صاحبہ سویڈش ہیں۔ وہ اور ان کی ٹیم نے اس ترجمہ کو ریوائز کیا ہے اور تیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزا دے۔اسی طرح وکالت تعمیل و تنفیذ کی طرف سے موصولہ رپورٹ کے مطابق انڈیا میں اس سال قرآن کریم کا انگریزی اور ملیالم ترجمہ ری پرنٹ کروایا گیا ہے ۔اب تک اللہ تعالی کے فضل سے 75 زبانوں میں قرآن کریم کا مکمل ترجمہ طبع ہو چکا ہے۔

تراجم کتب

اسی طرح براہین احمدیہ حصہ پنجم کا انگریزی ترجمہ بھی ہو گیا ہے اور اس وقت وہ پریس میں ہے۔ ترجمہ ذرا لیٹ ہو گیا۔ ان کا خیال تھا کہ جلسہ سے پہلے کتاب آ جائے گی۔

 اسی طرح حقیقۃ الوحی کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو گیا ہے۔ اور اس کے علاوہ’ روئداد جلسۂ دعا‘ اس کا بھی ترجمہ شائع ہو گیا ہے۔ ملفوظات جلد اول کا ترجمہ بھی شائع ہو گیا ہے۔

 فضل عمر فاؤنڈیشن انگریزی ڈیسک کی طرف سے Ahmadiyyat Destiny and Progress اور A Call to Faith اور Muhammad the Great Exemplarاور Ten Proofs of the Existence of Godاور Signs of the Living God یہ کتابیں ترجمہ ہو کے شائع ہوئی ہیں ۔ بہت ساری کتب ری پرنٹ ہوئی ہیں۔

تراجم قرآن کریم۔غیروں کا اظہار اور دلچسپی

امیر صاحب فرانس لکھتے ہیں کہ ایک پروٹسٹنٹ چرچ کے صدر قرآن کریم کی نمائش دیکھنے کے لئے آئے۔ کہنے لگے کہ میں جماعت احمدیہ کا فرنچ ترجمہ والا قرآن کریم پڑھتا ہوں اور جب بھی مجھے قرآن کریم سے کوئی حوالہ دینا ہو یا مجھے قرآن کریم سے کوئی بات دیکھنی ہو تو میں جماعت احمدیہ کا قرآن کریم ہی consult کرتا ہوں۔ آپ نے قرآن کریم کے آخر پر جو انڈیکس دیا ہے یہ بھی بہت مفید ہے۔

کتاب ’اسلامی اصول کی فلاسفی‘۔غیروں کے تاثرات

اسلامی اصول کی فلاسفی کی کتاب کا بھی غیروں پر بڑا اچھا اثر ہوتا ہے۔ بینن کےریجن کانڈی میں قرآن کریم کی نمائش اور بک سٹال لگایا گیا۔ وہاں ایک غیر احمدی دوست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی خرید کر لے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد ان کی ملاقات ہمارے معلم صاحب سے ہوئی تو کہنے لگے یہ بہت ہی زبردست کتاب ہے ۔کیا ہی اچھا ہو کہ یہ کتاب ہمارے ملک کے تعلیم کے نظام میں بطور ایک مضمون پڑھائی جائے۔

ایک پاکستان ہے جہاں احمدیوں نے وہاں کے لئے جو جو کام کئے ہیں اس کو بھی تاریخ سے نکالا جا رہا ہے۔ اور ایک اللہ تعالیٰ کا فضل دنیا کے باقی ملکوں میں اس طرح ہےکہ جو پڑھے لکھے لوگ اسلامی لٹریچر لے کر جاتے ہیں وہ یہ اظہار کر رہے ہیں کہ ان کو ہمارے سکولوں اور کالجوں میں پڑھانا چاہئے۔

 پھر اسی طرح بہت سارے واقعات کتابوں کے بارے میں ہیں۔ لوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔

رقیم پریس یُوکے اور احمدیہ پرنٹنگ پریسز افریقہ

رقیم پریس یُوکے اور احمدیہ پرنٹنگ پریس افریقہ جتنے بھی ملکوںمیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے رقیم پریس یُوکے میں اس سال چھپنے والی کل تعداد کتب کی کل تعداد چھ لاکھ چھبیس ہزار تین سو تیس ہے۔ الفضل انٹرنیشنل، جماعتی رسائل اور میگزین ، پمفلٹس، لیف لیٹس، جماعتی رسائل اور سٹیشنری وغیرہ اس کے علاوہ ہے۔

 احمدیہ پرنٹنگ پریس افریقہ جو رقیم پریس کی نگرانی میں افریقہ کے نو ممالک میں غانا، نائیجیریا، تنزانیہ، سیرالیون، آئیوری کوسٹ، کینیا، گیمبیا، برکینا فاسو، بینن میں کام کر رہے ہیں اور مجموعی طور پر تین لاکھ چھبیس ہزار تین سو تیس کتب شائع کی ہیں ۔رسالے اس کے علاوہ ہیں ۔اخبارات اور تربیتی لٹریچر کی تعداد اکانوے لاکھ ساٹھ ہزار ہے۔ اور اللہ کے فضل سے وہاں بھی ہمارے یہ پریس مشہور ہو رہے ہیں۔

وکالت اشاعت (طباعت)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے امسال 123ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق 784مختلف کتب، پمفلٹ اور فولڈرز وغیرہ 63زبانوں میں ایک کروڑ62لاکھ 16ہزار 407کی تعداد میں طبع ہوئے۔ 

وکالت اشاعت( ترسیل)

وکالت اشاعت ترسیل کا کام ہے۔ یہ میں نے نئی قائم کی تھی کہ جو جماعتی لٹریچر مختلف ممالک میں چھپتا ہے اس کی ترسیل ہواور اس کا نکاس بھی آگے ہو تاکہ پھر زیادہ سے زیادہ کتابیں بکیں اور لوگوں تک پہنچیں۔ باون مختلف زبانوں میں تین لاکھ پانچ سو سے زائد کتب دنیا کے مختلف ممالک کو بھجوائی گئیں۔ ان کتب کی کل مالیت چار لاکھ پچاس ہزار ہے ۔مالیت سے ہمیں غرض نہیں اصل چیز یہ ہے کہ بھجوائی جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

قادیان سے بیرون ممالک کو کتب کی ترسیل

قادیان سے بھی بیرونی ممالک کو کتب کی ترسیل ہوتی ہے۔ دوران سال قادیان سے بیرونی ممالک کی لائبریریز اور دیگر ضروریات کے لئے اڑتالیس ہزار سے زائد کتب بھجوائی گئیں۔ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا پریس ہے جو وہاں سے شائع کر کے اچھی کمائی کر رہا ہے۔

جماعتوں کے ذریعہ فری لٹریچر کی تقسیم

 مختلف ممالک میں فری لٹریچر کی جو تقسیم ہوئی ان میں مختلف عناوین پر مشتمل چھ ہزار چار سو باون کتب فولڈرز اور پمفلٹس اٹھاون لاکھ انہتر ہزار پانچ سو بانوے کی تعداد میں مفت تقسیم کئے گئے۔ اس طرح کل ایک کروڑ 42 لاکھ ستائیس ہزار آٹھ سو ترانوے افراد تک پیغام پہنچایا گیا۔

جماعتوں میں ریجنل اور مرکزی لائبریری کے قیام

 جماعتوں میں ریجنل اور مرکزی لائبریری کے قیام کے لئے دنیا کے بیاسی ممالک کی آمدہ رپوٹ کے مطابق 488 سے زائد ریجنل اور مرکزی لائبریریوں کا مختلف جماعتوں میں قیام ہو چکا ہے۔

نمائشیں ،بک سٹالز ،بک فیئرز

رپورٹس کے مطابق6967 نمائشوں کے ذریعہ اڑتیس لاکھ پچاسی ہزار367 افراد تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچا۔

 اس کے علاوہ پندرہ ہزار پچیس(15025) بک سٹالز اور بک فیئرز کے ذریعہ 41 لاکھ 93 ہزار 994 افراد تک پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔

نمائشوں کے حوالے سے واقعات اور تاثرات

امیر صاحب فرانس لکھتے ہیں کہ ایک فرنچ خاتون قرآن کریم کی نمائش پر آئی۔ کہنے لگی کہ کیا میں قرآن کریم کو ہاتھ لگا سکتی ہوں؟ میرے بعض مسلمان جاننے والے کہتے ہیں کہ کوئی بھی غیر مسلم قرآن کریم کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اس پر میں نے کہا کہ اگر ہاتھ نہیں لگائیں گے تو پڑھیں گے کیسے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ لوگ قرآن کریم کا خود مطالعہ کریں۔ عورت بہت حیران ہوئی اور قرآن کریم کا نسخہ خرید کر لے گئی۔

امیر صاحب آسٹریلیا لکھتے ہیں کہ ایک مسلمان نے ہماری قرآن کریم کی نمائش میں اپنے کومینٹس (Comments) میں لکھا کہ آپ لوگ مسلمان نہیں ہیں اور عام لوگوںکو دھوکہ دے رہے ہیں۔ پاکستان میں آپ لوگوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے۔ تم لوگ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے کیونکہ تم لوگ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتے اور یہ کہتے ہو کہ وحی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ چنانچہ ان کے اس کومنٹ(Comment) پر ایک غیر از جماعت مہمان نے Comments Bookمیں یہ بھی جواب لکھا کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ یہ تمام کائنات ایک ہی ہے۔ اسی طرح احمدیت اور دیگر تمام مذاہب سب ایک لافانی ذات کی طرف سے ہیں۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ ہم سب اُس ایک ذات ایک خدا کے بندے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح ہم مختلف یونیورسٹیز میں جا سکتے ہیں اور ایک ہی ڈگری حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح پر ہم اپنے مذاہب پر عمل کر کے خدا کی شناخت کر سکتے ہیں۔ چنانچہ اپنے طور پر اس نے خود ہی اس کا جواب دے دیا۔

بُک سٹالز اور بُک فیئرز کے حوالے سے ایمان افروزواقعات

بُک سٹالز اور بُک فیئرز کے حوالے سے بعض واقعات ہیں۔ آسٹریا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ یہاں بُک فیئرز میں جماعت نے اپنی کتب کا سٹال لگایا۔ سینکڑوں لوگوں نے وزٹ کیا ۔ایک خاتون جماعت کی تعلیم سے متأثر ہو کے کہنے لگی کہ اب تو میں اپنے حلقہ احباب میں صرف احمدیہ احمدیہ ہی کہوں گی اور آپ کی جماعت کا تعارف ہر ایک جاننے والے کو کراؤں گی۔

بینن میں بُک سٹالز پر انڈیا کے دوست آئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے آپ لوگ تو دھرم لُوٹ لیں گے ۔میں کئی ملکوں میں گیا ہوں لیکن کہیں بھی کوئی مسلمان بات کرنے تک راضی نہیں لیکن احمدیوں کے رویّوں سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ آپ لوگ واقعی بہت پیار کرنے والے لوگ ہیں۔ اگر ہر مسلمان آپ جیسا ہو جائے تو مذہبی جھگڑے ہی ختم ہو جائیں۔

        اسی طرح اور بہت سارے واقعات ہیں۔

       مختلف ممالک میں مقامی طورپرجماعتی رسالوں کی اشاعت

مختلف ممالک میں مقامی طور پر جماعتی رسالوں کی اشاعت۔ اس سال 123 ممالک سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جماعتوں اور ذیلی تنظیموں کے تحت 26 زبانوں میں 103 تعلیمی تربیتی اور معلوماتی مضامین پر مشتمل رسائل و جرائد مقامی طور پر شائع کیے جا رہے ہیں۔

