skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورہ امریکہ   قسط نمبر 3

19۔اکتوبر2018ء حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح چھ بجکر پندرہ منٹ پر بیت العافیت فلاڈلفیا میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حضور انور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔ صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔ 

افتتاح بیت العافیت

 آج جمعۃ المبارک کا دن تھا۔آج کا یہ دن اس لحاظ سے بھی ایک تاریخی دن ہے کہ امریکہ کے علاقہ فلاڈلفیا کی سرزمین سے خلیفۃ المسیح کا یہ پہلا ایسا خطبہ جمعہ ہے جو MTAانٹر نیشنل کے ذریعہ ساری دنیا میں Liveنشر ہوا۔ اس سے قبل امریکہ کے مشرقی حصہ واشنگٹن DC، Harrisburgاور مغربی علاقہ لاس اینجلز سے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبات جمعہ MTAپرLiveنشر ہو چکے ہیں۔ نماز جمعہ میں جماعت فلاڈلفیا کے علاوہ امریکہ کی مختلف دوسری جماعتوں سے احباب جماعت بڑے لمبے اور طویل سفر طے کرکے شامل ہوئے۔شامل ہونے والوں میں ایک تعداد ایسی بھی تھی جو تین سے ساڑھے تین ہزار میل کا سفر طے کر کے آئی تھی۔نماز جمعہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد چار ہزار سات صد سے زائد تھی۔

آج کا دن جماعت احمدیہ امریکہ کی تاریخ میں اس لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل دن تھا کہ فلاڈلفیا (Philadelphia) کی اس سرزمین سے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ ساری دنیا میں Liveنشر ہورہا تھا اور یہاں کی پہلی بیت العافیت کا افتتاح ہورہا تھا جہاں سے امریکہ میں فروری1920ء میں احمدیت کا آغاز ہوا تھا۔

جب حضرت مصلح موعود کے حکم پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب امریکہ کے پہلے مربی کے طور پر 15فروری1920ء کو فلاڈلفیا کے ساحل پر اترے تھے تو اس وقت کی حکومت نے آپ کو قید کر دیا تھا۔اس وقت آپ کو قید کئے جانے پر حضرت مصلح موعود نے فرمایا تھا:۔

امریکہ ہمیں ہر گز شکست نہیں دے سکتا کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے امریکہ میں ایک دن لا الہ الااللہ…کی صدا گونجے گی اور ضرور گونجے گی۔

آج حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ جمعہ کے ذریعہ اس سرزمین سے لا الہ الا اللہ… کی صدا نہ صرف سارے امریکہ میں بیک وقت گونجی بلکہ اس سرزمین سے لا الہ الا اللہ …کی صدا کل عالم میں گونجی۔جہاں سے اس آواز کو روکا گیا تھا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا یہ خطبہ جمعہ ایک بجکر پچاس منٹ تک جاری رہا۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے نماز جمعہ کے ساتھ نماز عصر جمع کر کے پڑھائیں۔

نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزبیت الذکر میں لجنہ کے ہال میں تشریف لے گئے۔جہاں خواتین نے شرف زیارت پایا۔بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بیت الذکر کے بیرونی احاطہ میں خواتین کی مارکیز میں بھی تشریف لائے۔تعداد زیادہ ہونے کے باعث خواتین کے لئے علیحدہ مارکیز بھی لگائی گئی تھیں۔

حضور انور نے تمام خواتین کو السلام علیکم کہا۔یہاں بھی خواتین شرف زیارت سے فیضیاب ہوئیں۔بعد ازاں حضور انور ازراہِ شفقت خواتین کی کھانا کھانے والی مارکی میں تشریف لے گئے اور انتظامات کا معائنہ فرمایا۔اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

مئیر فلاڈلفیا کی ملاقات

پروگرام کے مطابق پانچ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے۔جہاں فلاڈلفیا شہر کے مئیرJohn Kenneاور کانگریس مینHon.Droit Evansنے حضور انورسے ملاقات کی سعادت پائی۔ 

مئیر نے بیت الذکر پر مبارکباد دی اور کہا کہ بڑی خوبصورت بیت الذکر بنی ہے۔ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ معاشرہ میں ہمیں مل جُل کر اکٹھا رہنا چاہئے اور ایک دوسرے کے ساتھ رواداری دکھانی چاہئے۔

