skip to Main Content
نذیر احمد سانول: کافور کا تعارف اور افادیت

؎کیا کیا عجب تو نے ہر اک ذرّہ میں رکھے ہیں خواص
کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا

کافور کا نام سنتے ہی ذہن میں ٹھنڈک کا احساس ہونے لگتا ہے۔ صوفی لوگ اور درویش منش اپنے نفسانی جذبات کو سرد رکھنے کے لئے اسے زیرِاستعمال رکھتے ہیں۔ اس کا ذکر کلام اللہ میں بطور خاص آیا ہے اور بزرگان امت نے اس کی تشریحات بھی کی ہیں۔ چنانچہ اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے۔
یقینا نیک لوگ ایک ایسے پیالے سے پئیں گے جس کا مزاج کا فوری ہوگا۔ ایک ایسا چشمہ جس سے اللہ کے بندے پئیں گے جسے وہ پھاڑ پھاڑ کر کشادہ کرتے چلے جائیں گے۔ (الدھر:6،7)
اس آیت کریمہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے تفسیر صغیر نوٹ نمبر987 میں فرمایا ہے۔ یعنی وہ چشمہ جس میں کافوری خاصیت ہوگی اس کا نام بھی کافور ہوگا۔ یعنی وہ بُرے جذبات کو ٹھنڈا کر دے گا۔

کافور کا تعارف

اسے عربی میں کافور، فارسی میں کاپور، ہندی میں کپور جبکہ انگریزی میں کیمفر(Camphor) کہتے ہیں۔ یہ سفید رنگ کی دانے دار چینی کی طرح ذرات ہوتے ہیں اور ترکیب خاص سے منجمد کر کے ڈلیوں کی شکل میں کاغذ سے ملفوف کر دیتے ہیں۔ ہر دو صورت میں بازار میں دستیاب ہیں۔ کافور کا درخت ہوتا ہے اس کا اصل مسکن بورنیو، فارموسا(جاپان) اور اوٹاکمنڈ(انڈیا) ہے تاہم اس کا وجود پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔صاحب کتاب المفردات رقم طراز ہیں۔
کافور کا درخت شیشم کے درخت کے بالکل ہم شکل اور شاخوں اور پتوں سے بھر پور ہونے کے باعث بہت سایہ دار ہوتا ہے۔ پتے بھی شیشم کے پتوں سے ہم شکل لیکن قدرے بڑے۔ یوکلپٹس کے پتوں کی طرح سفیدی مائل سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان کو مل کر سونگھنے پر کافور کی خوشبو آتی ہے۔ ماہ جون کے شروع میں سفید رنگ کے ننھے ننھے پھول لگتے ہیں اور ماہ جون کے آخرمیں ان پھولوں سے فالسہ کے برابر گول سبز رنگ کے پھل لگتے ہیں۔ کافور کے درخت کی جڑ، شاخوں پھل پھول اور پتوں یعنی اس کے ہر جزو میں کافور ہوتا ہے لاہور کے لارنس گارڈن میں بھی یہ درخت موجود ہے۔
(کتاب المفردات ص388 از حکیم مظفر حسین اعوان)