لیف لیٹس، فلائرز کی تقسیم کا منصوبہ 

اس سال 96 ممالک میں مجموعی طور پر ایک کروڑ بتیس لاکھ سے زائد لیف لیٹس تقسیم ہوئے ۔اس کے ذریعہ دو کروڑ پینسٹھ لاکھ سے زائد افراد تک پیغام پہنچا۔ اس وقت لیف لیٹس کی تقسیم کے حوالے سے امریکہ اور یورپ کے ممالک نمایاں ہیں۔ جرمنی نمبر ایک پر ہے۔ اس کے بعد یُوکے ہے ۔جرمنی میں 22لاکھ۔ یُوکے میں 17 لاکھ تہتّر ہزار۔ پھر کینیڈا ہے۔ پھر سپین ہے۔ ناروے، ہالینڈ۔ اس طرح دوسرے ملک ہیں۔ یورپ کے ملک ہیں۔ بعض دوسرے ممالک ہیں۔ نائیجیریا، بینن، کونگو کنساشا، کیمرون وغیرہ ممالک ہیں۔

سپین میں لیف لیٹس کی تقسیم

سپین میں لیف لیٹس کی تقسیم بھی ہو رہی ہے۔ یہاں جامعہ یُوکے اور جرمنی کے جو فارغ التحصیل طلباء ہیں وہ جا کے کرتے ہیں۔ اور اس کے ذریعہ سے اللہ کے فضل سے اس سال فارغ التحصیل شاہدین کے ذریعہ سے آٹھ لاکھ تین ہزار سات سو بائیس کی تعدادمیں لیف لیٹس تقسیم کیے گئے۔ اور سیوتا(Ceuta) شہر جو مراکش کے بارڈر پر ہے وہاں بھی لیف لیٹس تقسیم کیے گئے اور اس دوران کئی ایسے لوگ ملے جن کو جماعت کے بارے میں پہلے سے معلومات تھیں اور کیونکہ وہ عربی بولنے والے ہیں اس لئے ایک عرب دوست بھی ساتھ تھے۔ اللہ کے فضل سےوہاں تبلیغ کے اچھے راستے کھل رہے ہیں۔

میکسیکو، گوئٹے مالا، ایکواڈور، یوراگوئے اور پیراگوئے میں فلائرز کی تقسیم

 میکسیکو، گوئٹے مالا، ایکواڈور، یوراگوئے اور پیراگوئے میں فلائرز کی تقسیم ہوئی اور وہاں کینیڈا کے فارغ التحصیل مربیان کے ذریعہ سے تین لاکھ اڑسٹھ ہزار نو سو دس لیف لیٹس تقسیم ہوئے اور لیف لیٹس کی تقسیم کے دوران رپورٹس میں جو واقعات لکھے ہیں اس میں سے ایک دو بیان کر دیتا ہوں۔

لیف لیٹس کی تقسیم کے دوران پیش آنے والے ایمان افروز واقعات

ہنڈورس کے مبلغ بیان کرتے ہیں کہ تبلیغی سفر کے دوران ایک خاتون کو پمفلٹ دیا تو اس نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور یہ پمفلٹ اپنے خاوند کو دکھایا۔ اس کا خاوند کافی عرصہ سے اسلام کے بارے میں جاننا چاہتا تھا لیکن اس کا کسی سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اگلے دن کا وقت لے کر ہمارے ساتھ تقریباً تین گھنٹے کی ملاقات کی جس میں انہیں تفصیل سے اسلامی تعلیم سے آگاہ کیا گیا۔ موصوف اس سے بہت متاثر ہوئے۔اس سے اگلے دن ہم نے دوسرے شہر جانا تھا لیکن وہ صبح صبح دوبارہ آ گئے اور پھر تقریباً ایک گھنٹہ تک اسلام کے حوالے سے گفتگو کرتے رہے۔ انہیں مطالعہ کے لئے کچھ لٹریچر بھی دیا گیا۔ اس کے بعد ابھی تک رابطے میں ہیں اور اسلام کے اندر بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔

بینن کی رپورٹ ہے کہ شہر کانڈی میں قرآن کریم کی نمائش لگائی گئی ۔اس موقع پر پمفلٹس بھی تقسیم کیے  گئے۔ ایک پادری بھی نمائش دیکھنے کے لئے آیا اور اسے بھی ایک پمفلٹ دیا گیا جو وہ لے کر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد واپس آیا اور مزید پمفلٹس مانگے۔ کہنے لگا کہ میں یہ پمفلٹس اپنے چرچ میں تقسیم کرناچاہتا ہوں کیونکہ ہمیشہ سے یہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ اسلام جبرو تشدد کی تعلیم دیتا ہے۔ امن کی تعلیم تو ہم پہلی مرتبہ آپ سے سن رہے ہیں۔

امیر صاحب سپین نے لکھا ہے کہ ایک شہر میں ایک پرانے سپینش احمدی تھے جن سے رابطہ نہیں تھا۔ نئے مربیان کی اس تبلیغی مہم کے دوران، لیف لیٹس کی تقسیم کے دوران ان سے رابطہ ہوا اور اس کے بعد باقاعدہ رابطہ ہے اور وہ بڑے خوش ہوئے کہ مجھے جماعت کا دوبارہ پتہ مل گیا۔

امیر صاحب فرانس کہتے ہیں کہ پمفلٹس کی تقسیم کے دوران ایک پمفلٹ ایک بہت بڑی عمارت کے سامنے ایک فرنچ عورت کو دیا گیا۔ اس نے اسی وقت اسے پڑھنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ کہتی جاتی تھی کہ بہت اچھا ہے آپ لوگ اس کام کو جاری رکھیں اور پورے فرانس میں اس کو تقسیم کریں۔ مجھے بھی ایک پیکٹ دیں میں اس عمارت کی گارڈین ہوں میں بھی سب کو دوں گی۔ چنانچہ پمفلٹس کی مدد سے اس عورت کے ذریعہ آگے اس عمارت میں کام کرنے والے تمام لوگوں تک جماعت کاپیغام پہنچ گیا۔

صدر صاحب جماعت نیپال لکھتے ہیں کہ لیف لیٹس کی تقسیم کے دوران کاٹھمنڈو کے ایک زیر تبلیغ ہندو دوست سے رابطہ ہوا اور وہ جمعہ کی نماز کے لئے ہماری مسجد میں آنا شروع ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت کا تعارف ہونے سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں ایک مندر کے اندر داخل ہو رہا ہوں اور اچانک مندر کے دروازے پر ایک بورڈ آ کر گرتا ہے جس سے میں مندر کے اندر جا نہیں پایا۔ چنانچہ اس خواب کے بعد انہوں نے مندر جانا بند کر دیا۔ جب ان کا جماعت سے تعارف ہوا تو انہوں نے ایک اور خواب دیکھی کہ آسمان پر تمام مذاہب کی نشانیاں دکھائی دے رہی ہیں اور ان symbols کے اوپر ایک چمکتی ہوئی روشنی دکھائی دے رہی ہے اور خواب میں اس روشنی کی طرف جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس خواب کا ان پر گہرا اثر ہوا۔ کہنے لگے اب جو میں نے اسلام احمدیت کی طرف سفر شروع کیا ہے وہ میری روشنی کی طرف جانے کی کوشش کی تعبیر ہے۔ اس خواب کے بعد موصوف مسلسل جماعت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اسلام کے متعلق مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں جمعہ کی نماز بھی پڑھنے آتے ہیں۔

        اس طرح کے بہت سارے واقعات ہیں۔

وکالت تعمیل و تنفیذ لندن

وکالت تعمیل و تنفیذ لندن کے ذریعہ سے انڈیا بھوٹان نیپال میں کام ہو رہا ہے۔ اور قادیان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو کام ہو رہا ہے اس میں نظارت نشر و اشاعت میں تین مقامی زبانوں بنگلہ، اڑیہ، اور تامل کے ڈیسکوں کا قیام عمل میں آ چکا ہے۔ لٹریچر کا ترجمہ ان زبانوں میں ہو رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے ہندی تراجم کا کام جاری ہے۔ بائیس کتب کے ہندی تراجم مکمل ہو چکے ہیں۔ نور ہسپتال کے قیام پر سو سال پورا ہونے پر وہاں بھی ایک صد سالہ تقریب منعقد ہوئی۔ اس کا بھی علاقے کے لوگوں پر بڑا اچھا اثر ہوا۔ فضل عمر پریس قادیان میں نئی مشینیں لگائی گئیں ہیں۔ اللہ کے فضل سے وہاں کافی اچھا کام ہو رہا ہے۔ اسی طرح رینوویشن کا کام ہوا۔ دارالبیعت لدھیانہ کی رینوویشن ہوئی۔ چلہ کشی ہوشیار پور والے مکان کی ہوئی۔ گیسٹ ہاؤسز کی ہوئی اور اللہ کے فضل سے وہاں دوسرے بھی تعمیری کام ہو رہے ہیں۔

عربک ڈیسک

عربک ڈیسک کے تحت گذشتہ سال تک جو کتب اور پمفلٹس عربی زبان میں تیار ہو کر شائع ہوئیں ان کی تعداد 125 ہے۔ جو کتب اس سال پرنٹنگ کے لئےبھجوائی گئی ہیں ان میں ایک کتاب البریہ، روحانی خزائن کی جلد 12 اس میں جتنی کتابیں ہیں اور روحانی خزائن کی جلد 15 ،پھر روحانی خزائن کی جلد 18 ،روحانی خزائن کی جلد 19 یہ اللہ کے فضل سے ترجمہ ہو چکی ہیں اور حضرت مصلح موعودؓ کی کتب اور بعض دوسری کتابیں بھی ترجمہ کے پراسیس میں ہیں انشاء اللہ تعالیٰ وہ ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ اور بہت ساری کتب کا ترجمہ یہ کر رہے ہیں۔

عربوں میں قبول احمدیت کے واقعات

عربوںمیں قبول احمدیت کے واقعات بھی ہیں۔ مراکش سے ایک دوست محمد العواصی صاحب لکھتے ہیں کہ احمدیت سے میرا تعارف ایک احمدی دوست کے ذریعہ سے ہوا۔ اس دوست نے مجھے ابتدائی امور کے بارے میں بتانے کے بعد جماعت کے ٹی وی چینل کو مسلسل دیکھنے کا مشورہ دیا۔ مَیں نے ایم ٹی اے دیکھنا شروع کیا تو محض چند روز میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا قائل ہو گیا لیکن بیعت کرنے سے کسی قدر خائف تھا۔ اس بات کا اظہار جب میں نے اپنے احمدی دوست سے کیا تو اس نے کہا کہ تم استخارہ کیوں نہیں کر لیتے۔ مجھے اس کی تجویز پسند آئی ۔مَیں نے استخارہ کیا تو خواب میں دیکھا کہ میری پیدائش ہوئی ہے اور میں جلدی جلدی بڑا ہو کر نوجوان ہو گیا ہوں۔ اس رؤیا کے باوجود مجھے خوف دامنگیر رہا۔ ایک رات اچانک میری آنکھ کھل گئی تو میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے حق دکھا دے اور اس کی پیروی کی توفیق عطا فرما۔ اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جماعت احمدیہ کی سلطنت میں ہوں۔ اس میں لوگ جگہ جگہ جمع ہیں اور مختلف علاقوں کے فتح کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ان کے پاس کوئی ظاہری اسلحہ نہیں ہے پھر بھی ایسی بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں۔ احمدیوں کی اس سلطنت میں مَیں ایک بلند و بالا زیر تعمیر عمارت دیکھتا ہوں۔ ایک شخص مجھے کہتا ہے کہ جب اس کی تعمیر مکمل ہو جائے گی تو دنیا کی سب سے بلند ترین عمارت کہلائے گی۔ میں نے اپنے احمدی دوست کو یہ رؤیا سنایا تو اس نے کہا اب اس کے بعد تو آپ کا ہر شک دور ہو جانا چاہئے اور بیعت کر لینی چاہئے اور میں خود بھی اب اس نتیجہ پر پہنچا تھا۔