حضور انور نے مئیر کا شکریہ ادا کیا اور دریافت فرمایا کہ آپ کے کام کرنے کا سسٹم کیا ہے۔اور مئیر کتنے عرصہ کے لئے منتخب ہوتا ہے اس پر مئیر نے عرض کیا کہ ان کے تحت 17کونسلرز ہیں جو اپنے اپنے ایریا میں کام کرتے ہیں اور مئیر دو ٹرم کے لئے منتخب ہو سکتا ہے۔ایک ٹرم چار سال کی ہوتی ہے۔پہلی ٹرم2021ء میں ختم ہوگی۔

مئیر نے عرض کیا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ گوائٹے مالا اپنا ہسپتال کھول رہے ہیں۔یہ بڑی اچھی بات ہے۔اس طرح آپ انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔

کانگرس مین Droit Evansصاحب نے عرض کیا کہ مجھے یہاں آکر بہت خوشی ہوئی ہے اور آج آپ سے ملاقات اور آپ کے پروگرام میں شامل ہونا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔موصوف نے کہا کہ میں حکومت کی ایگریکلچر کے بارہ میں کمیٹی کا ممبر ہوں۔زراعت کی بہت اہمیت ہے۔ہر کوئی کھانا پینا پسند کرتا ہے اور اس کی ہمیشہ بہت ضرورت رہتی ہے۔

حضور انور نے زراعت کے حوالہ سے مختلف امور پر گفتگو فرمائی۔نیز سمندر کے ذریعہ ٹریڈ کے حوالہ سے دریافت فرمایا کہ کس طرح ہوتی ہے۔پورٹ بزنس کیسا ہے۔اس پر کانگرس مین نے عرض کیا ہمارا یہاں کا ٹریڈ نیویارک کی نسبت چھوٹا ہے۔ہماری خصوصیت یہ ہے کہ ہم آنے والے جہازوں کو جلدی فارغ کر دیتے ہیں۔

حضور انور کے استفسار پر موصوف نے عرض کیا کہ فلاڈلفیا سے کانگرس میں دو کانگرس مین کی نمائندگی ہوتی ہے۔

یہ ملاقات پانچ بجکر پندرہ منٹ تک جاری رہی۔

پریس کانفرنس

اس کے بعد پروگرام کے مطابق پریس کانفرنس ہوئی۔جس میں الیکٹرانک پرنٹ اور سوشل میڈیا کے درج ذیل صحافی حضرات جرنلسٹ اور نمائندگان شامل ہوئے۔

  • Religious News Service (RNS) یہ ادارہ 1934ء سے قائم ہے ان کے ایک سینئر صحافی اور ادارہ کی سوشل میڈیا کی مینیجر نے پریس کانفرنس میں شرکت کی۔
  • TVنیوزچینل Philadelphia CBS3 کے معروف رپورٹر نے شرکت کی۔
  • Metro US Philadelphiaفلاڈلفیا کا یہ چوتھا بڑا اخبار ہے۔اس اخبار کے نیوز ایڈیٹر اور سینئر صحافی نے شرکت کی۔
  • State Broadcast News یہ ادارہ آڈیو،ویڈیو اور تصویری صحافت کے لئے مواد تیار کرتا ہے جو دوسرے ادارے اس مواد کو لے کر آگے استعمال کرتے ہیں۔اس ادارہ کے فلاڈلفیا اور نیو جرسی کے علاقہ کے ایڈیٹر نے شرکت کی۔
  • Philadelphia Daily Newsیہ اخبار فلاڈلفیا کے بڑے اخبارات میں دوسرے نمبر پر ہے اس کے کالم نگار نے شرکت کی۔
  • Philadelphia Tribune یہ اخبار امریکہ میں شائع ہونے والا سب سے پرانا افریقن امریکن اخبار ہے۔اس کے نمائندہ نے شرکت کی۔
  • Freelance Journalistsدو آزاد پیشہ ور صحافی جن کے مضامین مختلف اخبارات میں شائع ہوتے ہیں انہوں نے بھی اس پریس کانفرنس میں شرکت کی۔

ایسے (۔) کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں کہ جو دین حق کے نام پر انتہا پسندی پھیلاتے ہیں،حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

