skip to Main Content
عبدالقدیر ۔ ناروے: جماعت احمدیہ ناروے کا پہلا سُوپ (SOUP)،سٹال

مجلس انصاراللہ ناروے گزشتہ تین سال سے کوشش کر رہی تھی کہ حکومت Soup کا سٹال لگانے کی اجازت دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 22دسمبر 2018ء کو Europardes plass,Oslo پر سُوپ کا فری سٹال یعنی مفت سُوپ پلانے کی اجازت مل گئی۔

سُوپ تیار کروانے کا کام مجلس انصاراللہ کے سپرد، جبکہ ٹرانسپورٹ اور ٹینٹ لگانے کی ذمہ داری مجلس خدام الاحمدیہ کے سپرد ہوئی۔ اسی طرح آڈیو، پریس اور Vestبنانے کی ذمہ داری متعلقہ سیکرٹریان کے سپرد کی گئی۔مُسور کی دال اور مرغی کا نہایت لذیذ سُوپ ایک ہزار افراد کے لئے تیار کیا گیا۔

12بجے تک ٹینٹ لگا دیا گیا۔ اور سُوپ گرم کر کے لوگوں کو پلانا شروع کر دیا گیا۔ نارویجین مردو زن کے علاوہ مختلف قومیتوں کے لوگ بھی سٹال پر آتے رہے۔ جب لوگوں کو دعوت دی جا رہی تھی تو کچھ نے سمجھا ہم قیمتاً بیچ رہے ہیں۔ لیکن انہیں بتایا گیا کہ احمدیہ مسلم جماعت کی طرف سے آپ سب کو یہ تحفتاً پیش کیا جا رہا ہے۔ جماعت احمدیہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ خدمت کرنے کے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دے اور خدمت خلق کرتی رہے۔

بڑی عمر کی خواتین نے خاص طور پر اسے پسند کیا اور تعریفی کلمات کہے۔اکثر آنے والوں نے کہا کہ آپ یہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔اسی طرح ایک Kurd سٹال پر آیا۔ اسے دعوت دی تو پہلے تو اس نے انکار کر دیا۔ پھر اس کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ جماعت احمدیہ مسلمہ کاسٹال ہے تو اس نے بڑے شوق سے سُوپ لے کر پیا اور کہا میں جماعت احمدیہ کو بہت اچھا سمجھتا ہوں۔

اس دوران تبلیغ کے مواقع میسر آئے اور لوگوں کو بتایا جاتا رہا کہ اس قسم کے سٹال لگانے کا ہمارامقصد لوگوں کو اسلام سے متعلق خوف دور کرنا۔ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنا اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ لوگوں کے ملے جُلے تاثرات تھے۔ اکثریت نے ہمارے اس پروگرام کو سراہا۔ لجنہ کی ممبرات نےبھی خواتین کو سُوپ پینے کی دعوت دی جماعت کا تعارف کروایا اور اس سٹال کی غرض و غایت سے آگاہ کیا۔

حکومت کی اجازت شام 4بجے تک تھی۔لہٰذا وقت مقرر پر سٹال بند کر دیا گیا۔ تقریباً600 افراد نے اس سٹال سے استفادہ کیا۔ 15انصار، 25 خدام وا طفال اور 5لجنات نے اس کارخیر میں حصہ لیا۔

اسی طرح اسی دن Kristiansand شہر میں بھی سُوپ پلانے کا سٹال لگایا گیا۔ یہ سٹال مکرم یاسر فوزی صاحب مربی سلسلہ اور مکرم ذیشان احمد صاحب صدر جماعت کی نگرانی میں لگایا گیا۔وہاں بھی انصار ، خدام، اور اطفال نے خدمت میں حصہ لیا ، وہاں پر تقریباً100افراد سٹال سے مستفیض ہوئے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس مساعی میں برکت ڈالے اور اس قوم کو راہ ہدایت سے عطا فرمائے۔ نیز خدمت کرنے والوں کوجزائے خیر سے نوازے اور تبلیغ کے مزید مواقع میسر آتے چلے جائیں ۔ آمین ثم آمین

وقار عمل کی نارو ے کے میڈیا  میں پذیرائی

ناروے کے سب سے بڑے اخبار نےسرخی لگائی۔ نئے سال کی آتشبازی کی خرافات کے بعد یہ لوگ (جماعت احمدیہ) وقار عمل کے ذریعے دوسرے لوگوں کا پھیلایا ہوا گند صاف کرتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ وقار عمل ہمارے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ملک سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے لئے مثبت کام کریں۔ترجمہ

2003ء سےہر سال احمدی مسلمان فروگز پارک سے بکھری ہوئی آتشبازی کے گند کو صاف کرتے ہیں۔ جبکہ ایک بڑی تعداد خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے۔ امام جماعت احمدیہ ناروے شاہد محمود کاہلوں صاحب بتاتے ہیں یہ کام وہ رضاکارانہ کرتے ہیں۔

امام شاہد محمود کاہلوں مزید بتاتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ پاکستان غیرمنصفانہ اور غیر مساویانہ سلوک کیا جاتا ہے۔اب ہم ناروے میں امن کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ لہٰذا یہی ہمارا وطن ہے۔ ہمارے مذہب میں صفائی کو خاص اور مرکزی اہمیت ہے۔امسال گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ گند نہیں پڑا اس لئے جلد صفائی ہو گئی ہے۔ بہت سارے منگل کے دن اکٹھے ہوئے اور صبح 8بجے سے 10بجے تک فروگز پارک کو صاف کیا۔ علاوہ ازیں ٹاؤن ہال، ہولملیا، فروست، جیہاکم،تھونس برگ اور کرسچاند میں بھی وقار عمل کیا۔

صفائی کے علاوہ کرسمس کے دنوں میں سُوپ اور بریڈ تقسیم کی گئی۔

ہم امن کے پیامبر ہیں اور اس لئے ہم رفاہی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔وقار عمل کاپروگرام خدام الاحمدیہ بناتی ہے جس میں زیادہ عمر کے لوگ بھی حصہ لیتے ہیں۔یہ ایک اچھی بات ہے کہ نوجوانوں کو کام کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔اور یہ ایک اچھا کام ہے۔ آٹھ سالہ عروسان فارس کاہلوں اپنے باپ شاہد محمود کاہلوں کے ساتھ صفائی کرنے میں مصروف ہے۔

image_printپرنٹ کریں