        اسی طرح اور بہت سارے واقعات ہیں۔

سیریا کے محمدالحاج عبداللہ صاحب آجکل کینیڈا میں ہیں۔ کہتے ہیں مَیں ایک سیلز مین کی جاب کرتا تھا۔ میرے گاہکوںمیں سے ایک شخص کے بیٹے محمدکیّال صاحب سے میرا تعارف ہوا۔ یہ نوجوان احمدی تھا۔ اس سے تعلق بڑھا تو اس نے مجھے جماعت کے بنیادی عقائد اور اس کے تجدیدی مفاہیم کے بارے میں بتایا۔ اس نے مجھے اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی میں ترجمہ دیا۔ میں اس کتاب کو پڑھ کر بہت متاثر ہوا اور اس میں پائی جانے والی معقول باتیں بہت پسند آئیں۔ پھر تقریباً ایک سال تک میں جماعت کی مختلف کتب پڑھتا رہا ۔نیز ایم ٹی اے العربیہ بھی دیکھنا شروع کر دیا۔ ایک سال کے بعد مطالعہ اور ایم ٹی اے دیکھنے اور جماعت کے عقائد کا موازنہ کرنے کے بعد میرے دل میں جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی خواہش جنم لینے لگی۔ لیکن میں اپنی باطنی طہارت کے حوالے سے اپنے آپ کو اس پاکیزہ جماعت کے قابل نہ سمجھتا تھا۔ اس مقام تک پہنچنے کی راہوں سے ناآشنا تھا۔ لہٰذا میں نے محمدکیّال سے کہا کہ مجھے بعض احمدیوں سے ملوا دو۔ اس نے اپنے گھر پر ہی چند احمدیوں کے ساتھ ملاقات کا بندوبست کروایا اور میں نے ان کے ساتھ روحانی ارتقاء کے ذرائع کے بارے میں بات کر کے محسوس کیا کہ جیسے میری روحانی پیاس کی تسکین ہونے لگی ہے کیونکہ مجھے رؤیائے صالحہ وغیرہ کی بنا پر یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور ضرور مجھے ہدایت دے گا ۔لہٰذا یہ سوچ کر میں نے استخارہ کرنا شروع کیا۔ میں اپنے کام کے سلسلہ میں دمشق میں تھا۔ جب کہ میری بیوی حلب میں دیگر اہل خانہ کے ساتھ رہتی تھی۔ میں نے استخارہ شروع کرنے کے بعد اپنی بیوی کو فون کر کے کہا کہ اس عرصہ میں اگر کوئی خواب آئے تو مجھے ضرور بتانا۔ چند ایام کے بعد آنے والی ایک رات میرے لئے لیلۃ القدر ثابت ہوئی جس میں مَیں نے ایک نہایت عظیم رؤیا دیکھا۔ میں نے اپنے ایک نیک و پارسا رشتہ دار کو خواب میں دیکھا اس نے مجھے ایک ورق دیتے ہوئے کہا کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔ میں نے وفور شوق سے اسے بسُرعت کھولا تو اس میں لکھا تھا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ میں بیدار ہوا تو بہت خوش تھا اور میری زبان پر یہ آیت کریمہ جاری تھی اُدْخُلُوْھَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْن۔ جماعت میں داخل ہونے کے لئے یہ ایک واضح پیغام تھا۔ گو یہ رؤیا تو آنے والے امام مہدی اور مسیح موعود کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پہنچانے کی طرف بھی اشارہ کر رہا تھا لیکن اس وقت مجھے اس بات کا علم نہ تھا۔ بہرحال مجھے یقین تھا کہ یہ میرے استخارہ کا جواب ہے ۔اس کے بعد میں نے بیعت کر لی۔ ان عربوں کے بھی اس طرح کے بہت سارے واقعات ہیں۔

بنگلہ ڈیسک

بنگلہ ڈیسک میں بھی ترجمہ کا کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو رہا ہے۔ خطبات کا بھی ترجمہ کرتے ہیں۔

 فرنچ ڈیسک

 فرنچ ڈیسک کی طرف سے بھی یہاں ٹرانسلیشن کا کام ہو رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں بھی اور دوسرا لٹریچر بھی یہ لوگ ترجمہ کر رہے ہیں ۔

رشین ڈیسک

رشین ڈیسک میں بھی ترجمہ کا کام ہو رہا ہے۔ خطبات کا ترجمہ بھی ایم ٹی اے پر باقاعدہ سنایا جاتا ہے۔ بہت سارے روسی احمدی دوستوں کے مجھے خط آتے ہیں کہ جب سے خطبہ کاترجمہ شروع ہوا ہے ہمارے ایمان میں بڑااضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح مختلف ویب سائٹس بھی جاری ہیں۔

ٹرکش ڈیسک

ٹرکش ڈیسک کے ذریعہ سے بھی شہادۃ القرآن، روئداد جلسہ دعا اور توضیح مرام کا ترکی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور دوسری کتابوں کا ترجمہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح ایم ٹی اے پروگرام بھی جاری ہیں ۔

چینی ڈیسک

چینی ڈیسک کے ذریعہ سے بھی ترجمہ کا کام جاری ہے ۔

انڈونیشین ڈیسک

انڈونیشین ڈیسک۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب لائیو ترجمہ یہاں سے انڈونیشین زبان میں شروع ہو چکا ہےاور دوسرےترجمانی کے کام بھی یہ کر رہے ہیں ۔

وقف نَو       کی تحریک

وقف نو کی تحریک کے تحت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت دنیا بھر میں واقفین نو کی کل تعداد چھیاسٹھ ہزار پانچ سو پچیس ہے جس میں سے انتالیس ہزار آٹھ سو چودہ لڑکے ہیں اور چھبیس ہزار سات سو گیارہ لڑکیاں ہیں۔ اس سال جو واقفین نو میں شامل ہوئے ان کی تعداد تین ہزار چار سو اڑتالیس ہے۔ پندرہ سال سے زائد عمر کے واقفین نو کی تعداد ستائیس ہزار نو سو ستائیس ہے جس میں لڑکے اٹھارہ ہزار چار سو نوے اور لڑکیاں نو ہزار چار سو سینتیس ہیں۔ اور ان میں پاکستان اول نمبر پر ہے۔ پھر جرمنی۔ پھر یُوکے۔ پھر انڈیا۔ پھر کینیڈا۔اللہ کے فضل سے یہ نظام بھی اب کافی آرگنائز ہو گیا ہے۔

مخزن تصاویر

مخزن تصاویر کا شعبہ ہے ۔جماعتی تاریخ تصویروں کی صورت میں جمع کی جاتی ہے اور ان کی ایک نمائش بھی ہے۔ آجکل یہاں جلسے پر بھی نمائش لگی ہو گی۔

 اَلْاِسلام ویب سائٹ

 الاسلام ویب سائٹ ۔یہ امریکہ سے کام ہو رہا ہے لیکن کام کرنے والے رضا کار پاکستان، کینیڈا، بھارت ،یُوکے اور جرمنی وغیرہ سب جگہ سے شامل ہیں اور قرآن کریم کے نئے ایڈوانس سرچ انجن کا اجراء کیا گیا ہے۔ اس سرچ انجن کے ذریعہ سے عربی، اردو ،انگریزی، جرمن، فرنچ اور سپینش زبانوں میں سرچ کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کریم کے اڑتالیس تراجم اور تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نیا ایڈیشن ویب سائٹ پر ڈال دیا گیا ہے۔ دوران سال ساٹھ سے زائد اردو اور انگریزی کتب کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اٹھارہ کتب کا آئی بُکس اور کِنڈل(Kindle) پر اجراء کیا گیا ہے۔ کُل کتب کی تعداد انتالیس ہو چکی ہے۔ خطبات جمعہ پوڈ کاسٹ پر دستیاب ہے۔ اسی طرحFriday Sermon  کا نیا ورژن بھی آ چکا ہے۔ خطبات جمعہ اٹھارہ زبانوں میں آڈیو اور وڈیو کی صورت میں آن لائن دستیاب ہیں۔ اور اس کے علاوہ دوسری بہت ساری چیزیں ہیں۔ آئی فون پر نئی قرآن اَیپ انگریزی ،عربی سرچ کے ساتھ لانچ ہوئی ہے۔

ریویو آف ریلیجنز

ریویو آف ریلیجنز ۔اس کا پہلا شمارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں جنوری 1902ء میں شائع ہوا تھا۔ اس رسالے کا ایک سو سترہواں(117) سال ہے اور اس وقت انٹرنیشنل میگزین کے طور پر ملٹی پلیٹ فارم بن کر یقینًا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک گلوبل میگزین آرگنائزیشن F.I.P.P ہے جو دنیا بھر کے میگزین کے اِیونٹس اور نیٹ ورکنگ کوکرنے میں مدد کرتی ہے۔ اس تنظیم میں ٹائم اکانومسٹ، نیشنل جیوگرافک وغیرہ کے علاوہ دنیا بھر کے سینکڑوں میگزین شامل ہیں۔ یہ تنظیم ہر سال دو سال بعد ورلڈ میگزین کانگرس منعقد کرتی ہے جو دنیا میں میگزین کا سب سے بڑا اِیونٹ شمار ہوتا ہے۔ اکتوبر 2017ء میں اکتالیسویں ورلڈ کانگرس لندن میں منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر سے میگزین کے سات سو سے زائد سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ اس میں برطانیہ کے گیارہ میگزین کے نمائندوں کو منتخب کیا گیا جن میں نیو سائنٹسٹ جیسے نامور رسالوں کے ساتھ ریویو آف ریلیجنز کو بھی منتخب کیا گیا ۔چنانچہ اس موقع پر دنیا بھر سے آئے ہوئے میگزین کے سینئر ایڈیٹرز اور پبلشرز کو ریویو کا تعارف پیش کرنے کا موقع ملا۔ اس تنظیم کے صدر جیمز ہیوز کہتے ہیں کہ میرا دنیا بھر کی میگزین کمپنیوں سے واسطہ پڑتا ہے مگر ریویو آف ریلیجنز کی ایک منفرد حیثیت ہے کیونکہ اس کا شمار ان چند رسالوں میں ہوتا ہے جو مذہب کے بارے میں اور عصر حاضر کے مسائل پر مشتمل ہیں۔اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی ڈالا گیا ہے اور گزشتہ سال سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع سے ریویو آف ریلیجنز کی نوے لاکھ سے زائد پوسٹس دیکھی گئی ہیں۔اس کا فرنچ اور جرمن ایڈیشن بھی شائع ہو رہا ہے اور اسی طرح یہاں آج کل ان کے دوسرے پراجیکٹ، القلم پراجیکٹ وغیرہ بھی ہیں۔

 الحکم ( ہفت روزہ)

پھر الحکم ہفت روزہ جو ہے اس کا بھی اجراء کیا گیا تھا ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بھی اب جاری ہے اور انگلش میں انگریزی دان طبقہ کے لئے اچھا اخبار ہے۔ آن لائن بھی دستیاب ہے اور کچھ سو کاپیاں پرنٹ بھی کی جاتی ہیں۔