جو کچھ بھی میں کہتا آیا ہوں وہ (دینی) تعلیمات کے مطابق ہے اور (۔) لفظ کا مطلب ہی امن ہے۔پس اگر کوئی (۔)اپنے آپ کو (۔)کہلاتے ہوئے ان تعلیمات پر عمل نہیں کرتا تو یہ اس کا اپنا رویہ ہے اور اس کا اپنا عمل ہے ، اس کا (دین حق )سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں تو صرف اپنے بارے میں اور اپنی جماعت کے بارے میں کہہ سکتا ہوں جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ عین (دینی)تعلیم کے مطابق ہے۔

  • ایک جرنلسٹ نے سوال کیا:پھر آپ لوگوں کا ایسے رویوں پر کیا ردعمل ہے؟

اس کے جواب میں حضور انور نے فرمایا:۔

  • ہم (دین حق)کی حقیقی تعلیمات پھیلاتے ہیں۔ہم کسی کو مجبور نہیں کرسکتے۔ہم صرف اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔ہم احمدی (۔)ہیں۔آپ لوگ ہم سے کوئی ایسا رویہ نہیں دیکھیں گے۔ہم صرف انہیں سمجھانے کی کوشش کر سکتے ہیں اور اگر وہ سمجھ جائیں۔(دین حق)کی حقیقی تعلیمات تو صرف محبت، پیار اور امن کا پرچار کرتی ہیں۔
  • ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ آپ فلاڈلفیا کے لوگوں کو اس بیت الذکر اور اس بیت الذکر میں آنے والوں کے حوالہ سے کیا کہنا چاہتے ہیں۔اس سوال کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ میں بیت الذکر کے افتتاح کے موقع پر اس حوالہ سے تفصیل سے بات کروں گا۔
  • ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ اس علاقہ میں بیت الذکر بنانے کی کیا اہمیت ہے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔

جہاں کہیں بھی ہماری جماعت قائم ہے،ہم وہاں (بیت الذکر) بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک مذہبی جماعت کے لئے عبادت کرنے کی جگہ اشد ضروری ہے۔خوش قسمتی سے ہمیں یہاں پر ایک اچھی جگہ میسر آگئی ہے۔اگر ہمیں ڈائون ٹائون میں بھی جگہ ملتی تو ہم نے وہاں بنا لینی تھی۔ہم نے اب یہاں فلاڈلفیا شہر کے اندر (بیت الذکر)بنائی ہے ، اس جگہ کا انتخاب کرنے میں کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔یہاں ہمیں اچھی قیمت پر اچھی زمین مل گئی ہے، اس لئے ہم  نے یہاں (بیت الذکر) تعمیر کرنے کا انتخاب کیا۔

  • ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ آپ یہاں فلاڈلفیا میں پہلی مرتبہ تشریف لائے ہیں۔آپ نے کوئی مقامی کھانا کھایا ہے؟

اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ میرے لوگوں نے مجھے اس حوالہ سے بتایا ہی نہیں کہ یہاں کوئی خاص مقامی کھانا ہے۔انہیں چاہئے تھا کہ مجھے بتاتے۔اگر آپ کوئی خاص چیز تجویز کرتے ہیں تو میں کوشش کروں گا ۔مجھے مختلف کھانے چیک کرنے کا شوق ہے۔

اس پر سوال کرنے والے نے عرض کیا کہ میں cheese steakتجویز کروں گا۔حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ٹھیک ہے۔

  • ایک صحافی نے سوال کیا کہ احمدیہ جماعت کو یہاں امریکہ اور باقی دنیا میں کیا چیلینجز درپیش ہیں؟

اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

آجکل لوگ اپنے خالق کو بھلاتے جا رہے ہیں۔ہم ایک مذہبی جماعت ہیں۔احمدیہ جماعت کے بانی نے فرمایا تھا کہ میں دو اہم مقاصد لے کر آیا ہوں۔پہلا یہ کہ لوگ اپنے خالق کو پہچانیں اور دوسرا یہ کہ لوگ ایک دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ کریں۔تو یہاں امریکہ اور باقی دنیا میں ہمارے چیلنجز یہی دونوں مقاصد ہیں۔

  • سوال کرنے والے نے عرض کی کہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے آپ کا کیا پیغام ہے؟

