skip to Main Content
روحان احمد نوید۔غانا: خاکسار کا سفر اسلام آباد لندن

اللہ کے فضل و کرم سے کروڑہا کرورڑ پاک نفوس نے امام الزمان کو قبول کرنے کی سعادت پائی ہے۔ الحمدللہ یہ زمانہ ان کے پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کا ہے۔جس میں اللہ کی برکات کی بارش جماعت پر مسلسل برس رہی ہے۔حضور نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 12۔اپریل 2019ءمیں فرمایا تھا کہ جلد ہی وہ لندن سے اسلام آباد منتقل ہو جائیں گے۔ یہ تاریخی لمحہ 15۔اپریل 2019ءکو نماز عصر کے بعد رقم ہوا۔ حضورانور کا قافلہ تقریباً 6:55 بجے اسلام آباد میں داخل ہوا جہاں احمدی احباب نے حضور کا پُر محبت اور پُر جوش استقبال کیا۔ اسلام آباد ایسا مقام پاچکا ہے کہ ہر احمدی کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ یہ امن کا گھر بن چکا ہے جہاں نمائندہ خدا مکین ہے۔اللہ کے فضل اور احسان کی بدولت خاکسار کو اس دنیاوی جنت میں 4ہفتہ رہنے کا موقع ملا۔
20 جولائی 2019کو جلسہ سالانہ یو کے میں شمولیت کے لئے میں یو کے پہنچا۔ خاکسار کے ماموں جان پروفسر جامعہ احمدیہ یو کے اسلا م آباد میں رہائش پذیر ہیں۔ خاکسار ان کے پاس ٹھہرا۔ حضور انور کے پیچھے نماز پڑھنے کی خواہش نے 15منٹ پہلے ہی مجھے مسجد کی طرف کھینچ لیا۔ مگر عشاقِ خلیفہ تو پہلے ہی صف اول پر بیٹھے ذکر الٰہی میں مشغول تھے۔ اس وقت میں نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ ایک ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں سے حضور انور کی مبارک نظر مجھ پر پڑ سکے اور اللہ نے اس دلی تمنا کو پورا کر دیا۔ اگلے دن پہلی صف میں بیٹھنے کی خواہش اور تمنا لئے 30 سے 40منٹ پہلے ہی مسجد پہنچ گیا ۔ خاکسار اگلی صف کی بائیں جانب بیٹھ گیا جہاں آتے اور جاتے حضور پُر نور کی مبارک نگاہیں مجھ پر پڑتی رہیں۔ الحمدللہ یہ سلسلہ 5 دن تک جاری رہا جس کے بعد خاکسار کی ڈیوٹی جلسہ سالانہ میں تبشیر VIP مارکی میں لگ گئی جہاں مہمانان مسیح الزمان کو کھانا کھلانےاور ان کی دعاؤں سے مستفیض ہونے کا موقع ملا۔
27جولائی کو اللہ کی رحمت کی بدولت حضور انور سے ملاقات کا شرف نصیب ہوا۔ حضور پُرنور سے خاکسار چھ دفعہ پہلے ملاقات کا شرف حاصل کر چکا ہے۔ مگر یہ پہلی بار تھا کہ میں حضور سے انفرادی طور پر ملاقات کرنے جا رہا تھا۔ایک ماہ پہلے میرے دادا جان نے حضورانور ایدہ اللہ سے ملاقات کے دوران حضور کی خدمت میں میرے بارہ میں عرض کیا کہ میں جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا میں تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ملاقات کے لئے خاکسار عثمان چینی ہال میں داخل ہوا تو بتایا گیا کہ میری ملاقات کا نمبر 50ہے جو کہ اس دن کی آخری ملاقات تھی۔ جیسے ہی میری ملاقات کا وقت قریب آتا گیا، خاکسار جلال اور جمال الہی کے مظہر کے خوف سے کانپتا رہا۔میری ملاقات کے وقت ہی نماز مغرب کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ جیسے میں دروازہ سے داخل ہوا حضور انور نے فرمایا روحان جلدی سے بھاگ کر آؤ، ٹائم کم رہ گیا ہے۔ میں جلدی سے حضور کی قربت میں پہنچا اور مصافحہ کے بعد حضور نے فرمایا مبارک صاحب کے نواسے ہو خاکسار نے عرض کی جی حضور۔