کافور حاصل کرنے اور سنبھالنے کا طریق

کافور بازار سے آسانی سے دستیاب ہے دانے دار قلمی حالت میں بھی اور ٹیکیوں کی صورت میں ملفوف بھی تاہم درخت سے اسے بنانے کی ترکیب اور سنبھال کر محفوظ کرنے کا طریق تحریر ہے۔
کافور ہوا میں رکھنے سے بہت جلد اڑ جاتا ہے۔ اس لئے اس کو کالی مرچ کے ہمراہ بند ڈبہ میں رکھنا چاہئے اگر اس کو جلایا جائے تو یہ فوراًجل جاتا ہے معمولی کافور پانی میں تیرتا ہے۔ برخلاف اس کے بھیم سینی کافور (بورنیو کیمفر) پانی میں تہ نشین ہوجاتا ہے معمولی کافور میں الکحل پوٹاس ملا کر اس سے بھیم سینی کافور بنا سکتے ہیں۔ مصنوعی کافور روغن تارپین میں نمک کا تیزاب ملانے سے تیار کیا جاتا ہے۔ اصلی کافور اس درخت کی لکڑی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پانی میں جوش دینے سے یا اسے پانی کے ساتھ تصعید کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ کافور کی ایک قسم کا نام قیصوری رکھا گیا ہے۔ کیونکہ قیصور وہ مقام ہے جہاں کا فور پایا جاتا ہے علامہ نجم الغنی لکھتے ہیں کہ کافور قیصوری سے مراد فارموسا کا کافور ہے۔ یہی کافورجاپانی کہلاتا ہے رنگ سفید ہوتا ہے۔

(کتاب المفردات ص388 از حکیم مظفر حسین اعوان)

استعمال اور فوائد

کافور درجہ سوم میں سرد اور خشک ہے اور اس کا وسیع استعمال ہے۔ اطبّا نے اسے مفرّح مقویّ قلب و دماغ، دافع تعفن لکھا ہے۔ دستوں کو روکتا ہے، نیند آور ہے۔ پِت پاؤڈر میں اسے شامل کرتے ہیں جس سے خارش، گرمی دانے ختم ہو جاتے ہیں۔ کافور کا تیل دردوں کے لئے اکسیر ہے۔ متاثرہ جگہ کی اس تیل سے مالش کرتے ہیں۔ یہ سرد مزاج افراد کے موافق نہیں ہوتا۔
کافور کے فوائد کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں۔
‘‘اسی لئے انسان کو مرتے وقت کافور کا استعمال کرنا سنّت ہے۔ یہ اس لئے کہ کافور ایک ایسی چیز ہے جو وبائی کیڑوں کو مارتی اور سمّیت کو دور کرتی ہے اور انسان کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے اور بہت سی عفونتی بیماریوں کو روکتی ہے۔ اسی لئے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ مومنوں کو کافوری شربت پلایا جائے گا۔ آج کل کی تحقیقات سے بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ کافور جیسا کہ ہیضہ کے لئے مفید ہے، ویسا ہی طاعون میں بہت فائدہ بخش ہے۔ میں اپنی جماعت کو بتلاتا ہوں کہ یہ بہت مفید چیز ہے اور میرا اعتقاد ہے کیونکہ قرآن کریم نے بتلایا ہے کہ جلن کو روکتا ہے اور دل کو سکینت اور تفریح دیتا ہے اور ہمیں رغبت دلائی کہ ہم کافور کا استعمال کیا کریں۔ آج کل ایک بات اور ثابت ہوئی ہے کہ کافور کے ساتھ جدوار استعمال کیا جائے تو ازحد مفید ہے۔ جدوار کو سرکہ میں ملا کر گولیاں بنا لینی چاہئیں اور دو دو رتی کی گولیاں بنا کر تازہ لسی کے ساتھ استعمال کی جائیں۔ اگر عورتوں اور بچوں کو یہ گولیاں روز مرہ استعمال کرائی جائیں تو بہت مفید ہیں’’

(ملفوظات جلد اول ص165)