اس پر حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ:۔

یہ پیغام ہے کہ ہمیں اکٹھے مل کر رہنا چاہئے۔مذہب کا معاملہ انسان کے دل کے ساتھ ہوتا ہے اور(دین حق) اور قرآن کریم بڑے واضح انداز میں کہتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔تو جب اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں تو بطور انسان مل جُل کر رہنا چاہئے اور باہمی پیار، محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہئے۔

  • ایک خاتون صحافی نے سوال کیا کہ آپ امریکہ میں اگلی چند دہائیوں میں احمدیہ…جماعت کی کیا ترقی ہوتی دیکھ رہے ہیں؟

اس حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ہم تو ہمیشہ پُر امید رہتے ہیں۔مذہبی جماعتوں کی بڑھوتی بہت آہستہ ہوا کرتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ با لآخرہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم بنی نوع انسان کو اپنے خالق کے حقوق اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف لے کر جائیں۔یہ وہ پیغام ہے جو کوئی بھی عقل رکھنے والا مسترد نہیں کر سکتا تا ہم اس پیغام کو ماننے میں لوگوں کے لئے بعض دیگر رکاوٹیں حائل ہیں۔لیکن یہ پیغام بڑے وسیع پیمانے پر ان معنوں میں تسلیم کیا جاچکا ہے کہ اس پیغام کو سراہا جارہا ہے۔

یہ پریس کانفرنس ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہی۔

بیت العافیت کی افتتاحی تقریب  

آج بیت العافیت کے افتتاح کے حوالہ سے بیت الذکر کے ملٹی پرپز ہال میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔

اس تقریب میں مختلف جماعتوں سے آنے والے جماعتی عہدیداران کے علاوہ 176غیر(۔) اور غیر از جماعت مہمانوں نے شرکت کی۔ان مہمانوں میں !

  • فلاڈلفیا شہر کے مئیرJames Kenney
  • کانگرس مین Droit Evans
  • Tiffany Chang Lawson (موصوف ایشین پیسیفک امریکن افئیرز کے حوالہ سے گورنر ٹام وولف(Tom Wolf)کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائر یکٹر ہیں)
  • Sharif Streetصاحب سٹیٹ سینیٹر Pennsylvania
  • Kevin
  • Boyle(ممبرPennsylvania House of Representatives)
  • Al Taubenberger Cityکونسل مین فلاڈلفیا
  • Jannie Blackwell Cityکونسل وومین فلاڈلفیا
  • کونسل مین Jones Curtis  
  • کونسل وومن ماریہ Quiones Sanchez
  • کونسل مین Derek Green
  • پروفیسر Istvan Varkonyi (PhD) موصوف پریذیڈنٹ آف ٹمپل یونیورسٹی کے نمائندہ کے طور پر آئے تھے۔
  • پروفیسر Hedi Grunwald (PHD)
  • Co-Diretor
  • ٹمپل یونیورسٹی سنٹر فار پبلک ہیلتھ لاء ریسرچ Brian Goeddeکالج پروفیسر،کیمونٹی کالج فلاڈلفیا
  • Judge Harry Schwartz
  • Pastor Dr.Reverend John L Payne شامل تھے۔

علاوہ ازیں ڈاکٹرز، ٹیچرز،وکلاء جرنلسٹ میڈیا کے نمائندے تھنک ٹینک سیکیورٹی کے اداروں کے نمائندے اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مہمان شامل تھے۔

پریس کانفرنس کے بعد ساڑھے پانچ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزہال میں تشریف لائے۔

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم عبداللہ ڈبّا صاحب مربی سلسلہ فلاڈلفیا نے کی اور بعد ازاں انگریزی زبان میں اس کا ترجمہ پیش کیا۔

اس کے بعد مکرم امجد محمود خان صاحب نیشنل سیکرٹری امور خارجہ یو ایس اے نے اپنا تعارفی ایڈریس پیش کیا۔

مہمانوں کے ایڈریسز

 اس کے بعد فلا ڈلفیا شہر کے مئیر آنریبل جان کینی(John Kenney) نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔موصوف نے اپنے ایڈریس کا آغاز السلام علیکم کے ساتھ کیا۔موصوف نے کہا:

آج شام اس اہم تقریب میں دعوت پر میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں اور احمدیہ جماعت کی بیت الذکر کے شاندار افتتاح میں شمولیت میرے لئے باعث فخر ہے۔نیز امام جماعت احمدیہ کو خوش آمدید کہنا بھی میرے لئے بہت باعثِ مسرت ہے۔میں جماعت احمدیہ کے مقامی لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی محنت سے بیت الذکر کی یہ خوبصورت عمارت تعمیر ہوئی۔مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے کہ یہاں کے مقامی احمدی فلاڈلفیا کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔اور مجھے بڑی خوشی ہے کہ اب آپ کے پاس ایک خوبصورت جگہ ہے جہاں آپ لوگ اپنی عبادت کر سکتے ہیں۔فلاڈلفیا شہر کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مذہبی آزادی اس شہر کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔یہ شہر اسی بنیاد پر تعمیر کیا گیا تھا کہ ہمارا تعلق بے شک مختلف قوموں اور نسلوں سے ہو لیکن یہ شہر ہر ایک کو خوش آمدید کہے گا۔

مئیر نے اپنے ایڈریس میں کہا:جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ فلاڈلفیا میں بہت سے مذاہب کے لوگ اپنے اپنے عقائد پر عمل کرتے ہیں اس لئے یہ بیت الذکر ہمارے معاشرہ کو جس میں مختلف قسم کے لوگ رہتے ہیں مزید مستحکم کرے گی۔اس بیت الذکر کا افتتاح ہماری یکجہتی اور ہم آہنگی کی علامت ہے۔(۔)امریکی ثقافت کا ایک بہت اہم حصہ ہیں۔اس وقت ہمارے ملک کے جو حالات ہیں ان کے پیش نظر میں آ پ کو بتانا چاہتا ہوں کہ فلاڈلفیا شہر میں سارے (۔)قابلِ عزت و احترام ہیں اور وہ یہاں محفوظ ہیں۔

مئیر نے کہا:میرے خیال میں یہ بیت الذکر خدا تعالیٰ نے خود یہاں تعمیر کروائی ہے۔ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے انہیں مثبت لوگوں اور مثبت رول ماڈلز کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے جو ہمارے بچوں کی صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کر سکتے ہیں۔اگر ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کریں،ایک دوسرے کے ساتھ عزت اور احترام کے ساتھ پیش آئیں اور دنیا کو یہ دکھائیں کہ ہم سب ایک ساتھ مل کر رہ سکتے ہیں،تو ہم اپنے مسائل کا خاتمہ کر سکتے ہیں، ہم اپنے بچوں کی تعلیم کے مسائل کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔اپنے ایڈریس کے آخر پر میئر جان کینی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں فلاڈلفیا شہر کی چابی پیش کی۔

بعد ازاں آنریبل Droit Evansممبر آف یو ایس کانگریس نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔یہ پنسلوینیا کے سیکنڈ ڈسٹرکٹ میں خدمت کر رہے ہیں۔جہاں بیت العافیت سمیت فلاڈلفیا کے مختلف علاقے آتے ہیں۔یہ2016ء میں منتخب ہوئے اور کانگریشنل بلیک کاکس کا بھی حصہ ہیں۔اپنی تقریر میں انہوں نے کہا:

یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ یہاں آج حضور انور کا فلاڈلفیا کے عظیم شہر میں استقبال کر رہا ہوں۔یہ شہر جو بہن بھائیوں جیسی محبت کا شہر ہے۔فلاڈلفیا کی انتظامیہ کی طرف سے میں ایک (۔)کمیونٹی کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آپ لوگوں کے امن کے پیغام کو یہاں خوش آمدید کہتے ہیں۔بعض امریکیوں کی جانب سے حالیہ سالوں میں دین حق کے خلاف بعض آرا سامنے آئی ہیں۔لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں کی اکثریت آپ کو خوش آمدید کہتی ہے۔ہم آپ لوگوں کے ساتھ نفرت،تعصب اور تشدد کے خلاف کھڑے ہیں۔جیسا کہ مارٹرلو تھر کنگ نے کہا تھاکہ کسی بھی جگہ نا انصافی ہو نا ہر جگہ انصاف کے لئے ایک خطرہ ہے۔