احمدیہ آرکائیوز اینڈ ریسرچ سینٹر 

احمدیہ آرکائیوز اینڈ ریسرچ سینٹر ہے۔ اس میں بھی ریسرچ کے حوالے سے اللہ کے فضل سے پرانی باتیں جمع کی جا رہی ہیں اور ریسرچ کی جارہی ہے۔ اچھا کام ہو رہا ہے۔

پریس اینڈ میڈیا آفس

پریس اینڈ میڈیا آفس ہے۔ یہ بھی اپنے روابط بڑھا کر اچھا کام کر رہا ہے۔

ایم ٹی اے انٹرنیشنل

ایم ٹی اے انٹرنیشنل۔ اللہ کے فضل سے اس کے اب سولہ ڈیپارٹمنٹ ہیں اور اس کا کام بھی بڑا وسیع ہو گیا ہے۔کارکنوںکی تعداد بھی سینکڑوں میں چلی گئی ہے۔ ایم ٹی اے اولیٰ، ایم ٹی اے ثانیہ ، ایم ٹی اے العربیۃ، ایم ٹی اے افریقہ ایک اور ایم ٹی اے افریقہ دو، اور ان چینلز پر سترہ مختلف زبانوں میں رواں ترجمے کیے جا رہے ہیں جن میں انگریزی، عربی، فرنچ، جرمن، بنگلہ، سواحیلی، افریقن، انگریزی، انڈونیشین، ترکش، بلغارین، بوسنین، ملیالم، تامل اور رشین، پشتو، سپینش اور سندھی زبانیں شامل ہیں۔

 اس وقت ایم ٹی اے کی نشریات تمام دنیا میں کل بارہ سیٹلائٹس پر دیکھی جا سکتی ہیں اور دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں ہے جہاں اس روحانی مائدے کا فیض نہ پہنچ رہا ہو۔ اس سال پانچ سیٹلائٹس معاہدوں کی تجدید کی گئی جبکہ ایک نئے سیٹلائٹ کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند اور بنگلہ دیش وغیرہ میں ایم ٹی اے کی نشریات ہائی ڈیفی نیشن(High Defination) میں بھی نشر ہو رہی ہے۔ ایم ٹی اے نیوز وغیرہ کے کام میں بھی وسعت پیدا ہوئی ہے اور اس طرح کافی ساری اس میں وسعت پیدا ہو چکی ہے ۔

ایم ٹی اے افریقہ

 ایم ٹی اے افریقہ کا 2016ء میں  اجرا ءہوا تھا اس پر روزانہ چوبیس گھنٹے مختلف لوکل زبانوں میں نشریات جاری ہیں اور کافی اس کی توسیع ہوئی ہے۔ آٹھ ممالک میں ایم۔ٹی۔اے افریقہ کی شاخیں باقاعدہ کام کر رہی ہیں اور لوکل زبانوں میں سواحیلی، یوروبا، ہاؤسا، چُوئی میں پروگرام تیار کئے جا رہے ہیں۔ دوران سال ان سٹوڈیوز میں 400 سے زائد پروگرام تیار کیے گئے۔ اسی طرح تنزانیہ میں نیا سٹوڈیو تعمیر ہوا۔ گھانا میں پہلے تعمیر ہو چکا ہے۔ جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر ایم ٹی اے افریقہ پر قادیان سٹوڈیو سے خصوصی لائیو نشریات چلائی گئی تھیں۔ جلسہ سالانہ یُوکے مشرقی اور مغربی افریقہ میں گیارہ چینلز کے ذریعہ نشر ہو رہا ہے اور اللہ کے فضل سے کافی ان میں کام ہوا ہے۔

بورکینا فاسو کے شہر بوبو جلاسو میں ایم ٹی اے کا اجراء

بورکینا فاسو کے شہر بوبو جلاسو میں بھی ایم ٹی اے کا اجرا ءہوا ہے اور وہاں خطبات کو جُولا زبان میں ترجمہ کر کے نشر کیا گیا ہے۔ ایم ٹی اے بوبو جلاسو ڈش کے ساتھ نہیں بلکہ انٹینا کے ساتھ ہے اور سو کلو میٹر کی ریڈئیس (Radius) میں دیکھا جاتا ہے۔ بارہ گھنٹے اس کی نشریات چلتی ہیں۔ ایم ٹی اے افریقہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتیں بھی ہوئی ہیں۔

ایم ٹی اے افریقہ کے ذریعہ بیعتیں۔ عوام و خواص میں نمایاں تبدیلی

مبلغ انچارج کیمرون لکھتے ہیں کہ شمالی کیمرون کے ریجن اڈمَاوَا کے دارالحکومت گْوَونڈیرے (Ngaoundere) میں سے ایک شخص نے ہمارے مبلغ ابوبکر صاحب کو فون کیا کہ میرا نام سلیمان احمدوہے۔ مَیں یہاں ایم ٹی اے ڈش کے ذریعہ دیکھتا ہوں۔ ایم ٹی اے العربیۃ اس علاقے میں بہت لوگ دیکھتے ہیں۔ آپ جب بھی ہمارے شہر آئیں تومجھے ضرور ملیں۔ اس سال جب معلم ابوبکر صاحب اس شہر میں کیبل والوںکو ایم ٹی اے فیس دینے کے لئے گئے تو کیبل آپریٹر اُن کو سلیمان احمدو کے گھر لے گیا جس پر وہ بہت خوش ہوئے اور کہاکہ میں ایم ٹی اے کے ذریعہ جماعت کے عقائد جان چکا ہوں اور آج بیعت فارم فِل (Fill)کر کے احمدیت میں داخل ہوتا ہوں اور جماعت کو مسجد کے لئے جگہ بھی دی۔ سلیمان احمدو صاحب کے والد علاقے کے بہت بڑے عالم ہیں انہوں نےبھی بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ میں خلیفہ وقت کے خطبات عربی اور فرنچ سُن کر فولانی میں ترجمہ کر کے ٹی وی پر نشر کرنا چاہتا ہوں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اب لوکل ٹی وی چینل Canal Marouaکے ذریعہ سے فولانی زبان میں بھی خطبہ کا ترجمہ نشر ہوتا ہے۔ خدا کے فضل سے اب شمالی کیمرون کے چھ شہروں میں کیبل کے ذریعہ سے ایم ٹی اے افریقہ اور ایم ٹی اے العربیۃ دیکھے جا رہے ہیں اور تین شہروں میں لوکل ٹی وی چینل کے ذریعہ سے خطبات کا فولانی زبان میں ترجمہ نشر ہو رہا ہے۔

شمالی کیمرون کے تیسرے ریجن Extreme North کے کیپٹل مَرْوَہْ میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے افریقہ اور ایم ٹی اے العربیۃ کی نشریات کیبل سسٹم کے ذریعہ سے شروع ہو چکی ہیں۔ یہ کہتے ہیں جب ہمارے معلم ابوبکر صاحب وہاں پہنچے اور کیبل آپریٹر سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ میں یہاں پر کوئی بھی مذہبی چینل چیف امام اور پیراماؤنٹ چیف کی اجازت کے بغیر نہیں چلا سکتا۔ پہلے ہم نے پیراماؤنٹ چیف اور پھر چیف امام کے حکم پر اپنے کیبل سسٹم سے مشہور مسلم چینل TV Sunnaاور پیس ٹی وی اور عیسائی چینل Emmanuel Tvہٹا دیے ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کو برا بھلاکہتے تھے اور لڑتے تھے۔ کیبل آپریٹر کہنے لگا کہ میں آپ کو پیرا ماؤنٹ چیف الحاجی ابوبکر صاحب کے پاس لے جاتا ہوں وہاں پر چیف امام اور دوسرے امام بھی موجود ہوں گے آپ ان سے بات کر لیں۔ جب پیراماؤنٹ چیف کے پَیلس میں پہنچے، محل پہنچے تو وہاں چیف امام اور دوسرے امام بھی موجود تھے۔ ان کے ساتھ سوال و جواب ہوتے رہے اور خاتم النبیین کے متعلق بھی کافی بحث ہوئی اور اس کے تسلی بخش جوابات دیے گئے۔ ان اماموں سے ایک امام نوح صاحب بولے کہ یہ جو کہہ رہے ہیں بالکل صحیح کہہ رہے ہیں۔ میں بھی ایم ٹی اے العربیۃ ڈش کے ذریعہ سے دیکھتا ہوں اور ایم ٹی اے پر ہر وقت آیت خاتم النبیین کی تلاوت ہو رہی ہوتی ہے۔ اگر جماعت احمدیہ نبی کریم ﷺکو خاتم النبیین نہیں مانتی تو یہ آیت کیوں ایم ٹی اے پر تلاوت کی جاتی ہے۔ اس پر سارے امام مطمئن ہو گئے اور یہ ساری کارروائی پیراماؤنٹ چیف کی موجودگی میں ہوئی۔ اس مجلس میں اماموں اور چیف کو جماعتی کاغذ دیے گئے جن پر جماعت کی خدمات کی اور میری تصاویر تھیں اس سے وہ بڑے متاثر ہوئے۔ پیراماؤنٹ چیف نے ایم ٹی اے افریقہ اور ایم ٹی اے العربیۃ کو کیبل پر نشر کرنے کی اجازت دے دی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے پیراماؤنٹ چیف اپنی فیملی اور ہزاروں لوگوں کے ساتھ جماعت میں شامل ہو چکے ہیں۔ اب مَرْوہ شہر میں کیبل پر ایم ٹی اے افریقہ اور عربیہ کے علاوہ فولانی زبان میں خطبات کا ترجمہ بھی نشر ہوتا ہے۔ اللہ کے فضل سے ایم ٹی اے العربیۃ اور افریقہ کے ذریعہ سے افریقہ میں بھی بہت ساری بیعتیں ہو رہی ہیں۔

حضور انور کے خطبات سے نمایاں تبدیلی، بیعتیں

خطبات کے ذریعہ سن کے بھی لوگ کافی بیعتیں کر رہے ہیں اور اللہ کے فضل سے خاص طور پر کیمرون اور فرنچ ملکوں میں اس ذریعہ سے یہاں کافی کام ہو رہا ہے ۔

 احمدیہ ریڈیوکے ذریعہ قبول احمدیت کے دلچسپ واقعات۔ نمایاں تبدیلی

  احمدیہ ریڈیو کے ذریعہ سے بھی کافی تعداد میں بیعتیں ہو رہی ہیں ۔

بینن کے ریجن بوہیکوں سے عارف محمود صاحب لکھتے ہیں کہ بوہیکوں ریجن میں دو ریڈیوز پر ہفتہ وار جماعتی تبلیغی پروگرام ہوتا ہے۔ وہاں ایک قریبی گاؤں توئے (Toue) سے تعلق رکھنے والے ایک دوست نے اپنے گاؤں کے لئے ہمیں دعوت دی۔ جب ہمارے معلم ان کے گاؤں پہنچے تو پتہ چلا کہ تقریباً تین سال قبل اس گاؤں میں کویت کی مدد سے ایک مسجد تعمیر ہوئی تھی اور فون کرنے والے دوست اس مسجد کے امام ہیں۔ جب انہیں تبلیغ شروع کی گئی تو کہنے لگے کہ ہم ریڈیو پر آپ لوگوں کی تبلیغ باقاعدگی سے پہلے ہی سنتے ہیں۔ آج تو ہم نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ ہم بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ امام صاحب سمیت 65 افرادبیعت کر کے احمدیت میں داخل ہو گئے۔