شربت کافوری

اطبائے ابدان و ماہرین ِ صحت ادویات کی خاصیت سے جسم انسانی و حیوانی سے بیماریوں کی مضرّت کو زائل کر دیتے ہیں اور اعضائے رئیسہ کو تنومند کر کے فعال کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح اطبائے باطن عالم روحانی کے ماہرین جب دنیا میں آتے ہیں تو امراض باطنیہ کا علاج کر کے روحانی شعور کو طاقتور بنا دیتے ہیں جس سے گناہ کی خواہش جل کر خاکستر ہو جاتی ہے فکر آخرت بیدار ہو کر رجوع الی اللہ پروان چڑھ جاتا ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ نے شربت کافوری سے متعلق علم الادیان والابدان کا حسین امتزاج اس طرح تحریر فرمایاہے۔
’’ایسے لوگ جو خدا میں محو ہیں خدا تعالیٰ نے اُن کو وہ شربت پلایا جس نے ان کے دل اور خیالات اور ارادت کو پاک کر دیا۔ نیک بندے وہ شربت پی رہے ہیں جس کی ملونی کافور ہے وہ اس چشمہ سے پیتے ہیں جس کو وہ آپ ہی چیرتے ہیں اور میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ کافور کا لفظ اس واسطے اس آیت میں اختیار فرمایا گیا ہے کہ لغتِ عرب میں کفر دبا نے اور ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔ سو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے ایسے خلوص سے انقطاع اور رجوع الی اللہ کا پیالہ پیا ہے کہ دُنیا کی محبت بالکل ٹھنڈی ہوگئی ہے۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ تمام جذبات دل کے خیال سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور جب دل ان نالائق خیالات سے بہت دُور چلا جاوے اور کچھ تعلقات ان سے باقی نہ رہیں تو وہ جذبات بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ نابود ہو جاتے ہیں۔ سو اس جگہ خدا تعالیٰ کی یہی غرض ہے اور وہ اس آیت میں یہی سمجھاتا ہے کہ وہ اس کی طرف کامل طور سے جُھک گئے۔ وہ نفسانی جذبات سے بہت ہی دُور نکل گئے اور ایسے خدا تعالیٰ کی طرف جھکے کہ دنیا کی سرگرمیوں سے اُن کے دل ٹھنڈے ہوگئے اور ان کے جذبات ایسے دب گئے جیسا کہ کافور زہریلے مادوں کو دبا دیتا ہے اور پھر فرمایا کہ وہ لوگ اس کافوری پیالہ کے بعد وہ پیالے پیتے ہیں جن کی ملونی زنجبیل ہے’’

(ملفوظات جلد پنجم ص38)

کیمفر(Camphor)

ہومیو پیتھی علاج میں اسی کافور سے ایک ‘‘دوا’’ تیار کی جاتی ہے جس کا نام‘‘کیمفر’’معروف ہے اور یہ وسیع الاثر اور بھروسہ کی دوا ہے۔ اس کا تعارف حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اپنی مشہور عالم کتاب میں دیا ہے۔اُس سے ایک خطرناک مرض کا علاج تحریر ہے۔ فرماتے ہیں۔
‘‘اگر جسم بالکل ٹھنڈا ہو اور تشنج کی کیفیت پائی جائے تو کوئی بھی بیماری ہو اس میں‘‘کیمفر’’ مفید ہوگی۔ ہیضہ میں بھی بہت مؤثر دوا ہے خصوصاً گُم ہیضہ جس میں بغیر درد کے دست ہوتے ہیں یا دست ہوتے ہی نہیں لیکن یکدم توانائی ختم ہو کر سارا جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے اس میں کیمفرچھوٹی طاقت میں دینے سے غیر معمولی فائدہ ہوتا ہے’’

(ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل جلداول ص259از خلیفۃ المسیح الرابع)

زہریلے مواد کودبا دیتا ہے

حضرت مسیح موعود ؑفرماتے ہیں۔
کافور بہت سی بیماریوں کا علاج ہے اور بہت سے زہریلے مواد کو دباتا ہے۔ ہم نے اپنی عمر میں ایک من کافور کھایا ہوگا اس کے معنی ہی دبانے کے ہیں۔
(علم طب مسیح موعود۔الموسوم بہ طبی نسخہ جات ص56۔مرتب کردہ محمد یامین تاجر کتب آف قادیان۔ناشر رانا محمدیوسف اینڈ سنز۔بار پنجم مطبع لاہور ارٹ انار کلی لاہور)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمتوں اور افضال سے فیضیاب فرماتارہے ۔آمین

image_printپرنٹ کریں