موصوف نے کہا:میں نہ صرف آپ کے امن کے پیغام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں بلکہ یہ بھی کہ آپ لوگ صرف باتیں نہیں کرتے بلکہ جو کہتے ہیں اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔جیسا کہ annual blood driveکا پروگرام ہے اور آپ لوگوں کی ملک سے وفاداری اور امن کے لئے کوششیں ہیں۔میں ان کاموں کی وجہ سے آپ کو مبارک پیش کرتا ہوں۔میں مئیر کی موجودگی میں اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔آپ ان کاموں میں تنہا نہیں ہیں۔آخر پر میں حضور انور کو ایک مرتبہ پھر فلاڈلفیا کے اس عظیم شہر میں خوش آمدید کہتا ہوں۔

گورنر آف پنسلوینیا نے اپنا پیغام ریکارڈ کروا کر نیز تحریراًبھی بھجوایا تھا۔اور ایفی لاسن اور جولیا پارکر کو بطور نمائندہ بھجوایا۔انہوں نے یہ پیغام پڑھ کر سنایا۔

موصوفہ نے پیغام پڑھنے سے قبل عرض کیا:

السلام علیکم۔میں حضور انور کو اس عظیم شہر میں جوbrotherly love and sisterly affectionکی وجہ سے مشہور ہے، خوش آمدید کہتی ہوں۔میں یہاں گورنر کا پیغام پڑھ کر سنائوں گی اور اس سے پہلے میں احمدیہ جماعت کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ آپ نے اس بیت الذکر کیلئے پنسلوینیا فلاڈلفیا کا انتخاب کیا اور اس کے علاوہ آپ ہر سال اپنا جلسہ سالانہ Harrisburgمیں منعقد کرتے ہیں۔شکریہ۔

اس کے بعد ایفی لاسن نے گورنرکا درج ذیل پیغام پڑھ کر سنایا:

احمدیہ کمیونٹی یو ایس اے کے اس پروگرام میں شمولیت کی دعوت میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔میں آپ کو بیت العافیت فلاڈلفیا کے افتتاح کے موقع پر مبارک پیش کرتا ہوں ۔احمدیہ جماعت کا اتحاد اور مضبوطی اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے سربراہ عزت مآب حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس ایک عالمی رہنما ہیں۔یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ کامن ویلتھ آف پنسلوینیا میں پہلی باقاعدہ تعمیر کی جانے والی بیت الذکر کے افتتاح کے لئے آنے پر حضور انور کو خوش آمدید کہہ رہا ہوں۔احمدیہ کمیونٹی کی لیڈر شپ کی

جانب سے عالمی انسانی حقوق کے فروغ اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں تعلیم دینے جیسے اقدام ایسے ہیں کہ جنہیں ہم اپنی کامن ویلتھ میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اس کے بعد جولیا پارکر نے پیغام پڑھتے ہوئے کہا:

میں حضور انور اور تمام احمدیہ کمیونٹی کو دینی تعلیمات سے لگائو اور امن و برداشت کا پیغام پھیلانے پر مبارک پیش کرتا ہوں۔فلاڈلفیا میں اس نئی بیت الذکر کے گرد کمیونٹی کے افراد کے معیار زندگی بڑھانے کے لئے آپ کے اقدام بہت متاثر کن ہیں۔مجھے یقین ہے کہ احمدیہ کمیونٹی کی لیڈر شپ کی نگرانی میں تعمیر کی جانے والی یہ بیت الذکر تمام کامن ویلتھ میں امید، امن اور اتحاد کی کرن ثابت ہوگی۔

گورنر کی طرف سے اور کامن ویلتھ آف پنسلوینیا کی تمام عوام کی طرف سے میں مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس کو خوش آمدید کہتا ہوں اور ہمارے کامن ویلتھ میں امن، اتحاد اور انسانیت کے اصولوں کے فروغ کے لئے احمدیہ کمیونٹی اور شاملین تقریب کا شکریہ ادا کرتاہوں۔اس یاد گار موقع پر میری طرف سے نیک خواہشات قبول فرمائیں۔(از گورنرTom Wolf )

بعد ازاں مکرم صاحبزادہ مرزا مغفور احمد صاحب امیر یو ایس اے  نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مختصر تعارف کروایا۔

image_printپرنٹ کریں