 اسی طرح برکینا فاسو اور مختلف جگہوں کی رپورٹیں ہیں جہاں اللہ کے فضل سے ریڈیو اور ٹی وی سن کے لوگ بیعت کر کے شامل ہو رہے ہیں۔

 تنزانیہ ایسٹ افریقہ ہے۔مٹوارا ریجن میں احمدیہ ریڈیو 24گھنٹے ٹیسٹ ٹرانسمیشن جاری ہے ۔ایک احمدی دوست عثمان اونگیلے صاحب نے بیان کیا کہ میں نے ایک آدمی کو جب احمدیہ ریڈیو سنتے دیکھا تو اس کو اپنا تعارف کروایا۔ اس پر یہ آدمی کہنے لگا کہ میں ہمیشہ یہی ریڈیو سنتا ہوں ۔دوسرے لوگ اس کو روکتے ہیں کہ کافروں کا ریڈیو ہے نہ سنا کرو ۔ میں ان کو یہی جواب دیتا ہوں کہ اس ریڈیو میں نہ گانا بجانا ہے نہ میوزک ہے نہ دوسرا گند ہے۔ اس میں تو صرف قرآن، قصیدے اور اسلامی تعلیمات کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اگر یہ اسلام نہیں تو پھر ہر جگہ کفر ہی کفر ہے۔

 دیگر ٹی وی اور ریڈیو پروگرام

 ایم ٹی اے کے علاوہ جودیگر ٹی وی پروگرام ہیں۔ 69 ممالک میں ٹی وی اور ریڈیو چینلز پر جماعت کا جو پیغام ہے وہ پہنچانے کی توفیق مل رہی ہے۔ اس سال دوہزار تین سو بائیس ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ دوہزار تین سو چھپن گھنٹے وقت ملا۔

 جماعتی ریڈیوز کے علاوہ مختلف ریڈیوز پر پندرہ ہزار چھ سو چوہتر گھنٹے پر مشتمل سولہ ہزار نوے پروگرام نشر کئے گئے۔ ٹی وی اور ریڈیو کے پروگراموں کے ذریعہ محتاط اندازے کے مطابق انہتّر کروڑ اکتیس لاکھ سے زائد افراد تک پیغام پہنچا اور اس میں افریقہ وغیرہ کے زیادہ ممالک شامل ہیں۔

اخبارات میں جماعتی خبروں اور مضامین کی اشاعت

اخبارات میں جماعتی خبروں اور مضامین کی اشاعت بھی ہوئی۔ مجموعی طور پر چار ہزار سات سو اکاسی اخبارات نے تین ہزار تین سو چھبیس جماعتی مضامین آرٹیکل اور خبریں وغیرہ شائع کیں۔ ان اخبارات کے قارئین کی مجموعی تعداد تقریباً پینتالیس کروڑ سے زائد ہے۔

نائیجر سے مشنری لکھتے ہیں کہ نائیجر کے مشہور اخبار نائیجر ٹائمز میں میرے خطبہ کا فرنچ زبان میں خلاصہ بعنوان اسلام کے خلیفہ کی آواز سے شائع کرنا شروع کیا گیا ہے۔ اس کا بہت عمدہ رسپانس مل رہا ہے۔ اس اخبار کے ایڈیٹر نے جماعت کو خط لکھا کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کے خطبہ کا خلاصہ اپنی اخبار میں شائع کرنا ہمارے لئے باعث عزت ہے۔ ہمارے اخبار کا یہ صفحہ بہت سراہا جاتا ہے۔ بہت سے قارئین نے ہمیں بتایا کہ اسلام کے خلیفہ درست اسلامی تعلیمات کی طرف ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔ ہم جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ روشنی پھیلانے کا یہ سفر ہم اکٹھے جاری رکھیں گے۔

مجلس نصرت جہاں

مجلس نصرت جہاں کے تحت اس وقت افریقہ کے بارہ ممالک میں چھتیس ہسپتال اور کلینک ہیں۔ ان ہسپتالوںمیں بیالیس مرکزی اور تیرہ مقامی ڈاکٹر خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ ہسپتالوں سے دوران سال پانچ لاکھ دس ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ بہت سارے مستحقین کا فری علاج کیا گیا۔ بارہ ممالک میں ہمارے چھ سو چوراسی ہائر سیکنڈری سکول اور جونیئر سیکنڈری سکول اور پرائمری سکول کام کر رہے ہیں جس میں انیس مرکزی اساتذہ خدمت کر رہے ہیں۔ اور اس میں بھی غیر معمولی طور پر تبلیغ کا کام بھی ان کے ذریعہ سے ہو رہا ہے۔

فری میڈیکل کیمپس، خون کے عطیات اور آنکھوں کے  فری آپریشنز

 فری میڈیکل کیمپس بھی جاری ہیں۔ یہ بھی بڑا اچھا کردار ادا کر رہے ہیں۔ خون کے عطیہ کا بھی مختلف ملکوں نے کام شروع کیا ہوا ہے اور اللہ کے فضل سے  اس کےبڑے اچھے نیک نتائج نکل رہے ہیں۔ آنکھوں کے فری آپریشنز بھی ہو رہے ہیں ۔کُل چودہ ہزار اکانوے افراد کے آپریشن کئے جا چکے ہیں۔ برکینا فاسو میں آٹھ ہزار ستہتّر سب سے زیادہ کام یہاں ہو رہا ہے۔

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹکٹس اینڈ انجینئرز

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹکٹس کے ذریعہ سے بھی جو کام ہو رہا ہے اس میں واٹر فار لائف کے ذریعہ ہینڈ پمپ لگائے جا رہے ہیں۔ نلکے لگائے جا رہے ہیں۔ نائیجر کے علاقے، بینن کے علاقے میں بھی، بورکینا فاسو میں، تنزانیہ میں، زیمبیا میں اور کہتے ہیں اب تک کُل دو ہزار پانچ سو پمپ پندرہ ممالک میں لگائے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سات سولر واٹر پمپ بھی لگوائے گئے ہیں ۔اور اللہ کے فضل سے تعمیراتی پروجیکٹس بھی اس کے ذریعہ سے جاری ہیں جو وہاں کام کر رہے ہیں۔ مالی میں بھی بڑی خوبصورت مسجد ان کے زیر نگرانی بن رہی ہے۔

ہیومینٹی فرسٹ

ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعہ سے بھی اللہ کے فضل سے اچھا کام ہو رہا ہے اور جہاں بھی کہیں بھی طوفان یا ہنگامی حالات ہوتے ہیں یہ لوگ پہنچتے ہیں ۔اس کے علاوہ روٹین کی مدد بھی یہ لوگ کر رہے ہیں۔ اس سال بیس ممالک میں قدرتی آفات اور خانہ جنگی میں ایک لاکھ اکہتّر ہزار دو سو پچاس متاثرین کی مدد کی گئی ۔ان کو ضروری اشیاء طبی معاونت وغیرہ دیے گئے۔ واٹر فار لائف کی سکیم کے تحت صاف پانی کی بانوے نئی انسٹالیشن کی گئیں۔ مجموعی طور پر دو ہزار چھ سو بتیس پمپ لگائے گئے جس سے تین اعشاریہ نو ملین افراد استفادہ کر رہے ہیں۔

نالج فار لائف کے تحت نو(9) سکول تعمیر کیے گئے اور افریقہ میں ان کے اکتیس سکول کام کر رہے ہیں۔ میڈیکل کیمپس وغیرہ بھی یہ لگاتے ہیں۔ اسی طرح یتامیٰ کی کفالت بھی کر رہے ہیں۔

 چیرٹی واک

 چیرٹی واکس کے ذریعہ سے بھی جو مختلف یورپین ممالک میں مغربی ممالک میں یا ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہے کافی رقم جو چندہ مختلف جگہوں سے آتا ہے لوگ ڈونیشن کرتے ہیں وہ ان جگہوں پہ خرچ ہو رہا ہے۔

قیدیوں سے رابطہ اور ان کی خبر گیری

قیدیوں سے رابطہ اور ان کی خبر گیری کا کام بھی کافی کیا جا رہا ہے خاص طور پہ غریب ممالک میں۔

نومبائعین سے روابط کی بحالی

نومبائعین سے رابطہ اور بحالی کی جو رپورٹ ہے وہ یہ ہے کہ نائیجیریا نے اس سال ستائیس ہزار ایک سو ستائیس نومبائعین سے رابطہ بحال کیا جن سے بڑے عرصے سے رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔ مالی نے بائیس ہزار ایک سو انیس۔ سیرالیون نے دس ہزار، سینیگال، کیمرون، آئیوری کوسٹ انہوں نے ہر ایک نے کچھ کچھ ہزار لوگوں سے رابطہ کیا اور یہ اللہ کے فضل سے اس لحاظ سے بھی ان کی نئی نو مبائعین سے رابطے کے بعد بھی جماعتیں قائم ہو رہی ہیں۔

نومبائعین کے لئے تربیتی کلاسز/ریفریشر کورسز کا انعقاد

 نومبائعین کے لئےتربیتی کورسز کا افتتاح کیا جا رہا ہے۔ تین ہزار سات سو تیس جماعتوں میں ستاسی ہزار آٹھ سو اٹھاون تربیتی کلاسز اور ریفریشر کورسز کا انعقاد کیا گیا۔ ان میں شامل ہونے والے نومبائعین کی تعداد ایک لاکھ چوالیس ہزار چارسو سولہ ہے۔ اس کے علاوہ دوہزار دو سو چودہ اماموں کو ٹریننگ دی گئی۔

بیعتیں

اس سال ہونے والی بیعتیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال چھ لاکھ سینتالیس ہزار سے زیادہ بیعتیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں۔ 129 ممالک سے تقریباً تین سو اقوام احمدیت میں داخل ہوئی ہیں۔ نائیجر کی اس سال کی بیعتوں کی مجموعی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ تقریباً ایک لاکھ پچیس ہزار ۔اس کے بعد مالی ہے ۔نائیجریا ہے۔ افریقن ممالک ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا کام ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان آنے والوں کو ثبات قدم بھی عطا فرمائے اور ایمان و ایقان میں اضافہ بھی فرمائے۔

کانگو میںPygmeseقبائل میں تبلیغ اور بیعتیں

کانگو میں پگمیز(Pygmese) کی ایک قوم ہے جو وہاں کے اصل اور قدیم باشندے کہلائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ دوردراز جنگلوں میں رہتے ہیں ۔کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ شکار کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی تعداد کانگو میں ڈیڑھ لاکھ ہے۔ عام طور پہ ان کو وہاں کے لوگ اپنے سے کم تر ہی سمجھتے ہیں۔ میں نے ان کو کہا تھا کہ ان علاقوں میں جا کر تبلیغ کریں۔ چنانچہ اس سال ان علاقوں سے رابطہ کیا گیا اور وہاں کے دو گاؤں میں جب یہ تبلیغی وفود بھجوائے گئے اور تبلیغ کی گئی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے 149 بیعتیں وہاں حاصل ہوئیں۔ اور اب انشاء اللہ باقاعدہ وہاں چھوٹی مسجد بھی بنانے کا خیال ہے۔