خاکسار یہ سنتے ہی حیرت میں مبتلا ہو گیا کہ پیارے حضور کو مجھ جیسے خاک زمانہ کے بارہ میں بھی یاد ہے۔ اس کے بعد حضور نے فرمایا اچھا بیٹھ جاؤ اور مختلف امور پر مجھے حضور سے کلام کرنے کی سعادت ملی۔ اس کے بعد حضور نے فرمایا آجاؤ تصویر کھینچوانے کے لئے۔ سیکرٹری صاحب نے تصویر کھینچی ، خاکسار جانے ہی والا تھا کہ حضور نے فرمایا واپسی کب ہے؟ عرض کیا 19 اگست کو۔ حضور فرمانے لگے ابھی یہیں ہو جانے سے پہلے پھر مل لینا۔ خاکسار نے عرض کیا جی حضور ان شاء اللہ۔
حضور سے ملاقات کو بیان کرنا ایک نا ممکن فعل ہے۔ الفاظ کی قلت اور قلم کو ورق پر چلنے کی سکت نہیں۔اگلے دن حسبِ معمول ڈیوٹی میں مشغول ہو گیا جس کا اختتام10۔اگست کو ہوا۔ ان ایام میں نئے اور پرانے دوستوں کو ملنے کا بھی اتفاق ہوا۔
29۔جولائی کو حضور بنفسِ نفیس اس مقام کا جائزہ لینے کے لئے تشریف لائے جہاں مہمانانِ مسیح الزمان کا انتظام کیا گیا تھا۔ ہمارے مشفق آقا نے ہم جیسے نا اہل کارکنان کی حوصلہ افزائی کے لئے خوبصورت غلاف میں اچار عطا فرمایا۔جس سے ہمیں حضور کی اپنے غلاموں سے محبت کی ایک جھلک نظر آئی۔
عید الاضحی12ٰ۔اگست 2019 کو منائی گئی۔حضور انورکے پیچھے نماز عید پڑھنے کی سعادت پائی۔ نماز عید کے بعد جامعہ احمدیہ یوکے میں BBQ کا اہتمام کیا گیا تھاجس میں خاکسار نے بھی شمولیت کی ۔ اس کے بعد واپس اسلام آباد آیا اور شام کے 6 بجے سنا کہ حضورانور اسلا م آباد کی سیر کر رہے ہیں۔ میں بھی اس قافلہ میں شامل ہو گیا جو کہ حضورانور کی جھلک کے منتظر تھے۔ تقریباً15 سے 20منٹ تک حضورانور کے ساتھ سیر کرتے رہے۔اس کے بعد حضور انورتبشیر کے دفتر میں تشریف لے گئے۔ حضورانور سے مصافحہ کی خواہش مجھے تبشیر کے دفتر کے باہر کھڑا رہنے پر مجبور کرتی رہی۔ حضور پُر نور تبشیر کے دفتر سے باہر تشریف لائے تو خاکسار کو مصافحہ کی سعادت نصیب ہوئی۔
خاکسار کو مع فیملی بھی حضور انور سے ملاقات کی خوش نصیبی ملی یہ ملاقات 15۔اگست 2019 کو ہوئی۔ ہماری پورے فیملی کو حضور انور سے گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ گفتگو کے دوران ہمارے مشفق آقا نے اپنی دعاؤں کے تحفے سے نوازا جس کے بعد حضورانور کے ساتھ تصویر کھنچوانے کا موقعہ ملا۔ اس کے بعد خاکسار نے حضور انورسے عرض کی کہ ان شاء اللہ جلد جامعہ واپس جانا ہے۔ حضور انورنے مشفقانہ تبسم بھرے انداز میں دعا کی کہ اللہ فضل فرمائے۔
17۔اگست 2019 کو لندن سے روانگی سے پہلے مسجد میں تہجد پڑھنے اور فجر کے نماز حضور انور کی امامت میں پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔روانہ ہونے سے پہلے حضورانور کے نام ایک خط لکھا اور پڑائیویٹ سیکرٹری صاحب کے دفتر میں جمع کروادیا۔ اس موڑ پر جا کرغمگین اور بھاری دل کے ساتھ اسلام آباد کا سفر اختتام پذیر ہوا۔دل میں یہ تمنا اور دعا بار بار اجاگر ہوتی رہی کہ ہمارا رحمٰن خدا تمام عشاقِ خلافت اور امام وقت کی بیعت میں آنے والے اس بلد الامین میں آ کر منان خدا کے خلیفہ کی صحبت سے مستفیض ہوتے رہیں اور ان کی دعاؤں کے وارث بنتے رہیں۔ آمین

image_printپرنٹ کریں