skip to Main Content
طاہرہ زرتشت نَاز:کريں اپنی جاں اِس وطن پہ نثار

کريں اپنی جاں اِس وطن پِہ نِثار
ہے قدرت کا يہ اِک حسيں شاہکار
دِلوں کی، خيالوں کی دھڑکن يہی
ہے پريوں کا مسکن گُلوں کا ديار
جواں اور تازہ لَہو سے وطن
ميرے غازيوں نے دِيا ہے نِکھار
محبت کے پودے لگاتے چليں
کہ پُھولوں سے نکھرے چمن کی بہار
سبھی کو گلے سے لگاتے چلو
تعصب سے دامن نہ ہو تار تار
نہ تقليد اندھی کرو دوستو!!
کبھی ظالِموں کو نہ ديں اِختيار
چلو! تھام ليں ايک دوجے کا ہاتھ
ہے اب وقت کی بس يہی اِک پُکار
چلو کام پھر سے کچھ ايسے کريں
بڑھے آدميّت کا عِزّ و وقار
کوئی ہم وطن بھی نہ ہو بے وطن
ملے ہر کسی کو ہی عِزّت و پيار
کوئی بُھوکا، مُفلس نہ مظلوم ہو
ميّسَر ہو سب کو يہاں روزگار
وہ حاکِم ہوں جِن ميں خُدا کا ہو خوف
خدايا تُو نيکوں کو دے اِختيار

image_printپرنٹ کریں