بیعتوں کے تعلق میں ایمان افروز واقعات

بیعتوں کے تعلق میں ایمان افروز واقعات ۔ انڈیا سے ظہور الحق صاحب لکھتے ہیں تبلیغ کی غرض سے ایک جگہ راجدھانی امپال گئے جہاں ایک دوست تاجر علی صاحب سے ملاقات ہوئی ۔انہوں نے مل کر بہت خوشی کا اظہار کیا اور کہنے لگے میں آپ لوگوں کا بڑی دیر سے انتظار کر رہا تھا۔ انہوں نے دوران گفتگو اپنے بیگ سے دو تین کاغذ نکالے جن پر شرائط بیعت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں قرآن اور حدیث کی پیشگوئی تحریر تھی۔ انہوں نے یہ کاغذ خود تیار کر کے اپنے دوستوں میں تقسیم کرنے کے لئے رکھے ہوئے تھے۔ کہنے لگے کہ مجھے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق پتہ چلا تو میں نے 2016ء میں ہی جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا تھا جس پر لوگوں نے مخالفت کرنا شروع کر دی بلکہ ایک دن مخالفین اکٹھے ہو کر مجھے مارنے اور توبہ کرانے کے لئے نکلے لیکن خدا تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس دن شدید زلزلہ آیا ۔جو لوگ مجھے مارنے اور توبہ کرانے کے لئے آنے والے تھے ان لوگوں کا بہت زیادہ نقصان ہوا جس کی وجہ سے یہ مجھ تک پہنچ ہی نہ سکے۔ کہتے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ زلزلہ ایک نشان کے طور پر آیا جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا نشان ہے تب سے میں آپ لوگوں کے انتظار میں تھا ۔اس کے بعد موصوف نے اپنے ہاتھ سے بیعت فارم پُر کیا اور جماعت میں شامل ہوئے۔

لائبیریا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ کیپ ماؤنٹ کانٹی میںایک گاؤں ہے ۔دراصل قادیان کے نام پرGhadiyane( گادیان) نام اس گاؤں کا بھی رکھا گیا۔ اس گاؤں میں تبلیغ کے لئے گئے تو گاؤں کے بزرگ Mukhtaro Sonieصاحب نے بتایا کہ ان کے دادا 1970ء کی دہائی میں سیرالیون تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے تھے۔ وہاں انہوں نے احمدی مبلغ سے قرآن کریم پڑھا تھا اور ان کے ذریعہ سے انہیں جماعت احمدیہ کے بارے میں معلومات ملی تھیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ احمدی ہو گئے ہوں۔ لہٰذا جب وہ واپس آئے تو انہوں نے اپنے خاندان اور دیگر لوگوں کے ساتھ جس جگہ رہائش رکھی اسے Ghadiyaneکے نام سے نام دیا اور یہ گاؤں اسی نام سے ہر جگہ مشہور ہے۔ اس گاؤں میں پہلے بھی تبلیغ کی گئی تھی لیکن کامیابی نہیں ہوئی تھی ۔چنانچہ اس گاؤں میں احمدیت کے نفوذ کے لئے خاص مساعی کی گئی اور سرکردہ لوگوں سے ملاقات کے لئے وقت بھی طے کیا گیا۔ ملاقات کے وقت تمام سرکردہ لوگ ایک تقریب کی وجہ سے اکٹھے تھے۔ ان سب کو جماعت احمدیہ کا تعارف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی حقیقت اور آمد کا مقصد بتایا گیا اور بعد میں ان کے سوالات کے جوابات دئیے گئے۔ اس پر ان سب نے متفقہ فیصلہ کیا کہ وہ مطمئن ہیں اور جلد ہی وہ گاؤں کے باقی لوگوں کو مطلع کر کے ہمیں پیغام بھجوائیں گے کہ ہم کب وہاں تبلیغی پروگرام منعقد کریں۔کہتے ہیں 27؍مئی 2018ء کے دن ہمیں

بلایا گیا وہاں جا کر تمام لوگوں کو تبلیغ کی گئی اور بڑی تفصیل کے ساتھ جماعت احمدیہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں بتایا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 273 افراد نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی۔ تبلیغی پروگرام کے دوران پاس کے تین گاؤں کے امام اور دیگر افراد بھی موجود تھے ۔انہوں نے بھی اپنے اپنے گاؤں آنے کی دعوت دی۔ بعد میں پروگرام بنا کر وہاں جا کر پیغام حق پہنچایا اور ان تین گاؤں کے تمام افراد بھی جماعت میں شامل ہوئے ۔ خدا تعالیٰ نے 27 مئی کے بابرکت دن چار گاؤں حقیقی اسلام کی روشنی سے منور کر دئیے۔

بوسنیا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ رافت صاحب کا تعلق سربیا کے شہر نَوِوی پَزَار(Novi Pazar) سے ہے۔ موصوف اپنے والد صاحب سے بعض امور میں ناراضگی کی وجہ سے گھر چھوڑ کر جرمنی جانا چاہتے تھے۔ اس خبر کی اطلاع ملنے پر ان کی خالہ جو کہ ایک مخلص احمدی خاتون ہیں انہوں نے مشورہ دیا کہ تم جرمنی جانے کے بعد سرائیوو چلے جاؤ اور وہاں جماعت احمدیہ کے سینٹر میں کچھ عرصہ قیام کرو اور پھر حالات بہتر ہونے پر گھر واپس آ جانا۔ رافت صاحب کی خالہ کہتی ہیں کہ اس مشورہ کے پیچھے میرا مقصد یہ تھا کہ اس نوجوان کو جماعت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع مل جائے گا۔ بہرحال موصوف کچھ عرصہ کے لئے خاکسار کے پاس بوسنیا آئے۔ مربی صاحب کہتے ہیں جہاں ان کے ذاتی مسائل کے ساتھ ساتھ جماعتی امور کے متعلق بھی گفتگو ہوتی رہی۔بعض اوقات رات بھر مختلف دینی معاملات پر گفتگو ہوتی۔ دوران گفتگو خلفائے احمدیت کی قبولیت دعا کے واقعات بھی انہیں سنائے گئے۔ ان روح پرور واقعات کا ان پر بہت اثر ہوا۔ چنانچہ چند روز قیام کے دوران بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے اور اپنے گھر واپس چلے گئے ہیں اور اپنے علاقے میں بڑی دلچسپی سے تبلیغ کا کام کر رہے ہیں اور چندے کے نظام میں بھی شامل ہو گئے ہیں۔ اسی طرح اور بہت ساری جگہوں کے واقعات ہیں۔

مثلاً قزاخستان میں آرمینیا سے تعلق رکھنے والے ایک دوست بَدَایَانْ اِڈوَرْدْ(Badayan Edward) رشیا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے 2008ء میں اسلام قبول کر لیا تھا اور اسلام کے بارے میں کافی مطالعہ بھی کیا۔ نماز روزے کی پابندی بھی کرتے تھے۔ اس وجہ سے مقامی طور پر بعض مشکلات کا بھی شکار رہے ۔کچھ عرصہ قبل پہلی دفعہ لندن آئے۔ نماز کا وقت ہوا تو مسجد کی تلاش کے لئے نکل گئے ۔کہتے ہیں کہ میں تقریباً ایک گھنٹہ سڑکوں پر پیدل چلتا رہا لیکن کوئی مسجد نہیں ملی ۔بالآخر انہیں سبز گنبد نظر آیا اور یہ مسجد فضل تھی۔ سیکیورٹی پر موجود خدام نے ایک رشین احمدی نُورم صاحب کے ساتھ ان کا رابطہ کروایا۔ انہوں نے مسجد فضل میں نماز ادا کی۔ پھر انہیں جماعت کا تعارف کروایا۔ جماعت کے عقائد اور حالات کا علم ہونے کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ لندن میں اس طرح نماز کے لئے اتنی دیر تک گھومتے رہنا اور آخر کار جماعت احمدیہ ہی کی مسجد کا ملنا اور جماعت سے اس طرح تعارف ہونا کوئی اتفاق نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس کے بعد جماعت کے ساتھ رابطہ میں رہے اور چند ماہ کے بعد گزشتہ سال اکتوبر میں بیعت کرنے کی توفیق پائی۔

 اس طرح اور بہت سارے واقعات رشیاکے بھی اور دوسری جگہوں کے بھی ہیں۔

کانگو برازاویل کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک ایف اے کا طالبعلم ہمارے ٹی وی پروگرام باقاعدگی سے دیکھتا تھا۔ اس نے بتایا کہ ایک دن میں اپنے قریبی مسجد کے امام سے ملنے گیا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ امام نے مجھے قرآن کریم پڑھانا شروع کر دیا اور دو ماہ کے بعد کہنے لگا کہ تم نئے مسلمان ہوئے ہو جتنا میں نے تمہیں پڑھا دیا ہے اتنا ہی کافی ہے۔مجھے پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ لیکن امام نے مزید پڑھانے سے انکار کر دیا۔ ایک دن وہ جمعہ کے وقت جماعت احمدیہ کے مشن کے سامنے سے گزر رہا تھا تو اس نے سوچا کہ آج جمعہ یہیں پڑھ لیتا ہوں۔ چنانچہ جمعہ کے بعد اس نے خواہش کا اظہار کیا کہ میں قرآن کریم پڑھنا چاہتا ہوں۔ اس پر اسے قاعدہ یسرنا القرآن پڑھایا گیا اور باقاعدگی کے ساتھ قرآن کریم پڑھ رہا ہے۔ اس پر وہ خوش ہوا اور بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گیا۔

اس طرح کے چھوٹے چھوٹے بہت سارے واقعات ہیں۔

 خوابوں کے ذریعہ سے قبول احمدیت

 خوابوں کے ذریعہ سے بھی اللہ تعالیٰ رہنمائی کرتا ہے لوگ بیعتیں کر رہے ہیں ۔

بینن سے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ کوتونو شہر کے قریبی علاقہ ہوِیْدُ وپَوْسِیْجَا(Houedo Kpossidja) سے ایک عیسائی دوست جن کا تعلق عیسائیت کے فرقہ سیلیست (Celeste) سے ہے وہ ہماری مسجد میں آئے اور اسلام کے متعلق بعض سوالات کئے۔ انہیں اسلامی تعلیم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کے حوالے سے سمجھایا گیا تو کہنے لگے کہ مَیں جماعت احمدیہ میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ دراصل اللہ تعالیٰ نے خود میری رہنمائی کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ چند دن قبل میں نے خواب میں دو بزرگوں کو دیکھا تھا ان میں سے ایک بزرگ نے مجھے اشارہ کر کے کہا کہ جس مذہب پر تم قائم ہو وہ ہدایت کا راستہ نہیں ہے اور دوسرے بزرگ خواب میں مستقل اللہ اکبر اللہ اکبر کا ورد کر رہے تھے ۔اس لئے خواب کے بعد مجھے یہ اشارہ مل گیا کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے ۔اس کےبعد انہیں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور میری تصاویر دکھائیں تو بڑی حیرت کے ساتھ کہنے لگے کہ یہی دونوں تھے جنہوں نے خواب میں میری رہنمائی کی تھی۔ چنانچہ یہ اپنے سارے خاندان سمیت عیسائی مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئے اور اپنے گھر کے ساتھ تعمیر کردہ چھوٹے سے چرچ کو مسجد میں تبدیل کر دیا جہاں اب باقاعدگی سے نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔

انڈیا سے ایک مربی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دوست شیخ محمد جانب صاحب سے جوہسٹری کے ایم۔اے آنرز ہیں تبلیغی رابطہ ہوا۔ دوران گفتگو ان کی نظر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر پر پڑی تو کہنے لگے یہ کون شخص ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ یہی وہ امام مہدی اور مسیح موعود ہیں جن کا یہ اُمّت مسلمہ انتظار کر رہی تھی۔اس پر کہنے لگے کہ میں نے ان کو خواب میں دیکھا تھا اور خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اب راہ نجات اسی وجود سے وابستہ ہے۔ چنانچہ اس کے بعد فوراً وہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔

کیرالہ کے سیکرٹری دعوۃ الی اللہ لکھتے ہیں کہ ایک دوست بنشاد صاحب نے جماعت کے متعلق ایک ڈاکومنٹری دیکھی اس کے بعد جمعہ ادا کرنے کے لئے احمدیہ مسجد میں گئے جہاں انہوں نے میرا خطبہ بھی سنا۔ کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ چند دوستوں کے ساتھ صراط مستقیم کی تلاش میں نکلے ہیں اور ایک جگہ بڑا ہجوم نظر آر ہا ہے۔ دوستوں کو چھوڑ کر ہجوم کی طرف چلے گئے جہاں ایک شخص صفیں درست کر رہا ہے ۔اس کے بعد مجھے دیکھا کہ امامت مَیں نے کروائی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ پھر آپ مجھے آسمان کی طرف لے گئے جس سے مجھے بے انتہا لذت محسوس ہوئی۔ چنانچہ اس خواب کے بعد انہوں نے بیعت کرنے کی سعادت حاصل کر لی۔ اس طرح اور بھی بہت سارے واقعات ہیں مختلف ملکوں کے۔

احمدیوں کا نمونہ دیکھ کر بیعتیں اور غیروں کے رویّہ میں تبدیلی

احمدیوں کا نمونہ دیکھ کر بھی بیعتیں ہوتی ہیں۔ جو خطبوں میں اکثر میں کہا کرتا ہوں کہ اپنے نمونے قائم کریں۔

 ہنڈورس کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک تبلیغی سفر کے دوران ایک دوست میکس(Mr Max) کے ساتھ رابطہ ہوا جو ایک ٹانگ سے معذور تھے۔ انہوں نے سوال پوچھا کہ اگر خدا ایک ہے تو بہت سارے مذہب اور ان میں اختلاف کیوں ہے؟ اس پر جب انہیں جواب دیا گیا تو موصوف رات کو اپنے دوست کو لے کر ہماری رہائشگاہ پر ملنے کے لئے آئے۔ ان کے دوست نے اس ملاقات میں نہایت بدتمیزی کی اور اٹھ کر چلا گیا ۔مگر موصوف خود بیٹھے رہے اور اسلام کے متعلق گفتگو سنتے رہے۔ اگلے دن انہوں نے بیعت کر لی۔ ان سے بیعت کرنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ جب میرے دوست نے بدتمیزی کی تھی تو آپ لوگوں نے بالکل بھی سخت جواب نہیں دیا تھا اور اس کی بات سنتے رہے۔ میں اس وجہ سے بہت متاثر ہوا ہوں اور دوسرا مجھے مذہب کے آپس میں اختلاف کی وجہ کا اب پتہ چل گیا ہے۔ اس لئے میں نے بیعت کر لی ہے۔

اسی طرح امیر صاحب نائیجریا لکھتے ہیں کہ جماعت کے ایک ممبربشیر اَکِیْلَاپَا صاحب(Bashir Akilapa) کا بیٹا بیمار تھا اور احمدیہ ہسپتال میں داخل تھا ۔ایک اور مریض سراجو(Suraju) صاحب جو پہلے مسلمان تھے لیکن اب عیسائی ہو چکے ہیں وہ بھی اسی وارڈ میں داخل تھے۔ ان کی دیکھ بھال ان کے ایک غیر احمدی

 مسلمان دوست حکیم صاحب کر رہے تھے۔ غیر احمدی دوست حکیم صاحب نے دیکھا کہ بشیر اکیلاپا صاحب ہر روز رات کو تین بجے کہیں چلے جاتے ہیں اور پھر صبح چھ بجے آتے ہیں ۔پوچھنے پر بشیر صاحب نے بتایا کہ وہ روزانہ تہجد ادا کرتے ہیں۔ اس پر غیر احمدی دوست بہت متاثر ہوا۔ انہوں نے بھی بشیر صاحب کے ساتھ تہجد ادا کرنی شروع کر دی۔ چند دن بعد ان کا عیسائی دوست ٹھیک ہو گیا۔ اس کے بعد حکیم صاحب اور ان کے عیسائی دوست نے بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کر لی۔ کہنے لگے کہ ہم احمدیوں کے رویّےسے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ یہ حقیقی اسلام پر عمل کرنے والے ہیں۔

کاٹھمنڈو سے تعلق رکھنے والے ایک دوست کو مشن ہاؤس میں مدعو کیا گیا۔ انہیں پہلے اسلام کے بارے میں معلومات بالکل نہیں تھیں۔ ان کو اسلامی اصول کی فلاسفی اور جو میرے مختلف لیکچر ورلڈ کرائسس (World Crisis)پہ ہیں وہ دئیے۔ انہوں نے بتایا کہ میں ایک مرتبہ اسلام کے بارے میں جاننے کے لئے چند غیر احمدی مسلمانوں کے پاس گیا تھا مگر ان کے کردار کی وجہ سے میرے دل میں مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو گئی تھی۔ لیکن آج احمدیوں سے ملاقات اور گفتگو کے بعد مجھے جتنی زیادہ نفرت تھی اس سے کئی گنا زیادہ اسلام سے محبت ہو گئی ہے۔ جماعت احمدیہ حقیقی اسلام کا چہرہ پیش کر رہی ہے ۔اس کے بعد یہ مسلسل جماعت سے رابطہ میں ہیں اور اسلام اور احمدیت کے متعلق بہت زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں اور کئی کتب کا مطالعہ بھی کر چکے ہیں۔

مخالفین کے پراپیگنڈہ کے نتیجہ میں بیعتیں

مخالفین کے پراپیگنڈہ کے نتیجہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتیں ہوتی ہیں۔ خود ہماری تبلیغ کا کردار ادا کر رہے ہیں، مددگار بن رہے ہیں۔

 بینن میں’ لوکوسا‘ ریجن کے معلم لکھتے ہیں کہ خاکسار کے زیر تبلیغ ایک گاؤں تھا۔انہیں تبلیغ کر رہے تھے لیکن وہاں سے کوئی پھل نہیں مل رہا تھا۔ چنانچہ کچھ عرصہ قبل جب میں اس گاؤں میں گیا تو گاؤں کا چیف کہنے لگا کہ میں اور میرے کچھ ساتھی جماعت احمدیہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ پوچھنے پر گاؤں کے چیف نے بتایا کہ آج غیر احمدی مسجد کا امام یہاں آیا تھا اور اس نے ہم سے کہا تھا کہ ہم احمدیوں کی بات نہ سنیں کیونکہ احمدی لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں اور ان پر جادو کر دیتے ہیں۔ اس پر میں نے مولوی صاحب کو یہ جواب دیا کہ جماعت احمدیہ کا معلم ہمارے پاس دو ماہ سے آ رہا ہے اور آج تک اس نے کسی مذہب یا کسی مسلمان فرقے کے متعلق کوئی نفرت والی بات نہیں کی اور نہ ہی ہمیں کبھی یہ کہا ہے کہ فلاں کی بات نہ سننا یا فلاں کافر ہے بلکہ وہ ہمیشہ امن کی تعلیم دیتا ہے۔ تمہاری باتوں سے ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ جو سچا ہوتا ہے اس کو کسی کا خوف نہیں ہوتا اس لئے وہ کسی کے بارے میں جھوٹی باتیں نہیں کرتا ۔چنانچہ چیف نے اور اس کے ساتھ گاؤں کے دیگر 35افراد نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔

 امیر صاحب گھانا لکھتے ہیں کہ ٹیما (Tema)کے علاقے میں ایک غیر احمدی سُنّی امام احمدیت کی بہت مخالفت کرتے ہیں اور ان کا سارے علاقہ میں اثر و رسوخ ہے۔ گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کو احمدیت میں شامل ہونے سے روکتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ میرے مرنے کے بعد ہی احمدیت میرے علاقے میں آ سکے گی۔ جب تک میں زندہ ہوں یہ ممکن نہیں ہونے دوں گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کرنا ہوا کہ ان کا اپنا بیٹا جس نے سینئر ہائی سکول کی تعلیم مکمل کر لی ہے اس نے احمدیت قبول کر لی ہے۔ جو کہتا تھا کہ میری زندگی میں یہاں احمدیت نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی میں اس کے گھر میں احمدیت کا پودا لگا لیا۔

نشان دیکھ کر بیعتیں

بعض بیعتیں نشان دیکھ کر بھی ہوئیں۔

ویسٹ بنک فلسطین کے عبدالقادر صاحب کہتے ہیں کہ زیر تبلیغ دوست کے گھر میں بعض ایسے تکلیف دہ مسائل تھے جن کا حل ناممکنات میں سے تھا ۔انہوں نے دعا کے لئے خط بھی مجھےلکھے اور تفصیل کے ساتھ لکھا اور مسائل بیان کئے۔ کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ یہ دعا کی برکت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حیران کن طور پر میرے تمام مسائل حل فرما دئیے ہیں اور مجھے ایسا شرح صدر اور اطمینان قلب عطا فرمایا ہے کہ اب میں بڑے شوق اور دلچسپی کے ساتھ احمدیت کا مطالعہ کرتا ہوں اور باقاعدگی سے ایم ٹی اے دیکھتا ہوں ۔چنانچہ اس کے بعد جماعت میں شامل ہو گئے اور بیعت کرنے کے بعد کہنے لگے کہ میری عمر اس وقت چھیاسٹھ سال ہے اور اس عمر میں عقیدہ تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہے مگر احمدیت نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں اپنے سابقہ عقائد کلیۃً ترک کر دوں۔

قبولِ احمدیت کے بعد نومبائعین میں غیر معمولی تبدیلی

احمدیت قبول کرنے کے بعد نومبائعین میں غیر معمولی تبدیلی بھی پیدا ہوتی ہے۔ بینن کے ایک نومبائع عتیق احمد صاحب بتاتے ہیں کہ جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کے بعد وہ اپنے اندر بہت زیادہ تبدیلی محسوس کرتے ہیں۔ پہلے تو وہ صرف نام کے مسلمان تھے۔ شراب پیتے تھے۔ نمازیں ادا نہیں کرتے تھے ۔اور بھی کئی برائیاں ان میں موجود تھیں۔ لیکن جب سے وہ اسلام احمدیت میں شامل ہوئے ہیں خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے تمام فضولیات اُن سے دور کر دی ہیں اور اب وہ باقاعدہ نمازی بن گئے ہیں۔

 برکینا فاسو کے ایک معلم لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں یاڈے(Yade) کی جماعت کے نومبائع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ساٹھ سال کا ہوں آپ لوگوں سے قرآن کریم سیکھ رہا ہوں۔ مُلّاں ہمارے گاؤں میں آتے ہیں تبلیغ کرتے ہیں اور زکوۃ اور چندہ وغیرہ لے کر چلے جاتے تھے پھر پورا سال ان کا منہ نہیں دیکھتے تھے۔ مولویوں کی یہ حالت دیکھ کر میں ایک دن اپنے باپ کی قبر پر جا کر بہت رویا اور اپنے باپ سے کہا کہ آپ مسلمان تھے لیکن حقیقی اسلام سے محروم رہے اور ہمیں بھی محروم رکھا۔ آج آپ کے بچے حقیقی مسلمان ہیں ۔میں ساٹھ سال کی عمر میں قرآن سیکھ رہا ہوں۔ میں نے نماز سیکھ لی ہے۔ وضو کا طریقہ بھی آتا ہے۔ اللہ مجھے اور میری اولاد کو احمدی ہونے کی حالت میں ہی موت دے۔

بوسنیا سے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دوست فرید صاحب کمیونزم سے بہت متاثر تھے۔ طرح طرح کی معاشرتی برائیاں ان میں سرایت کر گئی تھیں۔ ان میں ایک برائی شراب نوشی کی بھی تھی۔ ان کا جماعت کے ساتھ رابطہ ایک مقامی احمدی نوجوان ایلویڈین(Elvedin) صاحب کے ذریعہ سے ہوا۔ موصوف کا جماعت کے ساتھ رابطہ تو مستقل رہا لیکن جماعت کی تعلیم کے بارے میں یا عقائد کے بارے میں کسی قسم کی گفتگو کرنے سے اعراض کرتے تھے اور کئی سالوں تک اسی طرح رابطے میں رہے۔ دوران سال ایک دن مشن ہاؤس آئے اور کہنے لگے کہ میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہوں اور ساتھ ہی چندہ کے نظام میں بھی شامل ہو گئے۔ فرید صاحب بیعت کرنے کے بعد نہ صرف جماعتی پروگراموں میں باقاعدگی کے ساتھ شامل ہوتے ہیں بلکہ تبلیغ کے میدان میں بھی بہت محنت سے کام کر رہے ہیں۔ بیعت کرنے کے بعد موصوف کے اندر بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ شراب نوشی جیسی عادت جس میں لمبے عرصہ سے مبتلا تھے وہ بھی ترک کر دی۔

نومبائعین کو احمدیت چھوڑنے کی دھمکیاں اور نومبائعین کی ثابت قدمی

مخالفین احمدیت کی طرف سے جماعت چھوڑنے کی دھمکیاں بھی ملتی ہیں۔ بنگلہ دیش سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ یہاں مخالفین چار احمدیوں کو پکڑ کر لے گئے ۔ایک احمدی دوست کے گھر ان کو پکڑنے گئے تو اس گھر میں ان کی والدہ اور بہنیں تھیں ۔والدہ نے کہا کہ میرا بیٹا کس جماعت میں جاتا ہے اس کا فیصلہ کرنے والے تم لوگ کون ہو؟ ہم احمدیت نہیں چھوڑیں گے۔ تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ۔ جاتے وقت مولوی نے کہا کہ ہم دیکھ لیں گے کہ تم اپنی بیٹیوں کو کہاں بیاہتی ہو۔ اس پر بیٹیوں نے اندر سے جواب دیا کہ ہماری شادیاں نہ ہوئیں تو ہم ساری زندگی ایسے ہی گزار دیں گی لیکن احمدیت نہیں چھوڑیں گی۔ مضبوطی ایمان کے واقعات ہیں۔ اسی طرح کے بہت سارے واقعات ہیں جو انشاء اللہ آئندہ کسی وقت بیان کرتا رہوں گا۔

نشان دیکھ کر نومبائعین کے ایمان میں مضبوطی

نشان دیکھ کر نومبائعین کے ایمان میں مضبوطی بھی پیدا ہوتی ہے۔ آئیوری کوسٹ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست کارا موگو(Karamogo) صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے اسی سال اپریل 2018ء میں احمدیت قبول کی۔ احمدیت قبول کرنے کے باوجود مخالفین کی باتوں کا کچھ اثر تھا اور دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے تھے۔ چنانچہ میں نے دعا کی تو خواب میں آسمان پر بہت سارے ستاروں کو چمکتے ہوئے دیکھا اور ان ستاروں نے عربی حروف’ ع ش ش ‘ کی شکل اختیار کر لی۔ یہ منظر دیکھ کر خواب میں ہی میں نے اللہ اکبر کہا۔ مجھے ان عربی حروف کی سمجھ تو نہیں آئی لیکن جب آنکھ کھلی تو میرا دل مطمئن تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احمدیت کی سچائی کا ایک نشان ہے۔

کانگو سے صوبہ باندوندوکی جماعت کے ایک نوجوان ہیں ان کو احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔ کہتے ہیں میں پہلے عیسائی تھا اور کئی مرتبہ بورڈ کے امتحان میں فیل ہو چکا تھا۔ جب میں جماعت میں داخل ہوا تو بار بار دعا کرنے کی تلقین سنی ۔اس پر میں نے دعا کی کہ اے اللہ اگر یہ جماعت سچی ہے تو اس دفعہ مجھے امتحان میں کامیابی مل جائے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اس علاقے سے اس مرتبہ 55 طلباء نے بورڈ کا امتحان دیا جن میں سے 54 فیل ہو گئے اور صرف میں واحد تھا جو پاس ہوا اور احمدی تو پہلے ہی تھا لیکن اس کے بعد میرا ایمان اور مضبوط ہوگیا۔

مخالفین کا بد انجام

مخالفین کا بد انجام۔ اس کے بھی نظارے ہم دیکھتے ہیں۔ دیناج پور بنگال سے مبلغ انچارج کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ ’بانی ہری‘ میں عبدالرحیم نامی ایک شخص نے جس نے عارضی معلم کے طور پر بھی کام کیا تھا جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس سے ملاقات ہوئی تو اسے مشن ہاؤس میں آنے کی دعوت دی ۔اس پر وہ جماعت کے خلاف نہایت غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے گندی گالیاں دینے لگ گیا اور کہنے لگا کہ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ جان سے مار دے گا۔ کچھ ہی عرصہ بعد پتہ چلا کہ اس کو فالج کا حملہ ہوا ہے اور بول بھی نہیں سکتا اور اپاہج بن کر بستر پر پڑا ہوا ہے۔

 اس طرح کے بہت سارے لوگوں کے واقعات ہیں جنہوں نے مخالفت کی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دیں اور اس دریدہ دہنی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی پکڑ بھی کی ۔اور ضروری نہیں کہ ہر ایک پکڑا جائے۔ بعضوں کو چھوٹ بھی ملتی ہے اور اس لئے تا کہ وہ جو جماعت کی ترقی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان کی بلندی ہے اس کے نظارے بھی کرتے رہیں۔

قبولیت دعا۔نصرت الہٰی۔ حفاظت الہٰی کے واقعات

نصرت الٰہی ،حفاظت الٰہی کے واقعات۔ بینن سے معلم صاحب لکھتے ہیں کہ ہم ایک گاؤں میں تبلیغ کے لئے گئے ۔ یہ مقامی مبلغ ہیں۔ جب تبلیغ شروع کی تو اچانک تیز موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ اس پر لوگ اٹھ کر جانے لگے تو ہم نے کہا کہ آپ لوگ بیٹھ جائیں ہم مسیح محمدی کا پیغام لے کر آئے ہیں اس لئے بارش ہمارے پیغام کے درمیان روک نہیں بن سکتی۔ اس پر لوگ بیٹھ گئے اور ہم نے دعا کی۔ دعا کے تقریباً دو منٹ بعد ہی بارش رک گئی اور قریباً دو گھنٹے تک تبلیغ اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔ چنانچہ اس دن بہتّر افراد نے احمدیت قبول کی۔ اس کے بعد جب ہم واپسی کے لئے روانہ ہوئے تو تیز موسلا دھار بارش شروع ہو گئی جو تقریباً تین گھنٹے تک مسلسل ہوتی رہی۔

       اسی طرح انڈیا سے اور جگہوں سے بہت سارے واقعات ہیں۔

ہونڈورَس کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ہونڈورَس میں رہنے والے ایک مقامی احمدی’ پرسی موریو‘ مختلف مسائل کا شکار تھے۔ ان کے حالات کو دیکھتے ہوئے انہیں کہا کہ اپنی پریشانی کے حوالے سےمجھے بھی دعا کے لئے لکھیں۔ چنانچہ انہوں نے مجھے دعا کے لئے لکھا۔ اور اپنے مسائل کا ذکر کیا اور اس کے بعد کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے مسائل خود بخود حل ہونا شروع ہو گئے۔ کہتے ہیں کہ پہلے مجھے ایسے لگتا تھا کہ مجھ میں کچھ کرنے کی اور آگے چلنے کی ہمت ہی نہیں رہی ۔کہتے ہیں لیکن خط لکھنے کے بعد اور دعا کے بعد ایک غیبی طریق سے کہتے ہیں آگے چلنے کی ہمت مجھے ملی اور دل کو اطمینان ہوا اور ایک نیا سہارا ملا۔

        اسی طرح اور بہت سارے واقعات ہیں۔

جلسہ سالانہ کی برکات

       جلسہ سالانہ کی برکات بھی کیا ہوتی ہیں۔ زکریا صاحب لائبیریا سے لکھتے ہیں کہ لائبیریا میں ایک لمبا عرصہ خانہ جنگی کی وجہ سے بہت سارے خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے اور کئی سال گزرنے کے باوجود ابھی تک ایسے خاندان ہیں جن کا آپس میں رابطہ نہیں ہو سکا۔ عثمان شریف صاحب نے 2016ء میں احمدیت قبول کی۔ ان کا آبائی گاؤں سیرالیون کے بارڈر پر واقع کیپ ماؤنٹ کاؤنٹی میں ہے لیکن جنگ میں نقل مکانی کی وجہ سے یہ چھ سو کلو میٹر دور نِمْبَا کاؤنٹی میں سیٹل (Settle)ہو گئے۔ وہاں رہنے لگ گئے۔ خانہ جنگی کے دوران وہ اپنی والدہ بیوی اور چار بچوں سے بچھڑ گئے۔ اس عرصہ کے دوران ان کے بیوی بچوں کو اطلاع ملی کہ عثمان شریف صاحب فوت ہوچکے ہیں جس پر انہوں نے رو دھو کر صبر کر لیا۔ اس سال عثمان صاحب کو جلسہ سالانہ لائبیریا میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔ جلسہ میں ان کی بیوی بھی شامل تھیں۔ چنانچہ جلسہ کے موقع پر عثمان صاحب کی بیوی کی نظر اچانک عثمان صاحب پر پڑی۔ ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی گویا ایک مردہ انسان اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی ہیں۔ پہلے تو ان کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ عثمان شریف ہیں۔ بہرحال جب انہیں یقین ہوا کہ وہ واقعی عثمان صاحب ہیں تو وہاں جذباتی منظر تھا۔ سب خدا کی حمد و شکر کر رہے تھےکہ احمدیت نے ان کو دوبارہ ملا دیا۔ عثمان صاحب کو بتایا گیا کہ آپ کی جدائی کا آپ کی والدہ کو بہت صدمہ تھا اور وہ اس وقت بیمار ہیں۔ چنانچہ جلسہ کے بعد عثمان صاحب نے اپنی والدہ سے فون پر بات کی تو والدہ نے پہلی بات یہی پوچھی کہ کیا تم نے احمدیت قبول کر لی۔ جب انہوں نے بتایا کہ الحمد للہ میں احمدی ہوں تو بڑی خوشی کا اظہار کیا اور کہنے لگیں کہ اب میں الحمدللہ ٹھیک ہوں اور مجھے کوئی بیماری نہیں ہے۔

اسی طرح کے اور کافی واقعات ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا قدم آگے ہی آگے بڑھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نشانات پہ نشانات دکھا رہا ہے اور جو عقل کے اندھے ہیں ان کو یہ نشانات نظر نہیں آ رہےاور نہ جماعت کی ترقی۔

 اللہ تعالیٰ ہمیں بھی صحیح معنوں میں اپنے ایمان میں بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یقین پیدا کرے اور اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہم زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے والے ہوں۔آمین

image_printپرنٹ کریں